| عنوان: | موضوع: وہابی دیوبندی مسلمان کیوں نہیں ہیں؟ ان کے کافر ہونے کی وجہ کیا ہے؟ |
|---|---|
| تحریر: | مفتی عبد الرحمٰن قادری مصباحی بہرائچ شریف |
| پیش کش: | ساریہ فاطمہ رضویہ |
وہابی دیوبندی سے نکاح نہ ہونے کی وجہ صرف یہی ہے کہ وہ مسلمان نہیں بلکہ کافر و مرتد، اسلام سے خارج ہیں۔ اب وہ مسلمان کیوں نہیں؟ ان کی تکفیر کی وجہ کیا ہے؟
اس سوال کے جواب میں حضور شارحِ بخاری رحمۃ اللہ علیہ بڑی توضیح و تشریح کے ساتھ ارشاد فرماتے ہیں:
دیوبندی، غیر مقلد، وہابی شانِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں گستاخی کرنے کی وجہ سے مرتد و کافر ہیں، دیوبندیوں کی شانِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں گستاخی، ڈھکی چھپی بات نہیں۔ ان کی کتابوں میں ایسی عبارتیں چھپی موجود ہیں جن میں شانِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں گستاخی موجود ہے۔
مثلاً: دیوبندی جماعت کے حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی نے اپنی کتاب حفظ الایمان ص: 7 پر لکھا:
”پھر یہ کہ آپ کی ذاتِ مقدسہ پر علمِ غیب کا حکم کیا جانا اگر بقول زید صحیح ہے تو دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس غیب سے کل امورِ غیبیہ مراد ہیں یا بعض۔ اگر بعض امورِ غیبیہ مراد ہیں تو اس میں حضور ہی کی کیا تخصیص ہے۔ ایسا علمِ غیب تو ہر زید، عمرو، بکر بلکہ ہر صبی (بچہ) و مجنون (پاگل) بلکہ جمیع حیوانات و بہائم (چوپایوں) کے لیے بھی حاصل ہے۔“
اس عبارت میں اشرف علی تھانوی صاحب نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے علم کو زید و عمرو بکر یعنی ہر کس و ناکس حتیٰ کہ بچوں، پاگلوں، اور حد تو یہ کہ جانوروں، چوپایوں کے علم سے تشبیہ دی یا ان کے علم کے برابر بتا دیا۔
دیوبندی جماعت کے کچھ اکابر یہ کہتے ہیں کہ اس عبارت میں ”ایسا“ تشبیہ کے لیے ہے، اس تقدیر پر آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے علمِ پاک کو ان خسیس چیزوں کے علم سے تشبیہ دی۔ اس میں بھی آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین ہے۔
اور کچھ دیوبندی اکابر یہ کہتے ہیں کہ ”ایسا“ اتنا اور اس قدر کے معانی میں ہے۔ اس تقدیر پر اس عبارت کا مطلب یہ ہوا کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا علمِ ارفع و اعلیٰ، ان خسیس چیزوں کے برابر ہے، اس میں بھی توہین ہے۔
دیوبندی جماعت کے دوسرے دو بڑے بزرگ مولانا رشید احمد گنگوہی، مولانا خلیل احمد انبیٹھوی نے براہینِ قاطعہ ص: 51 پر لکھا:
”الحاصل غور کرنا چاہیے کہ شیطان و ملک الموت کا حال دیکھ کر علمِ محیط زمین کا فخرِ عالم کو نصوصِ قطعیہ، بلا دلیل قیاسِ فاسدہ سے ثابت کرنا شرک نہیں تو کونسا ایمان کا حصہ ہے، شیطان و ملک الموت کو یہ وسعت نص (قرآن و حدیث) سے ثابت ہوئی، فخرِ عالم کی وسعتِ علم کی کونسی نصِ قطعی ہے جس سے تمام نصوص کا رد کر کے ایک شرک ثابت کرتا ہے، شرک نہیں تو کونسا ایمان کا حصہ ہے۔“
اس عبارت میں دیوبندیوں کے ان دونوں بزرگوں نے شیطان کے علم کی وسعت نص یعنی قرآن و حدیث سے مانی۔ یہ بتایا کہ شیطان کے ہی علم کی زیادتی قرآن و حدیث سے ثابت ہے اور اس کے برخلاف حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی وسعتِ علم یعنی علم کی زیادتی سے انکار کیا اور صاف کہہ دیا کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وسعتِ علم کو ماننا شرک ہے۔
اس عبارت پر پوری طرح توجہ دیں، صاف صاف لکھا ”شیطان و ملک الموت کو یہ (علم کی) وسعت (زیادتی) نص (قرآن و حدیث) سے ثابت ہے۔ فخرِ عالم کی وسعتِ علم کی کونسی نصِ قطعی ہے؟ (یعنی کوئی نصِ قطعی نہیں) جس سے تمام نصوص کو رد کر کے ایک شرک ثابت کرتا ہے، شرک نہیں تو کونسا ایمان کا حصہ ہے۔“
اس میں صاف صاف لکھ دیا کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وسعتِ علم ماننا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے علم کو زیادہ ماننا شرک ہے، قرآن و حدیث کے خلاف ہے اور اس پر امت کا اجماع ہے کہ کسی نبی کی شان میں ادنیٰ سی گستاخی کرنے والا کافر و مرتد ہے۔
درر، غرر، الاشباہ والنظائر، اور درمختار میں ہے: مَنْ شَكَّ فِيْ كُفْرِهٖ وَعَذَابِهٖ فَقَدْ كَفَرَ. [رد المحتار، ج: 6، ص: 37، کتاب الجہاد، باب المرتد] گستاخِ رسول کے کافر ہونے میں جو شک کرے وہ بھی کافر ہے۔
آج کل کے دیوبندی، گنگوہی صاحب، نانوتوی صاحب، انبیٹھوی صاحب، تھانوی صاحب کو اپنا بزرگ اور پیشوا مانتے ہیں۔ آدمی اسی کو اپنا رہنما اور پیشوا مانتا ہے جس کے دین پر وہ ہوتا ہے۔
اس لیے جو لوگ ان دیوبندی بزرگوں کی ان کفری عبارتوں پر مطلع ہونے کے باوجود ان کو اپنا پیشوا مانتے ہیں وہ یقیناً بلاشبہ ان کے ہم عقیدہ ہیں، جس کی وجہ سے یہ بھی گستاخِ رسول ہوئے اور ان کا حکم بھی وہی ہے جو ان کے بزرگوں کا ہے۔
[فتاویٰ شارحِ بخاری، ج: 3، 7، ص: 157]
[کتابی حوالہ، بزرگوں کے فیصلے، ص: 62]
