| عنوان: | حضرت محدث سورتی! کتاب زندگی کے چند نمائندہ صفحات |
|---|---|
| تحریر: | مولانا فیضان سرور مصباحی |
| پیش کش: | اقراء شیخ |
علامہ مفتی وصی احمد محدث سورتی علیہ الرحمہ مذہب اسلام کے بے باک ترجمان کا نام ہے، تفسیر، عقائد، فقہ، عشق اور وحدانیت، رد بدمذہباں اور فن طب کے ساتھ ساتھ ”علم حدیث“ آپ کا خاص میدان تھا، جس میں آپ نے بیش بہا قیمتی تحریری یادگاریں بھی چھوڑی ہیں ”منیۃ المصلی“ پر آپ کا اہم اور وقیع حاشیہ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے، یہ حاشیہ کیا ہے! محدثانہ رنگ میں مختلف فیہ مسائل پر ایسی زبردست توضیح و تنقیح اور جرح و تعدیل واسماء الرجال کی روشنی میں فقہ حنفی کی ایسی تائید وہ ترجیح کی کہ قاری عش عش کر اٹھتا ہے۔
مجلس برکات جامعہ اشرفیہ مبارک پور نے عمدہ کاغذ پر اسے مجلد شائع کر دیا ہے ”شرح معانی الآثار“ پر بہت مختصر عربی حاشیہ بھی بیروت سے طبع ہو چکا ہے ”التعلیق المجلی“ کے بعض حدیثی ابحاث جامعہ اشرفیہ مبارک پور میں سبقاً سبقاً پڑھنے کے بعد میرے دل دماغ پر آپ کے حوالے سے نہایت خوشگوار اثرات قائم ہوئے، تفصیلی حالات پڑھنے کی خواہش تھی، مگر اب تک قاصر رہا، الحمدللہ اس مضمون کی تیاری کے بہانے آپ کی زندگی کو بہت تفصیل سے جاننے کا موقع ملا۔
8/ جمادی الاولی 1334ھ آپ کے وصال کی تاریخ ہے، اس لیے خراج عقیدت پیش کرنے کی غرض سے چند سطریں لکھ کر نذر قارئین کر رہے ہیں۔
گر قبول افتد زہے عزوشرف
ولادت اور نسبی تعلق
امام شاہ وصی احمد محدث سورتی علیہ الرحمہ کی ولادت انقلاب 1857ء سے بیس سال قبل 1252ھ / 1836ء میں راندیر، ضلع سورت (انڈیا) میں ہوئی، آپ کا شجرۂ نسب حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کے صاحبزادے حضرت محمد بن حنفیہ رضی اللہ تعالی عنہ سے جا ملتا ہے، اسی نسبت سے آپ ”حنفی یا حنیفی“ بھی لکھا کرتے تھے۔
1857ء کی آزمائش اور ہجرتِ عراق
انقلاب 1857ء کا جب آغاز ہوا؛ تو اس میں آپ کے خاندان کے متعدد حضرات کے ساتھ ساتھ آپ کے دو حقیقی بھائی بھی شہید ہو گئے، سامان تجارت جل کر راکھ ہو گیا، باقیات پر انگریزی فوجوں نے قبضہ کر لیا، حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے والدین کریمین اور برادرِ صغیر مولانا عبداللطیف سورتی علیہ الرحمہ کے ہمراہ کسی طرح سر زمین ”عراق“ پہنچے، وہاں 3/ سال سکونت پزیر رہے۔
سفر حج اور وطنِ ہند واپسی
پھر بارادۂ حج مکہ مکرمہ، پھر وہاں سے مدینہ منورہ کی زیارت سے باریاب ہوئے، مدینہ منورہ سے اب واپسی میں راندیر، سورت انڈیا کا قصد تھا کہ راستے میں والد گرامی کا انتقال ہو گیا، راندیر پہنچ کر والدہ ماجدہ بھی داغِ مفارقت دے گئیں۔
سفر برائے تحصیلِ علم دین
اب آپ اور آپ کے چھوٹے بھائی بچے تھے، دونوں تحصیل علم کی غرض سے دہلی روانہ ہوئے، وہاں جامع مسجد فتح پوری دہلی میں چند دن رہے، اس وقت وہاں حضرت علامہ رحیم بخش معروف بہ خواجہ مسعود مظہری دہلوی علیہ الرحمہ درس و تدریس کے جوہر لٹا رہے تھے، پھر مدرسہ حسین بخش دہلی میں کچھ دن رہ کر اساتذۂ کرام سے اکتساب فیض کیا، ادھر کانپور میں صاحب علم الصیغہ حضرت مفتی عنایت احمد کاکوروی علیہ الرحمہ کا ادارہ ”مدرسہ فیض عام کانپور“ اپنی علمی شہرت کے ڈنکے بجا رہا تھا، دونوں بھائیوں نے وہاں پہنچ کر حضرت مفتی لطف اللّٰہ علی گڑھی علیہ الرحمہ سے خوب خوب استفادہ کیا اور 1282ھ میں وہیں سے فراغت حاصل کی۔
بیعت و خلافت
فراغت کے بعد ”بیعت“ کے لیے مرشد کامل اویس زماں شاہ فضل الرحمن گنج مرادآبادی علیہ الرحمہ کی بارگاہ میں پہنچے یہ ”گنج مرادآباد“ ضلع اناؤ، یوپی (انڈیا) میں ایک مشہور علاقہ ہے، مرشد کامل نے اپنے اندر موجود علمی و روحانی دونوں خوبیوں کو دیکھ کر بخوشی نہ صرف سلسلہ قادریہ نقشبندیہ میں شامل فرمایا، بلکہ سند حدیث اور خلعتِ خلافت سے بھی نواز دیا، بیعت کے بعد ایک سال تک وہیں مرشد کامل کی بارگاہ میں روحانی تربیت کے لیے موجود رہے۔
درس و تدریس کا آغاز
1288ھ کے شروع میں علامہ احمد حسن کانپوری علیہ الرحمہ اور دیگر علماء کے مشورے کے بعد اپنے مادر علمی ”مدرسہ فیض عام کانپور“ سے تدریس کا آغاز کیا، جو تقریباً آٹھ سالوں تک جاری رہا، یہاں دارالافتاء کی ذمہ داری بھی آپ کے سپرد تھی۔
سنن نسائی پر عربی حاشیہ نویسی
یہیں ”مدرسہ فیض عام کانپور“ میں یکے از صحاح ستہ ”نسائی شریف“ پر عربی حاشیہ نویسی کا کام شروع کیا تھا، جو 1294ھ میں پایۂ تکمیل کو پہنچا۔
علامہ احمد علی محدث سہارنپوری کی خدمت میں
آپ کے مرشد گرامی شاہ فضل الرحمن گنج مرادآبادی علیہ الرحمہ نے فن حدیث میں آپ کی خصوصی رغبت و دلچسپی دیکھ کر ”مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور“ جانے کا حکم دیا، اس وقت وہاں محدث جلیل محشیٔ بخاری علامہ احمد علی محدث سہارنپوری کی تدریس حدیث کا بڑا شہرہ تھا، گو کہ آپ کے پاس پہلے ہی سے مرشد کامل علیہ الرحمہ اور استاذ گرامی حضرت مفتی لطف اللّٰہ علی گڑھی علیہ الرحمہ کی طرف سے ملی ہوئی حدیث شریف کی دو سندیں موجود تھیں، پھر بھی مرشد کا اذن پا کر آپ علامہ احمد علی محدث سہارنپوری کی خدمت میں پہنچ گئے، 3/ سال وہاں رہ کر فن حدیث کی منتہی درجے کتابیں پڑھیں، اس کے بعد محدث سہارنپوری کا وصال ہو گیا، یہ وقت تھا جب کہ وہاں حضرت سید پیر مہر علی شاہ گولڑوی علیہ الرحمہ اور حضرت علامہ سید دیدار علی الوری علیہ الرحمہ دورۂ حدیث شریف کے طالب علم تھے۔
شادی خانہ آبادی اور پیلی بھیت آمد
1295ھ میں مظاہر علوم سہارنپور سے فراغت ہوئی، عمر تقریباً 42/سال کی ہوچکی تھی؛ مگر اب تک آپ غیر شادی شدہ تھے، ہاں! آپ کے چھوٹے بھائی مولانا عبداللطیف سورتی علیہ الرحمہ پیلی بھیت میں نکاح کر کے وہیں رہ رہے تھے، حضرت علامہ محدث حسن کانپوری علیہ الرحمہ کی خواہش پر محدث سورتی کی شادی کانپور ہی میں میر عنایت حسین صاحب کی صاحبزادی سے ہوئی، کچھ روز وہاں قیام پزیر رہے اس کے بعد چھوٹے بھائی مولانا عبداللطیف سورتی علیہ الرحمہ نے کافی اصرار کیا؛ تو آپ نے پیلی بھیت میں مستقل رہائش اختیار کر لی، آپ کی پانچ صاحبزادیاں اور ایک صاحبزادے سلطان الواعظین مولانا عبدالاحد پیلی بھیتی علیہ الرحمہ ہوئے۔
مدرسۃ الحدیث پیلی بھیت شریف کا قیام
1301ھ میں اپنے مکان سے ملحق زمین خرید کر ”مدرسۃ الحدیث“ کے نام سے ایک مدرسہ تعمیر کرایا، جس کی افتتاحی تقریب میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محقق بریلوی علیہ الرحمہ نے شرکت فرمائی اور ”فن حدیث“ سے متعلق 3/ گھنٹے کا منفرد انداز میں خطاب فرمایا، اس موقع پر علمائے رامپور، علمائے بدایوں اور علمائے پنجاب کا عظیم الشان قافلہ موجود تھا۔ [تذکرۂ محدث سورتی، ص: 78-88]
اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کی اس حدیثی تقریر سے صاحبزادۂ محدث سہارنپوری مولانا خلیل الرحمٰن سہارنپوری صاحب متاثر ہوکر کہتے ہیں:
”اگر اس وقت میرے والد ماجد (علامہ احمد علی محدث سہارنپوری) ہوتے تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے تبحر علمی کی دل کھول کر داد دیتے اور انھیں اس کا حق بھی تھا۔“ [امام احمد رضا اور رد بدعات ومنکرات، ص: 33]
علامہ وصی احمد محدث سورتی علیہ الرحمہ کے اس مدرسۃ الحدیث کا فیض عام سے عام تر ہوا، جس میں رہ کر آپ 20 سال تک درس حدیث میں مشغول رہے، دیگر تبلیغی مصروفیات اس پر مستزاد ہیں، جبکہ اس ادارے کے قیام سے پہلے پندرہ سال مسلسل ”مدرسۂ حافظ العلوم پیلی بھیت“ میں بحیثیت صدر مدرس علم و فن کے گوہر لٹاتے رہے۔
مشہور تلامذہ
چوں کہ اپنی زندگی کا بیش تر حصہ درس و تدریس میں گزارا، اس لیے آپ کے تلامذہ کی ایک کثیر تعداد ہے، جن میں چند مشہور نام یہ ہیں: صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ، ملک العلماء علامہ ظفر الدین بہاری، حضرت مفتی ضیاء الدین احمد مدنی، حضرت مولانا مشتاق احمد کانپوری، محدث اعظم سید محمد محدث کچھوچھوی، پروفیسر علامہ سید سلیمان اشرف بہاری مسلم یونیورسٹی علی گڑھ، حضرت علامہ عبدالعزیز خاں محدث بجنوری، حضرت مولانا عزیز الحسن پھپھوندی، حضرت مولانا مصباح الحسن پھپھوندی، حضرت مولانا نثار احمد کانپوری علیہم الرحمہ۔
معمولات محدث سورتی
فخر المحدثین حضرت علامہ وصی احمد محدث سورتی علیہ الرحمہ کے معمولات پر نظر ڈالیں تو متقدمین اسلاف کی یادیں تازہ ہو جاتی ہیں، آپ کے معمولات میں سے یہ باتیں تحریری طور پر تاریخ کا حصہ بنی ہیں:
ہر وقت باوضو رہتے، مگر دورانِ درس وضو کا خاص اہتمام فرماتے، لباس ہمیشہ سادہ اور غذا نہایت ہی معمولی استعمال کرتے، 12/ ربیع الاول شریف کی محفل میں شریک ہوتے اور اختتام تک قیام فرماتے، بچوں سے خصوصی انس و پیار فرماتے، قرب و جوار کے تمام بچے نماز عصر کے بعد آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے چاروں طرف حلقہ باندھ کر بیٹھ جاتے اور آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ان کو پند و نصائح فرماتے، عصر تا مغرب مسجد میں قیام فرماتے لیکن اس دوران بچوں کے علاوہ کوئی اور شخص آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے قریب نہ جاتا، نماز تہجد کے بعد وظیفہ پڑھتے، نماز فجر سے قبل گھر کے تمام افراد اور مدرسہ کے طالب علموں کو بیدار کرتے۔
نماز فجر کے بعد قرآن کریم کی تلاوت فرماتے، اشراق کی نماز سے قبل ناشتہ کرتے، آپ ایک اچھے طبیب بھی تھے، کچھ دیر مطب میں بیٹھتے، پھر مدرسہ تشریف لے جاتے، بارہ بجے کھانا تناول فرمانے کے بعد کچھ دیر قیلولہ فرماتے، ظہر کے بعد سے عصر تک طلباء کو حدیث شریف کا درس دیتے، مغرب و عشاء کے درمیان خاندان کی بچیوں کو حدیث شریف کا درس دیتے؛ جس میں محلہ کی عورتیں بھی شریک ہوتی تھیں، عشاء کی نماز کے بعد رات گئے تک لکھنے اور پڑھنے میں مصروف رہتے، نہایت دھیمی آواز میں گفتگو فرماتے حتیٰ کہ محافل و وعظ میں بھی یہی طریقہ اختیار فرماتے، جہری نمازوں میں بلند آواز سے قراءت فرماتے، فجر کی نماز میں لمبی سورتیں تلاوت فرماتے، اکثر و بیشتر دوران تلاوت رقت طاری ہو جاتی تھی، ہمیشہ نیچی نظریں رکھتے، ہر وقت چہرے پر مسکراہٹ رہتی، سادگی و انکساری کا اعلیٰ نمونہ تھے۔ [گلستان محدثین، ص: 199]
احساسِ طالب علمی
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے معمولات میں سب سے عجیب پہلو یہ تھا کہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے پاس دوران تدریس ایک تھیلا موجود رہتا تھا، جس میں قدیم کوفی طرز تحریر کا، قرآن حکیم کا پہلا پارہ رکھا رہتا تھا، یہ پارہ اپنی قدامت کے اعتبار سے کافی بوسیدہ ہوچکا تھا، جبکہ تھیلا بھی کئی جگہ سے نکل گیا تھا، جو نہایت قدیم پارچہ کا سلا ہوا تھا، دیکھنے سے پتہ چلتا تھا کہ یہ کسی خاص مقصد کے لیے بنایا گیا ہے، شیخ الحدیث حضرت مولانا وصی احمد محدث سورتی علیہ الرحمہ اکثر اس تھیلے کی تفصیلات کو چھپاتے تھے، لیکن جب کوئی اصرار کرتا تو فرماتے:
”یہ وہ تھیلا ہے جو میری والدہ ماجدہ نے اپنے ہاتھوں سے سیا تھا اور جس میں میں پہلی مرتبہ یہی پارہ لے کر مدرسہ پڑھنے گیا تھا، یہ تھیلا میری متاع عزیز ہے، جہاں یہ میری والدہ کی نشانی ہے، وہاں اس کی ہر وقت موجودگی مجھے یہ احساس دلاتی ہے کہ میں بنیادی طور پر طالب علم ہوں، جس دن یہ احساس میرے دل میں معدوم ہو گیا، اس دن میرے علم اور جہالت میں کوئی حدِ فاصل نہیں رہے گی۔“ [گلستانِ محدثین، ناصرالدین ناصر المدنی، ص: 193-194]
تالیف اور ترکیب
تحریکِ ردِّ ندوہ اور تحریک رد غیر مقلدین کے آپ پر جوش داعی تھے، اس سلسلے میں آپ نے کافی اسفار بھی کیے اور ان کے خطرات سے عوام و علما کو آگاہ اور بیدار کرنے کی سعی بلیغ فرمائی، مدرسے کی ذمہ داری اور اس کے اہتمام و انصرام کا معاملہ الگ تھا، ان ہجوم افکار کے باوجود خود کو تصنیف و تالیف کے ساتھ بھی جوڑے رکھا، اکثر زیر درس اور دیگر اہم کتابوں پر آپ نے حواشی لکھے، مگر بر وقت اشاعت میں نہ آنے کی وجہ سے، یا دوسرے اسباب کی بنیاد پر ضائع ہو گئے، چند تحریری کام یہ ہیں:
حاشیہ مدارک التنزیل، حاشیۂ تفسیر بیضاوی، حاشیۂ تفسیر جلالین، تعلیقات سنن نسائی، حاشیہ شرح معانی الآثار، تعلیقات شروح اربعہ بر ترمذی شریف، شرح سنن ابی داؤد، شرح مشکوٰۃ المصابیح، افادات حصن حصین، التعلیق المجلی لمافی منیتہ المصلی، الدرۃ فی عقد الایدی تحت السرۃ، کشف الغمامۃ عن سنیتہ العمامۃ، اظہار شریعت، جامع الشواہد فی اخراج الوہابیین عن المساجد، حاشیہ مقامات حریری، حاشیہ شافعیہ، تعلیقات شرح ملا حسن، حاشیہ میبذی وغیرہ۔
اعلی حضرت امام احمد رضا بریلوی سے عقیدت
اعلی حضرت امام احمد رضا خاں قادری برکاتی محقق بریلوی علیہ الرحمہ سے آپ عمر میں 20 سال بڑے تھے مگر اس کے باوجود دونوں بزرگوں کی آپسی عقیدت و محبت، عزت و احترام دیکھ کر بسا اوقات دیکھنے والوں کی آنکھیں بھیگ جایا کرتیں، اس سلسلے میں متعدد واقعات تاریخ کے صفحات پر نقش ہیں، طوالت کا خوف نہ ہوتا تو ضرور لکھتا。
وصال پر ملال
آپ ایک عظیم محدث تھے، علوم حدیث اور درس حدیث سے زندگی بھر خود کو وابستہ رکھا، تقریباً چالیس سالوں تک درس حدیث کے بعد شدید اعصابی کمزوری کے شکار ہو گئے تو اس وقت بھی بستر علالت ہی سے درس حدیث دیتے رہے، وصال والے مہینے جمادی الاول کے آغاز ہی میں غشی کی کیفیت طاری ہونے لگی، علاج و معالجہ جاری تھا، 6/ جمادی الاولی کو افاقہ کے بعد پوچھنے لگے کہ کیا دن ہے؟ بتایا گیا دوشنبہ، فرمایا: بخاری شریف کی پہلی جلد ختم ہو گئی۔
حضرت محدث سورتی علیہ الرحمہ 8/ جمادی الاولی 1334ھ بمطابق 12 اپریل 1916ء کو بوقت تہجد اپنے مالک حقیقی سے جاملے، إِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔ ہر طرف صف ماتم بچھ گئی، پیلی بھیت شریف میں دیوانوں کا عجب ہجوم تھا، خلقِ خدا زار و قطار روتی تھی، اعلی حضرت امام احمد رضا محقق بریلوی علیہ الرحمہ کو بھی وصال کا بڑا گہرا صدمہ پہنچا، اس دن کل نمازیں بیٹھ کر ادا کیں، حالاں کہ ہر حال میں عصا لے کر کھڑے ہو کر نماز ادا کیا کرتے تھے، یہ اعلیٰ حضرت کے شدید حزن و ملال کا اظہار ہی تھا، فرمانے لگے: وہ دنیا سے کیا رخصت ہوئے؛ بلکہ میرا داہنا ہاتھ مجھ سے جدا ہو گیا اور میری کمر ٹوٹ گئی۔
انڈیا میں صوبہ یوپی کے شہر ”پیلی بھیت“ میں آپ کا مزار مبارک مرجع خلائق ہے اور اپنی برکتیں لٹا رہا ہے۔
نوٹ:
اعلی حضرت اور محدث سورتی علیہما الرحمہ کے درمیان خصوصی ربط و تعلق پر رفیق گرامی مولانا محمد ابوہریرہ رضوی مصباحی (رام گڑھ، جھارکھنڈ) نے قدرے تفصیل سے لکھا ہے، ”گلستان محدثین از مولانا ناصر الدین ناصر المدنی“ میں بھی کافی واقعات درج ہیں، حضرت محدث سورتی علیہ الرحمہ کے پرپوتے ”خواجہ رضی حیدر“ نے ”تذکرہ محدث سورتی“ کے نام سے تفصیلی حالات لکھے ہیں، اس میں بھی آپ کے بارے میں تفصیل سے پڑھا جا سکتا ہے، یہ مختصر سا مضمون ہم نے انہی مؤخر الذکر دونوں کتابوں کی روشنی میں تیار کیا ہے۔ [ماہنامہ سنی دنیا بریلی شریف: فروری 2022ء، رجب 1443ھ، ص: 58]
