Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

تنقید اور تعمیر

تنقید اور تعمیر
عنوان: تنقید اور تعمیر
تحریر: انصار احمد مصباحی
پیش کش: محمد شفیع احمد عطاری رضوی
منجانب: مرکزی جامعۃ المدینہ نیپال گنج

اسلام کی رونق کا کیا حال کہوں تم سے
کونسل میں بہت سید، مسجد میں فقط جمن

اچھے برے میں فرق اور کھرے کھوٹے میں تمیز کو ”تنقید“ کہا جاتا ہے۔ اچھے کو برا اور برے کو بہت برا کہنے کا نام تنقید ہرگز نہیں۔ اہل علم اسے تنقیص کہتے ہیں، جس کا مقصد اصلاحِ مفاسد نہیں، فقط تذلیل اور تحقیر ہوتا ہے۔ آج شترِ بے مہار کی طرح جسے دیکھو تنقید کرتا نظر آ رہا ہے۔ خانقاہوں پہ تنقید، مدارس پر تنقید، نظامِ تعلیم پر تنقید، نصابِ تعلیم پر تنقید، علمائے اہلِ سنت کے فتاویٰ پر تنقید، مقررین کے خطابات پہ تنقید، جلسوں پہ تنقید، اعراس پہ تنقید، مدارس کے چندوں پہ تنقید، مشائخ کے ارادت مندوں پہ تنقید، ان کے اسفار پہ تنقید، مریدوں کی کثرت پر تنقید، تنقید پر تنقید، تنقید پر تنقید، یہاں تک کہ کوئی مخلص سے مخلص شخص بھی ان بے لاگ تنقیدوں سے شاید ہی بچ سکا ہو۔

جسے تھوڑا ٹائپ کرنے کا ڈھنگ آ گیا... تنقید۔ دو شعر پڑھ نہیں سکتا، شاعروں پر تنقید۔ بہارِ شریعت سمجھ نہیں سکتا، مفتیوں پہ... تنقید۔ فارسی کی پہلی اور چہل سبق پڑھانے کا مجاز نہیں، مدرسین پر تنقید۔ نزہۃ القاری بھی نہیں پڑھا کہ علماء کی حدیث دانی پر تنقید۔ علی گڑھ سے ڈگری یافتہ جینٹل مین کی عالم کی فقہی بصیرت پر تنقید۔ تنقید تعمیر کا زینہ ہے لیکن تنقید کون کرے؟ بدقسمتی سے یہ کام وہ مخصوص ذہنیت کر رہی ہے جو، ع

کرتے تمام عمر چناں اور چنیں رہے
آخر میں کی نظر تو جہاں تھے وہیں رہے

تنقید کا کسے حق ہے...؟ ہر کس و ناکس جس کے دودھ کے دانت بھی نہ گرے ہوں، جسے بابا ماما بولنا ہی آیا ہو وہ بھی تنقید کرے...؟ پروفیسر نور الحسن نقوی فنِ تنقید میں لکھتے ہیں، تنقید کا حق صحیح معنیٰ میں اسی کو ہے جس کا مطالعہ وسیع اور نظر گہری ہو۔ ایسا نہیں کہ اردو ٹائپ کرنا آ گیا بس بن گئے نقاد... چند بالغ نظر لکھاری چاہتے ہیں کہ ملک کے ہر مفتی، عالم، فاضل کی تحریر و تقریر کا قبلہ ان کی تحریری روش ہو، فتوے ان کے فکری سانچے میں ڈھلے ہوئے ہوں۔

ہم ریش دکھاتے ہیں اسلام کو دیکھو
مس زلف دکھاتی ہے اس لام کو دیکھو

ایک مخصوص طبقہ اپنے پلے چیلے چپاٹوں کو لے کر اہلیانِ بریلی اور پاسدارانِ مسلکِ اعلیٰ حضرت کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ گئے ہیں۔

انہیں خانقاہِ بریلی کا ایک کام نہیں بھاتا۔ تصلب فی الدین تو حمیتِ اسلامی ہے۔ تصلب فی الدین جرم ہے..؟؟ مفتی کا کام حالاتِ زمانہ کی رعایت کرتے ہوئے ہر مجبور کو دینی مجبوری سمجھ کر ہر طرح کی خرافات کی کھلی چھوٹ دے دینا ہے۔ تو پھر اپنے خود ساختہ قانون کے کٹہرے میں حضرت ابوبکر صدیق، عمر بن عبد العزیز، امام مالک، مجدد الف ثانی، عبد الحق محدث دہلوی، امام احمد رضا خان رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بھی لا کھڑا کرو، تھوڑے بہت اختلافات تو ہوا ہی کرتے ہیں۔ علما میں معاصرانہ چشمک بھی ہمیشہ رہی ہے۔ کیا کسی ہم عصر نے اس کا نوٹس لیا؟؟ جنگِ صفین و جمل کے واقعات کو صحابہ کرام نے یوں ہی اچھالا تھا؟؟ حضرت علی و حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما کے مابین اختلافات کو لوگ یوں منہ کی لذت بنائے پھرتے تھے؟ امام عینی اور امام ابن حجر عسقلانی، مولانا رومی اور صدر الدین قونوی اور ابن عربی اور بے شمار ائمہ کے مابین معاصرانہ چشمک کی وجہ سے کسی نے بھی کسی مخصوص طبقہ کی تذلیل کی...؟ نہیں نا...! ذہن نشیں رہے، شرپسند ایڑی چوٹی کا زور لگا لیں۔ حضور تاج الشریعہ اربابِ علم و دانش کے درمیان یوں ہی چمکتے دمکتے رہیں گے۔ چند ٹمٹماتے چراغ بریلی کے ماہِ تاباں کی روشنی کو مدھم نہیں کر سکتے۔ جب انسان کچھ کر نہیں سکتا، اس کی فکر بھی منفی ہو جاتی ہے۔ ٹھیک ہے... اگر سب کچھ غلط ہو رہا ہے تو ناقدین کس وقت کے لیے ہیں...!! وہ خود ہی میدانِ عمل میں آئیں، ”من رأى منكم منكرا فليغير بيده إلخ“ پر عمل کر کے دکھائیں۔ یہ تو وہی بات ہو گئی کہ ایک پینٹر نے اپنا شاہکار سرِ راہ لٹکا دیا اور ایک تختی پر ایک نوٹ لکھا، ”اغلاط کی نشاندہی کر دیں“۔ صبح ہوتے ہی وہ تختی اغلاط سے بھر گئی تھی۔ اس کی دم چھوٹی ہے، کسی نے کہا ناک بڑی ہے، کسی نے رنگ پھیکا ہے، کسی نے کہا کینوس ہی ٹیڑھا ہے وغیرہ وغیرہ۔ پھر پینٹر نے دوبارہ پینٹنگ تیار کی اور اب تختی میں یوں لکھا، ”جو غلطی دکھے درست کر دیں“۔ اب کی بار کسی نے بھی اسے چھیڑنے کی زحمت نہیں کی۔

تعمیر کی جانب صفت سیل رواں چل
وادی یہ ہماری ہے یہ صحرا بھی ہمارا

نوٹ: میرے ان جملوں کو تنقید پر محمول نہ کیا جائے اور نہ ان پر تنقید کی جائے۔ [دو ماہی ”الرضا“ انٹرنیشنل جنوری فروری، 2016ء]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!