| عنوان: | اقامت بیٹھ کر سننے کا حکم دلائل کی روشنی میں (قسط اول) |
|---|---|
| تحریر: | مولانا حسان المصطفےٰ امجدی |
| پیش کش: | کنیزِ فاطمہ حیدری |
اقامت کے وقت امام اور مقتدیوں کو کب کھڑا ہونا چاہیے؟ اس تعلق سے جب ہم نے احادیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مطالعہ کیا صحابہ کرام کے قول و عمل کو دیکھا، فقہائے عظام کی عبارتوں پر نظر ڈالی تو واضح ہو گیا کہ کلماتِ اقامت بیٹھ کر سننا اور ”حَیَّ عَلَى الْفَلَاحِ“ کے وقت کھڑا ہونا مستحب ہے اور بعض فقہا نے اسے مسنون قرار دیا ہے۔ اقامت شروع ہوتے ہی یا مؤذن کے حَیَّ عَلَى الْفَلَاحِ کہنے سے قبل کھڑا ہونا مکروہ ہے۔ حدیثِ رسول، معمولاتِ صحابہ اور نصوصِ فقہا کی صراحت کے خلاف ہے۔ اقامت کے وقت کھڑے ہونے کی متعدد صورتیں ہیں۔ جسے فقہائے کرام نے دلائل و براہین کی روشنی میں بیان کیا ہے۔ لیکن ہم عام طور سے پیش آنے والی ایک صورت پر گفتگو کریں گے۔ البتہ قارئین کے افادے کے لیے وہ چند صورتیں دلائل سے قطعِ نظر اختصار کے ساتھ ذکر کرتے ہیں:
- امام اور مکبر دونوں ایک ہی شخص ہے تو جب تک مکبر پوری تکبیر سے فارغ نہ ہو جائے تمام مقتدی بیٹھے رہیں، کوئی کھڑا نہ ہو۔
- امام اور مکبر الگ الگ شخص ہوں اور اقامت کے وقت امام مسجد میں موجود نہیں، اور پھر قبلہ کی طرف سے مسجد میں آ رہا ہے تو مصلیان نہ اقامت شروع ہوتے ہی کھڑے ہوں، نہ حَیَّ عَلَى الْفَلَاحِ کے وقت۔ بلکہ بیٹھے رہیں۔ جب امام پر نگاہ پڑے اس وقت کھڑے ہوں۔ آج کے دور میں یہ صورت نادر ہے۔
- امام اور مکبر دو شخص ہیں اور تکبیر کے وقت امام مسجد میں حاضر نہیں ہے اور مشرق کی طرف سے یا جہتِ قبلہ کے خلاف سے آ رہا ہے۔ تو جس جس صف سے آگے بڑھتا جائے، اس صف کے مقتدی کھڑے ہو جائیں۔ اس صورت میں بھی مقتدیوں کو ابتدائے اقامت یا حَیَّ عَلَى الْفَلَاحِ کے وقت کھڑے ہونے کا حکم نہیں ہے۔
- امام مسجد میں موجود ہے اور مؤذن غیرِ امام ہے اس صورت میں امام اور مقتدی کو حکم ہے کہ بیٹھے رہیں۔ یوں ہی دورانِ اقامت مسجد میں آنے والے مقتدیوں کو کھڑے ہو کر انتظار کرنا مکروہ ہے انہیں بھی حکم ہے کہ بیٹھ جائیں۔ جب مکبر حَیَّ عَلَى الْفَلَاحِ کہے تو امام اور تمام مقتدی کھڑے ہو جائیں۔
ہماری گفتگو کا محور یہی آخری صورت ہے۔ موجودہ زمانہ میں عمومی طور پر یہی صورت پائی جاتی ہے، جسے ہم دلائل و براہین سے ثابت کریں گے۔ چنانچہ بخاری شریف میں ہے:
عَنْ أَبِيْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِيْهِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أُقِيْمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا تَقُوْمُوْا حَتّٰى تَرَوْنِيْ.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب اقامت کہی جائے تو تم لوگ اس وقت تک کھڑے نہ ہونا جب تک کہ مجھے دیکھ نہ لو۔ [بخاری شریف، ج: 1، ص: 88، باب متی یقوم الناس۔ مسلم: ج: 1، ص: 220]
منقولہ حدیث پر یہ وہم ہوتا ہے کہ حدیث سے یہ حکم تو اس وقت ثابت ہوگا جب کہ امام مسجد میں حاضر نہ ہو۔ رہی یہ صورت کہ اگر ابتدائے اقامت کے وقت امام مسجد میں موجود ہے، تو کھڑے ہونے میں کوئی حرج نہیں ہونا چاہیے۔
دفعِ توہم کے طور پر کہا جائے گا کہ مخالفین کے لیے بھی یہ حدیث دلیل نہیں بن سکتی۔ اس لیے کہ حدیث میں قیام سے نہی ہے اور نہی سے قیام پر استدلال نہیں کیا جا سکتا۔
(2) یہ خیال کرنا کہ ”کوئی حرج نہیں“۔ صاحبِ بدائع نے اسے غلط قرار دیا ہے۔ فرماتے ہیں: إِنَّا نَمْنَعُهُمْ عَنِ الْقِيَامِ كَيْلَا يَلْغُوَ قَوْلُهٗ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، لِأَنَّ مَنْ وُجِدَتْ مِنْهُ الْمُبَادَرَةُ إِلٰى شَيْءٍ فَدُعَاؤُهٗ إِلَيْهِ بَعْدَ تَحْصِيْلِهٖ إِيَّاهُ لَغْوٌ مِّنَ الْكَلَامِ. [ج: 1، ص: 467] یعنی ہم پہلے کھڑے ہونے سے اس لیے منع کرتے ہیں، تا کہ مؤذن کا قول حَیَّ عَلَى الْفَلَاحِ لغو نہ ہو جائے۔ کیونکہ جس شخص نے کسی چیز کی طرف پیش قدمی کر لی تو اب اس کو اسی شے کی طرف بلانا یقیناً لغوِ کلام ہے۔
یعنی پہلے کھڑے ہونے میں یہ حرج ہے کہ مؤذن کا قول حَیَّ عَلَى الْفَلَاحِ لغو اور بیکار ہو جائے گا۔ لہٰذا اسے لغو ہونے سے بچایا جائے۔
(3) صحابہ کرام کا عمل بھی علمائے احناف کے مطابق اور ذکر کردہ وہم کے برخلاف ہے، حالانکہ صحابہ کرام سے زیادہ کون حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر عمل کرنے والا اور سنن و مستحبات بجا لانے والا ہوگا۔ علامہ ابن حجر عسقلانی فتح الباری شرح بخاری میں جلیل القدر صحابی، سفر و حضر میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہنے والے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا عمل بیان کرتے ہیں:
عَنْ أَنَسٍ أَنَّهٗ كَانَ يَقُوْمُ إِذَا قَالَ الْمُؤَذِّنُ: قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ.
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس وقت کھڑے ہوتے جب موذن قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ کہتا۔ [رواہ ابن المنذر و غیرہ، ج: 3، ص: 462]
مبسوط میں خلیفہِ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا عمل یوں منقول ہے:
وَأَبُوْ يُوْسُفَ احْتَجَّ بِحَدِيْثِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ تَعَالٰى عَنْهُ فَإِنَّهٗ بَعْدَ فَرَاغِ الْمُؤَذِّنِ مِنَ الْإِقَامَةِ كَانَ يَقُوْمُ فِي الْمِحْرَابِ.
امام ابو یوسف نے حضرت عمر فاروق کی حدیث سے استدلال کیا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ مؤذن کے اقامت سے فارغ ہونے کے بعد محراب میں کھڑے ہوتے تھے۔ [مبسوط، 105/1]
بدائع الصنائع میں ہے: وَرُوِيَ عَنْ عَلِيٍّ رَّضِيَ اللهُ تَعَالٰى عَنْهُ أَنَّهٗ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَرَأَى النَّاسَ قِيَامًا يَّنْتَظِرُوْنَهٗ، قَالَ: مَا لِيْ أَرَاكُمْ سَامِدِيْنَ! أَيْ وَاقِفِيْنَ مُتَحَيِّرِيْنَ. [ج: 1، ص: 468] حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جب وہ مسجد میں داخل ہوئے تو لوگوں کو کھڑے کھڑے انتظار کرتے ہوئے دیکھا۔ آپ نے فرمایا مجھے کیا ہوا ہے کہ لوگوں کو متحیر و پریشان کھڑا دیکھ رہا ہوں۔
ان روشن تصریحات سے صحابہ کرام کا عمل خوب آشکارا ہو گیا کہ یہ حضرات بھی ابتدائے اقامت کے وقت کھڑے نہیں ہوتے تھے، بلکہ قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ یا اختتامِ اقامت کے وقت کھڑے ہوتے تھے۔
آئیے اس تعلق سے ائمہ مجتہدین کا موقف جانتے ہیں:
امام شافعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مذہب یہ ہے؛ کوئی بھی ابتدائے اقامت یا اثنائے اقامت کے وقت کھڑا نہ ہو۔ سب بیٹھے رہیں۔ جب پوری اقامت ختم ہو جائے تو لوگ نماز کے لیے اٹھیں۔
عمدۃ القاری شرح بخاری میں ہے: وَمَذْهَبُ الشَّافِعِيِّ وَطَائِفَةٍ أَنَّهٗ يُسْتَحَبُّ أَنْ لَّا يَقُوْمَ حَتّٰى يَفْرَغَ الْمُؤَذِّنُ مِنَ الْإِقَامَةِ. [ج: 4، ص: 215] امام شافعی اور ایک جماعت کا مذہب یہ ہے کہ جب تک مؤذن تکبیر سے فارغ نہ ہو جائے، لوگوں کے لیے مستحب ہے کہ کھڑے نہ ہوں۔
التعلیق الممجد میں ہے: قَوْلُهٗ أَنَّهٗ يَقُوْمُ إِلَى الصَّلَاةِ اخْتَلَفُوْا فِيْهِ، فَقَالَ الشَّافِعِيُّ وَالْجُمْهُوْرُ: يَقُوْمُوْنَ عِنْدَ الْفَرَاغِ مِنَ الْإِقَامَةِ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِيْ يُوْسُفَ. یعنی نماز کے لیے کب کھڑا ہو اس صورت میں اختلاف ہے۔ امام شافعی رضی اللہ عنہ اور جمہور علماء کا مذہب یہ ہے کہ اقامت سے فراغت کے وقت تمام لوگ کھڑے ہوں۔ یہی امام ابو یوسف کا ایک قول ہے۔
امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مذہب یہ ہے کہ جب مؤذن قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ کہے، تو امام اور مقتدی کھڑے ہو جائیں۔ اس سے پہلے کھڑے نہ ہوں۔ جیسا کہ علامہ بدر الدین عینی شرح بخاری میں فرماتے ہیں: وَقَالَ أَحْمَدُ: إِذَا قَالَ الْمُؤَذِّنُ قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ يَقُوْمُ. [ج: 4، ص: 215] امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب مؤذن قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ کہے تو لوگ کھڑے ہو جائیں۔
نووی شرح مسلم میں ہے: وَكَانَ أَنَسٌ رَّضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُوْمُ إِذَا قَالَ الْمُؤَذِّنُ: قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، وَبِهٖ قَالَ أَحْمَدُ. حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس وقت کھڑے ہوتے جب مؤذن قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ کہتا۔ اسی کے قائل امام احمد بن حنبل بھی ہیں۔
امام مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مذہب یہ ہے کہ امام اور قوم کے لیے کھڑے ہونے کا کوئی وقت مقرر نہیں، نہ ابتداء نہ انتہا۔ لیکن اکثر علمائے مالکیہ اس طرف گئے ہیں کہ اگر امام مسجد میں ہو تو جب تک مؤذن تکبیر سے فارغ نہ ہو جائے، اس وقت تک لوگ کھڑے نہ ہوں۔
عون المعبود شرح ابو داؤد و فتح الباری شرح بخاری میں ہے:
وَقَالَ مَالِكٌ فِي الْمُوَطَّأِ: لَمْ أَسْمَعْ فِيْ قِيَامِ النَّاسِ حِيْنَ تُقَامُ الصَّلَاةُ بِحَدٍّ مَّحْدُوْدٍ إِلَّا أَنِّيْ أَرٰى ذٰلِكَ عَلٰى طَاقَةِ النَّاسِ، فَإِنَّ فِيْهِمُ الثَّقِيْلَ وَالْخَفِيْفَ. وَذَهَبَ الْأَكْثَرُوْنَ إِلٰى أَنَّهُمْ إِذَا كَانَ الْإِمَامُ مَعَهُمْ فِي الْمَسْجِدِ لَمْ يَقُوْمُوْا حَتّٰى يَفْرَغَ مِنَ الْإِقَامَةِ.
یعنی موطا میں امام مالک نے ارشاد فرمایا کہ نماز کے لیے کسی مقرر وقت پر لوگ کھڑے ہوں، اس تعلق سے میں نے کوئی حدیث نہیں سنی۔ میں اس کو لوگوں کی طاقت پر رکھتا ہوں کیوں کہ نمازی بعض وزنی اور بوجھل ہوتے ہیں اور بعض ہلکے ہوتے ہیں۔ اکثر علمائے مالکیہ کا یہ موقف ہے کہ جب امام مسجد میں موجود ہو تو جب تک اقامت ختم نہ ہو جائے اس وقت تک لوگ کھڑے نہ ہوں۔
ہمارے امام، امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول یہ ہے کہ جس وقت مؤذن حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ کہے اس وقت امام اور مقتدی کھڑے ہو جائیں۔ ایک روایت میں ہے کہ جب مؤذن حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ کہے اس وقت کھڑے ہوں۔
عمدۃ القاری میں ہے: وَقَالَ أَبُوْ حَنِيْفَةَ وَمُحَمَّدٌ: يَقُوْمُوْنَ فِي الصَّفِّ إِذَا قَالَ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ. [215/4] امام اعظم اور امام محمد کا ارشاد ہے کہ جب مؤذن حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ کہے اس وقت تمام لوگ کھڑے ہو جائیں۔
فتح الباری میں ہے: وَعَنْ أَبِيْ حَنِيْفَةَ يَقُوْمُوْنَ إِذَا قَالَ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ. امام اعظم سے مروی ہے کہ لوگ اس وقت کھڑے ہوں جب مؤذن حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ کہے۔
بدائع الصنائع میں ہے: وَعِنْدَ زُفَرَ وَحَسَنِ ابْنِ زِيَادٍ يَقُوْمُوْنَ عِنْدَ قَوْلِهٖ قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ فِي الْمَرَّةِ الْأُوْلٰى. [ج: 1، ص: 468] امام زفر اور حسن بن زیاد کے نزدیک یہ ہے کہ پہلی مرتبہ قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ کے وقت لوگ کھڑے ہو جائیں۔
مذکورہ تصریحات سے بالکل صاف ہو گیا کہ امام شافعی، امام احمد بن حنبل اور اکثر علمائے مالکیہ رضی اللہ عنہم اجمعین کا وہی مذہب ہے جو جمہور علمائے احناف کا مذہب ہے، کہ شروع اقامت کے وقت کھڑا ہونا ممنوع و مکروہ اور قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ یا اختتامِ اقامت یا حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ کے وقت کھڑا ہونا مستحب و مشروع۔
اس سلسلے میں فقہائے احناف اور مشائخِ کرام کے اقوال پر ایک نظر ڈالتے ہیں:
فقہِ حنفی کی مستند و معتبر کتاب فتاویٰ عالمگیری میں مذکور ہے کہ امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور آپ کے ارشد تلامذہ میں سے امام ابو یوسف و امام محمد رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا مذہب یہ ہے کہ جب مؤذن حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ کہے اس وقت امام اور مقتدی کھڑے ہوں:
إِنْ كَانَ الْمُؤَذِّنُ غَيْرَ الْإِمَامِ، وَكَانَ الْقَوْمُ مَعَ الْإِمَامِ فِي الْمَسْجِدِ، فَإِنَّهٗ يَقُوْمُ الْإِمَامُ وَالْقَوْمُ إِذَا قَالَ الْمُؤَذِّنُ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ عِنْدَ عُلَمَائِنَا الثَّلَاثَةِ، وَهُوَ الصَّحِيْحُ.
یعنی اگر مؤذن غیرِ امام ہو اور لوگ امام کے ساتھ مسجد میں موجود ہوں تو جب مؤذن حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ کہے اس وقت امام اور سارے لوگ کھڑے ہو جائیں۔ یہی ہمارے علمائے ثلاثہ کا مذہب ہے اور یہی صحیح ہے۔ [ج: 1، ص: 57]
