| عنوان: | اسلام اور تلوار |
|---|---|
| تحریر: | علامہ وحید احمد خان بریلوی علیہ الرحمۃ |
| پیش کش: | محمد صابر عطاری |
قدر کے عنوان سے ایک نئے کالم کا آغاز کیا گیا ہے، جس کے تحت حالات کے موافق اور افادیت سے بھرپور اکابرینِ اہلِ سنت کی قدیم تحریریں دوبارہ شائع کی جائیں گی۔ اس شمارے میں نبیرۂ حافظ الملک حضرت علامہ وحید احمد خان بریلوی علیہ الرحمہ کی تحریر شائع کی جارہی ہے جو اسلام اور تلوار کے عنوان سے ماہنامہ یادگارِ رضا، بریلی شریف، ماہِ جمادی الاولیٰ اور جمادی الاخریٰ ۱۳۶۵ھ کے شمارے میں قسط وار چھپی ہے، یہ تحریر رسالے کے صفحات پر آج بھی اپنی اہمیت و افادیت کی خوشبو بکھیر رہی ہے جسے پڑھ کر بے اختیار زبان سے نکلتا ہے:
ایسی چنگاری بھی یا رب اپنی خاکستر میں تھی
کارخانۂ قدرت کی بوالعجبیاں اور طلسمِ کرۂ ہستی کی نیرنگیاں اگر ایک گروہ کے لئے محیر العقول ہوتی ہیں تو دوسری جماعت پر ایسے حقائق و اکتشافات کے دروازے کھولتی ہیں کہ وہ اصول جن کو دنیا اپنے زعم میں کل تک ناقابلِ ابطال تسلیم کئے ہوئے تھی، آج مثلِ تقویمِ کہنہ پارہ پارہ ہو جاتے ہیں اور متحیرینِ علوم و فنون کو اپنی پیش پا افتادہ غلطی پر نہ صرف تعجب ہی ہوتا ہے بلکہ بے اختیار ہنسی آتی ہے، تاریخ کے صفحات اس قسم کے واقعات سے لبریز ہیں صرف ایک مثال ہمارے موضوع کی وضاحت میں کفایت کرے گی۔
مدتہا مدت سے جو دنیا اپنے عظیم بادشاہ کو مافوق البشریت تسلیم کئے ہوئے تھی، اسلام سے قبل کہیں وہ خدائی فوجدار تھا جس کا حکم بعینہٖ حکمِ خدا مانا جاتا تھا اور جس کے حکم کی عدم تعمیل خداوندی ناخوشی کا باعث تھی، کہیں اس کو ”اوتار“ تسلیم کرتے تھے اور کہیں تو اس کو بالکل انسانی جامہ میں خدا ہی تسلیم کرتے تھے، اس کے ہر حکم کی تعمیل فرض، اس کے چشم و ابرو کے اشاروں پر چلنا نجاتِ دارین کا باعث اور اس کی حرکت و سکون، رفتار و گفتار قابلِ تقلید، اس کے ارشاد پر نکتہ چینی ناقابلِ عفو گناہ اور اس کے فرمان کی عدم تعمیل ہمیشہ کے لئے عذابِ آخرت کا موجب، اس وقت کی تمام متمدن اقوام کی ذہنیتِ غلامی کا یہی حال تھا۔
شہنشاہِ روم، شاہِ فارس اور بادشاہانِ ہند سب اسی قسم کے فرماں روا تھے، یہ اس وقت دنیا کی مہذب ترین قومیں تھیں اس لئے کہ عرب تو اس وقت بربریت و جاہلیت کے تنگ و تاریک غار سے باہر ہی نہیں آیا تھا۔
دنیا اس حماقت میں (منجملہ اور حماقتوں کے) مبتلا تھی کہ دفعتاً پردہ اٹھتا ہے: ایک وجودِ مسعود وحشی ترین لوگوں میں پیدا ہو کر بانگِ دہل اخوت و مساوات کا خطبہ پڑھتا ہے، بادشاہ کی ہستی کو اس اعلیٰ نشیمنِ کبریائی سے گرا کر اس کی تمام خود ساختہ بزرگی و تقدس پر پانی پھیر دیتا ہے اور دماغوں میں ایسا انقلابِ عظیم پیدا کرتا ہے کہ سوائے خدائے واحد کے کسی اور ہستی کی حقیقت ان کی نگاہوں میں ذرہ برابر بھی باقی نہیں رہتی ہے۔
حضرت عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے کا ایک واقعہ دلچسپی سے خالی نہیں، یرموک کی جنگ میں شہنشاہِ روم کی طرف سے باہان سپہ سالارِ فوج تھا، قبلِ جنگ سلسلۂ سفارت شروع ہوا، حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سفیر بن کر باہان کی فوج کی طرف گئے، رومیوں نے اپنی شان و شوکت دکھانے اور عربوں کو مغلوب کرنے کے لئے بڑے تزک و احتشام کے ساتھ تمام فوج کو اسلحہ میں غرق کر کے دورویہ پرے جمائے اور نفیس ترین قالین و فروش خیموں میں بچھائے لیکن حضرت خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہر چیز کو حقارت سے دیکھتے ہوئے آگے بڑھتے گئے۔
مترجم کے ذریعے گفتگو شروع ہوئی، باہان نے بعدِ تعریفِ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیصر کی بڑائی شروع کی، حضرت خالد نے مترجم کو روک کر کہا کہ تمہارا بادشاہ ایسا ہی ہوگا لیکن ہم نے جسے سردار بنا رکھا ہے اگر اس کو ایک لحظہ کے لئے بادشاہی کا خیال آئے تو ہم اسے معزول کر دیں، اسی طرح جنگِ قادسیہ سے قبل فارسیوں کے سردار رستم سے سفیرِ اسلام حضرت مغیرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ الفاظ استعمال کئے کہ:
”تمہاری طرح ہم لوگوں میں یہ دستور نہیں کہ ایک شخص خدا بن کر بیٹھے اور تمام لوگ اس کے آگے بندہ ہو کر گردن جھکائیں۔“
اسلام کے اس انقلاب کن پہلو پر نظر ڈال کر بہت سی عقلیں متحیر رہ گئیں لیکن وہ جن کو ازل سے عقلِ سلیم عطا ہوئی تھی دنیا کی پچھلی حماقتوں پر بے اختیار ہنس پڑے اور بزبانِ حال کہا:
خواب تھا جو کچھ دیکھا جو سنا افسانہ تھا
ہم قارئین کرام سے اس طویل تمہید کی معافی مانگتے ہوئے یہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ ایک عظیم واقعہ یا حادثہ سے کس طرح بے بنیاد اصول کی جڑ کٹ جاتی ہے اور حقیقت بے نقاب ہو جاتی ہے۔ قبلِ جنگِ عظیم کا ایک وہ زمانہ تھا جب کہ اعدائے اسلام مذہبِ حق کو بدنام کرنے پر تلے ہوئے تھے اور نہ صرف سراپا لغو و مہمل اعتراضات ہی پر بس کیا جاتا تھا بلکہ افترا، بہتان اور کتمانِ حق پر کمرِ ہمت چست باندھے اپنے خیال میں اسلام کا مذاق اڑایا جاتا تھا، فصیح و بلیغ لیکچروں میں، ضخیم و متداول کتابوں میں منجملہ اور امور کے خصوصیت کے ساتھ تعددِ ازدواج اور اسلام کی لڑائیوں پر پرزور بحثیں کی جاتی تھیں۔
اگر اول سے اسلام کو خلافِ اخلاق کہا جاتا تو ثانی سے اسلام کی تبلیغ و اشاعت پر بدنما داغ رکھا جاتا تھا اگرچہ علمائے دین دلائلِ قاہرہ سے ان ضعیف اعتراضوں کو مثلِ تارِ عنکبوت پارہ پارہ کر دیتے تھے لیکن وہاں تو پردۂ غفلت ایسا پڑا تھا کہ اٹھتا ہی نہ تھا اور ”مرغ کی ایک ہی ٹانگ“ کہنے کی دل میں ٹھان لی گئی تھی۔
جب دلائل و براہین ہٹ دھرمی و بیباکی پر غالب نہ آسکے تو قدرت نے شانِ جمال کو شانِ جلال سے بدلا اور دنیا کو راہِ راست پر لانے کے لئے قہرِ الٰہی جنگِ یوروپ کی شکل میں رونما ہوا اور آخر دنیا کو اسلام کے زریں اصولوں کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا ہی پڑا۔
جنگِ یوروپ سے قبل اگر علمائے اسلام جنگ کو مدافعت کا ذریعہ اور اعلیٰ ترین اصول کی حمایت میں استعمال کرنے کا ناگزیر آلہ بتاتے تھے تو یہ کہہ کر رد کر دیا جاتا تھا کہ ایسے اصول ذاتی مفاد کے لئے وضع کر لینا کتنی بڑی بات ہے، کہا جاتا تھا کہ اسلام تباہ کن مذہب ہے اور اس مذہب نے قتل و غارت و تباہی کی بنیاد قائم کی، اسلام پر یہ افترائات قائم کئے جارہے تھے کہ جنگِ یوروپ شروع ہوئی، دفعتاً پانسا پلٹا اور مدعیانِ امن و صلح نے بعینہٖ اسی اصول کی حمایت میں جو اسلام نے اختیار فرمایا تھا لڑائی شروع کر کے بے تعداد جانوں کا خون روا رکھا。
اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ جب جرمنی نے بیلجیم پر حملہ اور پوری قوت و طاقت کے ساتھ یوروپ کو ختم کرنے کا عزم کیا تو سارے مدعیانِ صلح و آشتی نے یہ کہہ کر کہ بیلجیم کی حفاظت کے معاہدہ کی بنا پر جرمنی کے خلاف اعلانِ جنگ ایک اخلاقی فرض ہے اتحاد و اتفاق کیا اور یہ عذرات پیش کئے کہ کمزور قوموں کی حفاظت اور ان کو طاقتور قوموں کا لقمہ بننے سے بچانا ایک اہم فرض ہے اور بنی نوع انسان کی اصل بہی خواہی یہ ہے کہ مدافعانہ جنگ قابلِ فخر اور لائقِ عزت امر ہے، یہ کہ بلند اصول کی حمایت میں جان سے دریغ کرنا بدترین دوں ہمتی اور انسانیت کا خون ہے، یہ عذرات مدبرانِ سلطنت ہی کی طرف سے پیش نہیں کئے گئے تھے بلکہ بڑے بڑے پادریوں نے خطبوں، جلسوں اور گرجا گھروں میں ان کا اعلان کیا تھا، جنہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یہ مقولہ کہ ”میں تلوار اور آگ کے ساتھ آیا ہوں“، نظیر میں پیش کیا، انگلستان میں لندن کے ایک بڑے پادری نے اپنے لیکچر میں کہا:
”اگر ہم ایک بدوضع سپاہی کو ایک بچے کے ساتھ برا برتاؤ کرتے دیکھیں تو کیا ہم کو خاموش کھڑا رہنا چاہئے؟ نہیں بلکہ ہم کو سپاہی کو سرعت و سختی کے ساتھ روکنا چاہئے، کمزور اقوام اپنے حقوق کے لئے لڑتی ہیں اور طاقتور اقوام کو کمزور اقوام کے دشمن کو زیر کرنے میں مدد دینا چاہئے۔“
کیا ایک مسلمان ان مدعیانِ امن سے یہ کہہ نہیں سکتا کہ کیا یہی بلکہ ان سے بھی زبردست اسباب اسلام کی لڑائیوں کے نہ تھے؟ اگر باتیں ذاتی مفاد کے لئے وضع نہیں کی گئیں تھیں تو کیا یہ وجہ ہے کہ ان سے بہتر و اعلیٰ مفاد کے لئے تلوار اٹھانا جرم قرار پاتا ہے؟ وہ اسباب جن کی وجہ سے اسلام کو تلوار اٹھانا پڑی اس زمانہ کی کہیں زیادہ اپنی اصلی حالتیں رونما تھیں، حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل دنیا کی کیا حالت تھی اس کا حال مختصر عرض کیا جاتا ہے۔
یہ بات پایۂ ثبوت کو پہنچ گئی ہے وہ زمانہ تاریک ترین زمانہ تھا، اخلاق کو دیکھو تو ایسی خرابی نظر آئے گی کہ اس سے بدتر متصور ہی نہیں ہو سکتی، فارس میں مزدک کے اصول کے ماننے والے بکثرت تھے جس نے ہر عورت کو ہر مرد کے واسطے جائز قرار دے دیا تھا، محرمات وغیرہ کی کوئی قید نہ تھی، اس وجہ سے جس بے حیائی اور شرمناکی کا ارتکاب ہوتا تھا وہ محتاجِ بیان نہیں۔
ہندوستان میں شاکت مت کا دور دورہ تھا جس کی رو سے ہر دولہن پہلی شب مہنت کے پاس گزارنے پر مجبور کی جاتی تھی اور یہ اعلیٰ درجے کی پرستش و عبادت خیال کی جاتی تھی، وہ ممالک جن میں عیسائیت پھیلی ہوئی تھی ایسی ہی شرمناکی کا شکار تھے۔
ہر ملک میں ننوں (وہ عیسائی عورتیں جو مذہبی عبادت کے نام پر کنواری رہتی تھیں) کے لئے گرجے تھے جن میں وہ بے حیائی کی جاتی تھی کہ معاذ اللہ۔
پھر اس سے قطع نظر حقوق العباد کو دیکھئے تو اس کا مفہوم ہی ان کے دماغوں میں نہ تھا بچپن میں لڑکیاں نہ صرف مار ہی ڈالی جاتی تھیں بلکہ زندہ دفن بھی کر دی جاتی تھیں، عورت کے حقوق بالکل ناپید تھے، وہ جانور سے زیادہ بدتر خیال کی جاتی تھی اس کا وجود باعثِ شرم سمجھا جاتا تھا، ہندوستان میں اس کو ستی ہونا پڑتا تھا، حقوقِ ہمسایہ بالکل مفقود تھے، ایک دوسرے کی ہمدردی سے ان کے دماغ بالکل خالی تھے، اخوت و مساوات کو وہ جانتے ہی نہ تھے، کمزوروں کو قوم پامال کئے ڈالتی تھی، غلاموں کی حالت ناگفتہ بہ تھی، ان پر جو مظالم ہوتے تھے ان کو بیان کرتے ہوئے روحِ انسانی کانپ جاتی ہے، گرم ریت پر لٹانا، گرم پتھروں پر کھڑا کرنا، گرم لوہے سے داغنا، کانٹوں میں گھسیٹنا اور اسی قسم کے ایسے شرمناک مظالم ہوتے تھے کہ بیان کرنے سے کلیجہ منہ کو آجاتا ہے۔
یہ تو ان کی انفرادی حالت تھی من حیث القوم دیکھئے تو کمزور قومیں طاقتور اقوام سے ہر وقت لڑتی رہتی تھیں، رعایا پر مظالم کی حد نہ تھی، ان کے حقوق کی حفاظت کی نہ کوئی ذمہ داری تھی اور نہ ان پر باقاعدہ حکومت!
غرض کہ ہر پہلو سے دنیا کو زبردست اصلاح کی ضرورت تھی، تمام خرابیاں خدائے واحد کی عبادت نہ کرنے کی وجہ سے تھیں، آتش پرستی، تثلیث اور بت پرستی کے لازمی نتائج، حقوقِ انسانی کی پامالی، اخلاق کی بدتہذیبی اور جہالت کی تاریکی ہیں، ان تمام مذمومات کے دفع کی صرف ایک ہی تدبیر ہو سکتی تھی اور وہ یہ کہ تمام معبودانِ باطل سے متنفر کر کے خدائے واحد اور خالقِ کائنات کا پرستار بنایا جائے، غیر مذہبوں کے سامنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جو دعوت پیش کرتے تھے اس کے تین حصے تھے:
- اول یہ کہ اسلام لایا جائے تا کہ اسلام کی بدولت بنی نوع مطمئن ہو یعنی انسانی حقوق کا تحفظ ہو، کمزور پر زبردست جبر و ظلم نہ کرنے پائے مخلوقِ الٰہی میں خصائلِ حسنہ پیدا ہوں، جس سے دنیا کی تمام خرابیاں دور ہو جائیں۔
- دوم یہ کہ جزیہ دینا قبول کیا جائے، یعنی حکومت اسلامی ہو، اور اسلام کو غلبہ ہو تا کہ غیر مذاہب بنی نوع انسانی پر ظلم و ستم نہ کر سکیں۔
- سوم یہ کہ اگر مذکورہ بالا دونوں باتوں کے منظور کرنے سے انکار ہو تو تلوار ہے، یعنی جب کسی طرح انسانی حقوق کی نگہبانی نہیں ہو سکتی تو بزورِ تلوار زبردستوں اور ظالموں کا زور کم کیا جائے، کیا نفیس ترین اصول کی حمایت میں تلوار اٹھانا (وہ بھی آخری مرتبہ) قابلِ ملامت ہو سکتا ہے؟
مذکورہ تقریر سے بخوبی ظاہر ہو گیا کہ اسلام کی لڑائیوں کے دو مقصد تھے، اول مدافعت دوم حقوقِ انسانی کو پامالی سے بچانا (جن میں حقوقِ غلام، حقوقِ عورت اور حقوقِ طفلاں شامل ہیں) کمزور قوموں کی حفاظت اور عہد و پیمان پر استقامت۔ ان تمام امور کو واقعات سے ثابت کرنا باعثِ تطویل ہو گا لیکن دعویٰ بلا دلیل نامقبول ہے اس لئے صرف چند واقعات پر اکتفا کیا جاتا ہے۔
مدافعت
اسلام کی ابتدائی لڑائیوں پر غور کرو تو معلوم ہوگا کہ چند نفوس کو غارت کر دینے کے لئے زبردست افواج تیار کی جاتی ہیں، ان کو مٹا دینا اعلیٰ مقصد متصور ہوتا ہے، کسی قسم کی رواداری جائز نہیں رکھی جاتی صلح و امن کی طرف سے یکسر کان بہرے کر لئے جاتے ہیں، ایسی صورت میں مدافعت نہ کرنا موت کے منہ جانے کے مترادف اور سخت بزدلی کا موجب تھا۔
جنگِ بدر، جنگِ احد اور جنگِ خیبر کیا اس بات کا بیّن ثبوت نہیں کہ بقا اور صرف بقا کے لئے مجبوراً اعلانِ جنگ کرنا پڑا، اسلام کے دشمن اسلام کو جوشیلا مذہب کہتے اور بانیِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر بیجا جوش پھیلانے کا الزام لگاتے ہیں، ہم اس موقع پر ایک خاص عیسائی عالم کی شہادت پیش کریں گے کہ:
مدعی لاکھ پہ بھاری ہے گواہی تیری
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت مسٹر پول لکھتے ہیں کہ:
”وہ (یعنی حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم) ان بلند ترین معنوں میں جوشیلے تھے جبکہ جوش دنیا کے لئے مثلِ ”نمک“ ہو جاتا ہے اور جو لوگوں کو سڑنے سے روکنے میں شے واحد ہے، جوش کبھی تنفرانہ ہوتا ہے، اس لئے کہ وہ کسی تحریکِ ناشائستہ سے وابستہ ہو جاتا ہے یا زمینِ شور پر گرتا ہے اور کوئی ثمر پیدا نہیں کرتا، (یعنی ایسے شخص میں رونما ہوتا ہے جس میں اس کے صحیح استعمال کی قابلیت نہیں ہوتی، اس لئے کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوتا) محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ساتھ ایسا تھا، وہ جوشیلے تھے جبکہ صرف جوش کی دنیا کو بیدار کرنے کے لئے ضرورت تھی اور ان کا بلند جوش بلند تحریک کے ساتھ وابستہ تھا، وہ ان چند مسرت اندوز ہستیوں میں سے تھے جنھوں نے ایک راستیِ اعظم کو اپنا چشمۂ حیات بنانے کی مسرتِ کبریٰ حاصل کی ہے۔“
حقوق انسانی کا تحفظ
اسلام نے حقوقِ انسانی برقرار رکھنے کی جو سعیِ لاثانی کی ہے وہ اظہر من الشمس ہے، سب سے پہلے جس مذہب نے غلامی رفع کرنے کی کوشش کی ہے وہ اسلام اور صرف اسلام ہے، اسلام نے غلاموں کے وہ حقوق قائم کئے جن پر غور کرنے سے ہر منصف مزاج یہ فیصلہ کرنے پر مجبور ہے کہ غلامی برائے نام ہی باقی رہ گئی۔
اسلام کی تعلیم ہے کہ آقا کو چاہئے کہ غلام کے ساتھ نیک سلوک کرے، اس پر کسی طرح کا ظلم نہ کرے، اس سے بیجا مشقت نہ لے، اس کے خوردونوش اس کے لباس کا خیال رکھے، یہ صرف تعلیم ہی نہ تھی اسلام کا مایہ ناز پہلو اس کا عملی رخ ہے، بانیِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ تلقین فرمایا، اس کا عملی نمونہ بھی دکھایا اور خود اپنے ہی زمانہ میں ہزاروں انسانوں کو اپنی ادا، اپنے طرز، اور اپنی روش کا مقلد بنایا، آپ کا ہر پیرو آپ کے ہر صحابی غلاموں کے ساتھ اسی محبت اسی سلوک سے پیش آتا تھا، جس کی ان کے آقا نے تعلیم فرمائی تھی۔
اللہ اکبر وہ جس کی ہیبت سے شہنشاہِ روم و شاہِ فارس کے اجسام پر لرزہ طاری ہو جاتا تھا، جب بیت المقدس شریف گیا تو حالت یہ تھی کہ غلام اونٹ پر سوار تھا اور خود اونٹ کی مہار پکڑے ہوئے تھے، یہ اسلام کے فاتحِ اعظم حضرت عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا سلوک تھا غلاموں کے ساتھ، اس قسم کی بہت سی مثالیں تاریخ کے صفحات پر بکھری پڑی ہیں، اسلام کی ترویج و اشاعت کی ایک بڑی وجہ ”آزادیِ غلام“ بھی تھی۔
مستورات کے جملہ حقوق سب سے پہلے اسلام ہی نے متعین فرمائے، لڑکیوں کا قتل اسلام ہی نے روکا، ہر انسان کو اس کا جائز پیدائشی حق اسلام ہی نے دیا، حقوقِ نسواں پر مستقل مضمون لکھا جا سکتا ہے جسے ہم بخیالِ تطویل نظر انداز کرتے ہیں۔
عہد و پیمان پر ثبات
عہد و پیمان پر قائم رہنا اسلام کی سب سے بڑی شان ہے، اس زریں اصول کے تحفظ میں اسلام کو اکثر جنگ کرنا پڑی مثلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیف خزاعہ تھے، خزاعہ کے حلیف بنو بکر نے خزاعہ پر حملہ کیا اور حرم میں ان کا خون بہایا، خزاعہ نے حضور سے مدد مانگی اور یہی فتحِ مکہ کی اصل وجہ ثابت ہوئی، عہد و پیمان پر ثبات کی مثال اس سے بڑھ کر اور کیا ہو سکتی ہے کہ صلحِ حدیبیہ کے بعد جو مسلمان کفار کے پاس سے فرار ہوئے ان کو حضور نے عہد نامہ کی بنا پر واپس فرما دیا۔
مذکورہ بالا طور سے یہ امر بخوبی واضح ہو گیا کہ اسلام صرف تلوار ہی سے نہیں پھیلا بلکہ اس کی ترویج میں دیگر اسباب کا حصہ بہت غالب ہے، یہاں تک ہم نے صرف واقعات پر ہی اکتفا کیا ہے، اب ہم چند عقلی دلائل بھی پیش کرتے ہیں جن سے بخوبی ظاہر ہو جائے گا کہ اسلام کی اشاعت کا سبب صرف تلوار بتانا محض اعدائے اسلام کا پروپیگنڈہ ہے۔
- نفسیات کا یہ بدیہی مسئلہ ہے کہ انسانی دماغ اس بات کو جو زبردستی تسلیم کرائی جائے ہرگز قبول نہیں کر سکتا اور اس کا اثر بجائے مفید ثابت ہونے کے مضر ہوتا ہے۔
- پھر یہ کہ جب ایک قوم کی طرف سے طبیعت میں اشتعال پیدا ہو جاتا ہے تو اس کی کوئی بھی بات صدقِ دل سے تسلیم نہیں کی جاسکتی ہے، یہ کیسے ممکن ہے کہ پسر و پدر کو خاک و خون میں غلطاں دیکھ کر جذبۂ انتقام جوش میں نہ آئے اور قاتل کی طرف سے ابدی نفرت دل میں پیدا نہ ہو، قاتل کی ہر بات وہ تنفر آمیز نگاہ سے دیکھے گا، اس کی سیدھی بات الٹی معلوم ہو گی اور وہ تحریک جس کی حمایت میں تلوار اٹھائی گئی ہے اس کو ہر فتح کی جامع نظر آئے گی۔ اگر تلوار صرف اشاعتِ مذہب ہی کے لئے اٹھائی گئی ہوتی تو ہرگز اسلام کی طرف دل نہ جھکتے بلکہ اس سے اور زیادہ نفرت ہو جاتی، ہمارے بیان کی تصدیق سلطان محمود غزنوی کے واقعات سے ہوتی ہے، سلطان محمود غزنوی نے ہندوستان پر متواتر ۱۷ حملے کئے لیکن وہ سو دوسو کو بھی مسلمان نہ بنا سکے بلکہ مسلمانوں کی طرف سے اور نفرت ہندؤں میں پیدا ہوگئی، یہاں تک کہ خواجہ خواجگاں سلطان الہند حضور معین الدین چشتی سنجری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مبارک قدم دار الکفر ہند میں آئے، جنھوں نے اپنی اعلیٰ روحانیت و جذبۂ حق سے کثیر در کثیر کفار کو حلقہ بگوشِ اسلام فرمایا۔
- اسلامی ترویج و اشاعت کی سرعت ہی اس الزام کے دفع کرنے کو کافی ہے، کیا اس قدر قلیل عرصہ میں محض لڑائیوں سے اسلام ایسی عظیم ترقی کر سکتا تھا؟ اس میں شک نہیں کہ اسلامی فتوحات کا اثر ضرور پڑا لیکن اخلاقی اثر تھا جس نے اسلام کی ترویج و اشاعت میں اہم رول ادا کیا۔
- اسلامی فرماں رواؤں نے کبھی سلطنت کے اثر و دباؤ سے کسی کو مسلمان نہیں کیا اگر ایسا ہوتا تو سلطنت کو اتنی مدت اس قدر استقامت و بقا نصیب نہ ہوتی، رعایا پریشان و بد دل ہو کر سلطنت سے ترکِ موالات کر دیتی اور چند ہی سال میں سلطنت کا خاتمہ ہو جاتا، پھر یہ بھی قابلِ غور امر ہے کہ اگر اثرِ سلطنت ہی ہوتا تو لامحالہ پیروانِ اسلام میں کثرت ہوتی لیکن ہندوستان و اسپین کی تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ رعایا کثرت کے ساتھ غیر مسلم ہی رہی۔
ہم نے اپنے موضوع کا ایک رخ ثابت کر دیا یعنی اسلام نے محض تلوار سے ترقی نہیں کی، اب سوال یہ باقی رہ جاتا ہے کہ اگر اسلام کی اشاعت بزورِ تلوار نہیں ہوئی تو وہ کیا اسباب تھے جنہوں نے اسلام کو اس سرعت سے شرق و غرب میں پھیلا دیا؟ یہ وجوہ مختصراً حسبِ ذیل ہیں:
- اصل چیز جس سے اسلام کی اس تیزی کے ساتھ ترقی ہوئی وہ اس کی اعلیٰ روحانیت کششِ صداقت اور جذبۂ حقانیت تھا، کیا اس حقیقت سے انکار کیا جا سکتا ہے کہ ابتدائی ایام میں نہ اسلام کے پاس دولت تھی نہ حکومت اور نہ کوئی مادی طاقت! بلکہ اس کے بر خلاف اسلام قبول کرنا خطرے میں پڑنے اور خود اپنے ہاتھوں موت کو دعوت دینے کے مترادف تھا لیکن یہ وہ مے تھی کہ اس کا نشہ جس کو چڑھا پھر نہ اترا، تکلیفیں اٹھاتے ہیں، مصیبتیں جھیلتے ہیں، اذیتیں برداشت کرتے ہیں لیکن زبان پر لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللّٰهِ ہی جاری رہتا ہے۔ کیا حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صعوبتوں کی نظیر کوئی مذہب پیش کرتا ہے؟ کیا حضرت زیاد و سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے اپنی جانیں جنگِ احد میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان کر کے ”شمع و پروانہ“ کی تشبیہ کو حقیقت سے نہ بدل دیا؟ یہی ہے وہ ثبات و استقامت، ایثار و محبت جو اسلام کے مذہبِ حق ہونے کی بیّن دلیل ہے۔
- حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم وہ مکمل تعلیم تھی جس نے اپنے پیروکاروں کو اخلاقِ حسنہ اور خصائلِ محمودہ کا نمونہ بنا دیا تھا، ان کی پبلک و پرائیویٹ زندگی بالکل یکساں تھی، بنی نوع کی ہمدردی سے ان کے قلوب لبریز تھے، آپس کی محبت ضرب المثل تھی اگر اَلصُّحْبَةُ مُؤَثِّرَةٌ کا قضیہ صحیح ہے تو ان کے اخلاق و کردار، ان کے عادات و اطوار کا اثر غیر مذہبوں پر پڑنا ایک لازمی امر تھا، جس نے غیر مسلموں کو اسلام کا گرویدہ بنا دیا۔
- اسلام نے رعایا سے وہ مراعات برتیں اور غیر مسلموں سے وہ روادری رکھی جس کی مثال ملنی مشکل ہے، اسلام وہ پہلا مذہب ہے جس نے ذمیوں کے حقوق قائم فرمائے: أَمْوَالُهُمْ كَأَمْوَالِنَا وَدِمَاؤُهُمْ كَدِمَائِنَا کا اصول مساوات و وحدت قائم کر کے ”کافر ذمی“ کا مال و جان بھی مثل مال و جانِ مسلم محفوظ کر دیا، یعنی کافروں کے جان و مال کی حفاظت مسلمانوں کے مال و جان کی طرح کرنے کا حکم دیا۔ یہ اسلام کے زریں اصول تھے جن پر دنیا فریفتہ ہوگئی، کفار نے جب اسلام کو اس قدر مہربان پایا فطری طور پر ان کے قلوب اسلام کی طرف مائل ہوئے، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے کے اس واقعہ سے اس بات کی تصدیق ہو جائے گی کہ جب رومیوں نے بڑی فوج و لشکر لے کر اسلام کو تباہ و برباد کرنے کا عزم کیا حتیٰ کہ انطاکیہ میں اس قدر فوجیں جمع ہوئیں کہ انطاکیہ کے چاروں جانب جہاں تک نگاہ جاتی تھی فوجوں کا سیلاب نظر آتا تھا۔ حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس کی اطلاع ہوئی تو رائے اس بات پر قائم ہوئی کہ حمص چھوڑ کر (جہاں امیرِ لشکر پڑے ہوئے تھے) دمشق روانہ ہوں، وہاں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ موجود ہیں اور عرب کی سرحد موجود ہے، یہ ارادہ مصمم ہو چکا تو حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے افسرِ خزانہ حبیب بن مسلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بلا کر فرمایا کہ: ”عیسائیوں سے جو جزیہ یا خراج لیا جاتا ہے وہ اس معاوضہ میں ہے کہ ہم ان کو ان کے دشمنوں سے بچا سکیں لیکن اس وقت ہماری حالت ایسی نازک ہے کہ ہم ان کی حفاظت کا ذمہ نہیں اٹھا سکتے، اس لئے جو کچھ ان سے وصول ہوا ہے سب ان کو واپس کر دو اور ان سے کہہ دو کہ ہمارا تم سے جو تعلق تھا وہ اب بھی ہے لیکن چونکہ اس وقت ہم تمہاری حفاظت کے ذمہ دار نہیں ہو سکتے، اس لئے جزیہ جو حفاظت کا معاوضہ ہے تم کو واپس کیا جاتا ہے۔“ چنانچہ کئی لاکھ رقم جو وصول ہوئی تھی سب واپس کر دی گئی، عیسائیوں پر اس واقعہ کا اس قدر اثر ہوا کہ وہ روتے جاتے تھے اور جوش کے ساتھ کہتے جاتے تھے کہ خدا پھر واپس لائے، یہودیوں پر اس سے بھی زائد اثر ہوا کہ انھوں نے کہا: توریت کی قسم! جب تک ہم زندہ ہیں قیصر حمص پر قبضہ نہیں کر سکتا یہ کہہ کر شہر پناہ کے دروازے بند کر لئے اور ہر چوکی پر پہرہ بٹھا دیا۔ حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے صرف حمص والوں کے ساتھ ایسا برتاؤ نہیں کیا بلکہ جس قدر اضلاع فتح ہو چکے تھے ہر جگہ لکھ بھیجا کہ جزیہ کی رقم جس قدر وصول ہوتی ہے واپس کر دی جائے۔
- عہد و پیمان پر ثبات جو اسلامی تعلیم کا جزوِ خاص ہے حتیٰ کہ حربی کفار سے بھی بد عہدی جائز نہیں جس کی مثال ہم گزشتہ سطور میں بیان کر چکے ہیں اس کا اثر بھی کچھ کم نہ تھا۔
- کمزوروں کی حفاظت، حکومت کی ذمہ داری، اعلیٰ انتظام، منصفانہ و مساویانہ برتاؤ ایسی باتیں ہیں کہ جن سے ایک طرف تو سلطنت کو استحکام ہوتا ہے اور دوسری طرف حکومت و مذہب کی وقعت بڑھ جاتی ہے جس کا اخلاقی اثر غیر مسلموں پر بے انتہا ہوا۔
- عموماً خیال کیا جاتا ہے کہ ہندوستان میں اسلام محمود غزنوی اور محمد غوری کی تلواروں نے پھیلایا لیکن یہ خیال نہ صرف کج فہمی ہے بلکہ اسلام سے بغض و حسد اور تعصبِ عناد کا نتیجہ بھی ہے، ہندوستان میں اسلام کا اثر خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانۂ مبارکہ میں ہی آگیا تھا اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانہ میں تو عربِ ہند سے تجارت بھی شروع ہو گئی تھی جس کا سلسلہ برابر جاری رہا۔ عرب تجار نے آہستہ آہستہ اپنا مذہب پھیلانا شروع کیا اور اسلام کی ذاتی کشش و روحانیت کی وجہ سے ان کو کامیابی ملی، چنانچہ سلطان محمود غزنوی کے ہندوستان آنے سے پہلے بھی اکثر مقامات پر مسجدیں پائی جاتی تھیں لیکن ہندوستان میں اسلام کی اصل ترویج دینے والا صوفی پروپیگنڈہ ہے جس کا سہرا سلطان الہند خواجہ خواجگاں حضور خواجہ معین الدین چشتی سنجری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سر مبارک کو جاتا ہے، آپ اور آپ کے خلفا نے ہندوستان کے چپہ چپہ میں گشت لگا کر ہندوستان کے جملہ قسم کے باشندوں کو اپنی اعلیٰ روحانیت سے متاثر و گرویدہ بنایا، جس کی وجہ سے یہاں اسلام نے نمایاں ترقی کی۔
ماخوذ از: ماہنامہ سنی دنیا، بریلی شریف، اکتوبر ۲۰۱۷ء، ص ۲۵
