Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

اُمت مسلمہ کے اسباب زوال اور اُن کا سد باب

مضمون: اُمت مسلمہ کے اسباب زوال اور اُن کا سد باب
عنوان: مضمون: اُمت مسلمہ کے اسباب زوال اور اُن کا سد باب
تحریر: محمد تحسین رضا نوری
پیش کش: اقراء شیخ

وہ قوم جس کا ظہور ایک ایسے مقام سے ہوا جہاں کے حالات نہایت ہی ناگفتہ بہ تھے، جہاں انسانی شکل میں حیوان بستے تھے، شراب و شباب، ظلم و تعدی، قتل و غارت گری، افعال قبیحہ و شنیعہ پر تفاخر و تعصب اور زندہ بچیوں اور بیٹیوں کو زیرِ زمیں دفنا دینا وہاں کے باشندگان کا معمول تھا، جہاں شرک و کفر و لادینیت کے کالے بادل ہر چہار جانب اپنا قبضہ جمائے ہوئے تھے، ایسے سنگلاخ مقام سے ایک ایسی قوم کا وجود میں آنا کہ جس نے حیوانیت و درندگی کا گلا گھونٹ کر انسانیت کو جنم دیا، کفر و الحاد و زندقہ کے گھنگھور گھٹاؤں کو چھانٹ کر قنادیل ایمان و اسلام کو روشن و منور کیا، لا تعداد گم گشتہ گان راہ کو راہِ راست پر لاکھڑا کیا۔

یہ قوم اس قدر آگے بڑھی کہ بڑھتی چلی گئی، اس کی کوکھ سے ایسے ایسے جانباز و سپہ سالار پیدا ہوئے کہ جنہوں نے قیصر و کسریٰ، ایران و روم کی سلطنت کو الٹ کر رکھ دیا، جن کے جذبۂ جہاد اور قوت ایمانی کے آگے سلاطین زمانہ نے گھٹنے ٹیک دیے، سیکڑوں فتوحات جن کا مقدر بنیں، موسمِ سرما کی شدت ہو یا موسمِ گرما کی تپش، یا برسات میں اٹھنے والا آسمانی طوفان ہی کیوں نہ ہو، کوئی بھی مشکل ان کے پیروں کی زنجیر نہ بن سکی، سمندری سطح ہو یا صحرائی علاقہ جہاں بھی یہ پہنچے وہاں کی فضا اللہ اکبر کی صداؤں سے گونج اٹھی۔ ڈاکٹر اقبال نے کچھ اس انداز سے اس کی منظر کشی کی ہے:

دشت تو دشت ہے دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے
بحر ظلمات پہ دوڑا دیے گھوڑے ہم نے

اس قوم کا ہر ہر فرد ملنے والی تمام تر مشکلات کے لیے ہمہ وقت تیار رہتا اور ڈٹ کر ان کا مقابلہ کرتا، اللہ سبحانہ و تعالی سے اس قدر ایمان و یقین کا مضبوط رشتہ قائم تھا کہ میدان بدر ہو یا حنین، جنگ خندق کی ناقابل ضبط صعوبتیں ہوں یا مثل شمشیر میدان کارزار کی سنگ لاخ وادیاں، غرض کہ کیسی بھی سخت ترین صورت حال ہوتی، ان کے پائے استقلال میں جنبش نہ آتی، کئی کئی روز کے بھوکے پیاسے حصولِ ہدف کی غرض سے اسی جوش و جذبہ کے ساتھ آگے بڑھتے رہتے اور دشمنان اسلام کے فاسد مقاصد و اغراض کو مٹی میں ملا کر باطل کے سینے پر چڑھ کر عَلم حق نصب کر دیتے، اسی لیے آج بھی خالد بن ولید، طارق بن زیاد اور سلطان صلاح الدین ایوبی کے نام سے ہی ایوان کفر میں زلزلہ طاری ہو جاتا ہے۔

پھر اچانک اس شان و شوکت، جاہ و جلال، رعب و دبدبہ اور عزت و عظمت پر کسی کی ایسی نظر لگی کہ ہماری قوم بجائے راہِ ترقی سے راہِ تنزلی کی جانب چل پڑی، دھیرے دھیرے اپنا سارا وقار کھوتی چلی گئی، خونِ مجاہدین کے عوض حاصل شدہ اعزاز غیروں کے قبضے میں چلا گیا اور ہم در بدر کی ٹھوکریں کھانے لگے، ہر چہار جانب سے ہم پر حملے ہونے لگے، آئے دن ہمارے مذہب و مسلک کو نشانہ بنایا جانے لگا، ہماری میراث، ہمارے آباؤ اجداد کی بے لوث کاوشوں سے حاصل ہوئے مقامات ایک ایک کر کے ہم سے چھنتے چلے گئے گویا ایسا محسوس ہونے لگا جیسے:

گنوادی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی
ثُریّا سے زمین پر آسماں نے ہم کو دے مارا

ہماری مذہبی آزادیوں پر پابندیاں عائد ہونے لگیں، ہمارے مدارس و مساجد اور مقبرے زمیں بوس کیے جانے لگے، گھروں میں گھس کر پردہ نشین خواتین کی عزتوں کو تار تار کیا جانے لگا، اسی طرح سے ہم پر ظلم و جبر کا سلسلہ آج بھی جاری ہے، بعض دیگر قومیں ظاہراً ہماری خیر خواہ نظر آتی ہیں اور چھپ کر ہمارے خلاف سازشوں کے جال بنتی ہیں، ان کے بچھائے دام تزویر میں آج مسلمان پوری طرح پھنس چکے ہیں، اسی لیے آئے دن ہماری جان و مال، عزت و آبرو کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔

آخر یہ ذلت و رسوائی کیوں؟

مسلم معاشرے کی موجودہ صورت حال کسی سے پوشیدہ نہیں ہے، ہر شخص جانتا ہے کہ فی زمانہ کس طرح ہمیں ٹارگیٹ کیا جاتا ہے، وہ قوم جس کے سامنے دشمن لب کشائی سے گھبراتا تھا، آج سینہ چوڑا کیے ہمارے ہی آگے دندناتا پھرتا ہے، ہماری بچیوں کو بے حجاب کرنے، مسجدوں، اداروں اور مقبروں پر بلڈوزر چلانے، سر عام جبراً مسلمانوں سے کلمہ کفر کہلوانے جیسے جرائم عروج پر ہیں، ہمارے ہی ملک میں ہم ہی سے یہاں کے رہائشی ہونے کا ثبوت مانگا جاتا ہے، اسٹیشن، ایئر پورٹ اور سرکاری بس اڈے غرض کہ ہر گلی نکڑ پر داڑھی ٹوپی والے افراد کو حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے، اسکول و کالجز سے ہمارے نصاب کو نکال کر اپنا نصاب داخل کیا جا رہا ہے جو کہ مبتدی طلبہ کے ایمان و عقیدے کے لیے زہر قاتل ہے، آخر اس ذلت و رسوائی کی وجہ کیا ہے؟ کیوں ہم اچانک اس قدر بے قدر و قیمت ہو گئے کہ ہمارا خون بہانے سے کوئی بھی نہیں کتراتا؟

کبھی اے نوجواں مسلم! تدبّر بھی کیا تو نے
وہ کیا گردُوں تھا تُو جس کا ہے اک ٹُوٹا ہوا تارا

کیا کبھی ہم نے اپنے حال پر غور کیا کہ آخر آج ہم کہاں کھڑے ہیں؟ کیا ہم نے بھی اپنے اندر جھانک کر دیکھا کہ اپنے اسلاف کے اقدار و روایات کی ہم نے کسی طرح پامالی کی؟ کس طرح شریعت و طریقت، فرائض و واجبات کو پس پشت ڈال کر دنیوی جاہ و حشم، مال و دولت، چمک دمک کے گرویدہ ہوئے کہ ہم اپنے دین ہی کو بھول گئے، ہم اپنے مقصد تخلیق کو ہی بھلا بیٹھے، کیا ہمارے اعمال و کردار، رفتار و گفتار، طور و طریقہ سے لگتا ہے کہ ہم مسلمان ہیں؟ جس طرح کی بے راہ روی اور جانوروں کی سی زندگی ہم جی رہے ہیں، کیا یہی اسلامی تعلیمات ہیں؟ آج ہم اس قدر دنیاوی عیش و عشرت اور جدت پسندی کے شکار ہیں کہ ہمارے سینوں سے دین کب نکل گیا ہمیں پتہ بھی نہیں چلا، ہمارے اندر مغربی تہذیب و ثقافت نے اس طرح جگہ بنائی کہ فحش و عریانیت ہمیں فیشن لگنے لگی، ہمارے گھر کی خواتین تنِ تنہا آدھے کپڑے پہن کر بازاروں میں مرکزِ چشمانِ ہوس بنی ہوئی ہیں اور دیوث قسم کے باپ اپنی بیٹیوں کی ان گندی حرکتوں پر بجائے غصہ کرنے کے بانچھیں پھاڑ کر ان کو آزادانہ زندگی جینے کے نام پر مکمل چھوٹ دیے ہوئے ہیں، ہم نے یہود و نصاریٰ کے طور و طریقہ کو اس قدر اپنایا کہ ہم اعمال قبیحہ اور بے ہودگی میں ان سے بھی آگے نکل گئے، ڈاکٹر اقبال نے کہا تھا:

وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود
یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود

یوں تو سید بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہو
تم بھی کچھ ہو بتاؤ تو مسلمان بھی ہو

ایک دور تھا کہ مسلمان عفت و پاکدامنی، امانت داری، صدق گوئی اور متوکلین علی اللہ کی مثال ہوا کرتے تھے، تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھیں ہزاروں ایسے واقعات نظر سے گزریں گے کہ مسلمانوں نے کبھی کسی کے ساتھ دھوکہ دہی، ظلم و جبر نہیں کیا، ہماری مسجدیں نمازیوں سے پُر تھیں، اس اُمت پر ایسا بھی وقت آیا کہ لوگوں نے بخوشی موت کو گلے لگا لیا لیکن ہرگز باطل سے سمجھوتا نہیں کیا، ہماری امانت داری کی اس سے بڑی مثال کیا ہوگی کہ کفار و مشرکین اپنے ہم مذہب لوگوں کو چھوڑ کر اپنا مال و متاع ہمارے پاس بطور امانت رکھ جاتے تھے کتنی ہی مرتبہ ہمارے اسلاف دنیاوی مال و دولت کو ٹھوکر مار کر اپنے ایمان و اسلام کی حفاظت کی خاطر نقل مکانی کرنے پر بھی رضا مند ہوئے۔

یہ سرخ روئی ہمیں تب تک حاصل تھی جب تک ہمارے ایمان مضبوط تھے، آج ہمارا ایمان اور اللہ پر توکل کمزور ہو گیا۔ ہماری خستہ حالی کی سب سے بڑی وجہ ایمان کی کمزوری ہی ہے، کیونکہ جب ایمان مضبوط ہوتا ہے تو بندہ دنیا کی کسی بھی طاقت سے نہیں ڈرتا، جب اللہ تعالیٰ کی ذات سے توکل کی ڈور مضبوط ہو تو پھر کوئی بھی چیز ہمیں تہ تیغ نہیں کر سکتی، یاد کرو! وہ لوگ جن کے پاس کثرت سے مال و متاع، جنگی آلات اور مکمل غذا بھی میسر نہیں تھی، ایسی قوم فاتحِ ایران و روم و قیصر و کسریٰ بنی، لشکر جرار کے سامنے مثل چٹان اس طرح کھڑی ہوئی کہ دشمن پیٹھ دکھا کر بھاگتا نظر آیا، اس والہانہ جرات و طاقت کا راز یقیناً قوتِ ایمانی اور ذات باری تعالیٰ پر توکل ہی ہے، یہ ایمان کی طاقت ہی ہے کہ مائیں اپنے جوان بیٹوں کو اپنے ہاتھوں سے تیار کر کے جنگ پر بھیجتی تھیں، نئی دلہن اپنے ایک دن کے شوہر کی لاش دیکھ کر بھی آنسو نہیں بہاتی، ایک بہن اپنے بھائی کا کٹا ہوا سر دیکھ کر بھی نہیں روتی۔

یاد کریں میدان کربلا کا دردناک واقعہ، جوان حضرت قاسم کی موت، عون و محمد کے کٹے ہوئے جسم، جوان علی اکبر کا لاشہ، ننھے علی اصغر کا چھدا ہوا گلا، یہ سارے مناظر دیکھ کر بھی امام عالی مقام میدان چھوڑ کر واپس نہیں لوٹے بلکہ خود بھی اللہ کی راہ میں شہید ہو گئے، یاد کریں جنگ بدر میں وہ دونوں چھوٹے چھوٹے بچوں کا جذبہِ جہاد، جنہوں نے اپنی چھوٹی چھوٹی تلواروں سے سرکار علیہ الصلوة والسلام کے جانی دشمن ابو جہل کو موت کے گھاٹ اتار دیا، یہ سب کیا تھا؟ یقیناً قوتِ ایمان اور حصول رضائے الہی کا جنون تھا جو ان کی مضبوطی بنا رہا۔ آج انہیں چیزوں کے فقدان کے سبب ہم ذلت و خواری کا شکار ہیں، ہم دس دس گھنٹے سوشل میڈیا پر تفریح کرنے، محلہ کے چوک اور سڑکوں پر بیٹھ کر وقت برباد کرنے کے لیے رضامند ہیں لیکن مسجد جانے کے لیے ہرگز راضی نہیں، دوسروں کا مال ہڑپنا، جھوٹ بولنا، دھوکے بازی، عیاری و مکاری ہمارے خون کا حصہ بن چکی ہے، جس کے نتیجے میں آج ہمیں یہ دن دیکھنے پڑ رہے ہیں۔

ان جملہ مشکلات کا سد باب

عقلمند انسان وہی ہے جو ہونے والے نقصانات پر آہ و بکا کرنے اور افسوس و ندامت کے ساتھ ساتھ ان کا حل بھی تلاش کرے، کیونکہ مرض کا علاج جلد از جلد تلاش کرنا نہایت ضروری ہے، تاخیر کرنے کی صورت میں نتیجہ یہی ہوگا کہ:

تا تریاق از عراق آورده شود
مارگزیده مرده شود

یعنی جب تک عراق سے تریاق لایا جائے گا، سانپ کا ڈسا ہوا مر جائے گا۔ پتہ یہ چلا کہ تلاش حل میں تاخیر ہونے کی صورت میں مزید مشکلات درپیش ہونے کا قوی امکان ہے کیونکہ جس حساب سے دشمنان اسلام دن بدن شاطرانہ اسکیموں اور چالوں سے ہم پر حملہ آور ہو رہے ہیں اور انہیں مکمل طور پر حکومت کی پشت پناہی حاصل ہے تو ایسا لگتا ہے کہ اگر جلد از جلد ان سے بچنے کا کوئی راستہ نہیں نکالا گیا تو ہماری خانقاہیں، مساجد و مدارس اور مذہبی آزادیاں ایک ایک کر کے چھین لی جائیں گی اور ہر چہار جانب سے اسلام اور مسلمانوں کو دبانے اور نیست و نابود کرنے کی کوششیں جاری رہیں گی، لہٰذا ہم پر لازم و ضروری ہے کہ خواب خرگوش سے باہر نکلیں اور حفظانِ مذہب و ملت میں کلیدی کردار ادا کریں، پہلے خود کی اصلاح ضروری ہے تب کہیں جا کر ہمارے حالات میں سدھار آئے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے:

إِنَّ اللهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ

بے شک اللہ سبحانہ و تعالی کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدل دیں۔

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہوا احساس خود جس کو اپنی حالت بدلنے کا

اگر ہم قوم کا نہیں تو کم از کم اپنے اور اہل خانہ کی حفاظت کی ذمہ داری تو اٹھا ہی سکتے ہیں، میری ناقص عقل کے مطابق وہ چند صورتیں جن سے ضرور معاشرے میں تبدیلیاں آسکتی ہیں، درج ذیل ہیں:

  1. قوت ایمانی: اولاً ہم پر ضروری ہے کہ اپنے ایمان و عقیدے کی اصلاح کریں، جیسا کہ اوپر ذکر ہوا کہ اس قوم کی تنزلی میں سب سے اہم وجہ ایمان کی کمزوری ہے اور یہ فقط میرا نظریہ نہیں بلکہ قرآن کریم میں اللہ سبحانہ و تعالی خود ارشاد فرماتا ہے: وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ [آل عمران: 139] یعنی ”تمہیں سربلند رہو گے اگر تم ایمان والے ہو۔“ لہٰذا معلوم ہوا کہ ہماری تنزلی میں سب سے بڑی وجہ ہمارا ایمان سے رسمی تعلق ہے، کیونکہ ایمان ایک ایسی طاقت ہے جس پر دنیا کی کوئی بھی چیز غالب نہیں آسکتی، جادوگروں کی وہ جماعت جو فرعون کے سامنے لب کشائی سے گھبراتی تھی لیکن جیسے ہی حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لائے ان کے دلوں سے فرعون کا خوف جاتا رہا، فرعون کی جانب سے سخت سزا کی دھمکی ملنے کے باوجود وہ راہِ راست سے نہیں ہٹے، لہٰذا پتہ چلا کہ اولاً اپنا ایمان درست کریں، اس کے لیے ضروری ہے کہ اپنے اندر شعور و احساس پیدا کریں کہ ہم مسلمان ہیں، ثانیاً قرآن کریم سے اپنا تعلق مضبوط کریں، اہل ایمان کی صحبت اختیار کریں، تب جا کر ہمارے ایمان میں حرارت پیدا ہوگی۔
  2. اللہ و رسول سے سچا عشق: دلوں میں اللہ و رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا ہونا ضروری ہے، کیونکہ محبت خدا اور محبت رسول کے سامنے دنیا کی ہر چیز ہیچ ہے، بندہ جب خالص اللہ و رسول سے محبت کرتا ہے پھر وہ دنیا کی کسی بھی چیز کو اس پر ترجیح نہیں دیتا۔ تاریخ شاہد ہے کہ جب تک مسلمانوں کے دلوں میں محبت خدا اور عشق مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا چراغ روشن رہا تب تک یہ قوم عروج و ارتقا کی منزلیں طے کرتی گئی اور فریق مخالف اگر ماں، باپ، بھائی، بہن، بیٹا یا رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوئے، انہوں نے بھی دین کے نام پر سمجھوتا نہیں کیا، جب بندے کے قلب و ذہن میں حب مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہو جاتی ہے، پھر وہ دنیا کی چمک دمک، خواہشات کی تکمیل میں اپنا وقت ضائع نہیں کرتا بلکہ وصل محبوب کے راستے ڈھونڈتا ہے، پھر وہ محبوب سے منسلک تمام چیزوں سے محبت کرنے لگتا ہے اور اس کے لیے مر مٹنے کو تیار ہو جاتا ہے۔ لہٰذا اپنے دلوں میں قندیلِ عشق رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کو روشن کریں اور یہ عشق تب ہی پیدا ہو سکتا ہے جب ہمیں حضور علیہ الصلوۃ والتسلیم کی مبارک زندگی کے جملہ پہلوؤں کے متعلق مکمل معلومات ہوگی حضور کی سیرت ہم جانتے ہوں گے، آپ کی ایک ایک سنت و طریقہ کو اپنے اندر سمونے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کریں گے، ہمہ وقت حضور علیہ الصلوۃ والسلام پر درود و سلام کا ورد کریں گے۔
  3. علم دین حاصل کریں: ہماری تنزلی میں جہل و نادانی کا بھی اہم کردار رہا ہے، ہم جانتے ہی نہیں کہ صحیح اور غلط کیا ہے، ہمارے دین کے بنیادی اصول کیا ہیں، فرائض و واجبات کتنے ہیں، ہماری اسلامی تاریخ کیا ہے، دین کی ترقی و فروغ میں ہمارے اسلاف کی کیا کیا قربانیاں رہیں، کیا دین اتنی آسانی سے ہم تک پہنچ گیا؟ یہ جملہ چیزیں ہم کب جانیں گے جب ہم علم حاصل کریں گے، ورنہ اصل و اصول کو پس پشت ڈال کر فروعیات میں مشغول و منہمک ہو جائیں گے اور 80 فیصد ہماری قوم ان کے جال میں پھنس بھی چکی ہے اور ہم اپنے دین سے اس وقت تک وابستہ نہیں ہو سکتے جب تک اپنے دین کو پڑھ اور سمجھ نہیں لیتے۔ یاد کریں جب انگریز ہندوستان میں آئے تو سرزمین ہند سے اسلام کو ختم کرنے کی پہلی چال جو انہوں نے چلی تھی وہ یہی تھی کہ مدارسِ اسلامیہ کو بند کر دیا جائے اور اسکول و کالجز عام کیے جائیں اور اس میں اپنا بنایا ہوا نصاب شامل کیا جائے، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ مسلمان جتنا کم اپنے مذہب و مسلک کو جانے گا اس کے ایمان کو لوٹنا اتنا ہی آسان ہوگا، اسی لیے انگریز ہماری تاریخ مٹانے اور مذہب اسلام کو دبانے کی ہمہ وقت کوششیں کرتے رہے، اپنے اسلاف کے طور و طریقے پر عمل کرتے ہوئے آج بھی دشمنانِ اسلام ہمیں ہماری تعلیمات سے دور کرنے کی سعی میں لگے ہیں، لہٰذا ضروری ہے کہ معاشرے میں دینی تعلیمات کو عام کیا جائے۔
  4. اتحاد و اتفاق: یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جس قوم میں اتحاد نہیں ہوتا اس قوم کا شیرازہ بکھرنے میں دیر نہیں لگتی، آج ہماری قوم بھی کئی حصوں میں تقسیم ہو چکی ہے، اصل دین کو چھوڑ کر فروعیات میں الجھ کر رہ گئی، یہاں تک کہ ایک دوسرے کو اپنا دشمن بھی سمجھنے لگی ہے اور اس کی واحد وجہ دنیاوی جاہ و حشمت اور عالمی شہرت کا حصول ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ قوم جو ایک ہی ہاتھ کی پانچ انگلیوں کی مثل تھی اور ہر انگلی اپنے اپنے منصب کے متعلق کام کرتی ہے، سب اپنے اپنے منصب پر خوش تھے، کیونکہ انہیں ذاتی مفاد سے نہیں بلکہ فروغِ دین سے مطلب تھا، آج ہم اپنے آپ کو بڑا بنانے کی غرض سے دس حصوں میں بٹے ہوئے ہیں، ملت میں فقدانِ تعلیم کی وجہ سے نااہل افراد برسرِ اقتدار ہیں، جس کی وجہ سے باآسانی دشمن ہمارا شکار کرنے میں کامیاب ہے، لہٰذا آپسی اتحاد و اتفاق نہایت ضروری ہے، سب کو اپنا ایک لیڈر چن کر ایک ہی جھنڈے کے نیچے آنا ہوگا، تب کہیں جا کر ہم دشمنوں کی شاطرانہ چالوں سے بچ سکتے ہیں۔
  5. دین اسلام کی تبلیغ و تشہیر: ساتھ ہی ساتھ دین اسلام کی تبلیغ و اشاعت بھی نہایت ضروری ہے، گھر گھر اسلامی تعلیمات پہنچانا، کم از کم اپنے بچوں اور اہل خانہ کو اسلامی تعلیمات سے روشناس کرانا ہمارا فرض ہے، مغربی تہذیب و تمدن اور جدت پسندی کو جڑ سے ختم کر کے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی حیات طیبہ کے مطابق زندگی گزاریں، اپنی بہن، بیٹیوں کو ظالم و جابر اور خبیث النفس افراد سے دور رکھیں، یہ سب تب ہی ممکن ہے جب ہم گھر گھر دین کو عام کریں گے اور اگر ہم معاشرے کی اصلاح نہیں کر سکتے تو کم از کم ان ذرائع کو ضرور مضبوط کریں جو تبلیغ و تشہیر کا ذریعہ ہیں جیسے: مدارس و مساجد، اپنی اولاد کو دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم سے بھی لازمی آراستہ کریں، مکمل عالم نہ صحیح لیکن قرآن کریم مع ترجمہ اور چند کتب سیرت و احادیث ضرور پڑھائیں، خاص کر گھر کی خواتین کے پردے اور ان کی تعلیمات پر خصوصی توجہ دیں، موجودہ دور میں پھیلے فتنہ ارتداد سے بچنے کا ذریعہ بھی دینی تعلیم ہی ہے، لہٰذا جہاں تک ہو سکے تعلیم و صحت کو عام کریں۔
  6. میدان سیاست میں حصہ: ساتھ ہی ساتھ اپنی اولاد کو ملک کے مختلف حصوں سے جوڑیں، انہیں پولیس، ڈاکٹر، انجینئر، آئی پی ایس وغیرہ کی تیاری لازمی کرائیں اور زیادہ سے زیادہ میدان سیاست میں بھی مقدم رکھیں تاکہ باآسانی دشمنان اسلام کی چالوں کو ناکام بنایا جا سکے، سیاسی میدان میں برسرِ اقتدار جب زیادہ سے زیادہ مسلمان ہوں گے تو دشمن اپنی چال چلنے میں ناکام ہوگا، اپنے جھگڑوں اور دشمنی کو مٹا کر فقط دین کے لیے کام کیا جائے اور ہر میدان میں گھس کر، ہر اعتبار سے دفاع کی کوشش کی جائے تب جا کر ہم اپنے مذہب و مسلک کی حفاظت کر سکیں گے، معاشرے سے برائیوں کو مٹا کر ہی دم لیں اور یاد رکھیں بدلاؤ ایک دم نہیں بلکہ دھیرے دھیرے آئے گا، لہٰذا خواب غفلت سے بیدار ہوں اور اپنی عاقبت کی فکر کریں اور عند اللہ خود کو مجرم ہونے سے بچائیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے حال پر رحم فرمائے اور ہمیں عروج و ارتقا عطا فرمائے، مسلمانوں کی جان و مال، عزت و آبرو کی حفاظت فرمائے، دشمنانِ اسلام اور ان کی شاطرانہ چالوں کو ناکام کر سب کو نیست و نابود فرمائے، دین اسلام کا بول بالا ہو اور ہمارے قلوب میں اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کا سچا عشق پیدا فرمائے، آمین یا رب العالمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم۔ [سنی دنیا بریلی شریف، مارچ 2025، ص: 30]
جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!