| عنوان: | کیا یہ سب مسلمان تھے؟ | |||||||
|---|---|---|---|---|---|---|---|---|
| تحریر: | مولانا خلیل احمد فیضانی | |||||||
مسلمان کبھی دہشت گرد نہیں ہوتا۔ اسلام کا لفظ خود سلامتی و شانتی کا ضامن ہے۔ لہٰذا مسلمان کے معنی ہی صلح و سلامتی والا، اور امن و محبت پھیلانے والا ہے۔ آج اگر کوئی ایک مسلمان اپنی جہالت کے باعث کسی کا نقصان کرتا ہے تو اس کے بدلے میں سارے مسلمانوں کو دہشت گرد قرار دینا اور انہیں دہشت گردی (آتنک واد) سے جوڑنا سراسر ناانصافی اور تعصب ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا انسانی جانوں کو ہلاک کرنے والے صرف مسلمان ہی ہیں؟ کیا دوسرے مذاہب کے پیروکاروں نے کبھی یہ جرم نہیں کیا؟ اگر دوسرے اس جرم میں مسلمانوں سے لاکھوں قدم آگے ہیں تو انہیں دہشت گرد کیوں نہیں کہا جاتا؟ آخر یہ دہرا معیار کیوں؟ تاریخ کے آئینے میں: غیر مسلموں کے ہاتھوں قتلِ عام آئیے تاریخ کے کچھ ان گوشوں پر نظر ڈالتے ہیں جن میں غیر مسلم کمیونٹیز کے ہاتھوں کروڑوں بے گناہ انسان موت کے گھاٹ اتارے گئے:
عالمی جنگیں اور ہولناک سانحات
حقیقی مسلمان اور دہشت گردی آج بھی شام، فلسطین اور افغانستان جیسے مقامات پر جو قتلِ عام ہو رہا ہے، وہ انسانیت سوز ہے، مگر اس کے باوجود اسے مذہب سے نہیں جوڑا جاتا۔ آخر یہ کھلی ناانصافی کیوں؟ سچائی یہ ہے کہ جو حقیقی مسلمان ہوتا ہے وہ کبھی دہشت گرد نہیں ہو سکتا، اور جو دہشت گرد ہے وہ کبھی حقیقی مسلمان نہیں ہو سکتا۔ قرآنِ پاک کی آیات إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِينَ (بے شک اللہ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا) اس بات پر شاہد ہیں کہ اسلام کبھی بھی فتنہ و فساد کی حمایت نہیں کرتا، بلکہ اس کی بیخ کنی کرتا ہے۔ [ماخوذ از: سہ ماہی امجدیہ، جنوری تا مارچ ۲۰۲۳ء] لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں، |
