| عنوان: | روزہ! خواہشات سے بچنے کے لیے ڈھال ہے |
|---|---|
| تحریر: | حافظ افتخار احمد قادری |
| پیش کش: | بنت جمال الدین اشرفی |
عقیدہ کی درستگی کے بعد مسلمانوں پر چار اعمال نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ کی ادائیگی فرض ہے، ایک مسلمان کے لیے دین و دنیا میں ہر کام سے زیادہ اہم و ضروری بھی یہی چار کام ہیں، ہر کام پر ان چار کی ادائیگی کو ترجیح حاصل ہے ان کے بغیر کوئی بھی شخص نہ کامل مسلمان ہو سکتا ہے نہ اللہ رب العزت کا قرب و محبوب بن سکتا ہے، اسی لیے قرآن و حدیث میں اللہ رب العزت اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جگہ جگہ ان کی تاکید فرمائی اور ان چار کاموں میں کوتاہی کرنے پر سخت وعیدیں بھی وارد ہوئی ہیں اور ان کی ادائیگی پر طرح طرح کے انعامات کی خوشخبریاں سنائی گئیں، حق یہ ہے کہ انسان و جن کی پیدائش کا مقصد یہی چار کام ہیں، ان کے بغیر انسان کی زندگی بالکل بے مقصد اور بیکار ہے، انہی چار کاموں میں ایک روزہ بھی ہے، یہ ایک بدنی عبادت ہے اور سال بھر کی انسانی زندگی کے نظام کو درست کرنے اور کنٹرول میں رکھنے کے لیے مہینے بھر کی ایک روحانی تربیت ہے جو اللہ رب العزت نے اپنے بندوں پر لازم کی ہے۔
روزہ ہجرت کے بعد 2 ہجری میں فرض ہوا، روزہ دیگر عبادتوں کی نسبت اس حیثیت سے خصوصی اہمیت کا حامل ہے کہ حدیثِ قدسی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دیتا ہوں، ایک روایت میں ہے کہ روزہ کی جزا میں ہی ہوں۔ [مفاتیح القلوب]
بندے کے لیے اس سے بڑھ کر انعام اور کیا ہو سکتا ہے کہ اللہ رب العزت فرمائے کہ میں ہی جزا ہوں یعنی رمضان المبارک کے روزوں کی وجہ سے اللہ رب العزت روزہ دار بندے کا ہو جاتا ہے اور اللہ رب العزت جس بندے کا ہو جائے اس کے لیے پھر کسی چیز کی کمی نہیں رہ جاتی۔ بڑے خوش قسمت ہیں وہ جنہیں رمضان المبارک کے روزوں کی توفیق ملتی ہے۔
روزہ کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ نماز، حج اور زکوٰۃ ادا کرنے والوں کے مقابلے روزہ داروں کا تناسب ہمیشہ زیادہ رہا ہے اور روزہ کے معاملے میں خاص طور سے عورتیں بہت حساس اور بیدار ہوتی ہیں۔ روزہ دار مردوں کی نسبت روزہ دار عورتوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے امید ہے کہ روزہ سے دلچسپی ہی مغفرت کا ذریعہ بن جائے گی۔ اللہ رب العزت روزہ کے صدقے میں روزہ کی طرح اور دیگر عبادات یعنی نماز، حج اور زکوٰۃ کی ادائیگی کے تئیں بھی مسلمانوں میں احساسِ ذمہ داری اور بیداری پیدا فرما دے کہ ان سے بھی کسی کو مفر نہیں بلکہ یہ عبادتیں روزے سے کہیں زیادہ اہم اور ضروری ہیں۔
روزہ طلوعِ فجرِ صادق سے غروبِ آفتاب تک کھانے پینے اور جنسی تعلقات سے باز رہنے کا نام ہے، روزہ کی یہی ظاہری شکل ہے لیکن روزہ کی روح یہ ہے کہ مذکورہ تینوں چیزوں کے ساتھ ان تمام چیزوں سے بھی باز رہا جائے جو روزہ کے مقاصد اور اس کی حکمتوں اور اخلاقی و روحانی فوائد کے منافی ہیں۔ حقیقی اور کامل روزہ وہ ہے جس میں روزہ دار اپنے دل کو غلط خیالات اور فحش احساسات سے دور رکھے اور زبان کو کثرتِ گفتگو، بکواس، شور و شغف، گالی گلوچ، جھوٹ، غیبت، چغلی اور لڑائی جھگڑے کی باتوں سے بچائے اور کان، آنکھ کو بھی ناجائز و حرام باتوں اور مناظر سے محفوظ رکھے گویا وہ روزہ جو دل کے تقویٰ اور زبان، کان، آنکھ اور دیگر اعضا کی عفت و پاکدامنی کی روح سے خالی ہو وہ ظاہری روزہ تو کہا جا سکتا ہے مگر روحانی اور حقیقی روزہ نہیں کہا جا سکتا جو دینِ اسلام کا مطلوب ہے اور جس پر اجر ہی اجر ہے جسے زبردست اجر کی خوشخبری دی گئی ہے۔
روزہ کا ایک مقصد اور خصوصیت یہ بھی ہے کہ بندہ خورد و نوش کے اس عادی نظام سے آزاد ہو کر سال میں مہینہ بھر زندگی کے کچھ ایسے لمحات گزارے جن میں لذتِ کام و دہن کا سامان دسترس میں ہونے کے باوجود بھوک اور پیاس کا مزہ چکھے اور اس میں ایسی روحانی لذت محسوس کرے جو نوع بہ نوع پر تکلف اور لذیذ اشیائے خورد و نوش میں بھی محسوس نہیں ہوتی اور اسے خلوِ معدہ کی حالت میں خلوِ خواہشِ نفسانی سے آزادی، روحانی لطافت و بالیدگی، سکونِ خاطر اور صفائے قلب حاصل ہو۔ لیکن آج مسلمان روزہ کے اس عظیم روحانی مقصود کے ساتھ بڑی بے انصافی سے کام لے رہا ہے۔
افطار میں انواع و اقسام کے تکلف اور لذیذ پکوانوں کی ایسی فراوانی اور اس قدر غیر ضروری اہتمام ہونے لگا ہے کہ روزہ کی مقصدیت ہی فوت ہو گئی ہے۔ دن بھر بھوکا رہنے کے بعد جب روزہ دار پر تکلف دسترخوان اپنے سامنے پاتا ہے تو اذانِ مغرب ہوتے ہی ان کھانوں پر ٹوٹ پڑتا ہے حتیٰ کہ وہ کھانے کے سوا دعائے افطار پڑھنا اور وقتِ مستحب میں نمازِ مغرب ادا کرنا بھی بھول جاتا ہے اور کھانے کی محویت اسے اتنا بے حس بنا دیتی ہے کہ جب تک حلق تک پیٹ نہیں بھر لیتا کھانے سے ہاتھ نہیں کھینچتا۔ ایسی بسیار خوری کے نتیجے میں اس نے دن بھر بھوکے رہنے کی تلافی کر دی ہے۔
روزہ دار اپنے دشمن نفس و شیطان پر غالب آنے اور شہوت دبانے کے بجائے مغلوب ہو کر شہوت کو مزید برانگیختہ کر لیتا ہے اور پھر صفائے قلب اور دیگر روحانی فوائد کا حصول تو کہاں معدہ کے بوجھ سے وہ اتنا سست ہو جاتا ہے کہ قیام اللیل یعنی تراویح و تہجد بھی نگاہ سے اوجھل کر دیتا ہے، بعض لوگ تو ہوس میں معدہ اتنا زیادہ بھر لیتے ہیں کہ اگر سال بھر پیٹ صحیح رہتا ہو تو رمضان المبارک میں کثرتِ طعام کی وجہ سے معدہ خراب کر لیتے ہیں اور صبح سے دوپہر تک ڈکار، خروجِ ریاح کی شکایت کرتے ہیں اور سردرد، الجھن اور چڑچڑا پن میں مبتلا ہو کر انتہائی بے کیفی کا دن گزارتے ہیں۔
ذرا غور کیجیے کیا روزہ کا یہی مقصد اور یہی فائدہ ہے؟ امام غزالی علیہ الرحمہ افطار کے کھانے میں بے احتیاطی پر تنقید کرتے ہوئے رقم طراز ہیں: (روزہ کا) پانچواں ادب یہ ہے کہ افطار کے وقت حلال غذا میں بھی احتیاط سے کام لے اور اتنا نہ کھائے کہ اس کے بعد گنجائش ہی نہ رہے، اس لیے کہ حلق تک بھرے پیٹ سے بڑھ کر مبغوض اللہ کے نزدیک کوئی بھری جانے والی چیز نہیں ہے۔ اگر روزہ افطار کے وقت دن بھر کی تلافی کر دے اور جو دن بھر کھانے والا تھا وہ اس ایک وقت میں کھا لے تو دشمنِ خدا پر غالب آنے اور شہوت ختم کرنے میں روزہ سے کیا مدد مل سکے گی؟ یہ عادت مسلمانوں میں اتنی رائج اور عام ہو چکی ہے کہ رمضان المبارک کے لیے پہلے سے سامانِ خوراک جمع کیا جاتا ہے اور رمضان کے دنوں میں اتنا اچھا اور نفیس کھانا کھایا جاتا ہے جو اور دنوں میں نہیں کھایا جاتا، روزہ کا مقصد تو خالی پیٹ رہنا اور خواہشات کو دبانا ہے تا کہ تقویٰ کی صلاحیت پیدا ہو سکے۔
اب اگر معدہ کو صبح سے شام تک کھانے پینے سے محروم رکھا جائے اور شہوت اور بھوک کو خوب امتحان میں ڈالنے کے بعد انواع و اقسام کے کھانوں سے پیٹ بھر لیا جائے تو نفس کی خواہشات اور لذتیں کم نہ ہوں گی بلکہ بڑھ جائیں گی بلکہ ممکن ہے کہ بہت سی ایسی خواہشیں جو ابھی تک خوابیدہ تھیں وہ بھی بیدار ہو جائیں۔ رمضان المبارک کی روح اور اس کا راز ان طاقتوں کو کمزور کرنا ہے جن کو شیطان اپنے وسائل کے طور پر استعمال کرتا ہے اور یہ بات قلیل غذا ہی سے حاصل ہو گی۔ یعنی شام کو اتنا ہی کھائے جتنا اور دنوں میں کھاتا تھا اگر کوئی دن بھر بھوکا رہ کر ایک وقت میں کھا لے تو اس سے روزہ کا فائدہ حاصل نہ ہو گا۔ بعض حضرات روزہ کے دنوں میں وقت گزاری اور بھوک پیاس کے احساس سے بچنے کے لیے اور دنوں کی نسبت زیادہ سوتے ہیں۔ امام غزالی علیہ الرحمہ لوگوں کو تنبیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: (روزہ کے) آداب میں یہ بات بھی داخل ہے کہ دن میں زیادہ نہ سوئے تا کہ بھوک پیاس کا کچھ مزہ معلوم ہو۔ قوی کو ضعف کا احساس ہو، قلب میں صفائی پیدا ہو۔ اس طرح اسے معدہ کو اتنا ہلکا رکھے کہ تہجد اوراد و وظائف میں مشغولی آسان ہو اور شیطان اس کے دل کے پاس منڈلانے نہ پائے اور اس صفائیِ قلب کی وجہ سے عالمِ ملکوت کا دیدار اس کے لیے ممکن ہو۔
خلاصہ یہ کہ روزہ میں کم کھائے، کم بولے اور کم سوئے۔ ہر انسان روح اور جسم سے مرکب ہے اور اس کے اندر روحانیت و جسمانیت کی کشمکش ہمیشہ جاری رہتی ہے، ہر انسان اللہ رب العزت کی طرف سے اس بات کا مکلف بنایا گیا ہے کہ وہ اپنی روحانیت کو جسمانیت پر غالب رکھنے کی کوشش کرے، اللہ رب العزت اس سلسلہ میں انسان کی مدد اور تعاون کے لیے محض اپنے فضل و کرم سے دو مددگار بھی عنایت فرماتا ہے: ایک داخلی مددگار یعنی عقل اور ایک خارجی مددگار یعنی شریعت!
انسان کے یہ دونوں قدرتی مددگار ہر وقت انسان کو اپنے ان طور طریقوں سے روکتے رہتے ہیں جو انسان کی جسمانیت اور حیوانی جبلت کے غلبہ اور روحانیت کی مغلوبیت کا سبب ہوتے ہیں لیکن انسان اکثر حالات میں عقل و شریعت کی رہبری اور تعاون سے فائدہ نہیں اٹھاتا اور عقل و شریعت کے تقاضوں کو نظر انداز کرتا رہتا ہے اور ہوتا یہ ہے کہ جب انسان عقل و شریعت کی بندشوں اور قدغنوں سے بالکل بے پروا ہو جاتا ہے تو اس بے قدری کے نتیجے میں رحمتِ الٰہی اس بندے سے روٹھ جاتی ہے اور اس انسان کی حیوانی جبلت ایک دن اتنی زیادہ طاقتور اور زبردست ہو جاتی ہے کہ وہ انسان کی روحانیت کو مغلوب کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی عقل اور شریعت کے تابع قدموں کو بھی مغلوب کر دیتی ہے اور پھر انسان کے جسمانی رجحانات اور اس کی نفسانی خواہشات کو عقل و شریعت، اخلاق و روحانیت، صالح فطری جذبات و احساسات اور اعصاب پر مکمل بالادستی حاصل ہو جاتی ہے اور انسان کی سرگرمیوں کا پورا نظام معدہ اور مادہ کی تسکین کی خاطر نفسانی خواہشات کا غلام بن جاتا ہے اور اسے بالکل یہ احساس نہیں رہ جاتا کہ وہ بندہِ شیطان ہے یا بندہِ رحمن؟ اور اس انسان سے خیر و شر اور نفع و نقصان اور حرام و حلال کی تمیز اس حد تک اٹھ جاتی ہے کہ وہ سانڈ بن جاتا ہے اور خواہشات کی تکمیل میں کوئی چیز رکاوٹ نہیں رہ جاتی اور ممنوع و غیر ممنوع چراگاہ میں منہ مارنے لگتا ہے اور اس کے نفس کو اب ہر وہ چیز گراں معلوم ہونے لگتی ہے جو اس کی راہ میں مزاحم ہو اور وہ انسان آخرت کے احتساب اور جزا و سزا کا تصور ہی کھو دیتا ہے۔
پھر ایسا انسان کبھی کبھی تو زندگی بھر کے لیے عبادت اور میلانِ عبادت سے محروم ہو جاتا ہے اور اسے ایک لمحے کے لیے بھی فراغِ قلب اور بیداری نصیب نہیں ہوتی اور اگر کسی لمحے سوچتا بھی ہے تو اس سوچ کی لذت اتنی مدھم ہوتی ہے کہ غفلت کا معمولی جھونکا بھی اسے بھگا دیتا ہے یا پھر نصیب یاوری کرتا ہے اور یہ انسان عبادت کرنے پر آمادہ بھی ہو جاتا ہے تو عبادت میں اس کا دل نہیں لگتا۔ عبادت اس کے لیے بوجھ معلوم ہوتی ہے اور اتنی ہی بے دلی اور بے کیفی کے ساتھ جیسے تیسے عبادت سے الگ ہو جاتا ہے گویا وہ قفس میں تھا اور اب آزاد ہو گیا اس کو اس عبادت میں کوئی روحانی اور قلبی لذت نہیں ملتی وجہ کیا ہے؟ بس یہ کہ ”إِنَّهَا لَكَبِيْرَةٌ إِلَّا عَلَى الْخَاشِعِيْنَ“ وہ عبادت بوجھ ہے مگر ڈرنے والوں پر نہیں یعنی غلبہِ خواہشات کے سبب جزا و سزا کا احساس اور احتسابِ مولیٰ کا خوف دل سے جاتا رہا۔
تو اب ضروری ہے کہ خواہشات کو دبایا اور مغلوب کیا جائے اور عقل و شریعت سے مدد لی جائے۔ عقل نے کہا: جب تمہارا خالق مولیٰ تعالیٰ ہے تو تمہارا لائقِ طاعت و عبادت بھی وہی ہے اور اس نے طاعت و عبادت کے طریقے سکھانے کے لیے شریعت بنائی ہے، چنانچہ شریعت سے رجوع کیا گیا تو شریعت نے کہا: اے بندہِ خواہشات! روزہ خواہشات سے بچنے کے لیے ڈھال ہے اس لیے روزہ رکھا کرو! امام غزالی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: روزہ کا مقصد یہ ہے کہ انسان ملکی صفت یعنی فرشتوں کی تقلید کرتے ہوئے خواہشات سے دست کش ہو جائے۔ اس لیے کہ فرشتے بھی خواہشات سے پاک ہیں اور انسان کا مرتبہ بھی جانوروں سے بلند ہے۔ نیز خواہشات کے مقابلے کے لیے اس کو عقل و تمیز کی روشنی عطا کی گئی ہے، البتہ وہ فرشتوں سے اس لحاظ سے کم تر ہے کہ خواہشات اکثر اس پر غلبہ پا لیتی ہیں اور اس کو ان سے آزاد ہونے کے لیے سخت مجاہدہ کرنا پڑتا ہے۔
چنانچہ جب وہ اپنی خواہشات کی رو میں بہہ نکلتا ہے تو اسفل السافلین تک جا پہنچتا ہے اور جانوروں کے ریوڑ سے جا ملتا ہے اور جب اپنی خواہشات پر غالب آتا ہے تو اعلیٰ علیین اور فرشتوں کے آفاق تک پہنچ جاتا ہے۔ [احیاء العلوم]
حاصل یہ کہ خواہشات کو دبانے، جسمانیت کو مغلوب کرنے اور معدہ پرستی کو ختم کرنے کے لیے قدرت کی طرف سے سال میں رمضان المبارک بھر انسان کو روزہ کا مکلف کیا گیا تا کہ انسان کا ایمان جاگتا رہے اور اس کی روحانیت، جسمانیت، مادیت کی کثافت سے پاک ہو کر اتنی غالب اور طاقتور ہو جائے کہ اسے ملائے اعلیٰ سے نسبت حاصل ہو جائے اور روح و قلب کی تاریک و تنگ فضا اتنی روشن اور کشادہ ہو جائے کہ جس میں وہ پرواز کر کے اپنے مولیٰ کا قرب پا کر محبوب بن جائے اور اس کا دل ایسا صاف و شفاف آئینہ بن جائے کہ جب بھی ذرا گردن جھکا کے دیکھے اسے اس میں جلوہِ یار نظر آنے لگے۔
دل کے آئینے میں ہے تصویرِ یار
جب ذرا گردن جھکائی دیکھ لی
[ماہنامہ سنی دنیا بریلی شریف، اپریل 2025ء، ص: 15]
