Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

فکر آخرت

موضوع: فکرِ آخرت
عنوان: موضوع: فکرِ آخرت
تحریر: خلیفہ مفتی اعظم ہند مفتی صالح رضا قادری
پیش کش: ناہد فاطمہ قادریہ محتشمیہ

عمل میں للہیت کا بیان

اخلاص و صدقِ نیت کے بغیر اچھے سے اچھا عمل بھی بے کار

ذکرِ سند:
مصنف کتاب (یعنی حضرت فقیہ ابواللیث سمرقندی) رحمہ اللہ تعالیٰ اپنے شیخ محمد ابن فضل ابن احنف سے حدیث سن کر، ان کی پوری اسناد و تحدیث نقل کرتے ہوئے بطریقِ عاصم، حضرت محمد ابن لبید (رضی اللہ تعالیٰ عنہ ومنہم) سے راوی ہیں کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

حدیث شریف:

أَخْوَفُ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمُ الشِّرْكُ الْأَصْغَرُ... الْحَدِيْث.

(ترجمہ) مجھے تمہارے متعلق جن (مضر) چیزوں کا اندیشہ ہے ان میں سب سے زیادہ اندیشہ ناک چیز شرکِ اصغر ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ شرکِ اصغر کیا ہے؟ (یعنی اس لفظ سے حضور کی کیا مراد ہے؟ فرمایا: ریا“ (یعنی عمل میں دکھاوا ہونا اور صدقِ نیت و للہیت کا فقدان ہونا۔ مزید فرمایا): روزِ جزا اللہ تعالیٰ ریا کاروں سے فرمائے گا تم ان کے پاس جاؤ جن کے لیے دنیا میں دکھاوا کرتے تھے اور دیکھو ان سے تمہیں (دکھاوے والے اعمال کے صلے میں) کیا بھلائی ملتی ہے؟

کسی کو فریب دینا، خود فریبی ہے

وضاحت:
مصنف علیہ الرحمۃ نے کہا: ایسا ان سے روزِ جزا محض اس لیے فرمایا جائے گا کہ ان کا عمل دنیا میں فریب دہی کے طور پر تھا تو آخرت میں ان کے ساتھ بھی فریب دہی (کی مشاکلت) پر معاملہ کیا جائے گا۔ اور یہ (مضمون حدیث) ویسا ہی ہے جیسا اللہ تعالیٰ نے (قرآن مجید میں) فرمایا:

إِنَّ الْمُنَافِقِيْنَ يُخَادِعُوْنَ اللهَ وَهُوَ خَادِعُهُمْ.

ترجمہ: بے شک منافق لوگ اپنے گمان میں) اللہ کو فریب دیا چاہتے ہیں اور وہ انہیں (بطرزِ مشاکلت) فریب دہی کی سزا دینے والا ہے۔ [سورۃ النساء: 141]

تفسیر:
مصنف (علیہ الرحمۃ نے کہا) یعنی اللہ تعالیٰ ریا کاروں کو بطرزِ خداع بدلہ دے گا کہ ان کے اعمال کا ثواب تو کچھ نہیں بلکہ ان سے فرمائے گا جاؤ اپنے اعمال کا ثواب ان سے لو جن کے لیے عمل کیا تھا۔ میرے پاس تمہارے (ریا کارانہ) اعمال کا کچھ ثواب نہیں۔ کیوں کہ ان کے وہ اعمال، خالصاً لوجہ اللہ نہیں تھے۔ حالانکہ بندہ مستحقِ ثواب جبھی ہوتا ہے کہ جب اس کا عمل خالصاً لوجہ اللہ ہو۔ اور جب غیر اللہ کی اس میں شرکت ہو گئی تو اللہ تعالیٰ اس سے بری (بے علاقہ) ہے۔ [مصنف کی یہ بات پوری ہوئی]

اللہ بندے کے شرک سے بے نیاز و بری ہے

سندِ حدیث:
مصنف علیہ الرحمۃ، شیخ موصوف کی اسی تحدیث و سند کو نقل کرتے ہوئے بطریقِ سعید مقبری، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی ہیں کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے یہ حدیثِ قدسی بیان فرمائی کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

حدیث قدسی:

أَنَا أَغْنَى الشُّرَكَاءِ عَنِ الشِّرْكِ، أَنَا غَنِيٌّ عَنِ الْعَمَلِ الَّذِيْ فِيْهِ شَرِكَةٌ لِّغَيْرِيْ، فَمَنْ عَمِلَ عَمَلًا أَشْرَكَ فِيْهِ غَيْرِيْ فَأَنَا مِنْهُ بَرِيْءٌ.

(ترجمہ) میں شرک ہے، شریکوں میں سب سے زیادہ بے نیاز ہوں۔ میں (بندے کے) اس عمل سے بے نیاز ہوں جس میں میرے غیر کے لیے ذرا سی بھی حصہ داری ہو۔ تو جس بندے نے اپنے کسی عمل میں میرے غیر کو شریک کیا تو میں اس سے (یعنی اس عمل سے اور بقول بعض اس عامل سے) بری ہوں۔

مدلولِ حدیث:
تو اس خبر میں اس بات پر صاف دلالت ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسا کوئی عمل قبول نہیں فرماتا جو خالصاً لوجہ اللہ نہ ہو۔ تو جب عمل خالصاً لوجہ اللہ ادا نہیں کیا تو وہ (ظاہر ہے) قابلِ قبول نہیں، آخرت میں عامل کے لیے اس پر کچھ ثواب نہیں ملے گا بلکہ وہ (الٹا گنہگار اور) عذابِ جہنم کا سزاوار ہوا۔

اس (متذکرہ بالا) مضمون پر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی دلالت کر رہا ہے۔ فرمایا:

مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهٗ فِيْهَا مَا نَشَاءُ لِمَنْ نُّرِيْدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهٗ جَهَنَّمَ ۖ يَصْلَاهَا مَذْمُوْمًا مَّدْحُوْرًا ۝ وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ وَسَعٰى لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُوْلٰئِكَ كَانَ سَعْيُهُمْ مَّشْكُوْرًا ۝ كُلًّا نُّمِدُّ هٰؤُلَاءِ وَهٰؤُلَاءِ مِنْ عَطَاءِ رَبِّكَ ۚ وَمَا كَانَ عَطَاءُ رَبِّكَ مَحْظُوْرًا ۝

(ترجمہ) جو اس جلدی والی کا (یعنی دنیا کا) ارادہ کرے ہم اسے اس میں جلدی دے دیں جو چاہیں اور جس کے لیے ارادہ فرمائیں۔ پھر اس کے لیے جہنم کر دیں کہ اس میں جائے مذمت کیا ہوا، دھتکارا ہوا یا دھکے کھاتا ہوا اور جو (اپنے عمل سے) آخرت کا ارادہ کرے اور اس کی کوشش کرے اور وہ ہو ایمان والا تو ایسوں کی محنت و کوشش قابلِ قدر ہی ہے۔ ہم ہر ایک کی امداد فرماتے ہیں، ان کی بھی اور ان کی بھی۔ اے نبی! یہ (دنیا میں امداد) تمہارے رب کی دین ہے۔ اور تمہارے رب کی دین پر روک نہیں ہے۔ [سورۃ بنی اسرائیل: 18 تا 20]

تفسیر:
مصنف علیہ الرحمۃ نے فرمایا:

قولہ تعالیٰ: مَنْ... [الى] ... فِيْهَا مَا نَشَاءُ کا معنی یہ ہے کہ جو بندہ اپنے عمل سے دنیا لینے کا ارادہ کرے اور اخروی ثواب کا ارادہ نہ کرے تو ہم اسے دنیا میں دنیا کے اموال وغیرہ سے اتنی مقدار عطا فرما دیں گے جتنی ہماری مشیت ہو گی۔

وقولہ تعالیٰ: لِمَنْ نُّرِيْدُ یعنی لِمَنْ نُّرِيْدُ أَنْ نُّهْلِكَهٗ (ترجمہ) جسے ہم ہلاک کرنے کا ارادہ فرمائیں۔ اور بقولِ بعض مفسرین لِمَنْ نُّرِيْدُ کا معنی یہ ہے کہ جسے ہم اگر کچھ دینا چاہیں گے تو اپنی مشیت کے مطابق دیں گے نہ کہ اس کی چاہت کے مطابق۔

وقولہ تعالیٰ: ثُمَّ جَعَلْنَا لَهٗ جَهَنَّمَ یعنی ہم نے پھر اس کے لیے عذابِ جہنم واجب کر دیا۔

وقولہ تعالیٰ: يَصْلَاهَا یعنی جہنم میں داخل ہوگا۔

وقولہ تعالیٰ: مَذْمُوْمًا مذمت کیا ہوا یعنی جہنم میں داخل ہو گا اس حال میں کہ مستوجبِ مذمت ہوگا یعنی وہ خود اپنی مذمت کرتا ہو گا اور دوسرے بھی اس کی مذمت کرتے ہوں گے۔

وقولہ تعالیٰ: مَّدْحُوْرًا دھتکارا ہوا۔ اللہ کی رحمت سے دور کیا ہوا۔

وقولہ تعالیٰ: وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ جو آخرت کا یعنی ثوابِ آخرت کا ارادہ کرے۔

وقولہ تعالیٰ: وَسَعٰى لَهَا سَعْيَهَا یعنی اور اس نے آخرت کے لیے نیک عمل (اس کی شرطوں کے مطابق) خالصاً لوجہ اللہ کیا۔

وقولہ تعالیٰ: وَهُوَ مُؤْمِنٌ یعنی اس حال میں کہ عملِ صالح کرنے کے ساتھ، ہو صحیح ایمان والا۔ کیونکہ ایمان کے بغیر کوئی عمل، مقبول نہیں۔

وقولہ تعالیٰ: كَانَ سَعْيُهُمْ مَّشْكُوْرًا یعنی تو ان کا عمل مقبول ہو گا (اس کی قدر کی جائے گی)۔

وقولہ تعالیٰ: كُلًّا نُّمِدُّ هٰؤُلَاءِ وَهٰؤُلَاءِ مِنْ عَطَاءِ رَبِّكَ یعنی تمہارا رب اپنی مشیت کے مطابق دونوں فریق کو اپنے رزق میں سے عطا فرماتا ہے۔

وقولہ تعالیٰ: وَمَا كَانَ عَطَاءُ رَبِّكَ مَحْظُوْرًا یعنی تمہارے رب کے رزق پر روک لگائی ہوئی نہیں ہے نہ مومن سے نہ کافر سے اور نہ نیکوکار سے نہ بدکار سے (یعنی وہ اپنی مشیت کے مطابق دنیا میں روزی سب کو دیتا ہے)۔

خلاصہِ مضمون از مصنف علیہ الرحمۃ:

تو (معلوم ہوا کہ) اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے صاف بیان فرما دیا کہ جس نے غیرِ رضائے الٰہی کے لیے عمل کیا اس کو آخرت میں اس عمل پر کوئی ثواب نہیں ملے گا (بلکہ وہ الٹا گنہگار ہوگا) اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ اور جس نے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے عمل کیا جیسا کرنا چاہیے اس کا عمل مقبول ہوگا۔ اور جب اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے نہیں بلکہ کسی اور غرض سے نیک عمل کرے گا تو اس کے لیے کوئی حصہ نہیں یعنی کچھ فائدہ نہیں ہے بجز خواہ مخواہ کی محنت مشقت اور تھکان کے۔ اور جیسا کہ حدیثوں میں بھی آیا ہے۔ (چنانچہ اس مضمون کی ایک حدیث یہ ہے۔ ملاحظہ ہو:)

حدیث شریف:
مصنف علیہ الرحمۃ اپنے شیخ محمد ابن فضل کی پوری سند و تحدیث نقل کر کے بطریقِ عمرو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

رُبَّ صَائِمٍ لَّيْسَ لَهٗ حَظٌّ مِّنْ صَوْمِهٖ إِلَّا الْجُوْعُ وَالْعَطَشُ، وَرُبَّ قَائِمٍ لَّيْسَ لَهٗ حَظٌّ مِّنْ قِيَامِهٖ إِلَّا السَّهَرُ وَالنَّصَبُ.

(ترجمہ) بہت سے روزہ دار ایسے ہیں کہ انہیں اپنے روزے سے بھوک پیاس کے سوا اور کچھ حاصل نہیں۔ اور بہت سے قائم اللیل ایسے ہیں کہ انہیں اپنے قیام سے بیداری اور تھکاوٹ کے سوا کچھ حاصل وصول نہیں۔

وضاحت از مصنف:
مراد یہ ہے کہ جب روزہ و نماز اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے نہ ہوا تو بندہ کے لیے اس پر کوئی ثواب مرتب نہ ہو گا۔ اور جیسا کہ بعض دانشور بزرگوں سے بھی منقول ہے فرمایا:

حکیمانہ تمثیل:

اس کی مثال جو ثواب کا کام دکھاوے، تناوے کے لیے کرے اس آدمی کی سی ہے جو بازار گیا اور (پیسہ پاس نہیں)۔ اس نے اپنے خالی بٹوے (پرس) میں کنکریاں بھر رکھی ہوں کہ دیکھ کر لوگ کہیں اس کا بٹوا کتنا پر ہے؟ حالانکہ اس کہنے سے لوگوں کی جھوٹی تعریف کے سوا اس کو اور کوئی منفعت نہیں۔ اگر کوئی چیز (بازار سے) اپنے لیے خریدنا چاہے تو نہیں خرید سکتا۔ اسی طرح وہ ہے جس نے ریا کاری کے لیے، شہرت و ناموری کے لیے عمل کیا اسے اپنے عمل سے کوئی فائدہ نہیں بجز لوگوں کی جھوٹی تعریف کے۔ آخرت میں اس کے لیے کچھ ثواب نہیں ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

وَقَدِمْنَا إِلٰى مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنَاهُ هَبَاءً مَّنْثُوْرًا.

(ترجمہ) یعنی جو اعمال بندوں نے اللہ کی خوشنودی کے لیے نہیں بلکہ اور اغراض سے کیے ان کا ثواب ہم نے باطل کر دیا اور انہیں ایسا (بے وقعت) کر دیا جیسے سورج کی کرنوں میں دکھائی دینے والے گرد و غبار کے باریک باریک، اڑتے ہوئے ذرے۔ [سورۃ الفرقان: 23]

[حوالہ: ذکریٰ للذاکرین جلد اول، صفحہ: 62]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!