Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

سلطان الاولیاء سلطان الہند کی نظر میں

سلطان الاولیاء سلطان الہند کی نظر میں
عنوان: سلطان الاولیاء سلطان الہند کی نظر میں
تحریر: مولانا محمد قمر الزماں نوری مصباحی
پیش کش: قافیہ نوری بنت محمد ظہیر رضوی
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

سلطان الاولیاء، پیرانِ پیر روشن ضمیر حضرت سیدنا سرکار غوثِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بارگاہِ غوثیت میں تمام اولیائے اولین و آخرین نے اپنی محبتوں کا خراجِ عقیدت پیش کیا ہے، اپنی عقیدتوں کے موتی نچھاور کیے، اپنے خلوص و محبت کے گل دستے پیش کیے، حضور غوثِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شانِ رفعت میں بہت ساری کتابیں لکھی گئیں، جو ان کے فضائل و مناقب سے لبریز ہیں اور اللہ تعالیٰ کے محبوب بندوں کے دل ان کی محبت سے سرشار نظر آتے ہیں۔

سلطان الہند، خواجہِ خواجگان حضرت معین الدین چشتی اجمیری غریب نواز رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دیگر اولیائے کاملین کی طرح بارگاہِ سلطان الاولیاء میں اپنی عقیدتوں کے مہکتے ہوئے پھول برسائے اور ایسا نذرانہِ محبت پیش کیا جو بے مثال اور باکمال ہے، حضرت سلطان الہند کے نزدیک حضرت سلطان الاولیاء سردارِ اولیاء اور سرتاجِ مشائخ ہیں، حضرت غریب نواز اپنے تعلق سے بیان کرتے ہیں کہ مجھے جو بزرگی و سرداری حاصل ہے وہ سلطان الاولیاء حضرت سیدنا شیخ محی الدین عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عطا و نوازش کا ایک حصہ ہے۔

سلطان الہند حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سلطان الاولیاء، حضور غوثِ صمدانی عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کیا مانتے تھے اور کیسی عقیدت رکھتے تھے، خواجہ غریب نواز کے نزدیک سرکارِ غوثِ اعظم قربِ خداوندی کے کس مقام و مرتبہ پر فائز المرام تھے، غریب نواز علیہ الرحمہ کی منقبت کے اشعار پڑھیے، سمجھنے کی کوشش کیجیے، دل جمعی کے ساتھ غور و فکر کیجیے اور ان کے غلاموں کی عظمت و رفعت اور جلالت پر قربان جائیے۔

يَا غَوْثِ أَعْظَمْ نُوْرِ هُدٰى
مُخْتَارِ نَبِيْ مُخْتَارِ خُدَا
سُلْطَانِ دُوْ عَالَمْ قُطْبِ عُلٰى
حَيْرَاں زِ جَلَالَتْ أَرْضْ وَ سَمَا

ترجمہ: یا غوثِ اعظم آپ ہدایت کا نور ہیں، خدائے پاک کی عطا اور رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے کرم سے مختار ہیں۔ دونوں عالم میں سلطان اور قطبِ اعظم ہیں، زمین اپنی وسعت و کشادگی اور آسمان اپنی بلندی و ضخامت کے باوجود آپ کی جلالت و بزرگی دیکھ کر حیرت زدہ ہے، اس مطلع میں سرکار سیدنا غوثِ اعظم عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مختار کہنا عقیدہِ وہابیہ کی تردید کرنا ہے، جب یہ منقبت خواجہ غریب نواز علیہ الرحمہ نے لکھی اس وقت وہابیت کا نام و نشان تک نہ تھا، سرکار غوثِ اعظم سیدنا شیخ محی الدین عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سلطانِ دو عالم بھی کہا گیا، واقعی سرکار غوثِ اعظم اولیاء اور مشائخ کے سلطان اس عالم میں بھی ہیں اور آخرت میں بھی۔ [1]

دَرْ صِدْقْ هَمَه صِدِّيْقْ وَشِيْ
دَرْ عَدْلِ عَدَالَتْ چُوْں عُمَرِيْ
دَرْ كَانِ حَيَا عُثْمَانْ مَنْشِيْ
مَانَنْدِ عَلِيْ بَا جُوْدْ وَ سَخَا

ترجمہ: سرکار غوثِ پاک صدق (سچائی) میں حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرح، عدل و انصاف میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرح، کانِ حیا میں حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جیسے اور جود و سخاوت میں مولائے کائنات حضرت علی شیرِ خدا رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مانند ہیں۔

اللہ اللہ! یہ اوصاف و کمالات و خصوصیات پڑھ کر عقلیں حیران ہیں، کیا اعلیٰ و ارفع مقام ہے سرکارِ پیراں پیر، روشن ضمیر کا کہ ان کا رب تعالیٰ ہی خوب بہتر جانتا ہے یا اس کے بتانے سے اس کے برگزیدہ اور محبوب بندے جانتے ہیں، حضرت سلطان الہند نے جو کہا وہ حق ہے، اسی مفہوم کے مطابق سرکارِ اعلیٰ حضرت، عظیم البرکت، مجددِ دین و ملت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی علیہ الرحمہ کا خراجِ عقیدت ملاحظہ کیجیے:

تو اپنے وقت کا صدیقِ اکبر غنی و عادل ہے
یا غوث مشائخ میں کسی کی تجھ پہ تفضیل بحکمِ اولیاء باطل ہے یا غوث [2]

دَرْ بَزْمِ نَبِيْ عَالِيْ شَانِيْ
سَتَّارْ عُيُوْبِ مُرِيْدَانِيْ
دَرْ مُلْكِ وِلَايَتْ سُلْطَانِيْ
اِے مَنْبَعِ فَضْلْ وَ جُوْدْ وَ سَخَا

ترجمہ: اے فضل و جود و سخا کے منبع سرکار غوثِ اعظم! آپ کی شانِ ولایت رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہِ اقدس میں بلند و بالا ہے، آپ اپنے مریدوں کے عیوب چھپانے والے ہیں اور ملکِ ولایت کے بادشاہ ہیں۔

غور کیجیے! سلطان الہند حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری علیہ الرحمہ نے محبوبِ سبحانی، قندیلِ نورانی علیہ الرحمہ کو کیا سمجھا، کیا جانا اور کیسی بے مثال عقیدت کا اظہار فرمایا، اس شعر میں خواجہ غریب نواز نے انہیں جود و سخا اور فضل کا منبع (کان) کہا اور دنیائے ولایت و روحانیت کا تاجدار بتایا، اعلیٰ حضرت، امامِ عشق و محبت فاضل بریلوی قدس سرہ نے کیا ہی خوب فرمایا:

حکم نافذ ہے ترا، خامہ ترا، سیف تری
دم میں جو چاہے کرے دور ہے شاہا تیرا

تو ہے نوشاہ، براتی ہے یہ سارا گلزار
لائی ہے فصلِ سمن گوندھ کے سہرا تیرا

بحر و بر، شہر و قریٰ، سہل و حزن، دشت و چمن
کون سے چک پہ پہنچتا نہیں دعویٰ تیرا [3]

چُوْں پَائِے نَبِيْ شُدْ تَاجِ سَرَتْ
تَاجِ هَمَه عَالَمْ شُدْ قَدَمَتْ
أَقْطَابِ جَهَاں دَرْ پِيْشِ دَرَتْ
أُفْتَادَه چُوْں پِيْشِ شَاهْ گَدَا

ترجمہ: جب سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا پائے اقدس سرکار غوثِ اعظم کے سر کا تاج بن گیا تو اس کی برکت سے آپ کا مقام اتنا بلند و بالا ہوا کہ تمام جہان کے سر کا تاج آپ کا قدمِ مبارک بن گیا، دنیا کے اقطاب غوث پاک کے دروازے پر اس طرح پڑے رہتے ہیں جیسے بادشاہ کے دروازے پر بھکاری۔

اس شعر میں خواجگانِ خواجہ حضرت سلطان الہند رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے واقعہِ معراج کی طرف اشارہ کیا کہ شبِ معراج شریف قطبِ ربانی، محبوبِ سبحانی سیدنا عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ کی روحِ اقدس پائے مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے لیے زینہ بن گئی، رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ کی روحِ اقدس پر اپنا پائے نبوت رکھ کر براق کی پشتِ مبارک پر سوار ہوئے۔

اسی جانب ہند کے راجہ ہم سبھوں کے خواجہ نے اس شعر میں اشارہ کیا ہے کہ سرکارِ دو عالم، نورِ مجسم صلی اللہ علیہ وسلم کا قدمِ رسالت آپ کے کاندھے پر ہے اور آپ کا قدمِ ولایت تمام اولیائے کاملین کی گردنوں پر! تمام اقطاب و اغواث اور ابدال نے آپ کو اپنا سلطان و تاجدار تسلیم کیا اور آپ کے قدمِ ولایت کو اپنے سر کا تاج بنایا۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدثِ بریلوی قدس سرہ نے اسی مفہوم کو چند اشعار میں بیان فرمایا:

تاجِ فرقِ عرفا کس کے قدم کو کہیے
سر جسے باج دیں وہ پاؤں ہے کس کا تیرا

سر بھلا کیا کوئی جانے کہ ہے کیسا تیرا
اولیاء ملتے ہیں آنکھیں وہ ہے تلوا تیرا

تجھ سے اور دہر کے اقطاب سے نسبت کیسی
قطب خود کون ہے؟ خادم ترا چیلا تیرا [4]

گَرْ دَادْ مَسِيْحْ بَه مُرْدَه رَوَاں
دَادِيْ تُوْ بَدِيْنِ مُحَمَّدْؐ جَاں
هَمَه عَالَمْ مُحْيِ الدِّيْنْ گُوْيَاں
بَرْ حُسْنْ وَ جَمَالَتْ گَشْتَه فِدَا

ترجمہ: اگر حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے مردوں کو زندہ کیا ہے تو آپ نے دینِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کو زندگی بخشی ہے، پوری دنیا آپ کو محی الدین (دین کو زندہ کرنے والے) کے لقب سے یاد کرتی ہے اور آپ کے حسن و جمال پر نثار ہوتی ہے۔ [5]

دَرْ شَرْعْ بَغَايَتْ پُرْ كَارِيْ
چَالَاكْ چُوْں جَعْفَرْ طَيَّارِيْ
بَرْ عَرْشِ مُعَلّٰى سَيَّارِيْ
اِے وَاقِفِ رَازِ ”أَوْ أَدْنٰى“

ترجمہ: یا بڑے پیر عبد القادر جیلانی آپ کو شریعت میں کامل مہارت حاصل ہے! آپ حضرت امام جعفر طیار رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرح ہوشیار ہیں، آپ عرشِ معلیٰ کی سیر کرنے والے اور "قاب قوسین او ادنیٰ" کے راز سے واقف ہیں۔

اللہ اللہ! یہ کون سی منزل ہے؟ اللہ تعالیٰ نے سرکارِ غوثِ اعظم کو کیا ہی اعلیٰ و ارفع مقام عطا فرمایا ہے، ہم جیسے کم فہم اور دنیا دار کیا سمجھیں گے، مقولہ مشہور ہے ”وَلِي رَا وَلِيْ مِى شِنَاسَدْ“ سلطان الہند حضرت غریب نواز علیہ الرحمہ اللہ تعالیٰ کے ولی اور محبوب بندے ہیں، انہوں نے محبوبِ سبحانی سرکارِ غوثِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مقامِ رفیع کو سب کچھ سمجھا اور حقیقتوں سے پردے اٹھاتے ہوئے عقیدتوں کے مہکتے ہوئے پھول نچھاور کیے، غوثِ صمدانی، محبوبِ سبحانی کو عرشِ معلیٰ کا سیار اور رازِ ادنیٰ سے واقف کار بتایا۔ اس کی حقیقت کو اربابِ معرفت اور اللہ والے سمجھ سکتے ہیں، جن کا دل عرشِ بریں ہوتا ہے اور نظر لوحِ محفوظ پر ہوتی ہے۔ [6]

أَزْ بَسْ كِه قَتِيْلِ نَفْسِ خُوْدَمْ
بِيْمَارِ خَجَالَتْ مَنْ دِلَمْ
شَرْمَنْدَه، سِيَاهْ رُوْ، مُنْفَعِلَمْ
أَزْ فَيْضِ تُوْ دَارَمْ چَشْمِ دَوَا

ترجمہ: یا غوثِ اعظم میں اپنے نفس کا مارا ہوا ہوں، میرا دل بیمار بھی ہے اور شرمسار بھی، اس شرمندگی اور سیاہ روئی کے عالم میں آپ کے فیضان سے اپنے نفس و دل کے علاج کی امید رکھتا ہوں۔

مقطع:

مُعِيْنْ كِه غُلَامِ نَامِ تُوْ شُدْ
دَرْيُوْزَه گَرِ إِكْرَامِ تُوْ شُدْ
شُدْ خَوَاجَه أَزَاں كِه غُلَامِ تُوْ شُدْ
دَارَدْ طَلَبِ تَسْلِيْمْ وَ رِضَا

ترجمہ: یہ معین الدین آپ کے نام کا غلام اور آپ کی بخششوں کا بھکاری ہو گیا، آپ کا غلام کیا ہوا کہ خواجہ ہو گیا، اب آپ سے تسلیم و رضا کا مقام پانے کی طلب رکھتا ہوں، ذہن کو حاضر رکھ کر اچھے سے غور و فکر کیجیے، سلطان الہند، خواجہِ خواجگان حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری غریب نواز رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی اس عظیم الشان منقبت کے لاجواب مقطع میں کتنی حقیقتوں سے پردے اٹھا دیے، حضرت غریب نواز اپنے مقطع میں خود کو سلطان الاولیاء، محبوبِ سبحانی، قندیلِ نورانی، حضرت سیدنا شیخ محی الدین عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا غلام نہیں بلکہ ان کے نام کا غلام اور ان کی عطاؤں کا بھکاری بتاتے ہیں اور اس حقیقت کو بے نقاب کرتے ہیں کہ میں ملکِ ہندوستان کا راجہ ہوں، یہ سب غوثِ پاک کی غلامی کی عطا ہے۔

اس اعترافِ حقیقت کے ساتھ ساتھ حضرت خواجہ غریب نواز، سرکار غوثِ اعظم سے مقامِ تسلیم و رضا کی بھیک مانگتے ہیں اور بارگاہِ غوثیت میں عرض کرتے ہیں ”دَارَدْ طَلَبِ تَسْلِيْمْ وَ رِضَا“۔ بندہ جب اس مقامِ تسلیم و رضا پر فائز ہو جاتا ہے تو اس کا نفس، اس کی خودی، اس کی خواہش سب کچھ مرضیِ مولیٰ پر قربان ہو جاتی ہے، وہ ہر حکمِ رب کے حضور اپنی پیشانی خم کر دیتا ہے اور رضائے الٰہی کے بحرِ بیکراں میں ڈوب کر خود کو اس کے جلوؤں میں فنا کر دیتا ہے، حضرت سلطان الہند خواجہ معین الدین چشتی اجمیری غریب نواز علیہ الرحمہ اسی اعلیٰ مقام کا سوال کرتے ہیں۔

گویا حضرت غریب نواز جانتے ہیں کہ اللہ رب العزت نے اپنے برگزیدہ بندہ سلطان الاولیاء، سرکار غوثِ اعظم کو اس کمال و قدرت اور اختیار و تصرف کا مالک بنا دیا ہے کہ سرکار غوثِ اعظم جسے چاہیں، جو مقام ارفع و اعلیٰ چاہیں عطا فرما دیں، سچ فرمایا سرکار اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِ سنت نے:

تصرف والے سب مظہر ہیں تیرے
تو ہی اس پردے میں فاعل ہے یا غوث

تری قدرت تو فطری بات سے ہے
کہ قادر نام میں داخل ہے یا غوث

یہ چشتی، سہروردی، نقشبندی
ہر اک تیری طرف مائل ہے یا غوث

کوئی کیا جانے تیرے سر کا رتبہ
کہ تلوا، تاجِ اہلِ دل ہے یا غوث

سلطان الہند حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری غریب نواز علیہ الرحمہ کی اس پر حقائق منقبت سے جہاں محبوبِ سبحانی، غوثِ صمدانی، قطبِ ربانی حضرت سیدنا شیخ محی الدین عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مقامِ بلند اور شاہانہ سطوت و عظمت کا پتہ چلتا ہے، وہیں یہ بھی معلوم ہو گیا کہ اتنے بڑے بڑے اولیاء اور سلاطینِ روحانیت بھی ان کی بارگاہ کے بھکاری، ان کے دربارِ اعلیٰ کے گداگر اور ان کی چشمِ التفات کے متمنی ہوا کرتے ہیں۔

خواجہ غریب نواز کا، قدمِ غوثیت مآب کے حضور اپنی آنکھیں بچھا دینا اور زبان سے ان کے فضائل و مناقب کے نغمے گنگنانا، ان کی تعریف و توصیف میں رطب اللسان رہنا اور یوں خراجِ عقیدت پیش کرنا کہ ”أَقْطَابِ جَهَاں دَرْ پِيْشِ دَرَتْ، أُفْتَادَه چُوْں پِيْشِ شَاهْ گَدَا“ (یعنی دنیا کے تمام اقطاب آپ کی چوکھٹ پر ایسے پڑے ہوئے ہیں جیسے بادشاہ کے دروازے پر بھکاری) کس انفرادیت و خصوصیت کا واضح نشان ہے، اہلِ عقیدت پر قطعاً مخفی نہیں۔

مشائخِ کرام نے سلطان الاولیاء کی بارگاہِ اعلیٰ میں کیسا کیسا نذرانہِ محبت کا پھول لٹایا اور کیسی کیسی عقیدت و خلوص کے گلدستے پیش کیے، کتابوں کی ورق گردانی کیجیے تو آپ قارئین حیرت کے دریا میں ڈوب جائیں گے، اگر تفصیل میں جائیں گے تو 218ھ میں پیدا ہونے والے سید الطائفہ حضرت سیدنا جنید بغدادی علیہ الرحمہ بھی چشمِ کشف و کرامت سے سرکارِ غوثِ اعظم رضی اللہ عنہ کا انفرادی اور اعلیٰ مقام دیکھ کر ان کی عظمت کے سامنے اپنی گردن بچھاتے نظر آئیں گے اور امام الاولیاء حضرت سید احمد کبیر رفاعی علیہ الرحمہ جیسی عظیم المرتبت شخصیت بھی ان کو سلطانِ زمن مانتے نظر آئیں گے اور ان کی جلالت و بزرگی کا اعلان اپنے مریدوں کی محفلِ عام میں کرتے ہوئے نظر آئیں گے۔

تمام مشائخِ کرام نے ان کے دربار میں خلوص و محبت کے گلدستے پیش کیے، ان کے قدمِ مبارک کو اپنے سر کا تاج بنایا، ان کے کرم و عطا کے خواستگار ہوئے، انہیں جہانِ ولایت کا سلطانِ اعظم تسلیم کیا، سلطان الہند اور سلطان الاولیاء، ہر دو حضرات کا باہمی ربط ان چند کلمات اور منقبتی اشعار سے ظاہر و آشکار ہے، اس کے باوجود اگر کسی حاسد اور منکرِ عظمتِ غوثِ اعظم کو ان کی شانِ رفیع اور مقامِ بے مثال نظر نہ آئے تو اس کے لیے حضرت شیخ سعدی علیہ الرحمہ کا یہ شعر ہی پڑھا جا سکتا ہے کہ:

گَرْ نَه بِيْنَدْ بَرُوْزْ شَپْرَه چَشْمْ
چَشْمَهٔ آفْتَابْ رَا چِه گُنَاهْ

بلا شبہ سلطان الہند حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری اور سیدنا عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تمام اولیائے ماقبل و مابعد کے سردار و پیشوا ہیں، سلطان الہند نے ہندوستان میں اسلام کی آبیاری کی، سلطان الاولیاء نے مردہ دلوں میں روحانیت کے چراغ جلائے اور اپنی زندہ کرامتوں کے نور سے ساری دنیا کو تابندگی بخشی۔

سلطان الہند خواجہ غریب نواز "معین الدین" دین کی مدد کرنے والے ہیں اور سلطان الاولیاء "محی الدین" دین کو زندہ کرنے والے ہیں، برادرِ اعلیٰ حضرت، استاذِ زمن حضرت مولانا حسن رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ کے اس عقیدت سے لبریز مقطع کو پڑھیے اور عقیدت و محبت میں تازگی پیدا کیجیے:

محی دیں غوث ہیں اور خواجہ معین الدین ہیں
اے حسن کیوں نہ ہو محفوظ عقیدہ تیرا

[ماہنامہ: سنی دنیا بریلی شریف، ص: 33، جنوری: 2026ء]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!