| عنوان: | فرقہ قادیانی: قسط دوم |
|---|---|
| تحریر: | ابو احمد محمد انس رضا قادری |
| پیش کش: | رابعہ خاتون بنت عمران احمد شیخ |
قادیانیوں کے عقائد
عقیدہ: میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اسی نے مجھے بھیجا اور میرا نام نبی رکھا۔ [تتمہ حقیقت الوحی، ص: 68]
عقیدہ: اگر میری گردن کے دونوں طرف تلوار بھی رکھ دی جائے اور مجھے یہ کہا جائے کہ تم یہ کہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا تو میں اسے ضرور کہوں گا کہ تو جھوٹا ہے کذاب ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبی آسکتے ہیں اور ضرور آسکتے ہیں۔ [انوار خلافت، ص: 65]
عقیدہ: یہ بات بالکل روز روشن کی طرح ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دروازہ کھلا ہے۔ [حقیقت النبوۃ، مصنفہ مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفہ قادیان، ص: 228]
عقیدہ: مبارک وہ جس نے مجھے پہچانا، میں خدا کی سب راہوں میں سے آخری راہ ہوں، اور میں اس کے سب نوروں میں سے آخری نور ہوں۔ بد قسمت ہے وہ جو مجھے چھوڑتا ہے کیونکہ میرے بغیر سب تاریکی ہے۔ [کشتی نوح، ص: 56، طبع اول قادیان 1902ء]
عقیدہ: دنیا میں کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس کا نام مجھے نہیں دیا گیا۔ میں آدم ہوں، میں نوح ہوں، میں ابراہیم، میں اسحاق ہوں، میں یعقوب ہوں، میں اسماعیل ہوں، میں داؤد ہوں، میں موسیٰ ہوں، میں عیسی ابن مریم ہوں، میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہوں۔ [تتمہ حقیقت الوحی، مرزا غلام احمد، ص: 84]
عقیدہ: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تین ہزار معجزات ہیں۔ [تحفہ گولڑویہ، ص: 67، مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی]
عقیدہ: میرے معجزات کی تعداد دس لاکھ ہے۔ [براہین احمدیہ، ص: 57، مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی]
عقیدہ: آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم عیسائیوں کے ہاتھ کا پنیر کھا لیتے تھے۔ حالانکہ مشہور تھا کہ سور کی چربی اس میں پڑتی ہے۔ [مکتوب مرزا غلام احمد قادیانی مندرجہ اخبار الفضل 22 فروری 1924ء]
عقیدہ: مرزا قادیانی کا ذہنی ارتقاء آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ تھا۔ [بحوالہ قادیانی مذہب، ص: 266، اشاعت نہم مطبوعہ، لاہور]
عقیدہ: مرزا قادیانی کی فتح مبین آنحضرت کی فتح مبین سے بڑھ کر ہے۔ [خطبہ الہامیہ، ص: 193]
عقیدہ: آپ (حضرت عیسی) کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔ [ضمیمہ انجام آتھم، حاشیہ ص: 7، مصنفہ غلام احمد قادیانی]
عقیدہ: مسیح (علیہ السلام) کا چال چلن کیا تھا، ایک کھاؤ پیو، نہ زاہد، نہ عابد، نہ حق کا پرستار، متکبر، خود بین، خدائی کا دعویٰ کرنے والا۔ [مکتوبات احمدیہ، ج: 3، ص: 21 تا 24]
عقیدہ: یورپ کے لوگوں کو جس قدر شراب نے نقصان پہنچایا ہے اس کا سبب تو یہ تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے شاید کسی بیماری کی وجہ سے یا پرانی عادت کی وجہ ہے۔ [کشتی نوح، حاشیہ ص: 75، مصنفہ غلام احمد قادیانی]
عقیدہ: ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو۔ اس سے بہتر غلام احمد ہے۔ [دافع البلاء، ص: 20]
عقیدہ: عیسی کو گالی دینے، بد زبانی کرنے اور جھوٹ بولنے کی عادت تھی اور چور بھی تھے۔ [ضمیمہ انجام آتھم، ص: 5, 6]
عقیدہ: یسوع اس لئے اپنے تئیں نیک نہیں کہہ سکتا کہ لوگ جانتے تھے کہ یہ شخص شرابی کبابی ہے اور خراب چلن، نہ خدائی کے بعد بلکہ ابتداء ہی سے ایسا معلوم ہوتا ہے چنانچہ خدائی کا دعوی شراب خوری کا ایک بد نتیجہ ہے۔ [ست بچن، حاشیہ ص: 172، مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی]
عقیدہ: پرانی خلافت کا جھگڑا چھوڑو اب نئی خلافت لو۔ ایک زندہ علی (مرزا صاحب) تم میں موجود ہے اس کو چھوڑتے ہو اور مردہ علی (حضرت علی) کو تلاش کرتے ہو۔ [ملفوظات احمدیہ، ج: 1, ص: 131]
عقیدہ: حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کشفی حالت میں اپنی ران پر میرا سر رکھا اور مجھے دکھایا کہ میں اس میں سے ہوں۔ [ایک غلطی کا ازالہ، حاشیہ ص: 9، مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی]
عقیدہ: دافع البلاء میں مرزا غلام احمد نے لکھا ہے میں امام حسین سے برتر ہوں۔ [دافع البلاء، ص: 13]
عقیدہ: مجھ میں اور تمہارے حسین میں بڑا فرق ہے کیونکہ مجھے تو ہر ایک وقت خدا کی تائید اور مدد مل رہی ہے۔ [اعجاز احمدی، ص: 69]
عقیدہ: اور میں خدا کا کشتہ ہوں اور تمہارا حسین دشمنوں کا کشتہ ہے پس فرق کھلا اور ظاہر ہے۔ [اعجاز احمدی، ص: 81]
مصرع اول
مصرع ثانی
کربلائیست سیر ہر آنم
صد حسین است در گریبانم
میری سیر ہر وقت کربلا میں ہے۔ میرے گریبان میں سو حسین پڑے ہیں۔ [نزول المسیح، ص: 99، مصنفہ مرزا غلام احمد]
عقیدہ: حضرت مسیح موعود نے اس کے متعلق بڑا زور دیا ہے اور فرمایا ہے کہ جو بار بار یہاں نہ آئے مجھے ان کے ایمان کا خطرہ ہے۔ پس جو قادیان سے تعلق نہیں رکھے گا وہ کاٹا جائے گا تم ڈرو کہ تم میں سے نہ کوئی کاٹا جائے، پھر یہ تازہ دودھ کب تک رہے گا۔ آخر اختلاف ہے۔ [اخبار الفضل، 21 اگست 1917ء، تقریر بنام طلباء]
عقیدہ: قرآن شریف میں گندی گالیاں بھری ہیں اور قرآن عظیم سخت زبانی کے طریقے استعمال کر رہا ہے۔ [ازالہ اوہام، ص: 28, 29]
عقیدہ: میں نے اپنے تئیں خدا کو طور (پہاڑ) پر دیکھا ہے اور میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ میں وہی ہوں اور میں نے آسمان کو تخلیق کیا ہے۔ [آئینہ کمالات، ص: 564، مرزا غلام احمد قادیانی]
عقیدہ: خدا نمائی کا آئینہ میں ہوں۔ [نزول المسیح، ص: 84]
عقیدہ: مجھ سے میرے رب نے بیعت کی۔ [دافع البلاء، ص: 6]
