Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

کیا فتاویٰ شارح بخاری میں تضاد ہے(قسط:دوم)

کیا فتاویٰ شارحِ بخاری میں تضاد ہے؟ (قسط: دوم)
عنوان: کیا فتاویٰ شارحِ بخاری میں تضاد ہے؟ (قسط: دوم)
تحریر: طارق انور مصباحی
پیش کش: شاہین صبا نوری بنت محمد ظہیر رضوی
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

اور فتویٰ اول میں ملزم کے قول کو کفری قول بتا دیا گیا، جب کہ وہ دیوبندی ہونے کا منکر بھی ہے؟ خود کو وہ سنی بتا رہا ہے، گرچہ کبھی اس نے دیوبندیت کا اقرار کیا تھا۔

جواب: اقرار کی تین صورتیں ہیں:

  1. اپنے لیے کافر جماعت میں ہونے کا اقرار کرنے پر کفر کا حکم عائد ہوتا ہے۔
  2. اپنے لیے گمراہ جماعت میں ہونے کا اقرار کرنے پر گمراہی کا حکم عائد ہوتا ہے۔
  3. اپنے لیے مرتد جماعت میں ہونے کا اقرار کرنے پر کفر کا حکم ہونا چاہیے، لیکن محض اس اقرار کے سبب اس پر حکمِ کفر عائد نہیں کیا جاتا ہے۔

صورتِ اول میں کفر کا حکم عائد ہوتا ہے۔ صورتِ دوم میں ضلالت کا حکم عائد ہوتا ہے اور صورتِ سوم میں احتمال کے سبب حکمِ کفر عائد نہیں ہوتا ہے، بلکہ اس کو گمراہ قرار دیا جاتا ہے، اور کفر و عدم کفر کا فیصلہ اس کے اعتقادات کی تفتیش کے بعد ہی کیا جاتا ہے۔

صورتِ اول:

چونکہ کافر جماعتیں اسلام سے بالکل الگ ہیں۔ ہر عالم و جاہل کو معلوم ہے کہ ان جماعتوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، پس جس نے مجوسی ہونے کا اقرار کیا، اس نے اسلام سے جدا ہونے اور ترکِ اسلام کا اقرار کیا۔ ترکِ اسلام کا عزم ہی کفر ہے۔ اقرار اس سے سخت تر ہے۔ اگرچہ لہو و لعب کے طور پر اقرار کرے۔ ایک سوال و جواب درج ذیل ہے۔

مسئلہ: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید معاذ اللہ یہ کہے کہ میں عیسائی یا وہابی یا کافر ہو جاؤں گا، نام ایک فرقہ کا لیا۔ آیا وہ انہی میں سے ہو گا یا نہیں؟ یا یہ کہے کہ جی چاہتا ہے کہ غیر مقلد ہو جاؤں، یا یہ کہے کہ غیر مقلد ہونے کا جی چاہتا ہے۔ یہ قول کیسا ہے؟ اگرچہ کسی کو چھیڑنے یا مذاق کی غرض سے کہے۔ بَيِّنُوْا تُؤْجَرُوْا

الجواب: جس نے جس فرقہ کا نام لیا، اس فرقہ کا ہو گیا۔ مذاق سے کہے یا کسی دوسری وجہ سے: وَاللهُ تَعَالٰى أَعْلَمُ [فتاویٰ رضویہ جلد ششم ص: 102، رضا اکیڈمی ممبئی]

صورتِ دوم و سوم:

گمراہ جماعت میں ہونے کا اقرار کیا تو گمراہ ہے اور مرتد جماعت میں ہونے کا اقرار کیا تو بھی گمراہ قرار دیا جائے گا۔ یہاں شبہ ہے کہ وہ مرتد جماعت کے کفری عقائد سے آشنا نہ ہو، اور چونکہ مرتد جماعتیں بھی خود کو مسلم جماعت کہتی ہیں تو ممکن ہے کہ عام مسلمان ایک مسلم جماعت سمجھ کر اس مرتد جماعت میں شریک ہو جائے۔ اسی قسم کے شبہات اور احتمال کے سبب مرتکب پر کفر کا حکم عائد نہیں ہوتا۔

ہاں، یہ صحیح ہے کہ جو اس مرتد جماعت کے عقائدِ کفریہ سے واقف ہو، اس پر حکمِ کفر عائد ہوگا۔ احتمال کے سبب ناواقف سے حکمِ کفر مسلوب ہوگا۔

اسی طرح شعارِ کفر، شعارِ اہلِ ضلالت اور شعارِ مرتدین کا حکم ہے کہ شعارِ کفر اختیار کرنا کفر ہے اور شعارِ اہلِ ضلالت اختیار کرنا ضلالت اور شعارِ اہلِ ارتداد اختیار کرنا بھی ضلالت ہے۔ شعارِ مرتدین اختیار کرنے پر ارتداد کا حکم نہیں۔

امام احمد رضا قادری نے رقم فرمایا: ”اس قوم کو محبوب و مرضی جان کر اُن سے مشابہت پسند کرے۔ یہ بات اگر مبتدع کے ساتھ ہو، بدعت اور کفار کے ساتھ معاذ اللہ کفر۔

حدیث: مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ. حقیقتاً صرف اسی صورت سے خاص ہے۔“ [فتاویٰ رضویہ: جلد نہم، جز اول، ص: 90، رضا اکیڈمی ممبئی]

توضیح: مذکورہ بالا عبارت میں مبتدع سے گمراہ اور مرتد دونوں مراد ہیں۔

سوال سوم:

فتویٰ اول میں اقرارِ دیوبندیت مع اقرارِ سنیت پر حکمِ دیوبندیت ہے، اور فتویٰ دوم میں اقرارِ دیوبندیت بلا اقرارِ سنیت پر بھی دیوبندیت کی نفی ہے۔ اس سے بڑا تضاد کیا ہو سکتا ہے؟

جواب: فتویٰ دوم میں دیوبندیت کے اقرار کے باوجود دیوبندیت کی نفی نہیں ہے، بلکہ اس کے کفر و ارتداد کی نفی ہے کہ وہ کافر و مرتد نہیں۔ شارحِ بخاری نے خود ہی فتویٰ دوم کے اخیر میں وضاحت کر دی ہے کہ حقیقت میں دیوبندی نہ ہونے کا مطلب کیا ہے؟

”مگر ان چاروں کے مذکورہ بالا کفریات پر مطلع نہیں تو وہ حقیقت میں دیوبندی نہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ شخص کافر ہے، یا اس کی نمازِ جنازہ پڑھنا کفر ہے۔ وَاللهُ تَعَالٰى أَعْلَمُ.“ [فتاویٰ شارحِ بخاری: جلد دوم، ص: 389، دائرۃ البرکات گھوسی]

فتویٰ اول میں اقرارِ سنیت کا لحاظ اس لیے نہیں کیا گیا کہ اس نے توبہ سے انکار کر دیا، پس یہی سمجھا جائے گا کہ وہ دیوبندی ہے، ورنہ اقرارِ دیوبندیت سے ضرور توبہ کرتا۔

فتویٰ اول میں اقرارِ دیوبندیت کے سبب اس کو دیوبندی جماعت کا فرد ضرور شمار کیا گیا، لیکن محض اس اقرار کے سبب اس کو مرتد شمار نہیں کیا گیا ہے۔

درحقیقت فتویٰ نویسی میں سائل کے سوال کا لحاظ ہوتا ہے، اور اسی اعتبار سے جواب دیا جاتا ہے، اس لیے کسی فتویٰ کو سمجھنے کے لیے سوال اور اس کے پسِ منظر کا لحاظ ضروری ہے۔

سوال چہارم:

جب ہر دیوبندی کافر نہیں ہے تو مفتیانِ کرام یہ کیوں لکھتے ہیں کہ دیوبندی کی نمازِ جنازہ پڑھنی کفر ہے اور نمازِ جنازہ پڑھنے والے پر توبہ، تجدیدِ ایمان و تجدیدِ نکاح کا حکم ہے؟

جواب: چونکہ فرقہ دیوبندیہ مرتد جماعت ہے، اس لیے جماعتی حکم و عمومی حکم کے بیان کے وقت یہی کہا جائے گا کہ دیوبندی کافر و مرتد ہے۔ مومن سمجھ کر اس کی نمازِ جنازہ پڑھنی کفر ہے۔ نمازِ جنازہ پڑھنے والے پر توبہ و تجدیدِ ایمان و تجدیدِ نکاح کا حکم ہے۔

یہ شخصی حکم نہیں ہوتا ہے کہ خاص فلاں شخص کافر و مرتد تھا، اس لیے اس خاص شخص کی نمازِ جنازہ پڑھنے والے کا یہ حکم ہے، بلکہ جماعتی اور عمومی حکم کا بیان ہوتا ہے۔

جواب میں مفتیانِ کرام توبہ، تجدیدِ ایمان و تجدیدِ نکاح کا حکم دیتے ہیں۔ بالفرض اگر شخصِ متوفیٰ کافرِ کلامی نہیں تھا، بلکہ کافرِ فقہی تھا تو بھی مومنِ کامل سمجھ کر اس کی نمازِ جنازہ پڑھنے پر توبہ، تجدیدِ ایمان و تجدیدِ نکاح کا حکم ہوگا۔

اگر وہ محض گمراہ تھا، یعنی کافرِ کلامی یا کافرِ فقہی نہیں تھا تو بھی توبہ کا حکم ہوگا، کیوں کہ گمراہ کی نمازِ جنازہ پڑھنا بھی مکروہِ تحریمی اور گناہ ہے۔ یہاں تجدیدِ ایمان و تجدیدِ نکاح کا وجوبی حکم نہیں، لیکن احتیاطی طور پر تجدیدِ ایمان و تجدیدِ نکاح ممنوع نہیں، بلکہ بہتر ہے کہ کبھی انجانے میں کوئی غلط بات صادر ہو گئی ہو تو اس کا معاملہ بھی حل ہو جائے۔

جاری کردہ: 26 جنوری 2021ء

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!