Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

امام احمد رضا اور فنِ شعر و سخن (قسط: سوم)

امام احمد رضا اور فنِ شعر و سخن (قسط: سوم)
عنوان: امام احمد رضا اور فنِ شعر و سخن (قسط: سوم)
تحریر: مولانا محمد سبطین رضا سبطین
پیش کش: مظفر حسین شیرانی

صنعتِ ایہام

اصطلاحِ شعر میں ”صنعتِ ایہام“ اس کو کہتے ہیں جس میں شاعر اپنے کلام میں کوئی ایسا لفظ لائے جس کے دو معنی ہوں، ایک قریبی معنی اور دوسرا بعیدی معنی، سامع کا گمان معنیِ قریب کی طرف جائے لیکن شاعر کی مراد بعید معنی سے ہو۔ [ملخص: تلخیص بحر الفصاحت، ص: 374]

علامہ عبد الستار ہمدانی صاحب اپنی کتاب ”فنِ شاعری اور حسان الہند“ میں رقم طراز ہیں:

”صنعتِ ایہام کے اشعار جس کثرت سے حضرت رضا بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کے کلام میں پائے جاتے ہیں وہ کثرتِ تعداد دیگر شعرا کے کلام میں نہیں پائی جاتی۔ علاوہ ازیں حضرت رضا کے کلام میں جس نفاست اور معنویت کے ساتھ ذو معنی الفاظ کا استعمال اور اخذِ مراد پائی جاتی ہے اس کی نظیر نہیں ملتی۔“ [فنِ شاعری اور حسان الہند، ص: 177]

حضور اعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہ کے اشعار میں صنعتِ ایہام بہت کثرت سے پائے جاتے ہیں اس لیے تمام اشعار کا ذکر کر پانا مضمون کی طوالت کے خوف کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ممکن نہیں، البتہ ایک شعر بطور مثال پیشِ خدمت ہے چنانچہ حضور اعلیٰ حضرت ارشاد فرماتے ہیں:

نور کی سرکار سے پایا دو شالہ نور کا
ہو مبارک تم کو ذوالنورین جوڑا نور کا

ذوالنورین حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا لقبِ شریف ہے۔ اس شعر میں دو لفظ اپنے بعید معنی میں استعمال کیے گئے ہیں جن میں سے ایک ”شالہ“ اور دوسرا ”جوڑا“ ہے، شال کا قریبی معنی ہے اون اور ”جوڑا“ کا قریب معنی ہے: پوشاک! لہٰذا سامع کا خیال اولاً اس طرف جائے گا کہ اے دو نوروں والے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ، آپ کو نور والے سرورِ کائنات صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی بارگاہ سے دو نور والے اون کے کپڑے ملنے پر بہت بہت مبارک ہو لیکن حضور اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مراد اس شعر سے نور والے دو اون کے کپڑے نہیں، بلکہ یہ نور والے حضور کی دو صاحبزادیاں ہیں جو یکے بعد دیگرے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عقد میں آئیں۔

صنعتِ مراعات النظیر

یعنی کلام میں ایسے الفاظ کا استعمال کرنا جس میں باہم سوائے نسبتِ تضاد کے کچھ مناسبت ہو۔ جیسے چمن کے ذکر کے ساتھ گل و بلبل، باغبان، پتے، پودے وغیرہ کا ذکر کرنا۔ [ملخص: تلخیص بحر الفصاحت، ص: 375]

مثلاً فانی بدایونی کا شعر ہے:

تیرے بغیر باغ میں پھول نہ کھل کے ہنس سکے
کوئی بہار کی سی بات اب کے بہار میں نہیں

اس شعر میں باغ کی مناسبت سے پھول اور بہار کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں، ان تینوں میں باہم مناسبت ہے تضاد نہیں، حضور اعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہ کے اشعار میں صنعتِ مراعات النظیر کی جلوہ سامانیاں دیکھنے سے تعلق رکھتی ہیں، چنانچہ علامہ عبد الستار ہمدانی صاحب اعلیٰ حضرت اور دیگر شعرا کے اشعار میں صنعتِ مراعات النظیر کو بیان کرنے کے بعد آخر میں رقم طراز ہیں:

”صنعتِ مراعات النظیر میں قارئین نے دیگر شعرائے اردو ادب کے اشعار کو ملاحظہ فرمایا اور حضرت رضا بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان کے اشعار بھی ملاحظہ فرمائے لیکن حضرت رضا کے اشعار کے مقابلے میں دیگر شعرا کے اشعار پھیکے معلوم ہوتے ہیں۔ حضرت رضا کے اشعار میں جو فصاحت و بلاغت، ربط و تسلسل، جو روانی و ساختگی، رعایتِ لفظی، مضمون کی بلندی، عشق کی پاکیزگی، عنوان کی عمدگی اور جدتِ الفاظ کی جو نوردی ہے وہ دیگر شعرا کے کلام میں نہیں۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ دیگر شعرا شرعی قید و بند سے آزاد ہو کر عشقِ مجازی میں اپنے قلم کو بے لگام اور بے قابو چلانے کے باوجود اپنے کلام میں جو رنگینی، رعنائی اور حسن پیدا نہ کر سکے وہ سب حضرت رضا نے شریعت کی حد بندی میں رہتے ہوئے اپنے کلامِ عشقِ حقیقی میں ایسے حسنِ اسلوبی سے بیان فرما دیا کہ بڑے بڑے ادبا اور فصحا کے سر خمِ نیاز ہو گئے۔“ [فنِ شاعری اور حسان الہند، ص: 103]

اس صنعت میں کلامِ رضا سے بے شمار اشعار پیش کیے جا سکتے ہیں، بطور نمونہ اور فرحتِ طبع کے لیے دو شعر دیکھیے:

سر تا بقدم ہے تنِ سلطانِ زمن پھول
لب پھول، دہن پھول، ذقن پھول، بدن پھول

اس شعر میں سر، قدم، تن، لب، دہن، ذقن، اور بدن کی ایک دوسرے کے ساتھ مناسبت ہے۔

گلزارِ قدس کا گلِ رنگیں ادا کہوں
درمانِ دردِ بلبلِ شیدا کہوں تجھے

اس شعر میں اعلیٰ حضرت نے گلزار کے ساتھ گلِ رنگیں اور بلبلِ شیدا کا استعمال کیا ہے، جن میں مناسبت ہے تضاد نہیں۔

صنعتِ سوال و جواب

اس صنعت کو کہتے ہیں جس میں شعر کے اندر ہی سوال کیا جاتا ہے اور شعر کے اندر ہی جواب دیا جاتا ہے، اس کو مراجعہ بھی کہتے ہیں۔ [ملخص: تلخیص بحر الفصاحت، ص: 378]

جب آپ حدائقِ بخشش کا مطالعہ کریں گے تو محسوس ہوگا کہ کلامِ رضا کے متعدد اشعار میں صنعتِ مراجعہ نہایت ہی حسن و جمال اور جاہ و جلال کے ساتھ جلوہ بار ہے۔ بطور مثال دو شعر ملاحظہ کیجیے:

کعبہ کا نام تک نہ لیا طیبہ ہی کہا
پوچھا تھا ہم سے جس نے کہ نہضت کدھر کی ہے؟

اس شعر کی تشریح کرتے ہوئے مولانا غلام حسن قادری رقم طراز ہیں:

”دورانِ سفرِ حج مجھ سے جب بھی کسی نے پوچھا کہ کدھر جانے کا ارادہ ہے؟ کہاں جا رہے ہو؟ تو میں نے کعبہ کا نام تو لیا ہی نہیں بلکہ یہی کہا کہ مدینے جا رہا ہوں۔“ [شرح حدائقِ بخشش، ص: 583]

اتنا عجب بلندیِ جنت پہ کس لیے؟
دیکھا نہیں کہ بھیک یہ کس اونچے گھر کی ہے

اس شعر کی تشریح میں شارحِ حدائقِ بخشش مولانا غلام حسن قادری صاحب لکھتے ہیں:

”بعض گدایانِ بارگاہ اگر تعجب کریں کہ ہم جیسے پست و بے مقدار اور اتنی بلند عطا؟ تو جواب بتایا ہے کہ یہ تمہارے استحقاق و لیاقت کی بنا پر نہیں بلکہ دینے والے کی رحمت و عطا ہے۔“ [شرح حدائقِ بخشش، ص: 620]

[ماخوذ از: ماہنامہ سنی دنیا، بریلی شریف، نومبر 2023ء، ص: 36]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!