| عنوان: | اقامت بیٹھ کر سننے کا حکم دلائل کی روشنی میں (قسط: دوم) |
|---|---|
| تحریر: | مولانا حسان المصطفےٰ امجدی |
| پیش کش: | کنیزِ فاطمہ حیدری |
واضح ہو کہ مسجد سے مراد نمازِ جماعت کی جگہ ہے خواہ اندرونِ مسجد ہو یا دالانِ مسجد یا صحنِ مسجد یا مسجد کی بالائی منزل پر ہو یا جماعت مسجد کے علاوہ کہیں اور قائم ہو رہی ہو۔ جب کہ امام مصلائے امامت پر ہو یا قربِ مصلیٰ یا مسجد یا محراب یا قربِ محراب میں ہو۔ اس کو فقہائے کرام نے مختلف الفاظ سے تعبیر کیا ہے۔
بدائع الصنائع میں ہے: وَالْجُمْلَةُ فِيْهِ أَنَّ الْمُؤَذِّنَ إِذَا قَالَ: حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، فَإِنْ كَانَ الْإِمَامُ مَعَهُمْ فِي الْمَسْجِدِ يُسْتَحَبُّ لِلْقَوْمِ أَنْ يَّقُوْمُوْا فِي الصَّفِّ. [ج: 1، ص: 467] خلاصہِ کلام اس مسئلہ میں یہ ہے کہ جس وقت مؤذن حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ کہے، اگر امام قوم کے ساتھ مسجد میں موجود ہے تو تمام لوگوں کے لیے مستحب ہے کہ صف میں کھڑے ہو جائیں۔
تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق میں ہے: وَالْقِيَامُ حِيْنَ قِيْلَ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ لِأَنَّهٗ أَمَرَ بِهٖ فَيُسْتَحَبُّ الْمُسَارَعَةُ إِلَيْهِ. [ج: 2، ص: 34] مکبر کے حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ کہنے کے وقت کھڑا ہونا مستحب ہے اس لیے کہ مکبر نے اس کا حکم دیا ہے تو اس کی طرف جلدی کرنا مستحب ہے۔
اسی میں امام کردری سے ہے: وَالسُّنَّةُ أَنْ يَّقُوْمَ الْإِمَامُ وَالْقَوْمُ إِذَا قَالَ الْمُؤَذِّنُ: حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ. [ج: 2، ص: 34] یعنی جب مؤذن حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ کہے تو امام اور قوم کا کھڑا ہونا سنت ہے۔ تبیین الحقائق کی مذکورہ عبارت سے واضح ہوتا ہے کہ امام کردری کے نزدیک حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ کے وقت کھڑا ہونا مسنون ہے۔
مراقی الفلاح میں ہے: وَمِنَ الْأَدَبِ الْقِيَامُ، أَيْ: قِيَامُ الْقَوْمِ وَالْإِمَامِ إِنْ كَانَ حَاضِرًا بِقُرْبِ الْمِحْرَابِ، حِيْنَ قِيْلَ، أَيْ: وَقْتَ قَوْلِ الْمُقِيْمِ: حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، لِأَنَّهٗ أَمَرَ بِهٖ فَيُجَابُ. [ص: 277، فصل من آدابها] مستحباتِ نماز سے یہ ہے کہ جب مؤذن حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ کہے تو امام اور نمازی کھڑے ہو جائیں۔ اس لیے کہ مؤذن نے حکم کیا تو اس کی تعمیل کی جائے۔
مزید تائید و تقویت کے لیے البحر الرائق شرح کنز الدقائق کا یہ جزئیہ ملاحظہ ہو: لِأَنَّهٗ أَمَرَ بِهٖ فَيُسْتَحَبُّ الْمُسَارَعَةُ إِلَيْهِ، أَطْلَقَهٗ فَشَمِلَ الْإِمَامَ وَالْمَأْمُوْمَ إِنْ كَانَ الْإِمَامُ بِقُرْبِ الْمِحْرَابِ. [ج: 1، ص: 531] (مکبر کے حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ کہنے کے وقت کھڑا ہونا اس لیے مستحب ہے) کیوں کہ مکبر نے اس کا حکم دیا ہے تو اس کی طرف پیش قدمی کرنا مستحب ہے۔ ماتن نے اس کو مطلق رکھا ہے لہٰذا یہ حکم امام اور مقتدی دونوں کو شامل ہے جب کہ امام محراب کے قریب ہو۔
تنویر الابصار مع در مختار میں ہے: وَالْقِيَامُ لِلْإِمَامِ وَمُؤْتَمٍّ حِيْنَ قِيْلَ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ إِنْ كَانَ الْإِمَامُ بِقُرْبِ الْمِحْرَابِ. [ج: 1، ص: 177] اگر امام محراب کے قریب ہو تو جس وقت حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ کہا جائے، امام اور مقتدیوں کو کھڑا ہونا مستحب ہے۔
ان تمام جزئیات سے روزِ روشن کی طرح عیاں ہو گیا کہ جب مؤذن حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ کہے تو امام اور نمازی کھڑے ہو جائیں لیکن بعض کتبِ فقہ میں اس بات کی صراحت ہے کہ مقتدی اور امام حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ کے وقت کھڑے ہوں۔ چنانچہ شرح وقایہ جلد اول صفحہ 136 پر ہے: يَقُوْمُ الْإِمَامُ وَالْقَوْمُ عِنْدَ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ. امام اور مقتدی حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ کے وقت کھڑے ہوں۔
مرقات المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح میں ہے: قَالَ أَئِمَّتُنَا: يَقُوْمُ الْإِمَامُ وَالْقَوْمُ عِنْدَ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ. [ص: 419] یعنی ہمارے ائمہ فرماتے ہیں کہ امام اور قوم حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ کے وقت کھڑے ہوں۔
شیخ عبد الحق محدثِ دہلوی اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ میں لکھتے ہیں: فُقَهَا گُفْتَه أَنْدْ مَذْهَبْ آنْسَتْ نَزْدِ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ بَايَدْ بَرْخَاسْتْ. فقہائے عظام نے ارشاد فرمایا کہ مذہب یہی ہے کہ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ پر کھڑا ہو۔ [ج: 1، ص: 321]
علامہ ابن عابدین شامی در مختار میں فرماتے ہیں:
قَوْلُهٗ حِيْنَ قِيْلَ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، كَذَا فِي الْكَنْزِ وَنُوْرِ الْإِيْضَاحِ وَالْإِصْلَاحِ وَالظَّهِيْرِيَّةِ وَالْبَدَائِعِ وَغَيْرِهَا، وَالَّذِيْ فِي الدُّرَرِ مَتْنًا وَّشَرْحًا: عِنْدَ الْحَيْعَلَةِ الْأُوْلٰى يَعْنِيْ حَيْثُ يُقَالُ: حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ اهـ. وَعَزَاهُ الشَّيْخُ إِسْمَاعِيْلُ فِيْ شَرْحِهٖ إِلٰى عُيُوْنِ الْمَذَاهِبِ وَالْفَيْضِ وَالْوِقَايَةِ وَالنِّقَايَةِ وَالْحَاوِيْ وَالْمُخْتَارِ اهـ. قُلْتُ: وَاعْتَمَدَهٗ فِي الْمُلْتَقٰى وَحَكٰى الْأَوَّلَ بِـ قِيْلَ، لٰكِنْ نَقَلَ ابْنُ الْكَمَالِ تَصْحِيْحَ الْأَوَّلِ، وَنَصُّ عِبَارَتِهٖ: قَالَ فِي الذَّخِيْرَةِ: يَقُوْمُ الْإِمَامُ وَالْقَوْمُ إِذَا قَالَ الْمُؤَذِّنُ: حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ عِنْدَ عُلَمَائِنَا الثَّلَاثَةِ.
یعنی ماتن کا قول کہ امام اور مقتدی حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ پر کھڑے ہوں۔ ایسا ہی کنز، نور الایضاح، اصلاح ظہیریہ، بدائع، وغیرہا میں ہے۔ درر اور اس کی شرح میں ہے کہ مقتدی اور امام حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ کے وقت کھڑے ہوں۔ شیخ اسماعیل نے اس موقف کو شرح میں عیون المذاہب، فیض، وقایہ، نقایہ، حاوی اور مختار کی طرف منسوب کیا ہے۔ امام شامی فرماتے ہیں: اس پر ملتقیٰ میں اعتماد کیا گیا ہے، اور قولِ اول کو (بصیغہِ تمریض) قیل سے تعبیر کیا گیا ہے۔ لیکن علامہ ابن کمال نے پہلے قول کی تصحیح فرمائی ہے۔ ان کی عبارت یہ ہے: ذخیرہ میں فرمایا کہ ہمارے علمائے ثلاثہ کے نزدیک یہ ہے کہ جب مؤذن حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ کہے تو امام اور قوم کھڑے ہو جائیں۔ [ج: 1، ص: 177]
بعض فقہا نے قولِ اول کو اور بعض نے قولِ ثانی کو راجح قرار دیا ہے۔ لیکن اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ والرضوان نے بظاہر متعارض ان دونوں قولوں کی نہایت خوبصورت تطبیق فرمائی ہے۔ فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک کوئی تعارض نہیں، لہٰذا حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ کے اختتام پر اٹھے اور حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ کی ابتدا کے وقت سیدھا کھڑا ہو جائے۔
فتاویٰ رضویہ میں ہے: وَلَا تَعَارُضَ عِنْدِيْ بَيْنَ قَوْلِ الْوِقَايَةِ وَأَتْبَاعِهَا: يَقُوْمُوْنَ عِنْدَ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، وَالْمُحِيْطِ وَالْمُضْمَرَاتِ وَمَنْ مَّعَهُمَا: عِنْدَ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، فَإِنَّا إِذَا حَمَلْنَا الْأَوَّلَ عَلَى الِانْتِهَاءِ وَالْآخَرَ عَلَى الِابْتِدَاءِ اتَّحَدَ الْقَوْلَانِ، أَيْ: يَقُوْمُوْنَ حِيْنَ يُتِمُّ الْمُؤَذِّنُ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ وَيَأْتِيْ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ. [ج: 2، ص: 348]
مذکورہ اقوالِ فقہا سے ہمارا موقف خوب واضح ہو گیا کہ اقامت بیٹھ کر سننا مستحب اور بعض کے نزدیک سنت ہے۔ مقتدی اور امام سب اس وقت کھڑے ہوں جب مؤذن حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ کہے یوں ہی ابتدائے اقامت کے وقت کھڑے ہونے یا دورانِ اقامت مسجد میں آنے والے کا کھڑے ہو کر انتظار کرنے کی ممانعت اور کراہت پر بے شمار علمائے احناف کے اقوال موجود ہیں۔
چنانچہ طحطاوی علیٰ مراقی الفلاح میں ہے: وَإِذَا أَخَذَ الْمُؤَذِّنُ فِي الْإِقَامَةِ وَدَخَلَ رَجُلٌ فِي الْمَسْجِدِ فَإِنَّهٗ يَقْعُدُ وَلَا يَنْتَظِرُ قَائِمًا فَإِنَّهٗ مَكْرُوْهٌ، كَمَا فِي الْمُضْمَرَاتِ - قُهُسْتَانِيٌّ. وَيُفْهَمُ مِنْهُ كَرَاهَةُ الْقِيَامِ ابْتِدَاءَ الْإِقَامَةِ وَالنَّاسُ عَنْهُ غَافِلُوْنَ. [ص: 278، فصل من آدابها] یعنی جب مؤذن نے تکبیر شروع کر دی اور کوئی شخص مسجد میں آیا تو بیٹھ جائے، کھڑے ہو کر انتظار نہ کرے، کہ یہ مکروہ ہے۔ جیسا کہ مضمرات میں ہے۔ اسی سے سمجھ میں آتا ہے کہ ابتدائے اقامت کے وقت کھڑا ہونا بھی مکروہ ہے اور لوگ اس مسئلہ سے غافل ہیں۔
عالمگیری میں ہے: إِذَا دَخَلَ رَجُلٌ عِنْدَ الْإِقَامَةِ يُكْرَهُ لَهُ الِانْتِظَارُ قَائِمًا وَلٰكِنْ يَّقْعُدُ، ثُمَّ يَقُوْمُ إِذَا بَلَغَ الْمُؤَذِّنُ قَوْلَهٗ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ. [ج: 1، ص: 57] جب کوئی شخص اقامت کے وقت آئے تو اس کے لیے کھڑے کھڑے انتظار کرنا مکروہ ہے۔ بیٹھ جائے۔ جب مؤذن حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ پر پہنچے تو کھڑا ہو جائے۔
در مختار میں ہے: دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَالْمُؤَذِّنُ يُقِيْمُ قَعَدَ. کوئی مسجد میں آئے اور مؤذن اقامت کر رہا ہو تو بیٹھ جائے۔ اس کے تحت علامہ ابن عابدین شامی رقم طراز ہیں: يُكْرَهُ لَهُ الِانْتِظَارُ قَائِمًا وَلٰكِنْ يَّقْعُدُ، ثُمَّ يَقُوْمُ إِذَا بَلَغَ الْمُؤَذِّنُ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ. [ج: 1، ص: 268] اس کے لیے کھڑے کھڑے انتظار کرنا مکروہ ہے بلکہ بیٹھ جائے، جب مکبر حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ کہے تو کھڑا ہو جائے۔
البحر الرائق میں ہے: وَلَوْ أَخَذَ الْمُؤَذِّنُ فِي الْإِقَامَةِ وَدَخَلَ رَجُلٌ فِي الْمَسْجِدِ فَإِنَّهٗ يَقْعُدُ إِلٰى أَنْ يَّقُوْمَ الْإِمَامُ فِيْ مُصَلَّاهُ. [ج: 1، ص: 447] اگر مؤذن نے اقامت شروع کر دی اور کوئی شخص مسجد میں داخل ہوا تو بیٹھ جائے یہاں تک کہ امام مصلیٰ پر کھڑا ہو جائے۔
عمدۃ الرعایہ حاشیہ شرح وقایہ میں ہے: إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ يُكْرَهُ لَهُ انْتِظَارُ الصَّلَاةِ قَائِمًا بَلْ يَجْلِسُ فِيْ مَوْضِعٍ ثُمَّ يَقُوْمُ عِنْدَ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ وَبِهٖ صَرَّحَ فِيْ جَامِعِ الْمُضْمَرَاتِ. [ج: 1، ص: 136]
فتاویٰ بزازیہ میں ہے: دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَهُوَ يُقِيْمُ يَقْعُدُ وَلَا يَقِفُ قَائِمًا. [ج: 4، ص: 25]
جامع الرموز جلد اول ص 58 پر ہے: لَوْ دَخَلَ الْمَسْجِدَ أَحَدٌ عِنْدَ الْإِقَامَةِ يَقْعُدُ لِكَرَاهَةِ الْقِيَامِ وَالِانْتِظَارِ كَمَا فِي الْمُضْمَرَاتِ.
مذکورہ بالا عبارتوں سے اس بات کا تحقیقی ثبوت فراہم ہو گیا کہ اثنائے اقامت مسجد میں داخل ہونے والا شخص بیٹھ جائے، کھڑے کھڑے نماز کا انتظار نہ کرے، کہ فقہا نے اسے مکروہ قرار دیا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ یہ بھی معلوم ہوا کہ درمیانِ اقامت آنے والا شخص جو کھڑا ہے اسے کھڑے کھڑے تکبیر سننے کی ممانعت ہے، تو بیٹھنے والے کو ابتدائے اقامت کے وقت کھڑے ہونے کی بدرجہِ اولیٰ ممانعت ہوگی۔
دورانِ اقامت آنے سے یہ مراد ہے کہ مؤذن کے قول اَللهُ أَكْبَرُ یا أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ یا أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللهِ کے وقت اور قبل حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ آئے، تو اسے حکم ہوگا کہ بیٹھ جائے۔ اور حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ کے وقت آنے والے کو بوجہ قولِ ثانی بیٹھنے کا حکم نہیں ہونا چاہیے۔ یوں ہی حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ کے وقت یا اس کے بعد آنے والے شخص کو بیٹھنے کا حکم لغو، لایعنی ہے۔ جب کہ امام مسجد میں موجود ہو۔ وَاللهُ أَعْلَمُ.
اور بعض لوگوں کا یہ خیال کہ ہم امام یا مکبر کی تعظیم کے لیے اٹھتے ہیں۔ نصوصِ فقہا کے سراسر خلاف ہے کیوں کہ قیام کا حکم نماز کے لیے ہے نہ کہ امام یا مکبر کی تعظیم کے لیے۔
بدائع الصنائع میں ہے: وَلِأَنَّ الْقِيَامَ لِأَجْلِ الصَّلَاةِ. [ج: 1، ص: 468] اس لیے کہ قیام "نماز کے لیے" ہے۔
موطا امام محمد میں ہے: قَالَ مُحَمَّدٌ: يَنْبَغِيْ لِلْقَوْمِ إِذَا قَالَ الْمُؤَذِّنُ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ أَنْ يَّقُوْمُوْا إِلَى الصَّلَاةِ. امام محمد فرماتے ہیں کہ جب مؤذن حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ کہے، تو قوم کے لیے مستحب ہے کہ نماز کے لیے کھڑے ہو جائیں۔ [باب تسویۃ الصف، ص: 88]
شرح کنز میں ہے: وَالْقِيَامُ إِلَى الصَّلَاةِ حِيْنَ قِيْلَ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ. جس وقت حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ کہا جائے تو نماز کے لیے کھڑا ہونا چاہیے۔ [ج: 1، ص: 135]
اگر امام کی تعظیم ہی کے لیے کھڑے ہونے کا حکم ہوتا تو امام کے اقامت کہنے کے وقت مقتدیوں کو بیٹھنے کا حکم نہ ہوتا حالانکہ اس صورت میں جب تک امام پوری تکبیر سے فارغ نہ ہو جائے کھڑے ہونے کی ممانعت ہے۔ جیسا کہ عالمگیری میں ہے: إِنْ كَانَ الْمُؤَذِّنُ وَالْإِمَامُ وَاحِدًا فَإِنْ أَقَامَ فِي الْمَسْجِدِ فَالْقَوْمُ لَا يَقُوْمُوْنَ مَا لَمْ يَفْرَغْ مِنَ الْإِقَامَةِ. [ج: 1، ص: 57] یعنی اگر امام و مؤذن ایک ہی آدمی ہو اور امام نے مسجد میں اقامت شروع کر دی تو جب تک اقامت سے فارغ نہ ہو جائے، مقتدی کھڑے نہ ہوں۔
در مختار میں ہے: إِذَا أَقَامَ الْإِمَامُ بِنَفْسِهٖ فِيْ مَسْجِدٍ فَلَا يَقِفُوْا حَتّٰى يُتِمَّ إِقَامَتَهٗ - ظَهِيْرِيَّةٌ. [ج: 1، ص: 177] جب امام مسجد میں خود تکبیر کہے، تو جب تک اقامت پوری نہ کر لے، نمازی نہ کھڑے ہوں۔
بحر الرائق شرح کنز الدقائق میں ہے: هٰذَا كُلُّهٗ إِذَا كَانَ الْمُؤَذِّنُ غَيْرَ الْإِمَامِ، فَإِنْ كَانَ وَاحِدًا وَّأَقَامَ فِي الْمَسْجِدِ فَالْقَوْمُ لَا يَقُوْمُوْنَ حَتّٰى يَفْرَغَ مِنَ الْإِقَامَةِ. [ج: 1، ص: 531] یعنی حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ کے وقت اٹھنا اس صورت میں ہے جب کہ مؤذن غیرِ امام ہو۔ اگر امام اور مؤذن ایک ہی شخص ہو اور امام مسجد میں اقامت کہہ رہا ہے، تو جب تک اقامت ختم نہ کر لے، مقتدی کھڑے نہ ہوں۔
شروعِ اقامت سے ہی کھڑے ہونے سے ممانعت پر متعدد نصوص و دلائل فقہی کتابوں کے حوالے سے گزرے۔ اور تمام صورتوں پر علمائے احناف کی عبارات پیش کر دی گئیں۔ یوں ہی حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ کے وقت قیام پر ہم نے فقہی جزئیات کا مشاہدہ کرایا جس سے مذہبِ امام اعظم ابو حنیفہ آفتابِ نیم روز کی طرح روشن و تابناک ہو گیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہم اہلِ سنت و جماعت کو مذہبِ امام اعظم پر مضبوطی سے قائم رکھے۔ حق بات سننے، قبول کرنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم۔
