Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

نکاح کی حالتیں اور شرائط مع احکام

موضوع: نکاح کی حالتیں اور شرائط مع احکام
عنوان: موضوع: نکاح کی حالتیں اور شرائط مع احکام
تحریر: مفتی عبد الرحمن قادری مصباحی بہرائچ شریف
پیش کش: کنیزِ عائشہ صدیقہ

نکاح کی حالتیں اور ان کے احکام

نکاح کی پانچ حالتیں ہیں: سنتِ موکدہ، واجب، فرض، مکروہ اور حرام۔

سنتِ موکدہ: اعتدال کی حالت میں کہ نہ شہوت کا بہت غلبہ ہو نہ عنین (نامرد) ہو اور مہر و نفقہ پر قدرت بھی ہو تو نکاح سنتِ موکدہ ہے کہ نکاح نہ کرنے پر اڑے رہنا گناہ ہے۔ اور اگر حرام سے بچنا یا اتباعِ سنت و تعمیلِ حکم (یعنی سنت کی پیروی کرنا یا اللہ و رسول جل وعلا و صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو ماننا) یا اولاد حاصل کرنا مقصود ہے تو ثواب بھی پائے گا اور اگر محض لذت یا قضائے شہوت (شہوت کو پورا کرنا) منظور ہو تو ثواب نہیں۔

واجب: شہوت کا غلبہ ہے کہ اگر نکاح نہ کرے تو معاذ اللہ زنا کا اندیشہ ہے اور مہر و نفقہ کی قدرت رکھتا ہو تو نکاح واجب ہے، یوں ہی جب کہ اجنبی عورت کی طرف نگاہ اٹھنے سے روک نہیں سکتا یا معاذ اللہ ہاتھ سے کام لینا پڑے گا تو نکاح واجب ہے۔

فرض: یہ یقین ہو کہ نکاح نہ کرنے میں زنا واقع ہو جائے گا تو فرض ہے کہ نکاح کرے۔

مکروہ: اگر یہ اندیشہ ہو کہ نکاح کرے گا تو نان نفقہ نہ دے سکے گا یا جو ضروری باتیں ہیں ان کو پورا نہ کر سکے گا تو مکروہ ہے۔

حرام: اور اگر ان باتوں کا یقین ہو کہ نکاح کرے گا تو نان نفقہ نہ دے سکے گا یا جو ضروری باتیں ہیں ان کو پورا نہ کر سکے گا تو نکاح کرنا حرام ہے مگر نکاح بہرحال ہو جائے گا۔

[بہارِ شریعت، ج: 2، حصہ: 7، ص: 5، قادری کتاب گھر، بریلی شریف]

نکاح کی شرطیں

نکاح صحیح ہونے کے لیے چند شرطیں ہیں جو نیچے لکھی جا رہی ہیں:

  1. عاقل ہونا۔ مجنوں یا ناسمجھ بچے نے نکاح کیا تو نکاح منعقد ہی نہ ہوا۔
  2. بالغ ہونا۔ نابالغ اگر سمجھ دار ہے تو نکاح منعقد ہو جائے گا مگر ولی کی اجازت پر موقوف رہے گا۔
  3. گواہ ہونا۔ یعنی ایجاب و قبول دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں کے سامنے ہوں اور گواہ عاقل و بالغ ہوں اور سب ایک ساتھ نکاح کے الفاظ سنیں۔
  4. ایجاب و قبول دونوں کا ایک مجلس میں ہونا۔ تو اگر دونوں ایک مجلس میں موجود تھے ایک نے ایجاب کیا، دوسرا قبول سے پہلے اٹھ کھڑا ہوا یا کوئی ایسا کام شروع کر دیا جس سے مجلس بدل جاتی ہے تو ایجاب باطل ہو گیا اب قبول کرنا بے کار ہے، پھر سے ہونا چاہیے۔
  5. قبول ایجاب کے مخالف نہ ہو، مثلاً اس نے کہا ہزار روپے مہر تیرے نکاح میں دی، اس نے کہا نکاح تو قبول کیا اور مہر قبول نہیں تو نکاح نہ ہوا اور اگر نکاح قبول کیا اور مہر کی نسبت کچھ نہ کہا تو ہزار پر نکاح ہو گیا۔
  6. لڑکی بالغہ ہے تو اس کا راضی ہونا شرط ہے ولی کو یہ اختیار نہیں کہ بغیر اس کی رضا کے نکاح کر دے۔
  7. کسی آئندہ زمانہ کی طرف نسبت نہ کی ہو، نہ کسی نامعلوم شرط پر معلق کیا ہو۔ مثلاً میں نے تجھ سے آئندہ روز میں نکاح کیا یا میں نے نکاح کیا اگر زید آئے ان صورتوں میں نکاح نہ ہوا۔
  8. نکاح کی اضافت کل کی طرف ہو یا ان بعض اعضا کی طرف جن کو بول کر کل مراد لیتے ہیں تو اگر یہ کہا فلاں کے ہاتھ یا پاؤں یا نصف سے نکاح کیا، نکاح صحیح نہ ہوا۔

[بہارِ شریعت، ج: 2، حصہ: 7، ص: 10، قادری کتاب گھر، بریلی شریف]

نکاح کے مستحبات

نکاح میں یہ چیزیں مستحب ہیں:

  1. علانیہ ہونا۔
  2. نکاح سے پہلے خطبہ پڑھنا، کوئی سا خطبہ ہو اور بہتر وہ ہے جو حدیث میں وارد ہوا۔
  3. مسجد میں ہونا۔
  4. جمعہ کے دن۔
  5. گواہانِ عادل کے سامنے۔
  6. عورت عمر، حسب، مال، عزت میں مرد سے کم ہو۔
  7. اور چال چلن اور اخلاق و تقویٰ اور جمال (خوبصورتی) میں زیادہ ہو۔

حدیثِ شریف میں ہے:

عَنْ أَنَسٍ رَّضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ تَزَوَّجَ امْرَأَةً لِّعِزِّهَا لَمْ يَزِدْهُ اللهُ إِلَّا ذُلًّا، وَمَنْ تَزَوَّجَهَا لِمَالِهَا لَمْ يَزِدْهُ اللهُ تَعَالٰى إِلَّا فَقْرًا، وَمَنْ تَزَوَّجَهَا لِحَسَبِهَا لَمْ يَزِدْهُ اللهُ تَعَالٰى إِلَّا دَنَاءَةً، وَمَنْ تَزَوَّجَ امْرَأَةً لِّيَغُضَّ بَصَرَهٗ وَيُحْصِنَ فَرْجَهٗ وَيَصِلَ رَحِمَهٗ، كَانَ ذٰلِكَ مِنْهُ، بُوْرِكَ لَهٗ فِيْهَا وَبَارَكَ اللهُ تَعَالٰى فِيْهِ.

ترجمہ: حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی سرکار صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو کسی عورت سے اس کی عزت کی وجہ سے نکاح کرے اللہ اس کی ذلت میں زیادتی کرے گا اور جو کسی عورت سے اس کے مال کے سبب نکاح کرے گا اللہ تعالیٰ اس کی محتاجی ہی بڑھائے گا اور جو اس کے حسب کے سبب نکاح کرے تو اس کے کمینہ پن میں زیادتی فرمائے گا۔ اور جو اس لیے نکاح کرے کہ ادھر ادھر نگاہ نہ اٹھے اور پاک دامنی حاصل ہو یا صلہِ رحم کرے تو اللہ عزوجل اس مرد کے لیے اس عورت میں برکت دے گا اور عورت کے لیے مرد میں۔ [کنز العمال، ج: 8، ص: 244، باب فی آداب النکاح بحوالہ امجد الاحادیث]

  1. جس سے نکاح کرنا ہو اسے کسی معتبر عورت کو بھیج کر دکھوا لے اور عادت و اطوار و سلیقہ وغیرہ کی خوب جانچ کر لے تاکہ آئندہ خرابیاں نہ پڑیں۔
  2. کنواری عورت سے اور جس سے اولاد زیادہ ہونے کی امید ہو اس سے نکاح کرنا بہتر ہے۔
  3. عورت کو چاہیے کہ مرد دین دار، خوش خلق، مالدار ہی سے نکاح کرے، فاسق بدکار سے نہیں۔
  4. اور یہ بھی نہ چاہیے کہ کوئی اپنی جوان لڑکی کا بوڑھے سے نکاح کر دے، یہ نکاح کے مستحبات بیان ہوئے اگر اس کے خلاف نکاح ہوگا جب بھی ہو جائے گا۔

[بہارِ شریعت، ج: 2، حصہ: 7، ص: 6، قادری کتاب گھر]
[حوالہ: بزرگوں کے فیصلے، ص: 21]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!