| عنوان: | جماعتی انتشار کا ذمہ دار کون؟ |
|---|---|
| تحریر: | ڈاکٹر محمد امجد رضا امجد |
| پیش کش: | حافظ فرمان المصطفیٰ نظامی حسینی حنفی |
| منجانب: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد |
بغض، کینہ، حسد، غصہ نہ اچھی خصلت ہے اور نہ اچھے آدمیوں کی پہچان۔ اس سے آدمی کی عقل ماؤف ہو جاتی ہے، ہوش و حواس پر پردہ پڑ جاتا ہے، فکر و تدبر کی صلاحیتیں ماند پڑ جاتی ہیں، اچھے اور برے کا امتیاز ختم ہو جاتا ہے اور اس کا مریض انصاف و دیانت کا خون کرنے کے بعد بھی اسے جرم سمجھنے کے بجائے کارنامہ سمجھتا ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے خوشتر بھائی نامور دادا کے پوتا، اچھے باپ کے بیٹا اور گوناگوں صلاحیتوں کا حامل ہونے کے باوجود اسی مرض کا شکار ہو گئے اور ان کی اچھی صلاحیتیں تخریب و تشکیک اور تفریق و تضلیل کی نذر ہو گئیں۔ اس کا قلق جتنا علامہ ارشد القادری علیہ الرحمہ کو ہوتا، اتنا ہی جماعتِ اہل سنت کے ذمہ داروں کو بھی ہے اور ہونا بھی چاہیے کہ قائدِ اہل سنت کی گود کا پروردہ، مسلکِ اعلیٰ حضرت کے دفاع کے لیے اپنی رگِ حیات کا خون نچوڑ دینے والے عالم کی لوریاں سننے والا پوتا اور جماعتی تشخص کو از کراں تا کراں پہنچانے والے رئیس القلم سے نسبی رشتہ رکھنے والا ایک ہونہار فرد غیروں کا آلہ کار بن گیا۔
افسوس! جسے رئیس القلم کا جانشین ہونا تھا وہ ان کی حرمتوں کا قاتل ہو گیا، جسے ان کا علمی وارث ہونا تھا وہ ان کا مخالف و محارب ہو گیا، جسے ان کے ادھورے مشن کو پورا کرنا تھا وہ ان کے مشن ہی کو مشکوک بنا گیا۔ وہ علامہ جو تعلیم کے لیے لیبیا اور مصر تو نہیں گئے مگر اپنی خدمات کے نقوش برطانیہ، سورینام، ایران، افریقہ، ہالینڈ تک چھوڑ آئے، اور اپنے اسی مشن کی تکمیل کے لیے پوتے کو ہندوستان سے لے کر لیبیا تک سے تعلیم دلوائی، وہ ان کے مشن کا جھنڈا اٹھانے کے بجائے ان کی رسوائی کا سامان بن گیا۔
گریہ کن اے بلبلا از رنج و غم
چاک کن اے گل گریبان از الم
چہرہ سرخ از اشکِ خونی ہر گلیست
خوں شو اے غنچہ زماں خندہ نیست
مردماں شہواتِ را دیں ساختند
صد ہزاراں رخنہ ہا انداختند
ہر رسالہ کا اپنا ایک مقصد ہوتا ہے، مزاج و منہاج ہوتا ہے، جس کے گرد وہ رسالہ گردش کرتا ہے۔ اہداف کے تعین کے بغیر کوئی کام نہیں ہوتا۔ ”جامِ نور“ کا بھی اپنا ایک مشن تھا اور ہے۔ علامہ کے جامِ نور کا مشن تھا: مسلک کا تحفظ، جماعت کا فروغ، مخالفینِ جماعت کی علمی گرفت اور ملت کی ترجمانی۔ پیوند لگے ”جامِ نور“ کا مشن ہے: علمائے اہل سنت کی تذلیل، مسلکِ اعلیٰ حضرت کی مخالفت، سنی دارالافتا کی بے وقعتی، سنی طلبہ کی تضحیک، جماعتی اتحاد کا تزلزل۔ ابتدا سے لے کر اب تک کے جامِ نور کے شماروں کا مطالعہ کیا جائے تو جماعتی کام گھنے بادلوں میں کہیں کہیں ٹمٹماتے ستارے کی طرح نظر آئے گا اور وہ بھی شاید بے اعتدالی کے الزام سے بچنے کے لیے۔ نو دس سالوں میں اگر جہاد نمبر اور تقلید نمبر کو چھوڑ کر (اس نمبر کے پیچھے بھی کون سا جذبہ کار فرما تھا، اللہ ہی جانے) جامِ نور کی شعوری کوششوں پر طائرانہ نگاہ ڈالی جائے تو صاف واضح ہوگا کہ جامِ نور کے ذریعہ:
- لفظِ بریلوی کو موضوع بنا کر جماعتی اتحاد کو توڑنے کی کوشش کی گئی
- مسلکِ اعلیٰ حضرت کے نعرہ پر اہل سنت کو آپس میں دست و گریباں کیا گیا
- جماعتِ اہل سنت کے مذہبی ڈھانچہ کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا
- جماعت کے معتمد علما کو نشانہ پر رکھا گیا اور عوام کے درمیان ان کی وقعت مجروح کرنے کی سعی کی گئی
اپنی تجارت کو فروغ دینے کے لیے ہمیشہ مسلک اور جماعت کے موضوع پر ایسا مواد شائع کیا گیا جس سے آزار و پیکار اور جواب الجواب کا ماحول پیدا ہو، اعلیٰ حضرت، مسلکِ اعلیٰ حضرت اور خانوادۂ اعلیٰ حضرت کے خلاف لکھنے کے لیے حاسدین کی جماعت تیار کی گئی، انہیں بے باک و بے ادب بنایا گیا اور کمالِ ہنرمندی سے ان کی گستاخی کو بالغ نظری قرار دے کر اس کی ستائش کی گئی۔
ہر اس مسئلہ کو ہوا دینے کی شعوری کوشش کی گئی جس سے اعلیٰ حضرت سے اختلاف کرنے کا ناروا جواز پیدا ہو، ہر اس فرد کی حمایت میں دلچسپی دکھائی جسے ہوائے نفس کی خاطر اعلیٰ حضرت کا حاسد پایا، نوجوان نسل کو حق گوئی کے نام پر گستاخ بننے پر ابھارا گیا جو نہیں ابھر سکے انہیں ”دس برس نصابِ شریعت پڑھنے کے باوجود انہیں دینی مسائل کے فہم و ادراک میں اپنی عقل و صلاحیت پر اعتبار نہیں رہا“ کہہ کر کوسا گیا۔ کہاں تک زخموں کا شمار ہو، جامِ نور کی پوری تاریخ اسی شبِ خونی کردار سے بھری ہے۔ ان زخموں کی ٹیس اس لیے سوہانِ روح ہے کہ علامہ کے پوتے اور ملت کے ترجمان کے دیے ہوئے ہیں، اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے، حالیہ چند شماروں پر نظر ڈالیے تو:
- پانی مرتا کہاں ہے
- طربوش برداری کلچر
- ایک بھولا ہوا سبق
- دارالافتاء سے بے اعتمادی
- جیو اور جینے دو
جیسے (پرانا راگ نئی ڈفلی والے) اداریوں نے یہ ثابت کیا کہ ان کا ذہنی ڈھانچہ ہی جماعت مخالف ہے، وہ نشتر لگانا جانتے ہیں مرہم رکھنا نہیں، دل آزاری کر سکتے ہیں دلجوئی نہیں، طلبہ کے جذبات سے کھیل سکتے ہیں ان کی جماعتی تربیت نہیں، دارالافتاء کی توہین کر سکتے ہیں مگر مفتیوں کی عرق ریزیوں پر دعائیہ کلمات نہیں، وہ جلسوں کانفرنسوں کی مذمت کر سکتے ہیں اس کے افادی پہلوؤں کی ستائش نہیں، وہ نعت خوانوں کو گویا کہہ سکتے ہیں مگر ان کی نعتوں نے جذبہ حبِ نبی کو زندہ رکھا ہے اس کی داد نہیں، وہ خطبا و مقررین کو مداری کہہ سکتے ہیں مگر گاؤں گاؤں جا کر انہوں نے سنیت کو زندہ و تابندہ رکھنے کی جو سعی کی ہے اس کی تحسین نہیں۔
اصلاحات کی ضرورت سے انکار نہیں مگر یہ ضرورت صرف جلسہ و کانفرنس ہی میں کیوں؟ فرائض سے لے کر واجبات و سنن تک میں شدید اصلاحات کی ضرورت ہے، صرف جلسہ و کانفرنس پر نزلہ اتارنا کس جذبہ کا غماز ہے؟ اب آپ ہی کے الفاظ میں اگر یہ کہا جائے کہ ”اپنی پسند و ناپسند، فیصلے، افکار و نظریات کو تمام پر تھوپنے اور جبراً انہیں منوانے کی اپنی طرف سے جو اضافی ذمہ داری اپنے سر لے لی ہے اسلام اس کی یکسر نفی کرتا ہے“ (دسمبر 2015ء) تو کیسا لگے؟ جامِ نور کی اب تک کی تاریخ میں اس کے سوا اور ہے ہی کیا؟ ”آنچہ فخر تست او ننگ من است“ چلیے جو ہوا سو ہوا، اگر واقعی اس قوم (مقررین و خطبا، شعرا، نعت خواں) کی اصلاح ہی مقصود ہے تو ان کی بے عزتی کے بجائے ان سے رابطہ کر کے ایک پروگرام مرتب کیجیے، ان تمام کو ایک جگہ جمع کیجیے، یہ سب اپنے ہیں بھائی اپنے، غیر نہیں، ان کے ساتھ جماعتی مسائل پر گفتگو کیجیے ان کی سنیے اور ان کو سنائیے، شاید بات بن جائے، اصلاح ہو جائے۔ مگر مجھے معلوم ہے آپ ایسا نہیں کریں گے کہ صحافت میں اس روش کی گنجائش ہی کہاں؟ اور وہ بھی آپ کی صحافت میں؟ یہ کرنا ہوتا تو آپ کر چکے ہوتے، مگر یہاں تو وہ ماحول پیدا کرنا ہے جس سے جماعت میں انتشار، اتحاد میں رخنہ، ذہنوں میں خلش اور مسلکِ اعلیٰ حضرت کے بجائے بد عقیدگی کو فروغ ملے، آپ وقفہ وقفہ یہی بولی بولتے بھی آئے ہیں، اگر یہ میرا مفروضہ ہے تو نمونے کے طور پر ذرا اپنے اداریہ کا یہ حصہ دیکھیے:
”اقامت میں حي على الصلاة پر کھڑے ہونے نہ ہونے کا تعلق استحباب سے ہے اور مسجد کے ساتھ مومن کی تعظیم فرض و واجب، مگر احکام کے اس فرق کو ملحوظ نہ رکھنے یا دوسرے لفظوں میں طربوش برداری کا نتیجہ ہے کہ اگر کوئی نمازی حي على الصلاة (اداریہ میں دونوں جگہ صلاح ہے، مجھے یہ احساس ہے یہ کتابت کی غلطی ہے) سے پہلے کھڑا ہو جاتا ہے تو اسے بھری مسجد میں ذلیل و خوار کرنے سے لے کر مسجد سے نکالنے تک اور اس بنیاد پر اجتماعی جنگ و جدال سے بھی دریغ نہیں کیا جاتا بھلے ہی اس استحباب کی ادائیگی کے خروش میں مسجد کی حرمت پامال کر کے حرام کاری کا ارتکاب ہو تو ہو اور اکرامِ مومن کی فرضیت سے ہاتھ دھونا پڑے تو پڑے، کیا فرق پڑتا ہے۔“ [طربوش برداری کلچر، ستمبر 2015ء]
مجھے معلوم ہے خوشتر بھائی آپ باصلاحیت ہیں مگر جنونِ غیظ میں ”بک گیا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ“ کا معاملہ ہو گیا ہے۔ یہ بتائیے کہ اقامت میں حي على الصلاة پر کھڑے نہ ہونے کا تعلق استحباب سے ہے یہ آپ نے کہاں پڑھ لیا۔ فقہاء نے پہلے کھڑے ہو جانے کو مکروہ اور خلافِ سنت لکھا ہے، یعنی پہلے کھڑا ہونا مکروہ و حي على الصلاة پر کھڑا ہونا سنت۔ چند حوالے لے لیجیے ورنہ اسے بھی آپ جبری تسلط کا نام دے دیجیے گا۔ ہاں ”بہارِ شریعت“ کا حوالہ دوں گا تو شاید ناگوار ہو کہ یہ محدث کبیر علامہ ضیاء المصطفیٰ کے والد محترم کی کتاب ہے اور اتفاق سے وہ اعلیٰ حضرت کے خلیفہ بھی ہیں، اس لیے دوسرے حوالے لیجیے:
ردالمحتار میں ہے: ويكره له الانتظار قائما، اسی طرح عالمگیری میں ہے: وإذا دخل الرجل عند الإقامة يكره له الانتظار قائما۔ دونوں عبارت میں پہلے کھڑے ہو جانے کو مکروہ لکھا ہے اور مکروہ ترکِ سنت ہی سے ہے۔ اور زیادہ مطمئن ہونے کے لیے مفتی مطیع الرحمن صاحب کا رسالہ (ان کا ہی اس لیے کہ آج کل ان کی باتیں آپ کے لیے کچھ زیادہ ہی مفید مطلب ثابت ہو رہی ہیں) دیکھیے، انہوں نے اس موضوع پر لکھے اپنے رسالہ کا نام ہی رکھا ہے ”سنت کیا ہے؟“ یقین نہ ہو تو ان سے پوچھ لیجیے۔
اس مسئلہ پر علمائے اہلِ سنت اور مخالفین کے یہاں علمی اور عملی دونوں اختلافات ہیں۔ دیابنہ اور وہابیہ پہلے کھڑے ہوتے ہیں، یہ انہی کی پہچان ہے۔ اجنبی جگہ اگر جانے کا اتفاق ہو اور وہاں عام لوگ کھڑے ہو جائیں اس کا مطلب بالعموم یہی ہوتا ہے کہ یہ دیابنہ ہیں اور جب یہ مسلمہ ہے کہ یہ ان کی ہی علامت ہے (سراواں الٰہ آباد والے اہلِ سنت کے یہاں اس سبب سے بھی مشکوک ہیں) تو پھر آپ نے اس کی سرزنش کو ”اکرامِ مومن سے ہاتھ دھونا پڑے“ کیسے کہہ دیا؟ کیا دیابنہ اور وہابیہ آپ کے نزدیک مومن ہیں؟ اگر ایسا ہی ہے تو پھر آپ ہی کے بقول ”آپ کو جس راہ پر چلنا پسند ہے وہ راہ اختیار کیجیے آپ کا یہ مذہبی سماجی اور ملکی حق ہے“، کھل کر سامنے آئیے، اس میں ڈرنے کی کیا بات ہے، ویسے مخلصانہ اتنا عرض ہے کہ بھائی خوشتر! اعلیٰ حضرت سے نفاق و کدر رکھنے والے دنیا سے مبغوض و نامراد ہی گئے ہیں، بہت سی مثالیں موجود ہیں آہستہ آہستہ ان کی عظمت شہرت وقعت سب خاک میں مل جاتی ہیں، بلکہ مل گئی ہیں یہی حال حجۃ الاسلام، مفتیِ اعظم ہند، مفسرِ اعظم ہند اور اب تاج الشریعہ کی مخالفت کرنے والوں کا بھی ہوا، ہو رہا ہے اور ہوگا۔ دل تو اللہ عزوجل، اس کے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم اور محبوب کے محبوبوں سے محبت کے لیے ہے، نفرت و عداوت کے لیے نہیں اور جو ایسا کرے گا وعدہ الٰہی ہے: من عادى لي وليا فقد آذنته بالحرب۔
بات بات پر عرف و عادت کا حوالہ ایسا لگتا ہے جیسے ہندوستان میں اگر کسی نے عرف و عادت اور ضرورت و حاجت کا معنیٰ و مفہوم سمجھا ہے تو صرف آپ، جو علما اپنے یہاں تربیتِ افتا میں رسم المفتی اور نشر العرف وغیرہ پڑھاتے ہیں وہ اس سے قطعاً نابلد ہیں، وہ ایسے پڑھاتے ہیں جیسے عوام بغیر سمجھے بوجھے قرآن کی تلاوت کرتی ہے۔ بریلی شریف سے اشرفیہ، کچھوچھہ شریف سے علیمیہ اور مراد آباد سے ادارہ شرعیہ، کسی نے اس کا یہ معنیٰ نہیں سمجھا کہ عرف و عادت کا مطلب ہے سو سال کے بعد حرام کو حلال اور حلال کو حرام قرار دے دیا جائے، اگر تحریم و تحلیل میں کوئی خارج ہو تو اسے ”زمانے کے عرف و احوال سے پوری طرح بے خبر“ کہہ کر بے آبرو کر دیا جائے۔ تحلیلی نظریہ اس طرح آپ کی رگ و پے میں پیوست ہے کہ ہمیشہ ”تحریم والا“ ہی زد میں آتا ہے۔ زمانے اور احوال کے بدلنے سے حرام کو حلال کر دیا جائے تو قابلِ مبارک باد، اور اسی بنیاد پر اگر کوئی حلال کو حرام قرار دے دے، تو قابلِ ملامت اور گردن زدنی، یہ آپ کا فلسفہ ہے میرا مفروضہ نہیں، دلیل لیجیے:
مفتی مطیع الرحمن صاحب نے بنگلور کے حالات دیکھ کر Qtv کا دیکھنا مستحب لکھا تو آپ نے تالی بجائی ان کا خیر مقدم ہوا، جامِ نور کا استقبالی اداریہ آگیا، اور جب انہوں نے صفائی دی، اپنے موقف کا اظہار کیا جو آپ کی طبیعت کے مطابق نہیں تھا، دوسرے اداریہ میں آپ نے ان کی ایسی کی تیسی کر کے رکھ دی۔ ریل پر پڑھی گئی نماز کے اعادہ کے مسئلے میں مفتی نظام الدین صاحب نے عدم اعادہ کا قول کیا آپ نے دل کھول کر داد دی، مفتی ناظر اشرف صاحب عدم جواز کی کتاب لے کر آئے تو آج تک آپ ان کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ نماز میں لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کے مسئلہ میں مفتی نظام الدین صاحب پہلی بار جرأت کر کے مفتی اعظم ہند کے خلاف اپنا موقف لے کر آئے، آپ کی باچھیں کھل گئیں، مگر مفتی مطیع الرحمن صاحب اس معاملہ میں عدم جواز پر ”قولِ فیصل“ لے کر آئے، آپ کے ماتھے پر ”پاپائیت“ کی لکیر نمودار ہو گئی۔
آلاتِ جدیدہ کے معاملہ میں مفتی مطیع الرحمن اور مفتی نظام الدین صاحبان مشروط جواز کا نظریہ لے کر آئے مگر حضور تاج الشریعہ اور علامہ ضیاء المصطفیٰ صاحبان نے دلائل کی روشنی میں اسے قبول نہیں کیا پھر آپ کا چہرہ اتر گیا۔ کہیے! یہ صرف تحلیلی نظریہ کا خمار ہے یا نہیں، کبھی تو آپ نے عرف و عادت کی بنیاد پر حلال کو حرام کرنے کی بات کی ہوتی، حد تو یہ ہے کہ جس مجدد نے (خیر ہے کہ آپ نے ابھی تک ان کے مجدد ہونے پر خامہ فرسائی نہیں کی ہے) حلال کو احوالِ زمانہ کی بنیاد پر حرام قرار دیا آپ اسے ہضم نہیں کر پائے۔ مزارات پر عورتوں کی حاضری اصل مذہب میں جائز ہے مگر مرد و عورت کے اختلاط اور ارتکابِ معاصی کے امکانی خدشات کے پیشِ نظر دلائل کی روشنی میں سرکار اعلیٰ حضرت نے اسے حرام قرار دیا تو آج تک آپ کے جامِ نور کے فیض یافتہ اس کی حلت کے لیے سر پٹک رہے ہیں۔ معاف کیجیے گا خوشتر صاحب! جس تعقل پسندی اور تقلید بیزار ذہنیت کی کاشت آپ چاہ رہے ہیں اس میں تو کسی حرام کی گنجائش ہی نہیں، حلت ہی حلت ہے کہ اس زمانہ میں علت علت ہے۔
بھائی میرے! اپنی جماعتی زندگی میں نہ جمود ہے، نہ فکر و تدبر سے بے نیازی۔ ہر نئے مسئلہ میں ہمارے مفتیانِ کرام نے غور و فکر کیا ہے، امت کی تشویش دور کی ہے، کسی مسئلہ پر کسی نے جواز کا قول کیا تو کسی نے اس سے اختلاف کا۔ اسی ماحول میں الحمد للہ کتنے فیصلے اتفاقِ رائے سے ہوئے بھی، سلسلہ جاری ہے، تحقیق ہوتی رہے گی اختلافات کے امکان بھی رہیں گے اور یہ اختلاف کرنا ان کی ”تعقل پسندی“ کی علامت ہے، تعطل پسندی کی نہیں۔
آپ کی دورنگی بھی اہلِ نظر کے یہاں تفریح کا سامان بن رہی ہے کہ کہیں آپ اختلاف کرنے والوں کو ”جبری تسلط اور پاپائیت“ کے فروغ کا نام دیتے ہیں اور کہیں یہ الزام بھی لگاتے ہیں کہ مدارس کی چہار دیواری میں ان کی تعقل پسندی اور تفکیری صلاحیت کو ختم کر دیا جاتا ہے، بالکل ”بک گیا ہوں جنوں میں“ والا معاملہ ہے۔
آپ کی صحافتی زندگی کو گرم رکھنے والے یہ اداریے اور بھی لوگوں کی نگاہوں سے گزرے، مگر بعض نے إذا يئس الإنسان طال لسانه سمجھ کر نظر انداز کر دیا اور کچھ لوگ یہ سوچ کر خاموش رہے کہ کہیں آپ کا تیشۂ قلم ان کی قبائے آبرو تار تار نہ کر دے، جیسا کہ ان کا مشاہدہ ہے، مگر میں یہی سوچ کر اپنی باتیں التجا و محبت سے آپ کی نذر کر رہا ہوں کہ اپنی آبرو تو اپنے بڑوں کی حرمت پر قربان ہونے ہی کے لیے ہے۔ اسلاف کی آبرو نہ رہے تو ہماری آبرو بھی کس کام کی۔ یہی تعلیم اعلیٰ حضرت ہے اپنے گالیاں دینے والوں پر سکوت مگر محبوبِ باری کو گالیاں دینے والوں کے خلاف ”خنجرِ خوں خوار برق بار“۔
شاید بات بہت دور نکل گئی میں یہ کہہ کر اپنی باتیں ختم کروں کہ الرضا کا یہ پہلا شمارہ دراصل نیلی گرام سافٹ وئیر پر موجود بعض علم دوست اور مسلکی و علمی جذبہ سے ہم آہنگ افراد کی پاکیزہ ذہنیت کا خوبصورت نتیجہ ہے۔ کبھی کبھی آپس کی بے تکلفانہ گفتگو بڑا نتیجہ خیز ثابت ہوتی ہے، الرضا کا احیاء بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے۔ مبارک باد کے مستحق ہیں وہ افراد جو اپنے اسلاف و اکابر کی یادوں سے اپنی فکریں اور اپنا عزم و حوصلہ مربوط رکھے ہوئے ہیں۔ الرضا کی پالیسی بھی یہی ہے کہ اس سے ایمان و عقیدہ، علم و عمل اور ادب و معرفت ہر جذبے کی کاشت ہو اور ہر شعبۂ علم اس سے مالا مال ہو اور إن شاء الله ایسا ہی ہوگا۔ [دوماہی الرضا، ص: 4، جنوری فروری 2016]
