Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

امام احمد رضا سے اختلاف کیوں نہیں کر سکتے؟

امام احمد رضا سے اختلاف کیوں نہیں کر سکتے؟
عنوان: امام احمد رضا سے اختلاف کیوں نہیں کر سکتے؟
تحریر: مفتی جمیل احمد قادری
پیش کش: قافیہ نوری بنت محمد ظہیر رضوی
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

ادھر کچھ سالوں سے بعض فتنہ پرور لوگوں کی طرف سے سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آخر امام احمد رضا سے علمی اختلاف کیوں نہیں کیا جا سکتا؟ جبکہ حضور اعلیٰ حضرت نے اپنے اکابر علما اور فقہا سے اختلاف کیا ہے اور اس ضمن میں بطورِ دلائل کئی قسم کی باتیں کی جاتی ہیں، مثلاً: ایک صاحب نے لکھا کہ مسجد نبوی میں عین خطبہ کے وقت فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کو ایک خاتون نے بابِ مہر کے ایک مسئلے میں ٹوکا اور ان سے اختلاف کیا تھا۔ کسی نے ماضی قریب کی مقتدر شخصیات کو حوالے میں پیش کیا، کہ انہوں نے اپنے بڑوں کے ساتھ اختلاف کیا، مثلاً: مفتی شریف الحق امجدی صاحب نے، علامہ سید غلام جیلانی میرٹھی علیہ الرحمہ سے چاند پر جانے کے مسئلے میں اختلاف کیا۔

بنارس میں ایک صاحب نے تقریباً 30 سال پہلے "آئینہ" نامی ایک رسالے میں ایسے ہی کئی مقامات اور اختلافات کی نشاندہی کی تھی، جس میں حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ نے بعض فقہی مسائل میں سیدی اعلیٰ حضرت سے اختلاف کیا ہے۔ راقم کہتا ہے کہ بابِ اختلاف میں علمی تبحر اور ادراکِ تام کا خاصا دخل ہے، ساتھ ہی ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ جس فن میں اختلاف کریں، اُس میں مہارت کے ساتھ اُس کے مالہ وما علیہ پر بھی پورا ادراک ہو۔

ماضی میں جتنی مثالیں ملتی ہیں، سب میں یہ وصف نمایاں نظر آتا ہے، مثلاً: فاروقِ اعظم نے عورتوں کا مہر کم رکھنے کی بات کی، تو جس خاتون نے ٹوکا تھا، انہوں نے قرآن کا حوالہ دیا اور لفظ "قنطار" کو اپنا مستدل بنا کر کہا تھا کہ قرآن میں تو لفظ "قنطار" آیا ہے، جس کا معنی ہے "ڈھیر سارا مال"، یعنی عورتوں کو اگر تم نے مہر میں ڈھیروں مال دے رکھا ہے تو اُس سے واپس نہ لو۔ [سورہ النساء، آیت: 20]

وہ خاتون، قرآن کی آیات و معانی کو سمجھتی تھیں، سببِ نزول، ناسخ و منسوخ، حقیقت و مجاز، عبارت و دلالت اور لغات سے خوب واقف تھیں، جبھی تو سب خاموش ہو گئے۔ ساتھ ہی اُنہیں دلائل کے درجات کا بھی پتہ تھا کہ نصوصِ قرآنیہ، مسائلِ اجتہادیہ پر فائق ہوتی ہیں۔ فاروقِ اعظم نے جو کچھ فرمایا تھا، وہ اجتہاد پر مبنی تھا۔ اُس کے بالمقابل خاتون نے نصِ صریح پیش کی اور وہ بھی نصِ قرآنی۔

سیدنا امامِ اعظم سے دیگر مجتہدین نے جو اختلاف کیا، تو اُن کے اختلافات بھی انہی حقائق پر مبنی تھے۔ قرآنی آیات کے مقابلے میں آیات پیش کرتے، حدیثی تصریحات کے سامنے اُسی پائے کی دوسری روایت پیش کرتے، عقلی دلائل کو عقل سے توڑنے کی کوشش کرتے۔ علوم، مہارت اور قوتِ اجتہاد میں ہم پلہ تھے، اسی لیے اسلامی تاریخ نے اُنہیں اپنے دامن میں جگہ دی۔

امامِ اعظم کے شاگردوں نے اپنے استاد سے اگر اختلاف کیا تو دراصل اُن شاگردوں نے اپنی رائے امامِ اعظم کی رائے کے سامنے پیش کرنے کی کوشش نہیں کی بلکہ امامِ اعظم ہی کے متعدد اقوال کو ان کے شاگرد دلائل سے مبرہن کرتے، پھر استاد پر پیش کرتے۔ امامِ اعظم اُن پر کامل غور و خوض فرماتے اور پھر تامل و مباحثہ کے بعد اسے لکھ لیا جاتا۔

چونکہ دلائل شاگرد کے ہوتے، لہٰذا انہی کا قول قرار پاتا اور انہی کے نام سے وہ مسئلہ موسوم ہوتا۔ یہ نہیں کہ شاگردوں نے اختلاف کر کے اپنا الگ مسئلہ بیان فرمایا، ورنہ امام محمد یا امام زفر وغیرہ کے قول پر عمل کرنے والا حنفی کیوں کہلاتا؟ اُسے تو محمدی یا زُفری یا یوسفی کہلانا چاہیے۔ (اگر اس مسئلے کی مزید تحقیق دیکھنی ہو تو امام احمد رضا کا رسالہ "اَجْلَى الْإِعْلَامِ أَنَّ الْفَتْوٰى مُطْلَقًا عَلٰى قَوْلِ الْإِمَامِ" دیکھیں، یا پھر "مقدمہ فتاویٰ مفتی اعظم" کا مطالعہ کریں۔)

صدر الشریعہ کی اگر بعض عبارتیں، امام احمد رضا کی عبارتوں سے متصادم ہیں، تو یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ صدر الشریعہ کی علمی رفعت، اہلِ سنت میں مسلم ہے، خود امامِ اہلِ سنت نے ان کی فقاہت کی تعریف فرمائی ہے۔ ٹھیک اسی طرح شارحِ بخاری نے اگر چاند کے مسئلے میں سید غلام جیلانی میرٹھی علیہ الرحمہ کے خلاف تحقیق پیش کی ہے، تو دونوں شخصیات کی علمی جلالت عروج پر تھی۔ ایسے حضرات اگر کسی مسئلے میں اختلاف کریں تو یہ ان کی شان ہے، کہ علم و تدبر، وسعت و گہرائی میں ایک دوسرے کے ہم پلہ ہیں۔

رہی بات امام احمد رضا کی، تو ان کے معاصرین میں دو چند نے اختلاف کیا۔ لیکن حق امامِ اہلِ سنت کے ساتھ تھا۔ آج کے ننھے منے محققین کس شمار و قطار میں ہیں؟ یہ نہ معاصر ہیں، نہ اعلیٰ حضرت کے بالمقابل علم و فضل میں کوئی حصہ رکھتے ہیں۔ آج والوں کے پاس تو امام احمد رضا کی اردو عبارت سمجھنے کی لیاقت نہیں۔ تحقیقات میں اختلاف کرنا تو بڑی بات ہے۔ میں نے جو "اردو عبارت" کی بات کی ہے تو وہ تحقیراً نہیں بلکہ فی الواقع ایسا ہے۔ میں حضور، امام، احمد رضا رضی اللہ عنہ کا ایک اردو جملہ ناظرین کے حوالے کرتا ہوں اور اختلاف کے سودائیوں کو چیلنج بھی کرتا ہوں کہ اس جملے کو حل کر دو! اگر پسینے نہ چھوٹ گئے تو کہنا! وہ جملہ ہے:

"تصورِ شیخ بروجہِ رابطہ جسے برزخ بھی کہتے ہیں، جس طرح حضراتِ صوفیہِ صافیہ قَدَّسَنَا اللهُ تَعَالٰى بِأَسْرَارِهِمُ الْوَافِيَةِ میں خَلَفًا عَنْ سَلَفٍ معمول و ماثور اور ان کی تصانیفِ منیفہ و مکتوباتِ شریفہ و ملفوظاتِ لطیفہ میں بتواتر مذکور و مسطور و غیر مستور کہ شبحِ شیخ حاشا بلکہ عینِ شیخ کہ شبح حضوراً و غیبۃً صرف مرآتِ ملاحظہ ہے اور کارِ حقیقتاً کارِ روح جو بعد صفائی کدوراتِ حیوانیہ و انجلائے ظلماتِ نفسانیہ صورتِ واحدہِ شہادت و ہیاکلِ متکثرہِ مثالیہ میں دفعۃً ہزار جگہ کام کر سکتی ہے۔ جیسا کہ بارہا مشاہدہ و مرئی اور حضراتِ اولیاء سے بکثرت مروی اور عالمِ رویا میں بے شرطِ ولایت جاری، جسے افعالِ عجیب و تصرفاتِ غریبہ روحِ انسانی پر اطلاع حاصل، وہ جانتا ہے کہ یہ تو اُس کے بحارِ زاخرہ و امواجِ قاہرہ سے ایک قطرہ قلیلہ ہے اور خود بعد تمرین و اعتیاد و تکاملِ مناسبت اُس صورتِ متخیلہ کا بے اعانتِ تخییل حرکت و کلام اور مشکلاتِ راہ میں قیام و اہتمام اور دقائق و حقائق کا شفا با حلِ تام كَمَا تَشْهَدُ بِهٖ شُهُوْدُ الشُّهُوْدِ وَالتَّجْرِبَةُ دَلِيْلٌ جَلِيٌّ وَسَلْسَبِيْلٌ ہے کہ یہ فقط پیکرِ مخزون کا علی العکس المعتاو خزانہ خیال سے حسِ مشترک کی طرف عودِ قہقری نہیں بلکہ وہی مرکبِ مثال میں شہسوارِ روح کی جولانیاں ہیں اگرچہ خود فاعل کو شعور یعنی شعور بالشعور نہ ہو كَمَا هُوَ الْمَشْهُوْدُ لِعُمُوْمِ النَّاسِ فِيْ غَيْبَةِ الرُّؤْيَا ورنہ صدورِ افعالِ اختیارِیہ کو شعور سے انفکاک نہیں، أَتْقِنْ هٰذَا فَإِنَّهٗ مُهِمٌّ نَافِعٌ وَلِأَكْثَرِ الشُّبُهَاتِ حَاسِمٌ قَاطِعٌ صرف واسطہِ وصول و ناودانِ فیض و باعثِ جمعیتِ خاطر و زوالِ تفرقہ ہائے شرعاً جائز۔" [الیاقوتۃ الواسطۃ فی قلب عقد الرابطۃ، ص: 67، مکتبہ علمیہ دعوتِ اسلامی]

اس جملہِ بالا میں "تصورِ شیخ" مبتدا اور "جائز" خبر ہے، یہ فل سائز کے 17 سطور کا ایک جملہ ہے، معنی و مفہوم تو الگ! اختلاف کرنے والے ایسا کوئی دوسرا جملہ ہی بنا کر پیش کر دیں، عام فقہی کتابوں میں لکھا ہے کہ سونے کے بعد وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ امام احمد رضا نے بھی یہی فرمایا، مگر دس صورتیں ایسی بیان کی ہیں، جن میں وضو نہیں ٹوٹتا اور ساتھ ہی دس صورتیں ایسی بتائیں، جن میں اگر ایک پر بھی کوئی سوئے، تو وضو ٹوٹ جائے گا۔ [فتاویٰ رضویہ، جلد اول، صفحہ: 71، رضا اکیڈمی]

اختلاف کرنے والوں کو میرا چیلنج ہے کہ دم ہے تو دو چار صورتیں آپ بھی بتا دیں۔ امام احمد رضا نے "آبِ مطلق" یعنی ایسا پانی جس سے وضو ہو سکتا ہے، اس کی 307 اقسام بیان کی ہیں۔ [فتاویٰ رضویہ، جلد اول، صفحہ: 472، رضا اکیڈمی، ممبئی]

جب کوئی شخص پانی استعمال کرنے پر قادر نہ ہو تو اس کے لیے تیمم جائز ہے، امام احمد رضا نے ایسی 175 صورتیں بتائی ہیں، جہاں بندہ پانی کے استعمال سے عاجز ہونے کے سبب تیمم کر سکتا ہے۔ [فتاویٰ رضویہ، جلد اول، صفحہ: 611]

اختلاف کرنے والو! دو چار صورتیں تم بھی بتا دو۔ عام فقہا نے مرد کے اعضاِ عورت آٹھ بتائے ہیں۔ امام احمد رضا نے فقہا کی عبارات سامنے رکھ کر انہی کے بیانات کی روشنی میں نو اعضا ثابت فرمائے ہیں۔ [فتاویٰ رضویہ، جلد سوم، صفحہ: 5، رضا اکیڈمی]

آج کے محققین میں اگر دم ہے تو زیادہ نہیں، ایک آدھ ہی اور ثابت کر دیں، میں جانتا ہوں کہ ایسے محققین کا مطمحِ نظر کیا ہے؟ بعض تو اپنی برتری اور محققانہ شان کے اظہار کے لیے اس قسم کی حرکتیں کرتے ہیں تاکہ لوگ انہیں دورِ حاضر کا سب سے بڑا محقق اور علما کا سردار سمجھیں، جب کہ ایسا نہیں ہوتا، اہلِ سنت کے علما ایسی تحقیقات کا جب تار پود بکھیرتے ہیں، تو پتا چلتا ہے کہ یہ تحقیق نہیں بلکہ کم فہمی یا کج فہمی کا نتیجہ تھی۔

بعض لوگ اس لیے حضور اعلیٰ حضرت سے اختلاف کرتے ہیں، کیونکہ دیوبندیوں کی تکفیر ان کے نفس کو گوارا نہیں "حسام الحرمین" اور "فتاویٰ الحرمین" ان کی راہ کی رکاوٹ ہیں، وہ جب بھی دیوبندیوں کے ساتھ آزادانہ گھال میل کرنا چاہتے ہیں، ان کے ساتھ کھانا پینا اور دوستی نبھانا چاہتے ہیں، مسلمان ٹوک دیتے ہیں، لوگ ان کی سنیت پر تھو کرنے لگتے ہیں کہ کیسے سنی ہو، جو وہابیوں اور بدعقیدہ دیوبندیوں کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہو، اعلیٰ حضرت نے انہیں کافر لکھا ہے، ان کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے کو ناجائز قرار دیا ہے، یہ صلح کلی اور انا پرست قسم کے لوگ ہیں، انہیں دین و شریعت سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا بلکہ ایمان و عقیدہ کی بھی ان کی نظروں میں کچھ خاص اہمیت نہیں ہوتی۔

اس کا دوسرا بڑا اثر دنیا دار اور نفس پرست پیروں پر پڑتا ہے، ایسے پیر چاہتے ہیں کہ مریدوں کا حلقہ وسیع ہو، تعداد میں اضافہ ہو، نذر و نیاز اور چڑھاوے کا مال زیادہ سے زیادہ جمع ہو اور اس کے لیے گڑ، گوبر ایک کرنے کی کوشش کرتے ہیں، سنیوں کے ساتھ بد عقیدہ لوگوں کو بھی سمیٹتے ہیں، سب کو اپنا سمجھتے ہیں، کیونکہ دنیا طلبی اور جمعِ مال کے لیے یہ ضروری ہے۔ مگر امام احمد رضا کا فتویٰ، کہ دیوبندی اور وہابی اپنے عقائدِ کفریہ کے سبب کافر ہیں، ان پیروں کے لیے سدِ راہ بنتا ہے۔

اس لیے وہ چاہتے ہیں کہ اعلیٰ حضرت کے فتوے کو بے اعتبار کر دیا جائے، اختلاف کی آگ میں جھونک کر عوام سے کہا جائے کہ دیوبندیوں کو کافر سمجھنے کا مسئلہ اختلافی ہے، اعلیٰ حضرت نے اگر کافر لکھا، تو فلاں فلاں عالم اور محقق نے اس کے خلاف فتویٰ دیا ہے، لہٰذا وہ قطعی اور یقینی نہیں اور اس ناپاک مشن کی تکمیل کے لیے کسی نے خود آواز اٹھائی اور کسی نے بعض اداروں کے فارغین کو پیسے سے خرید کر یہ کام لیا۔

دنیا کے لیے دین بیچنے والے، ہر دور میں رہے ہیں۔ امامِ اہلِ سنت کا یہ دعائیہ شعر، ہمارا صبح و شام کا وظیفہ رہے:

بحرِ شبلی شیرِ حق دنیا کے کتوں سے بچا
ایک کا رکھ عبدِ واحد بے ریا کے واسطے

ضمیر فروشوں نے نمک کھا کر حقِ نمک ادا کیا اور یہ بھول گئے کہ آج امام احمد رضا کی ذات اور ان کی اعتقادی تصریحات نے اہلِ سنت کو اتحاد کی لڑی میں پرو رکھا ہے، امام احمد رضا کے ارشادات ہی آج دینِ حق کی صحیح تعبیر و تشریح ہیں، ان سے اختلاف کر کے ان کے فرامین کو بے اعتبار کرنا دین و مذہب کی دیوار میں نقب لگانے جیسا ہے، سستی شہرت یا دوسروں کے پھینکے ہوئے چند ٹکڑے کسی کام کے نہیں، مرنے کے بعد اللہ اور اس کے رسول کو منہ دکھانا ہے۔

[ماہنامہ سنی دنیا بریلی شریف، اپریل 2025ء، ص: 34]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!