Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

امام احمد رضا خان کی نکتہ آفریں تحقیقات

امام احمد رضا خان کی نکتہ آفریں تحقیقات
عنوان: امام احمد رضا خان کی نکتہ آفریں تحقیقات
تحریر: مفتی محمد شہزاد عالم، جامعۃ الرضا، بریلی شریف
پیش کش: نازش فاطمہ
منجانب: مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد

امامِ اہلِ سنت، مجددِ دین و ملت، حضرت والا صفات، الشاہ امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی کی عبقری علمی، روحانی اور نابغہِ روزگار شخصیت محتاجِ تعارف نہیں۔ آپ نے مختلف علوم و فنون میں کامیاب اور کمیاب نقوش چھوڑے ہیں جن میں نکتہ آفریں تحقیقات اربابِ علم و دانش اور اصحابِ فقہ و افتا کے لیے سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہیں اور عوام و خواص کے ذہن و دماغ کو خلجان سے بچاتی ہیں۔

امامِ اہلِ سنت کی نگارشات سے براہِ راست استفادہ کرنے والے بخوبی واقف ہیں کہ بہت سارے ایسے مسائل جن پر فقہائے متقدمین کا قلم بحکمتِ الٰہی خاموش رہا ان پر امام نے اپنی خداداد صلاحیت اور فقہی بصیرت سے تحقیق و تفتیش کے ایسے آبدار موتی بکھیرے ہیں جن سے ایک طرف تو اساطینِ فقہ و افتا اور صاحبانِ علم و دانش کو تلاش و جستجو کا مزاج ملتا ہے تو دوسری جانب امام کی علمی بلندی کا سراغ۔ ذیل میں ایسی دو چند مثالیں ذکر کریں گے جو فیضِ قدیر سے قلبِ مجدد پر القاء ہوئی ہیں اور ان کا وجود دوسری کتابوں میں نہیں ملتا۔

قارئینِ کرام کو یہ بھی باور کرا دیں کہ جن مسائل میں امامِ اجل کی تحقیق انفرادی اور امتیازی پوزیشن کی حامل اور جو فیضِ قدیر سے قلبِ امام پر القاء ہوئے ہیں، وہ دو قسم کے ہیں:

  1. اعتقادی
  2. عملی

اعتقادی وہ جو عقیدے سے متعلق ہوں۔ عملی وہ جو مکلف کے فعل و عمل سے متعلق ہوں۔ تقدیرِ الٰہی پر ایمان رکھنا خواہ اچھی ہو یا بری بہرحال ضروری ہے ایمانِ مجمل و مفصل کے کلمات اور قرآن و حدیث کے مفادات سب کا یہی ماحصل ہے کہ ہم تقدیر پر ایمان لائیں چونکہ اس کا انکار کفر ہے اور یہ راز بھی ہمارے ذہن نشین رہے کہ تقدیر کے لکھنے سے بندہ مجبور نہیں بلکہ وہ جیسا کرنے والا تھا ویسا ہی لکھ دیا ہے اور اس کو کرنے اور نہ کرنے کا اختیار بھی دے دیا جس کو علم الکلام کی اصطلاح میں استطاعت مع القدرۃ کہا جاتا ہے۔

تقدیرِ الٰہی کی عام کتب میں دو قسمیں ملتی ہیں ایک مبرم اور دوسری معلق۔ پہلی تغییر و تبدیل سے بری ہے جب کہ دوسری اولیائے کرام، نیک صالح مومنین کی دعاؤں سے بدل دی جاتی ہے یہی تفصیل عام طور سے کتابوں میں ملا کرتی ہے، چنانچہ ”المعتقد المنتقد“ میں علامہ شاہ فضل رسول بدایونی علیہ الرحمۃ والرضوان فرماتے ہیں:

وَالْقَضَاءُ عَلٰى ضَرْبَيْنِ: مُبْرَمٌ وَّمُعَلَّقٌ، فَالْأَوَّلُ لَا يَتَغَيَّرُ، وَالثَّانِيْ يُمْكِنُ تَغَيُّرُهٗ.

[ص: 54]

تقدیر کی دو قسمیں ہیں:

  1. مبرم
  2. معلق

پہلی قسم بدلتی نہیں اور دوسری قسم بدل سکتی ہے۔ اس کے چند سطور کے بعد ایک حتمی اور یقینی فیصلہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

وَادِّعَاءُ رَدِّ الْقَضَاءِ الْمُبْرَمِ بَاطِلٌ.

یعنی تقدیرِ مبرم کو بدلنے کا دعویٰ باطل اور بے بنیاد ہے۔ اس پر امام اپنی تحقیق کے گوہرِ نایاب لٹاتے ہوئے رقم طراز ہیں اختصار کے پیشِ نظر ہم عربی متن کے بجائے صرف ترجمہ پر اکتفا کرتے ہیں:

میں کہتا ہوں ابو شیخ نے ”کتاب الثواب“ میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا کہ سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دعا کثرت سے کیا کر چونکہ دعا تقدیرِ مبرم کو ٹال دیتی ہے اور امام دیلمی نے مسند الفردوس میں حضرت ابو موسیٰ اشعری سے اور ابنِ عساکر نے نمیر بن اوس سے مرسلاً روایت کیا ہے۔ سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: دعا اللہ کا جمع شدہ لشکر ہے جو تقدیرِ مبرم کو ٹال دیتا ہے۔ تحقیقِ مرام فرماتے ہوئے لکھتے ہیں:

احکامِ شریعت دو طریقے پر ہیں:

  1. مطلق جو وقت کی قید و بند میں نہ ہوں۔
  2. مقید جو وقت کی قید و بند میں ہوں۔

رہا مطلق تو وہ علمِ الٰہی میں دائی بھی ہو سکتا ہے اور مقید بھی، مقید ہونے کی صورت میں وہ نسخ کو قبول کر لیتا ہے، پھر مطلق کے حالِ تابیدی کو دیکھ کر بعض ذہنوں میں یہ خیال گزرتا ہے کہ نسخ، تبدیلِ حکم اور رفعِ حکم ہے جبکہ ہمارے محققین کے یہاں نسخ مدتِ حکم کو بیان کرنا ہے، لہٰذا مطلق جو علمِ الٰہی میں مقید ہے اس کا صاف و صریح مطلب ہو گا کہ ملک الموت فرشتے سے کہا جائے فلاں بن فلاں کی فلاں وقت روح نکال لے مگر جبکہ فلاں دعا کر دے۔ تو جو مطلق علمِ الٰہی میں نافذ ہے وہ تقدیرِ مبرم ہے اور جو دعاؤں سے ٹل جائے وہ تقدیرِ معلق شبیہِ مبرم، یہ بعد والی قسم چونکہ علمِ الٰہی میں مقید ہے فرشتے اور مخلوق کے علم میں مطلق (جو نافذ ہے) اس لیے اس کو مبرم سمجھا جاتا ہے تاہم درحقیقت وہ معلق ہے اس کی بابت غوثِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں تقدیرِ مبرم بدل دیتا ہوں اور حدیثِ مذکور میں گزرا کہ بکثرت دعا کر چونکہ دعا تقدیرِ مبرم کو ٹال دیتی ہے۔

رہی تقدیرِ مبرم تو اسے ٹالا نہیں جا سکتا ورنہ علمِ الٰہی کا خلاف لازم آئے گا جو جہل ہے اور جہالت اس جناب میں عیب اور اس کی ذات عیب سے پاک منزہ و بری۔ اس تفصیل کے بعد فرماتے ہیں: ”فَاحْفَظْ هٰذَا لَعَلَّكَ لَا تَجِدُهٗ إِلَّا مِنَّا.“ اس کو اچھی طرح ذہن نشین کر لو ہو سکتا ہے یہ تحقیق ہمارے سوا کہیں اور نہ پاؤ۔

ولیِ میت کے نمازِ جنازہ ادا کرنے کے بعد تکرارِ نماز کی اجازت نہیں جیسا کہ کتبِ فقہ میں یہ مسئلہ منفتح مصرح ہے مگر وہابی غیر مقلدین کو فقہی تصریحات اور ائمہِ اجتہاد کی خدمات سے کیا لینا دینا ان کو بزعمِ خویش دعویِ اجتہاد و استنباط ہے اس پر امام اہلِ سنت سے سوال ہوا جس پر آپ نے ایک رسالہ بنام ”اَلنَّهْيُ الْحَاجِزُ عَنْ تَكْرَارِ صَلَاةِ الْجَنَائِزِ“ تحریر کیا جس کو احادیث و اقوال سے آراستہ فرمایا اور اقول کے تحت نادر و نایاب افادات ذکر کیے اس کے علاوہ چھ اور تحقیقات ضبطِ تحریر میں لانے سے قبل حمدِ الٰہی کی بجا آوری کا یہ انداز ملاحظہ ہو:

”الحمد للہ ان چند جملِ نفیسہ، مجملہ، مختصرہ نے صرف مجتہدینِ زمانہ ہی کی آنکھ، کان نہ کھولی بلکہ بحمد اللہ تعالیٰ بنظرِ انصاف دیکھیے تو مسئلہ کا فیصلہ، بحث کا تصفیہ کاملہ کر دیا، واللہ الحمد۔

اب بتوفیق اللہ تعالیٰ بعضے نکات و تمسکات کہ اس مسئلے میں فیضِ قدیر سے قلبِ فقیر پر فائض ہوئے ذکر کر کے کلام ختم کروں جو بعونہ تعالیٰ اصل مسئلہ اعنی ممانعتِ تکرارِ نمازِ جنازہ میں تائیدِ مذہبِ حنفیت کریں یا مسلکِ طریدِ مجتہدِ جدید کا ابطالِ کلی خواہ ابطالِ کلیت۔“

[فتاویٰ رضویہ، جلد چہارم، ص: 48]

اس کے بعد آپ نے احادیث و اقوال اور فقہی بصیرت کی روشنی میں ولیِ میت کے نمازِ جنازہ ادا کرنے کے بعد دعویِ تکرارِ جنازہ کو ایسا رد فرمایا کہ آج تک بندگانِ ہوا جواب لانے سے قاصر ہیں۔ ان جملہ فوائد (جن کو اولاً، ثانیاً شکل میں شمار کرایا ہے) کو یہاں بیان کرنا تطویل و اطناب کا باعث ہے اور مقالہ کا حجم اس کی قطعاً اجازت نہیں دیتا، تفصیل کے لیے اس رسالہ کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔

نماز بندوں کے لیے ربِ قدیر کا دیا ہوا اہم اور اتم فریضہ ہے جس سے سبکدوش ہونا ہر مومن بالغ سلیم العقل پر لازم، ترک سببِ عار و بوار اور اخروی خسارہ کا ذمہ دار۔ اس بابرکت فریضہ کی انجام دہی کے لیے طہارتِ صغریٰ و کبریٰ حاصل کرنا ضروری جس کے لیے اولاً آبِ طہور درکار ہے بصورتِ دیگر پاکیزہ مٹی کا قصد کرنا اور اس سے تیمم کرنا مطلوبِ شرعی ہے۔ پھر پاک پانی ملنے نہ ملنے کی کثیر وجوہات ہیں جن کو کتبِ فقہیہ میں بنظرِ غائر ملاحظہ کیا جا سکتا ہے سردست اس کی ایک خاص شق پر خامہ فرسائی مقصود ہے اور وہ یہ کہ زید نے دوسرے کے پاس پانی پایا اور مانگے بغیر تیمم کر کے نماز پڑھ لی بعدہٗ ادا دے دیا تو نماز نہ ہوئی اور نہ دینے کی صورت میں ہو گئی اس پر امام اہلِ سنت ایک مستقل تصنیفِ لطیف بنام ”قَوَانِيْنُ الْعُلَمَاءِ فِيْ مُتَيَمِّمٍ عِنْدَ زَيْدٍ مَّاءٌ“ امت کے حوالے فرماتے ہیں جس میں آپ نے فقہائے احناف کے مبنی بر اصول نظریات پیش کیے ہیں اور اس کی بابت چار قوانین بھی انفرادی طور پر بیان کیے جن کو ان کے واضح ائمہ کے ناموں سے موسوم کیا اور یوں گویا ہوئے: الاول: القانون الصدری، الثانی: القانون البحری، الثالث: القانون الحلبی، الرابع: القانون الرضوی۔ صدر الشریعہ، صاحبِ البحر، امام ابراہیم حلبی اور اپنی جانب منسوب کرتے ہوئے۔

اس رسالہ میں ایک مقام پر مسئلہ کی کامل تحقیق فرمانے کے بعد لکھتے ہیں:

”یہ سب وہ ہے جو قلبِ فقیر پر ظاہر ہوا اور حق کا علم میرے رب کے یہاں ہے۔“

[فتاویٰ رضویہ مترجم، جلد چہارم، ص: 331]

امامِ اہلِ سنت کے بحرِ علم و معرفت میں جس قدر غوطہ زنی کرو گے اتنے ہی بحث و تمحیص کے گوہرِ آبدار پاؤ گے، یہی وجہ ہے کہ فتاویٰ رضویہ شریف میں غور کرنے والے اس نتیجہ پر پہنچے کہ اعلیٰ حضرت عظیم البرکت علیہ الرحمۃ والرضوان پچپن علوم و فنون سے زائد میں ماہر ہیں ہنوز یہ سلسلہ جاری و ساری ہے اور محققین اپنی اپنی رائے زنی فرماتے جا رہے ہیں اور مختلف ادارے جامعات اور یونیورسٹیاں شخصیتِ امام پر ریسرچ کروا رہی ہیں۔

اس مختصر سی تحریر میں راقم نے چند عبارات نذرِ قارئین کر دیں اگر اس پر تفصیلی کام کیا جائے تو ایک مستقل کتاب معرضِ وجود میں آ سکتی ہے۔ اللہ پاک قبرِ امام پر تا قیامت رحمت و نور کی بارش فرمائے آمین یا رب العالمین۔

صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑو۔ ہر کام آسان ہونے سے پہلے مشکل ہوتا ہے۔

[ماہنامہ جامعۃ الرضا ماہِ صفر 1443 ہجری، صفحہ: 14]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!