| عنوان: | کیا فتاویٰ شارحِ بخاری میں تضاد ہے؟ (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | طارق انور مصباحی |
| پیش کش: | شاہین صبا نوری بنت محمد ظہیر رضوی |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
سوال: فتاویٰ شارحِ بخاری کے بعض فتاویٰ میں تضاد کا شبہ ہوتا ہے۔ دو فتوؤں کی ضروری عبارتیں اور سوالات درج ذیل ہیں۔
فتویٰ اول:
مسئلہ: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص خود اپنی زبان سے دو آدمیوں کے سامنے کہا کہ میں دیوبند کا ماننے والا ہوں۔ جب ان دو آدمیوں کے سامنے اس سے پوچھا جاتا ہے تو کہتا ہے کہ میں نے غصہ سے کہہ دیا ہے، ورنہ میں سنی ہوں، مگر توبہ کرنے کو کہا جاتا ہے تو انکار کرتا ہے۔ مذکورہ بالا شخص پر شریعتِ اسلامیہ کیا حکم دیتی ہے؟ شرعی دلائل سے نوازیں۔
الجواب: جس نے یہ کہا کہ میں دیوبند کا ماننے والا ہوں، وہ اگر دیوبندی بھی نہیں تھا تو اس کہنے کی وجہ سے دیوبندی ہو گیا۔ اس کا یہ کہنا کہ میں نے غصہ میں یہ کہا ہے، اس کو دیوبندی ہونے سے بچائے گا نہیں۔ یہ اس کا جھوٹا بہانہ ہے، پھر جب یہ اس کفری قول سے توبہ کرنے سے انکار کرتا ہے تو یہ بھی دلیل ہے کہ واقعی وہ دیوبندی ہے۔ اگر وہ سنی ہوتا تو ضرور توبہ کر لیتا۔ [فتاویٰ شارحِ بخاری، جلد دوم، ص: 377-378، دائرۃ البرکات گھوسی]
فتویٰ دوم:
”رہ گئے وہ لوگ جو ان چاروں کے کفریات میں سے کسی ایک پر مطلع نہیں۔ انہیں قطعی یقینی اطلاع نہیں۔ وہ صرف دیوبندی مولویوں کی ظاہری اسلامی صورت، ان کی نماز، ان کے روزوں کو دیکھ کر انہیں عالم، مولانا جانتے ہیں۔ ان کو اپنا مذہبی پیشوا مانتے ہیں۔ معمولاتِ اہلِ سنت کو بدعت و حرام جانتے ہیں۔ وہ حقیقت میں دیوبندی نہیں اور ان کا یہ حکم نہیں۔ اگرچہ وہ اپنے آپ کو دیوبندی کہتے ہیں، اور دوسرے لوگ بھی ان کو دیوبندی کہتے ہوں۔“ [فتاویٰ شارحِ بخاری، جلد دوم، ص: 389، دائرۃ البرکات گھوسی]
”اس لیے ایسا شخص جو اپنے آپ کو دیوبندی کہتا ہو، لوگ بھی اس کو دیوبندی کہتے ہوں، وہ ان چاروں علمائے دیوبند کو اپنا مقتدا و پیشوا بھی مانتا ہو، حتیٰ کہ اہلِ سنت کو بدعتی بھی کہتا ہو، مگر ان چاروں کے مذکورہ بالا کفریات پر مطلع نہیں تو وہ حقیقت میں دیوبندی نہیں۔ اس کا یہ حکم نہیں کہ یہ شخص کافر ہے، یا اس کی نمازِ جنازہ پڑھنی کفر ہے: وَاللهُ تَعَالٰى أَعْلَمُ.“ [فتاویٰ شارحِ بخاری، جلد دوم، ص: 389، دائرۃ البرکات گھوسی]
سوالات:
- سوال اول: فتویٰ اول میں ہے کہ جو کہے کہ میں دیوبند کا ماننے والا ہوں، وہ اگر دیوبندی نہیں تھا تو بھی اس کہنے کی وجہ سے دیوبندی ہو گیا۔ وہ عذر بھی پیش کیا کہ میں نے غصہ میں ایسا کہہ دیا ہے، اور اقرار بھی کرتا ہے کہ میں سنی ہوں، پھر بھی اس کو دیوبندی قرار دیا گیا۔ محض اتنا کہنے کو کفری قول قرار دیا گیا کہ میں دیوبندی ہوں۔
فتویٰ دوم کے دو اقتباس نقل کیے گئے ہیں۔ ان میں ہے کہ کوئی شخص اپنے دیوبندی ہونے کا اقرار کرتا ہے، دیوبندیوں کے ساتھ رہتا ہے، ان کے مولویوں کو اپنا پیشوا بھی مانتا ہے، معمولاتِ اہلِ سنت کو بدعت و حرام بھی کہتا ہے۔ اہلِ سنت کو بدعتی بھی کہتا ہے، پھر بھی وہ دیوبندی نہیں۔ اس سے بڑا تضاد کیا ہو سکتا ہے؟ - سوال دوم: فتویٰ اول میں محض خود کو دیوبندی کہنا کفری قول ہو گیا، جب کہ وہ اپنے سنی ہونے کا اقرار بھی کرتا ہے اور عذر پیش کرتا ہے کہ ہم نے غصہ میں ایسا کہہ دیا، اور فتویٰ دوم میں ہے کہ جو سنیوں کو بدعتی، معمولاتِ اہلِ سنت کو بدعت و حرام کہتا ہو، دیوبندیوں کے ساتھ رہتا ہو، دیوبندی مولویوں کو اپنا پیشوا مانتا ہو، لوگ اس کو دیوبندی بھی سمجھتے ہوں، پھر بھی وہ کافر نہیں، اور فتویٰ اول میں ملزم کے قول کو کفری قول بتا دیا گیا، جب کہ وہ دیوبندی ہونے کا منکر بھی ہے؟ خود کو وہ سنی بتا رہا ہے، گرچہ کبھی اس نے دیوبندیت کا اقرار کیا تھا۔ کیا یہ تضاد نہیں؟
- سوال سوم: فتویٰ اول میں اقرارِ دیوبندیت مع اقرارِ سنیت پر حکمِ دیوبندیت ہے، اور فتویٰ دوم میں اقرارِ دیوبندیت بلا اقرارِ سنیت پر بھی دیوبندیت کی نفی ہے۔ اس سے بڑا تضاد کیا ہو سکتا ہے؟
- سوال چہارم: جب ہر دیوبندی کافر نہیں ہے تو مفتیانِ کرام یہ کیوں لکھتے ہیں کہ دیوبندی کی نمازِ جنازہ پڑھنی کفر ہے اور نمازِ جنازہ پڑھنے والے پر توبہ، تجدیدِ ایمان و تجدیدِ نکاح کا حکم ہے؟
جوابات:
ہر جواب سے قبل سوال کو نقل کر دیا گیا ہے، تاکہ قارئین کو جواب سمجھنے میں آسانی ہو۔
سوال اول: فتویٰ اول میں ہے کہ جو کہے کہ میں دیوبند کا ماننے والا ہوں، وہ اگر دیوبندی نہیں تھا تو بھی اس کہنے کی وجہ سے دیوبندی ہو گیا۔ وہ عذر بھی پیش کیا کہ میں نے غصہ میں ایسا کہہ دیا ہے، اور اقرار بھی کرتا ہے کہ میں سنی ہوں، پھر بھی اس کو دیوبندی قرار دیا گیا۔ محض اتنا کہنے کو کفری قول قرار دیا گیا کہ میں دیوبندی ہوں۔
فتویٰ دوم کے دو اقتباس نقل کیے گئے ہیں۔ ان میں ہے کہ کوئی شخص اپنے دیوبندی ہونے کا اقرار کرتا ہے، دیوبندیوں کے ساتھ رہتا ہے، ان کے مولویوں کو اپنا پیشوا بھی مانتا ہے، معمولاتِ اہلِ سنت کو بدعت و حرام بھی کہتا ہے۔ اہلِ سنت کو بدعتی بھی کہتا ہے، پھر بھی وہ دیوبندی نہیں۔ اس سے بڑا تضاد کیا ہو سکتا ہے؟
فتویٰ دوم میں مرتد دیوبندی (کافرِ کلامی دیوبندی) کی بحث ہے کہ جو دیوبندی، دیوبندیوں کے کفریہ عقائد پر مطلع نہ ہو، وہ کافرِ کلامی نہیں اور اس کی نمازِ جنازہ پڑھنی کفر نہیں۔ حقیقت میں دیوبندی نہ ہونے کا یہی مفہوم شارحِ بخاری نے بیان فرمایا:
”مگر ان چاروں کے مذکورہ بالا کفریات پر مطلع نہیں تو وہ حقیقت میں دیوبندی نہیں ہے۔ اس کا یہ حکم نہیں کہ یہ شخص کافر ہے، یا اس کی نمازِ جنازہ پڑھنی کفر ہے۔ وَاللهُ تَعَالٰى أَعْلَمُ.“ [فتاویٰ شارحِ بخاری، جلد دوم، ص: 389، دائرۃ البرکات گھوسی]
اب وہ کافرِ کلامی نہیں تو کیا فقہی ہے یا نہیں؟ گمراہ ہے یا نہیں؟ فتویٰ دوم میں اس کی بحث نہیں۔ عہدِ حاضر میں معمولاتِ اہلِ سنت کو بدعت و حرام کہنا شعارِ وہابیت و علامتِ دیوبندیت ہے، اور یہ بات ظاہر ہے کہ کسی مذہب کے شعار کو اپنانے کے سبب مرتکب کا شمار اسی جماعت میں ہوگا۔ اس طرح سے وہ تمام دیوبندی جو دیوبندیہ کے کفریہ عقائد پر مطلع نہ بھی ہوں تو بھی وہ گمراہ شمار کیے جائیں گے، اور اسی جماعت کے افراد میں ان کا شمار ہوگا، اگرچہ وہ کافرِ کلامی نہ ہوں۔
سوال اول میں مذکورہ شخص بھی اپنے اقرار کے سبب دیوبندی جماعت میں شمار کیا جائے گا۔ محض اس اقرار کے سبب کفرِ کلامی کا حکم عائد نہیں ہوگا، لیکن کفرِ فقہی کا حکم ہوگا۔
سوال دوم: فتویٰ اول میں محض خود کو دیوبندی کہنا کفری قول ہو گیا، جب کہ وہ اپنے سنی ہونے کا اقرار بھی کرتا ہے اور عذر پیش کرتا ہے کہ ہم نے غصہ میں ایسا کہہ دیا، اور فتویٰ دوم میں ہے کہ جو سنیوں کو بدعتی، معمولاتِ اہلِ سنت کو بدعت و حرام کہتا ہو، دیوبندیوں کے ساتھ رہتا ہو، دیوبندی مولویوں کو اپنا پیشوا مانتا ہو، لوگ اس کو دیوبندی بھی سمجھتے ہوں، پھر بھی وہ کافر نہیں،
جاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
