Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

عصر حاضر کے گھریلو مسائل اور ان کا حل

عصر حاضر کے گھریلو مسائل اور ان کا حل
عنوان: عصر حاضر کے گھریلو مسائل اور ان کا حل
تحریر: خوشبو فاطمہ قادریہ
پیش کش: مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد

قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِامْرِئٍ مَا نَوَى، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللّٰهِ وَرَسُولِهِ، فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللّٰهِ وَرَسُولِهِ، وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ لِدُنْيَا يُصِيبُهَا أَوِ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا، فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ. [صحيح البخاري، رقم الحديث: 1، ج: 1]

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “اعمال کا دارو مدار نیت پر ہی ہے، اور آدمی کے لیے وہی اجر ہے جس کی اس نے نیت کی۔ جس شخص کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف تھی تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہے اور جس شخص کی ہجرت دنیا حاصل کرنے کے لیے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کے لیے تھی تو اس کی ہجرت اسی چیز کی طرف ہے جس کی طرف اس نے ہجرت کی تھی۔”

گھر دنیا میں رہنے کی ایک سکون گاہ ہے، جہاں انسان اپنے کام، عبادات اور دیگر امور انجام دیتا ہے۔

یقیناً گھر میں بیوی، بچے، والدین مل جل کر رہتے ہیں تو گھر کی رونق ہی بڑھ جاتی ہے۔

لیکن روز مرہ کی زندگی میں آج ہمیں کچھ نہ کچھ مسائل ضرور درپیش آتے ہیں۔

عورت، مرد، بچے، والدین ہر کسی کو گھر میں مسائل درپیش آتے ہیں۔

عورت کو گھر کی ذمہ داری، مرد کو رزق کی ذمہ داری، بچوں کو پڑھائی کی ذمہ داری، والدین کو اپنے بچوں کی فکر؛ ان سب معاملات کو انجام دیتے دیتے کچھ رکاوٹیں آ جاتی ہیں۔

آج ہر کوئی کسی نہ کسی پریشانی میں مبتلا ہے۔ کوئی رزق کی فکر میں، تو کوئی اچھے عہدے کے پیچھے، تو کوئی دنیا حاصل کرنے میں۔

والدین اور بچوں کے مسائل

آج معاشرے کا حال دیکھا جائے تو والدین اپنے بچوں کو لے کر فریاد کرتے ہیں کہ بچے فرماں بردار نہیں، بچے بہت فرمائش کرتے ہیں، اپنی بات منوا کر چھوڑتے ہیں، موبائل کے بنا کوئی کام نہیں کرتے وغیرہ وغیرہ۔

آخر ان سب کی وجہ کیا ہے؟

بلا شبہ ان سب کی وجہ دینی ماحول کی کمی ہے۔ ہمارے کام پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں والے نہیں ہیں۔ ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے والدین اور بچوں کے ساتھ رہنے کا طریقہ بتایا ہے، اس طریقے پر ہم چلیں تو آج کے والدین اور بچوں کا مسئلہ حل ہو جائے۔

میاں بیوی کے مسائل

آج میاں بیوی میں جھگڑے، طلاق جیسے مسائل زیادہ پیش آ رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے گھروں میں سنتوں سے شادی نہیں ہو رہی، فوٹو گرافر کی نحوست، معاشرتی رواج، غیر قوم کی مشابہت والی رسمیں، یہ سب میاں بیوی کے رشتے پر اثر کرنے والے مواد ہیں۔

بیوی شوہر کے رزق سے مطمئن نہیں، ساس سسر کی خدمت سے دوری، شوہر کی بہنوں سے اختلاف؛ یہ سب فتنے آخر کار دین سے دوری کی وجہ سے ہی تو ہیں۔

میاں بیوی کا آپس میں اعتبار سے رشتہ چلتا ہے۔ آج میاں بیوی کے جھگڑے بہت بڑھنے کی وجہ پرورش میں کمی اور دینی اعتبار سے تربیت کی کمی کا نتیجہ ہے۔

اخبار اٹھا کر دیکھیے، آج زیادہ تر معاملات نجی زندگی کے نظر آتے ہیں۔ کورٹ کچہری کے کیس میں طلاق کے معاملات یہ سب ہمارے معاشرے میں بھی جگہ لے چکے ہیں۔

ایک وقت تھا مسلمان کی مثال ہر کہیں دی جاتی تھی۔ آج بھی مسلمان ہیں ایسے جن کی مثال دی جا رہی ہے پر ان کی تعداد کم ہے۔

ایک وقت تھا جب مسلمانوں کے گھروں میں میاں بیوی کے جھگڑے ہوتے تو ان تک ہی محدود رہتے تھے۔

آج مسلمانوں کو بدنام کرنے کی کوششوں نے ان کے آپس کے اتحاد کو توڑ دیا ہے۔

ایک وقت تھا جب مسلمانوں کو ایک دوسرے کی قدر تھی، پیار و اخلاق تھا۔ آج رشتے اس قدر نازک دور پر آ چکے ہیں کہ میاں بیوی کے رشتے کو نبھانا سب سے بڑا مسئلہ ہو چکا ہے۔

رزق کی تنگی کے مسائل

رزق کا مسئلہ آج کل گھروں میں داخل ہو چکا ہے۔ رزق دینے والی ذات اللہ رب العزت کی ہے۔ پھر بھی مسلمان رزق کو جمع کرنے کے چکر میں لگے ہیں۔

رزق کی برکت اٹھتی نظر آ رہی ہے۔ ہر ایک بندہ رزق کی تلاش میں ہے۔ مہنگائی کے دور میں رزق کی فکر کھائی جاتی ہے، اور اس کا اثر کبھی میاں بیوی کے رشتے پر، کبھی والدین پر، تو کبھی بچوں پر پڑتا ہے۔

مسائل کا حل

انسان اپنی زندگی میں اخلاق کے ساتھ دینی معلومات و تربیت سیکھ کر خود اعتمادی اختیار کرے تو بہت سے مسئلے حل ہو جائیں۔

آج اس شکر اور توکل کی کمی نظر آ رہی ہے جو ہمیں اپنے رب پر ہونا چاہیے۔

غیر قوم سے میل جول، ان کی دوستی، و دلی یاری سے ہمارے گھروں میں ان کے رسم و رواج اپنائے جا رہے ہیں۔

ان رواجوں کو ہمارے گھروں سے نکالنا ہوگا۔ ہلدی، مہندی جیسی غیر ضروری رسموں کو نکال کر سنتوں بھرے اعمال سے ہمارے گھروں کو سجانا ہوگا۔

ہمارے لباس کو مسلمان بنانے کی ضرورت ہے، ہمارے اعمال کو مسلمان بنانے کی ضرورت ہے، ہمارے دل کو مسلمان بنانے کی ضرورت ہے، ہماری زبان کو مسلمان بننے کی ضرورت ہے۔

ہماری نیتوں کو مسلمان بنانے کی اہم ضرورت ہے۔ ہماری نیتیں مخلص ہو جائیں تو ہمارے دنیاوی تمام مسائل حل ہو جائیں گے۔

آخر میں اپنی تحریر کو قرآن مجید کی آیات مبارکہ سے اختتام دینا چاہوں گی۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي خُسْرٍ [سورۃ العصر: 2]

ترجمہ کنزالایمان: بیشک آدمی ضرور خسارے میں ہے۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!