| عنوان: | یومِ چہار شنبہ کے فضائل و معمولات (قسط: دوم) |
|---|---|
| تحریر: | مفتی صابر القادری فیضی |
| پیش کش: | نازیہ احمدی ضیائی |
فرعون اور اس کے لشکر کی ہلاکت
فرعون اور اس کا لشکر بدھ کے دن ہلاک ہوئے تھے، جب حضرت موسیٰ علیہ السلام فرعونیوں کییرہ دستیوں سے تنگ آ گئے تو رات کے وقت بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر مصر سے چلے گئے، صبح کے وقت جب فرعونیوں کو پتہ چلا کہ بنی اسرائیل مصر چھوڑ کر چلے گئے ہیں تو ظالم فرعون بڑا غضب ناک ہوا اور ایک لشکر ساتھ لے کر بنی اسرائیل کی تلاش میں نکلا آخر کار ایک مقام پر بنی اسرائیل کو پا لیا، بنی اسرائیل فرعونی لشکر کو دیکھ کر گھبرا گئے کہ دشمن ہم پر قابو پا لیں گے، نہ ہم ان کے مقابلے کی طاقت رکھتے ہیں اور نہ ہی بھاگنے کی جگہ ہے، کیونکہ آگے دریا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو تسلی دی کہ کوئی فکر نہ کرو اللہ رب العزت کی طاقت ہمارے شاملِ حال ہے، اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دریا پر اپنا عصا مارا تو اس کی برکت سے بارہ خشک راستے بن گئے، بنی اسرائیل نے ان راستوں سے دریا کو سلامتی سے پار کیا، یہ دیکھ کر فرعونی سب کے سب دریا کے اندر آ گئے، تو دریا بحکمِ الٰہی مل گیا اور مثلِ سابق ہو گیا اور فرعون اپنی قوم کے ساتھ ڈوب گیا۔
خداوندِ قدوس قرآنِ مجید و فرقانِ حمید میں ارشاد فرماتا ہے:
فَأَتْبَعُوْهُمْ مُّشْرِقِيْنَ فَلَمَّا تَرَاءَا الْجَمْعٰنِ قَالَ أَصْحٰبُ مُوْسٰى إِنَّا لَمُدْرَكُوْنَ قَالَ كَلَّا ۖ إِنَّ مَعِيَ رَبِّيْ سَيَهْدِيْنِ فَأَوْحَيْنَا إِلٰى مُوْسٰى أَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْبَحْرَ ۖ فَانْفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِيْمِ وَأَزْلَفْنَا ثَمَّ الْاٰخَرِيْنَ وَأَنْجَيْنَا مُوْسٰى وَمَنْ مَّعَهٗ أَجْمَعِيْنَ ثُمَّ أَغْرَقْنَا الْاٰخَرِيْنَ إِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَآيَةً ۖ وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِيْنَ
یعنی تو فرعونیوں نے ان کا تعاقب کیا دن نکلے، پھر جب آمنا سامنا ہوا دونوں گروہوں کا، موسیٰ والوں نے کہا ہم کو انہوں نے آ لیا، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا یوں نہیں بیشک میرا رب میرے ساتھ ہے، وہ مجھے اب راہ دیتا ہے، تو ہم نے موسیٰ علیہ السلام کو وحی فرمائی کہ دریا پر اپنا عصا مار، تو جبھی دریا پھٹ گیا تو ہر حصہ ہو گیا جیسے بڑا پہاڑ اور وہاں قریب لائے ہم دوسروں کو اور ہم نے بچا لیا، موسیٰ علیہ السلام کو اور ان کے سب ساتھیوں کو، پھر دوسروں کو ڈبو دیا، بیشک اس میں ضرور نشانی ہے اور ان میں اکثر مسلمان نہ تھے۔ [سورۃ الشعراء، آیات: 60-67]
نمرود کی ہلاکت کا بیان
نمرود بن کنعان کو مچھر سے اللہ تعالیٰ نے بدھ کے دن ہلاک کیا تھا، نمرود لعین وہ بادشاہ تھا کہ جس کی بادشاہی پوری روئے زمین پر تھی اور اس نے خدائی کا دعویٰ کیا تھا، اس کی ہدایت کے لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام بھیجے گئے مگر نمرودِ ملعون اپنی سرکشی پر اڑا رہا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعوت کو قبول نہ کیا اور آخر کار حکومت کے نشے میں اور اپنی فوج کی کثرت پر فخر کرتے ہوئے کہا، ابراہیم تو اپنی خدائی فوج لے آ اور میں اپنا لشکر لے آتا ہوں تا کہ لڑائی ہو اور تیرا خدا مجھ سے ملک اور سلطنت چھین لے۔
کہتے ہیں کہ لعین کے پاس سات لاکھ مسلح فوج تھی، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بارگاہِ خداوندی میں دعا کی کہ نمرود نے اپنا لشکر میدان میں اتار دیا ہے اور تیرے لشکر کا انتظار کر رہا ہے، اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا کو قبول فرمایا اور مچھروں کا لشکر نمرودی لشکر پر ساحلِ سمندر سے بھیج دیا۔
اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سب سے کمزور ترین مخلوق مچھر ہے، دوسرے حیوان جب سیر ہوں تو موٹے ہوتے ہیں مگر مچھر جب سیر ہو جائے تو مر جاتا ہے، الغرض مچھر اس کثرت سے جمع ہو گئے کہ میدانِ جنگ اور اس کی فضا کو بھر دیا اور نمرودی لشکر کے گوشت کھا گئے اور خون پی گئے اور تھوڑے ہی وقفے میں نمرودی فوج تباہی کے گڑھے میں گر کر تباہ ہو گئی اور لنگڑا مچھر نمرود کے دماغ میں گھس گیا جو چالیس شبانہ روز اس کا دماغ کھاتا رہا آخر کار وہ جھوٹا خدا بدھ کے دن ہلاک ہو گیا۔ [کتاب السبعیات، ص: 86]
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا:
وَمَا يَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّكَ إِلَّا هُوَ.
یعنی اور تمہارے رب کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ [پارہ: 29، سورۃ المدثر، آیت: 31]
قومِ صالح کی ہلاکت کا بیان
اللہ رب العزت نے حضرت صالح علیہ السلام کی قوم کو چہار شنبہ یعنی بدھ کے دن حضرت جبریل علیہ السلام کی چنگھاڑ سے ہلاک فرمایا، حضرت صالح علیہ السلام نے اپنی قوم کو خبردار کیا کہ اس زمانے میں ایک لڑکا پیدا ہوگا جو ساری قوم کی ہلاکت کا سبب بنے گا تو قوم کے اشراف حضرات جمع ہوئے اور ان میں یہ طے پایا کہ لوگ اپنی عورتوں سے الگ رہیں اور جو عورت حاملہ ہے جو وہ لڑکا جنے تو اس کو قتل کر دیں ایک مرد کی عورت نے بچہ جنا چونکہ اس شخص کا اس سے پہلے کوئی بچہ نہ تھا اس لیے اس نے اس کو قتل نہ کیا اس نومولود کا نام قدار رکھا گیا، جب قدار بڑا ہو گیا اور کوئی واقعہ رونما نہ ہوا تو لوگ اپنی اولاد کے قتل پر نادم ہوئے اور آپس میں مشورہ کیا کہ حضرت صالح علیہ السلام کو قتل کر دیا جائے۔
اللہ رب العزت قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں ارشاد فرماتا ہے:
وَكَانَ فِي الْمَدِيْنَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ يُّفْسِدُوْنَ فِي الْأَرْضِ وَلَا يُصْلِحُوْنَ
یعنی اور شہر میں نو شخص تھے کہ زمین میں فساد کرتے اور سنوار نہ چاہتے۔ [پارہ: 19، سورۃ النمل، آیت: 48]
ثمود کے شہر میں جس کا نام حجر تھا، ان کے شریف زادوں میں نو شخص تھے جن کا سردار قدار بن سالف تھا یہی لوگ ہیں جنہوں نے ناقہ کی کونچیں کاٹنے میں سعی کی تھی، کہنے لگے کہ یہ نو آدمی کسی طرف سفر پر چلے جاتے ہیں اور پھر پوشیدہ طور پر آئیں گے کہ کسی کو پتہ نہ چلے اور صالح علیہ السلام کو قتل کر دیں گے پھر ان کے قرابت داروں کے سامنے قسم اٹھا لیں گے کہ نہ ہم نے اسے قتل کیا اور نہ اس کا علم ہے قدار اس وقت پندرہ برس کا تھا یہ لوگ شراب پیتے تھے انہیں پیاس لگی مگر انہیں پینے کے لیے پانی نہ مل سکا کیونکہ حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی کے پینے کا دن تھا جو اپنی باری میں سارا پانی پی جاتی تھی، قدار اٹھا اور کہنے لگا کہ اس اونٹنی کی وجہ سے ہم پیاسے مر رہے ہیں لہٰذا میں اسے قتل کرتا ہوں دوسروں نے بھی اس کی تائید کی قدار نے تلوار لی اور چل کر پہاڑ کی وادی میں چھپ کر بیٹھ گیا وہ اونٹنی کے واپس آنے کا وقت تھا جب اونٹنی قدار کے قریب سے گزری تو قدار نے حملہ کر کے قتل کر دیا پھر اس کے بچے کے قتل کے درپے ہوا مگر بچہ اس پہاڑ کی طرف چلا گیا جس سے اس کی ماں پیدا ہوئی تھی قدرتِ الٰہی سے پہاڑ پھٹ گیا اور بچہ اس میں داخل ہو گیا، جب حضرت صالح علیہ السلام کو معلوم ہوا کہ اونٹنی کو قتل کر دیا گیا ہے تو قومِ بدشعار کو مخاطب کر کے فرمایا:
تَمَتَّعُوْا فِيْ دَارِكُمْ ثَلٰثَةَ أَيَّامٍ ۖ ذٰلِكَ وَعْدٌ غَيْرُ مَكْذُوْبٍ
یعنی اپنے گھروں میں تین دن اور برت لو یہ وعدہ ہے کہ جھوٹا نہ ہوگا۔ [پارہ: 12، سورۃ ہود، آیت: 65]
چنانچہ چہار شنبہ کے دن ان کے چہرے زرد ہو گئے اور دوسرے دن جمعرات کو سرخ اور تیسرے روز یعنی جمعہ کو سیاہ اور شنبہ یعنی سنیچر کو عذاب نازل ہوا حضرت جبریل علیہ السلام نے ایک نعرہ مارا مر جاؤ کہ تم پر اللہ کی لعنت ہو، اس ہولناک آواز کی ہیبت سے ان کے دل پھٹ گئے اور وہ سب کے سب مر گئے، اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
وَأَخَذَ الَّذِيْنَ ظَلَمُوا الصَّيْحَةُ فَأَصْبَحُوْا فِيْ دِيَارِهِمْ جٰثِمِيْنَ كَأَنْ لَّمْ يَغْنَوْا فِيْهَا ۗ أَلَا إِنَّ ثَمُوْدَ كَفَرُوْا رَبَّهُمْ ۗ أَلَا بُعْدًا لِّثَمُوْدَ
یعنی اور ظالموں کو چنگھاڑ نے آ لیا تو صبح اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل پڑے رہ گئے گویا یہاں بسے ہی نہ تھے سن لو بیشک ثمود اپنے رب سے منکر ہوئے ارے لعنت ہو ثمود پر۔ [پارہ: 12، سورۃ ہود، آیات: 67-68]
اگر کوئی سوال کرے کہ حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی سے افضل تھے تو ناقہ کے قتل پر عذاب ان کے قاتلوں پر نازل ہوا، اور حضرت سیدنا حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قتل پر عذاب نازل نہیں ہوا اس کی وجہ کیا ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ اونٹنی، قومِ صالح علیہ السلام کے لیے فتنہ کا سبب بن گئی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشادِ گرامی ہے:
إِنَّا مُرْسِلُوا النَّاقَةِ فِتْنَةً لَّهُمْ فَارْتَقِبْهُمْ وَاصْطَبِرْ
یعنی ہم ناقہ بھیجنے والے ہیں ان کی جانچ کو لے صالح تو راہ دیکھ اور صبر کر۔ [پارہ: 27، سورۃ القمر، آیت: 27]
یا اس لیے کہ جب حضرت رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں تشریف لائے تو تمام مخلوقات سے عذاب اٹھا لیا گیا، اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
وَمَا كَانَ اللهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيْهِمْ.
یعنی اور اللہ کا کام نہیں کہ انہیں عذاب کرے جب تک کہ محبوب تم ان میں تشریف فرما ہو۔ [پارہ: 9، سورۃ الانفال، آیت: 33]
اور حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد ہیں اور حضرت صالح علیہ السلام کے زمانے میں عذاب کا دروازہ کھلا تھا جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
إِنِّيْ أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيْمٍ.
یعنی بیشک مجھے تم پر بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے۔ [پارہ: 8، سورۃ الاعراف، آیت: 59]
اور محبوبِ خدا شافعِ محشر صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہِ رسالت میں رحمت کے دروازے کھلے تھے اور عذاب کے بند تھے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَمَا أَرْسَلْنٰكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِيْنَ
یعنی اور ہم نے تجھے نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہان کے لیے۔ [پارہ: 17، سورۃ الانبیاء، آیت: 107]
شداد بن عاد کی ہلاکت کا بیان
چہار شنبہ کے دن شداد بن عاد ہلاک ہوا تھا جس کا مختصر واقعہ یہ ہے کہ عاد کے دو بیٹے تھے ایک کا نام شدید اور دوسرے کا نام شداد تھا اس نے ایک آسمانی کتاب کا مطالعہ کیا اس میں جنت کی صفت اور تعریف پڑھی، کہنے لگا کہ میں اس جنت جیسی دنیا میں ایک جنت بنانا چاہتا ہوں اس کی سلطنت ساری روئے زمین پر دور و دراز تک پھیلی ہوئی تھی اپنے وزراء امراء اور سرداروں سے مشورہ کیا کہ چاہتا ہوں کہ ایک جنت بناؤں جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی صفت اپنی کتاب میں بیان کی ہے، انہوں نے کہا آپ کو اختیار ہے ساری دنیا پر تمہاری حکمرانی ہے خزانے تمہارے ملک میں ہیں، شداد تیار ہو گیا اور حکم دیا کہ مشرق و مغرب سے سونا چاندی ایک جگہ جمع کی جائے اور تین سو سال میں جنت میرے لیے تیار کی جائے چنانچہ بکثرت معمار جمع کیے گئے، ان میں سے تین سو کا انتخاب کیا گیا ہر ایک کے ماتحت ایک ایک ہزار کارکن مقرر کیے، انہوں نے دس سال دنیا میں چکر لگا کر ایک بہترین زمین تلاش کی جو سرسبز و شاداب تھی اور اس میں نہریں اور درخت بکثرت تھے پھر ایک مربع فرسخ میں جنت کی بنیاد رکھی اور ایک اینٹ سونے اور ایک چاندی سے جنت کے مکان کو پایہِ تکمیل تک پہنچایا پھر اس میں نہریں اور چشمے جاری کیے اور ایسے درخت لگائے جن کی جڑیں چاندی کی اور شاخیں سونے کی تھیں اور اس میں مختلف محل یاقوتِ احمر سے تیار کیے ان میں موتی اور یاقوت آویزاں کیے اور ان کی نہروں میں جواہر اور موتی ڈالے گئے کستوری اور عنبر نہروں اور درختوں کے درمیان نچھاور کیا گیا، جب جنت کے محل پایہِ تکمیل کو پہنچ گئے تو شداد کو خبر دی گئی کہ جنت کے محلات تیار ہو گئے ہیں، چنانچہ شداد اپنے ساتھیوں کے ہمراہ جنت کے ملاحظہ کے لیے چل پڑا۔
اہلِ سیر حضرات لکھتے ہیں کہ اس جنت کی تیاری کے لیے شداد کے امیروں اور وزیروں نے اپنی رعایا سے تمام سونا چاندی ظلماً چھین لیا تھا اور کسی کے پاس ذرہ برابر سونا چاندی نہ رہنے دیا صرف ایک لڑکی کے گلے میں درہم کے مقدار چاندی رہ گئی تھی تو اس کو بھی معاف نہیں کیا، اس سے بھی وہ چاندی چھیننے لگے تو لڑکی نے پوچھا ایسا کیوں کر رہے ہو؟ کیا اتنی مقدار چاندی بھی کسی کے پاس نہیں رہنے دیتے انہوں نے کہا کہ یہ بادشاہ کا حکم ہے اور انہوں نے وہ بھی لڑکی سے زبردستی لے لی مظلوم بچی نے اپنا چہرہ آسمان کی طرف بلند کیا اور کہا الٰہی تو جانتا ہے یہ ظالم جو کچھ تیرے غلاموں اور باندیوں سے کر رہے ہیں اے غیاث المستغیثین ہماری فریاد کو پہنچ اس دعا پر فرشتوں نے آمین کہی مستجاب الدعوات نے دعا کو قبول کیا اسی وقت جبکہ ابھی بادشاہ اور اس کا لشکر جنت میں قدم نہ رکھنے پایا تھا کہ حضرت جبریل علیہ السلام نے آسمان سے ایک چنگھاڑ ماری تو سب وہیں مر گئے نہ بادشاہ رہا نہ وزراء نہ فقیر نہ غنی سب وہیں تباہ ہو گئے۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
وَكَمْ أَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ هَلْ تُحِسُّ مِنْهُمْ مِّنْ أَحَدٍ أَوْ تَسْمَعُ لَهُمْ رِكْزًا
یعنی اور ہم نے ان سے پہلے کتنی سنگتیں کھپائیں کیا تم ان میں سے کسی کو دیکھتے ہو یا ان کی بھنک سنتے ہو۔ [پارہ: 16، سورۃ مریم، آیت: 98]
دعا ہے کہ ربِ قدیر ہم اہلِ سنن کو چہار شنبہ کے مذکورہ معمولات و ہدایات پر عمل کرنے کی توفیقِ رفیق عطا فرمائے، آمین بجاہ النبی المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم۔
ص 25 کا بقیہ
یہودی تم سے جدا ہو گئے تو کیا غم ہے تمہیں ایمان لانے کی پاداش میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنوں کی دوستی اور محبت حاصل ہو گئی، کسی کہنے والے نے بڑی پیاری بات کہی:
کوئی ملے ملے نہ ملے مصطفیٰ ملے
وہ شے ملے کہ ملنے سے جس کے خدا ملے
[سنی دنیا اردو بریلی شریف، مئی 2018ء]
