Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

کیا یہ سب مسلمان تھے؟

کیا یہ سب مسلمان تھے؟
عنوان: کیا یہ سب مسلمان تھے؟
تحریر: مولانا خلیل احمد فیضانی
کیا یہ سب مسلمان تھے؟
عنوان: کیا یہ سب مسلمان تھے؟
تحریر: مولانا خلیل احمد فیضانی
پیش کش: ثمن فردوس امجدی
منجانب: مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد

مسلمان کبھی دہشت گرد نہیں ہوتا۔ اسلام کا لفظ خود سلامتی و شانتی کا ضامن ہے۔ لہٰذا مسلمان کے معنی ہی صلح و سلامتی والا، اور امن و محبت پھیلانے والا ہے۔ آج اگر کوئی ایک مسلمان اپنی جہالت کے باعث کسی کا نقصان کرتا ہے تو اس کے بدلے میں سارے مسلمانوں کو دہشت گرد قرار دینا اور انہیں دہشت گردی (آتنک واد) سے جوڑنا سراسر ناانصافی اور تعصب ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا انسانی جانوں کو ہلاک کرنے والے صرف مسلمان ہی ہیں؟ کیا دوسرے مذاہب کے پیروکاروں نے کبھی یہ جرم نہیں کیا؟ اگر دوسرے اس جرم میں مسلمانوں سے لاکھوں قدم آگے ہیں تو انہیں دہشت گرد کیوں نہیں کہا جاتا؟ آخر یہ دہرا معیار کیوں؟

تاریخ کے آئینے میں: غیر مسلموں کے ہاتھوں قتلِ عام

آئیے تاریخ کے کچھ ان گوشوں پر نظر ڈالتے ہیں جن میں غیر مسلم کمیونٹیز کے ہاتھوں کروڑوں بے گناہ انسان موت کے گھاٹ اتارے گئے:

  • ہٹلر: ایک جرمن عیسائی، جس نے یہودیوں اور دیگر کئی قوموں کے بے گناہ افراد کو زندہ جلا کر خاکستر کیا۔ دوسری جنگِ عظیم اسی کے تکبر کا نتیجہ تھی۔
  • جارج بش: اس نے عراق میں دس لاکھ سے زائد انسانی جانیں لیں، جن میں معصوم بچے بھی شامل تھے۔
  • جوزف اسٹالین: اس نے تقریباً ۲۰ ملین انسانوں کو ہلاک کیا، جن میں سے ۱۴.۵ ملین کو بدترین اذیتیں دے کر تڑپایا گیا۔
  • اشوک: کلنگا کی جنگ میں ہزاروں لوگوں کا قتلِ عام کیا۔
  • مینیٹو مسولینی (اٹلی): اس نے تقریباً ۴ ہزار لوگوں کا قتلِ عام کیا اور جائیدادیں تباہ کیں۔

عالمی جنگیں اور ہولناک سانحات

  • پہلی عالمی جنگ: ۱۷ ملین اموات ہوئیں، جو غیر مسلم ممالک کی آپسی رنجشوں کا نتیجہ تھی۔
  • دوسری عالمی جنگ (۱۹۳۹-۱۹۴۵): جس میں ۵۰ سے ۵۵ ملین لوگ مارے گئے۔
  • ہیروشیما اور ناگاساکی: امریکہ نے ایٹمی حملے کر کے ۲۰ لاکھ لوگوں کو راکھ کر دیا۔
  • ویتنام، بوسنیا، اور کوسوو: ان جنگوں میں لاکھوں لوگوں کا قتلِ عام ہوا، جس کے ذمہ دار غیر مسلم تھے۔
  • کمبوڈیا (۱۹۷۵-۱۹۷۹): تقریباً ۳۰ لاکھ لوگ مارے گئے، جن کے قاتل یہودی اور عیسائی تھے۔

حقیقی مسلمان اور دہشت گردی

آج بھی شام، فلسطین اور افغانستان جیسے مقامات پر جو قتلِ عام ہو رہا ہے، وہ انسانیت سوز ہے، مگر اس کے باوجود اسے مذہب سے نہیں جوڑا جاتا۔ آخر یہ کھلی ناانصافی کیوں؟ سچائی یہ ہے کہ جو حقیقی مسلمان ہوتا ہے وہ کبھی دہشت گرد نہیں ہو سکتا، اور جو دہشت گرد ہے وہ کبھی حقیقی مسلمان نہیں ہو سکتا۔ قرآنِ پاک کی آیات إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِينَ (بے شک اللہ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا) اس بات پر شاہد ہیں کہ اسلام کبھی بھی فتنہ و فساد کی حمایت نہیں کرتا، بلکہ اس کی بیخ کنی کرتا ہے۔

[ماخوذ از: سہ ماہی امجدیہ، جنوری تا مارچ ۲۰۲۳ء]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،