| عنوان: | سنی ہونے کا دعویٰ کافی نہیں، عقیدہ بھی سنی ہونا چاہیے |
|---|---|
| تحریر: | مفتی وسیم اکرم رضوی مصباحی، ٹٹلا گڑھ، اڈیشہ |
| پیش کش: | لباب اکیڈمی |
ہمارے کئی نئے فارغین نے بعض نیم رافضیوں کے ساتھ مناظرانہ کلپس بھیجی ہیں۔ ان میں وہ شخص خود کو ”سنی“ کہتا ہے، مگر کبھی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں زبان درازی کرتا ہے، کبھی حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو حضراتِ شیخینِ کریمین، صدیقِ اکبر و فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہما سے افضل قرار دیتا ہے، اور پھر اپنی بات ثابت کرنے کے لیے مختلف حوالے پیش کرتا ہے۔ اس پر ہمارے نئے مناظرین فوراً ان حوالوں کے جوابات دینے میں لگ جاتے ہیں۔
میرے نزدیک یہ طریقہ درست نہیں۔
ذرا غور فرمائیں!
اگر کوئی شخص اپنے آپ کو ”حنفی“ کہے، پھر یہ دعویٰ کرے کہ رکوع میں جاتے وقت رفع یدین مستحب ہے، اور اس پر احادیثِ مبارکہ سے دلائل پیش کرے، تو کیا ہر روایت کا جواب دینا شروع کر دیا جائے گا؟ اس طرح تو بحث بلاوجہ طویل ہوتی جائے گی۔ بے شک ان تمام روایات کے جوابات موجود ہیں، مگر جب سامنے والا خود کو ”حنفی“ کہہ رہا ہے تو مسئلہ فقہِ حنفی کا ہوگا۔ لہٰذا اس سے فقہِ حنفی کی معتبر کتابوں سے حوالہ طلب کیا جائے کہ فقہائے احناف نے اس مسئلے میں کیا لکھا ہے، اور کس فقیہ نے کس کتاب میں رفع یدین کو مستحب قرار دیا ہے۔
اگر وہ کسی حنفی عالم کی تفسیر، حدیث یا سیرت کی کتاب سے صرف کوئی روایت نقل کر دے، تو یہی کہا جائے گا کہ ”جب مسئلہ فقہ کا ہے تو فقہ کی کتاب سے دکھائیں۔“ کیونکہ کسی روایت کو نقل کر دینا لازمی نہیں کہ وہی مصنف کا اپنا عقیدہ یا مسلک بھی ہو۔
مثال کے طور پر بہت سے شافعی محدثین نے اپنی کتابوں میں ایسی روایات ذکر کی ہیں جن سے فقہِ حنفی کی تائید ہوتی ہے، حالانکہ وہ خود شافعی ہیں۔ ”الدرايۃ في تخريج احاديث الهدايۃ“ ہی کو دیکھ لیجیے۔ ”ہدایہ“ فقہِ حنفی کی معتمد کتاب ہے، اور اس کے دلائل پر احادیث جمع کرنے کا کام علامہ ابن حجر رحمہ اللہ جیسے جلیل القدر شافعی محدث نے کیا۔
بالکل اسی طرح، جب کوئی شخص اپنے آپ کو ”سنی“ کہتا ہے اور معاملہ عقیدے کا ہو، تو اس کے ساتھ تاریخی واقعات، تفسیری مباحث یا منتشر روایات میں الجھنے کے بجائے صاف انداز میں یہ کہا جائے:
آپ اشعری ہیں یا ماتریدی؟ دونوں صورتوں میں عقائد کی معتبر کتابوں سے دکھائیں کہ اس مسئلے میں علمائے اہلِ سنت نے کیا لکھا ہے۔
پھر ان سے پوچھا جائے:
- کیا حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو حضراتِ شیخینِ کریمین رضی اللہ عنہما سے افضل کہنے والے کو عقائد کی کتابوں میں گمراہ نہیں لکھا گیا؟
- کیا فقہ کی کتابوں میں ایسے شخص کے پیچھے نماز پڑھنے کو مکروہِ تحریمی قرار نہیں دیا گیا؟
- کیا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو برا کہنا جائز ہے؟
- کیا کسی معتبر سنی عقیدے کی کتاب میں ان کی صحابیت کا انکار موجود ہے؟
- کیا اللہ تعالیٰ نے تمام صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے جنت کا وعدہ نہیں فرمایا؟
- عقائد کی کتابوں میں ”کفِّ لسان“ کا کیا مطلب بیان کیا گیا ہے؟
- کیا مشاجراتِ صحابہ میں کفِّ لسان کا حکم ہے، یا صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے فضائل بیان کرنے سے بھی منع کیا گیا ہے؟
لہٰذا یا تو اپنے آپ کو ”سنی“ کہنا چھوڑ دیا جائے، یا پھر مکمل طور پر سنی بن کر رہا جائے۔
اور اگر پھر بھی حقیقت سمجھ نہ آئے تو اہلِ سنت کے ان علماء کی کتابیں ہی دیکھ لی جائیں جنہوں نے روافض کے رد میں مستقل تصانیف لکھی ہیں۔ انہی کتابوں سے واضح ہو جائے گا کہ یہ عقائد اہلِ سنت کے ہیں یا روافض کے۔
