Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

صحبت کا اثر

صحبت کا اثر
عنوان: صحبت کا اثر
تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفیٰ نجم القادری
پیش کش: ام عروج فاطمہ بنت اکرام رضوی
منجانب: جامعہ مصباح تاج الشریعہ، ردولی شریف، بہار

صحبت کا مطلب ہے ایک ساتھ رہنا سہنا، اٹھنا بیٹھنا، شب و روز گزارنا، یہاں پر یہ چیز بھی غور کرنے کی ہے کہ صحبت کس کی ہے، کس کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا، رہنا سہنا ہے، لیل و نہار کی رفاقت کس کے ساتھ ہے، جیسے ہی صحبت ہوگئی، ویسی ہی اس کی برکت ہوگی، اس لیے کہ بننے اور بگڑنے کا تعلق صحبت سے بہت گہرا ہے۔ تھوڑی ہی بے توجہی سے کچھ کا کچھ ہو جاتا ہے۔ اس کے دامن میں عرش کی بلندی بھی ہے اور فرش کی پستی بھی، عزت کا آسمان بھی ہے اور ذلت کا ساز و سامان بھی، آج پورے معاشرے کو بری صحبت کا ناگ ڈس رہا ہے، صحبتِ بد کے اثراتِ بد سے پوری فضا متعفن ہے، جہاں کہیں بھی اور جتنا کچھ بھی فساد و بگاڑ ہے وہ بری صحبتوں ہی کے نتائج و مضمرات ہیں، انسان کا گرد و پیش جیسا ہوتا ہے اسی اعتبار سے مآل و انجام سامنے آتا ہے، حال و قال جیسا ہوتا ہے سیرت و کردار ویسے ہی مرتب ہوتے ہیں، رفاقت اگر خوش کردار، خوش اطوار اور خوش اخلاق کی ہوگی تو اس سے نیکی، بھلائی اور اچھائی کا صدور ہوگا، اور اگر صحبت بدقماش، بدمعاش اور بد شعار کی ہوگی تو اس کے مظاہر بھی ویسے ہی نالائق، نامناسب اور ناپسندیدہ ہوں گے۔

یہ زمینی حقیقت ہے کہ اچھی صحبت نے کتنے خزف کو صدف، مٹی کو سونا اور خار کو گل بنا دیا اور بری صحبت نے عزیز کو ذلیل، فلکِ وقار کو رذیل اور اعلیٰ کو اسفل بنا کر رکھ دیا، جب حضرت نوح علیہ السلام کا فرزند، نبوت کی آغوش کا پروردہ کنعان بروں کی صحبت پا کر برا بن سکتا ہے، یہاں تک کہ اپنے دین و ایمان سے بھی ہاتھ دھو سکتا ہے، تو ما و شما کے فرزندانِ گرامی کس گنتی میں ہیں، آج کے اس ناگفتہ بہ ماحول میں اس گوشے پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے کہ ہمارا لڑکا کس کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا ہے، اس کی نشست و برخاست کیسے لوگوں کے ساتھ ہے، اس کی جلوت و خلوت کا رفیق کون ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ اس نے نادانی میں بدعملوں، بدفعلوں، بدعقیدوں کی صحبت اختیار کر لی ہے، اگر ایسا ہے تو فوراً نوٹس لینے کی ضرورت ہے۔ پسرِ نوح کا حادثہ ہم سب کی عبرت کے لیے کافی ہے۔ اس لیے بزرگانِ دین نے اپنی مجالس کا خاص عنوان صحبت کو بنایا اور اس کے مفید و مضر گوشوں کو اپنے انوارِ خیال سے منور فرمایا، اپنے مریدوں، عقیدت کیشوں اور حاضر باشوں کو صحبتِ صالح اختیار کرنے کی سخت تاکید و تنبیہ فرمائی اور بری صحبت سے بچنے اور ہمہ دم بچے رہنے کا حکم صادر فرمایا، حضرت نظام الدین اولیاء اپنے ملفوظات میں ارشاد فرماتے ہیں:

”نیک لوگوں کی صحبت نیک کام کرنے کی نسبت اچھی ہے اور بروں کی صحبت، برے کام کرنے سے بدتر۔“ [افضل الفوائد، مرتب: حضرت امیر خسرو]

دو ہی جملے میں حضرت نے صحبت کے پورے مسائل کی نقاب کشائی کر کے رکھ دی، حقائق کی چھلنی میں نتائج کو چھان کر بتا دیا ہے، اور حضرت خواجہ غریب نواز علیہ الرحمہ نے تو اس سے بھی واضح انداز میں اس کی قلعی کھولی ہے۔ آپ اپنے ملفوظات میں فرماتے ہیں:

”حدیث شریف میں ہے کہ صحبت کا اثر ضرور ہوتا ہے، اگر کوئی برا شخص نیکوں کی صحبت اختیار کر لے تو وہ نیک ہو جائے گا اور اگر ایک شخص بدوں کی صحبت میں بیٹھے تو بد ہو جائے گا، کیوں کہ جس نے بھی کچھ گنوایا ہے تو بری صحبت ہی کی وجہ سے گنوایا ہے، اور جس نے بھی کچھ حاصل کیا ہے، وہ اچھی صحبت ہی سے حاصل کیا ہے۔“ [دلیل العارفین، مرتب: حضرت قطب الدین بختیار کاکی]

حضرت مالک بن دینار نے اپنے داماد حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا، اے مغیرہ! جس بھائی یا ساتھی کی رفاقت تمہیں دینی فائدہ نہ پہنچائے تم اس جہان میں اس کی صحبت سے بچو تا کہ تم محفوظ رہو، اس نصیحت کا مطلب یہ ہے کہ تمہاری صحبت یا تو اپنے سے بڑے اور اچھے کے ساتھ ہوگی، یا اپنے سے کمتر کے ساتھ، اگر اپنے سے بڑے اور اچھے کی رفاقت اختیار کرو گے تو اس سے تمہیں دینی و دنیوی فائدہ پہنچے گا۔ اور اگر اپنے سے کمتر کے ساتھ بیٹھو گے تو تم سے اس کو دین کا فائدہ پہنچے گا، کیوں کہ اگر وہ تم سے کچھ حاصل کرے گا تو وہ دینی فائدہ پہنچانا ہوگا اور جو تم اپنے بڑے سے حاصل کرو گے وہ بھی دینی فائدہ حاصل کرنا ہوگا، حضور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

إِنَّ مِنْ تَمَامِ التَّقْوٰى تُعَلِّمُ مَنْ لَّا يَعْلَمُ.

کمال پرہیزگاری یہ ہے کہ بے علم کو علم سکھایا جائے۔ [کشف المحجوب، ص: 488، حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری]

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

اَلْمَرْءُ عَلٰى دِيْنِ خَلِيْلِهٖ فَلْيَنْظُرْ أَحَدُكُمْ مَنْ يُّخَالِلُ.

آدمی اپنے دوست کے دین اور اس کے طور طریق پر ہوتا ہے، لہٰذا ضروری ہے کہ وہ دیکھے کہ کس سے دوستی رکھتا ہے، مطلب یہ ہے کہ اگر اس کی صحبت نیکوں کے ساتھ ہے تو اگرچہ وہ خود نیک نہ ہو تو وہ صحبت نیک ہے اس لیے کہ نیک کی صحبت اسے نیک بنا دے گی، اور اگر اس کی صحبت بروں کے ساتھ ہے، تو اگرچہ وہ نیک ہے تو یہ برا ہے کیوں کہ وہ اس کی برائیوں پر راضی ہے اور جو برائیوں پر راضی ہو، اگرچہ وہ نیک ہو بہرحال بُرا ہے، اس لیے تحصیلِ علم کے حوالے سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ وارننگ ہمیشہ پیشِ نظر رکھنی چاہیے:

إِنَّ هٰذَا الْعِلْمَ دِيْنٌ فَانْظُرُوْا عَمَّنْ تَأْخُذُوْنَ دِيْنَكُمْ.

یہ علم (یعنی قرآن و حدیث کو جاننا) دین ہے لہٰذا تم دیکھ لو کہ اپنا دین کس سے حاصل کر رہے ہو۔ [انوار الحدیث، ص: 93، بحوالہ مشکوٰۃ شریف]

آج جو لوگ جس سے چاہتے ہیں اپنے بچوں کو پڑھانے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں، ایسوں کی آنکھیں کھولنے کے لیے یہ حدیث کافی ہے، تجربہ شاہد ہے کہ اس حدیثِ مبارک پر توجہ نہ دینے کی وجہ سے بہت سے حضرات اپنے بچوں کا مستقبل سوچ سوچ کر خون کے آنسو رو رہے ہیں، اس لیے لوگوں کو چاہیے کہ اپنے نونہالوں کو استاد کے حوالے کرنے سے پہلے استاد کے دین و اخلاق کو جانچ لیں، یہ دیکھ لیں کہ استاد خوش عقیدہ، خوش اخلاق اور خوش شعار ہے کہ نہیں، جس استاد میں یہ خوبیاں ہوں گی ان کی تربیت میں رہنے والا بچہ بھی باعمل، بااخلاق اور دین دار ہوگا اور اگر یہ خوبیاں نہیں ہیں تو ہرگز ہرگز ایسے استاد کے حوالے بچوں کو نہ کریں ورنہ کفِ افسوس ملنے کے سوا کچھ حاصل نہ ہوگا۔

صحبت کا اثر تو اتنا ہے کہ ”باز“ آدمی کی صحبت میں سدھ جاتا ہے، ”طوطی“ آدمی کے سکھانے سے بولنے لگتا ہے، گھوڑا اپنی بہیمانہ خصلت ترک کر کے مطیع بن جاتا ہے، یہ مثالیں بتاتی ہیں کہ صحبت کا کتنا اثر و غلبہ ہوتا ہے، اور کس طرح وہ عادتوں کو بدل دیتی ہے، یہی حال تمام صحبتوں کا ہے۔ اسی بنا پر تمام مشائخ سب سے پہلے صحبت کے حقوق کے خواہاں رہتے ہیں اور اپنے مریدوں کو بھی اس کی ترغیب دیتے ہیں حتی کہ ان کے نزدیک صحبت کے آداب اور ان کی مراعات فرض کا درجہ رکھتی ہیں، گزشتہ مشائخ کی کثیر جماعت نے صحبت کے آداب میں مفصل کتابیں تحریر فرمائی ہیں۔ چنانچہ حضرت جنید بغدادی نے ”تصحیح الارادۃ“، حضرت احمد بن خضرویہ نے ”الرعایۃ بحقوق اللہ“، حضرت محمد بن علی ترمذی نے ”بیان آداب المریدین“ ان کے علاوہ اور بھی بزرگوں نے اس موضوع پر بڑی نادر کتابیں تصنیف کی ہیں، وجہ تصنیف اس کے سوا اور کیا ہو سکتی ہے کہ لوگ اچھوں کی صحبت اپنا کر اپنی آخرت اچھی کریں، اس لیے کہ بروں کی صحبت کا بد انجام مرنے کے بعد بھی پیچھا نہیں چھوڑتا، غالباً مرزا غالب نے اسی پس منظر میں یہ شعر کہا ہے کہ:

اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے
مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے

امام احمد رضا قادری محدث بریلوی نے اس تناظر میں حدیثِ شریف ذکر کر کے ایک بڑا عبرت انگیز واقعہ الملفوظ شریف میں بیان فرمایا ہے:

فرمایا! اپنے مردوں کو بزرگوں کے پاس دفن کرو کہ ان کی برکت کے سبب ان پر عذاب نہیں کیا جاتا، هُمُ الْقَوْمُ لَا يَشْقٰى جَلِيْسُهُمْ، وہ وہ لوگ ہیں کہ ان کے سبب ان کا ہم نشین بھی بدبخت نہیں ہوتا۔ لہٰذا حدیث میں فرمایا: اُدْفُنُوْا مَوْتَاكُمْ وَسْطَ قَوْمٍ صَالِحِيْنَ۔ اپنے مردوں کو نیکوں کے درمیان دفن کرو۔ میں نے حضرت میاں صاحب قبلہ قدس سرہ کو فرماتے سنا، ایک جگہ کوئی قبر کھل گئی اور مردہ نظر آنے لگا، دیکھا کہ گلاب کی دو شاخیں اس کے بدن سے لپٹی ہیں اور گلاب کے دو پھول اس کے نتھنوں پر رکھے ہیں، اس کے عزیزوں نے اس خیال سے کہ قبر پانی کے صدمے سے کھل گئی ہے، دوسری جگہ کھود کر رکھیں، اب جو دیکھیں تو دو اژدھے اس کے بدن سے لپٹے، اپنے پھنوں سے اس کا منہ بھمبوڑ رہے ہیں، حیران ہوئے، کسی صاحبِ دل سے یہ واقعہ بیان کیا، انہوں نے فرمایا، وہاں بھی یہ اژدھا ہی تھے، مگر ایک ولی اللہ کے مزار کا قرب تھا، اس کی برکت سے وہ عذاب رحمت ہو گیا تھا، وہ اژدھے درختِ گل کی شکل ہو گئے تھے اور ان کے پھن گلاب کے پھول۔ اس کی خیریت چاہو تو وہیں لے جا کر دفن کر دو، وہیں لے جا کر رکھا، اب وہ گلاب کے پھول۔ [الملفوظ دوم، ص: 82، مرتب: مفتی اعظم ہند قدس سرہ]

اسی لیے قرآنِ مجید میں صاف لفظوں میں تنبیہ کر دی گئی ہے کہ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰى مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ. یاد دلا دینے کے بعد ظالموں کی صحبت میں نہ بیٹھو، نیک اعمال صرف جن و انس ہی کر سکتے ہیں اور یہی اس کا فائدہ اٹھاتے ہیں، مگر صحبت کے فائدے اور نقصان ہر مخلوق کو حاصل ہیں، مثلاً جن ملکوں پر عذابِ الٰہی آیا وہاں ٹھہرنا، وہاں کی چیزیں استعمال کرنا ممنوع ہو گئیں، ایک بار صحابہ کرام نے قومِ ثمود کے کنویں کے پانی سے آٹا گوندھ لیا، تو سرکاری حکم سے وہ آٹا پھنکوا دیا گیا، کیوں کہ اس میں عذاب والی قوم کے کنویں کا پانی شامل ہو گیا، حاجی کو منیٰ جاتے وقت اس میدان سے تیزی سے گزرنے کا حکم ہے جہاں اصحابِ فیل پر عذاب آیا تھا۔

یہ بھی یاد رہے کہ بُروں کے پاس بیٹھنے سے مراد محبت و الفت کے طریقہ پر نشست و برخاست رکھنا ہے، اصلاح و ہدایت، تبلیغ و تردید کے لیے بروں کی مجلس میں بیٹھنا عین عبادت ہے، اگر علما بروں کو اپنے پاس بیٹھنے کا موقع نہ دیں تو ان کی اصلاح کیوں کر ہوگی، مگر یہ ان لوگوں کے لیے ہے جو دوسروں کو فیض دے سکیں، عام مسلمان بروں سے مطلقاً بچیں کہ ممکن ہے ان کو اچھا نہ کر سکیں، بلکہ یہ اچھے خود برے بن جائیں۔

بعض لوگ سمجھتے ہیں ہم پر کسی کی صحبت کا اثر پڑے گا ہی نہیں، ہم جسے چاہیں اپنا یار بنائیں، ایسے لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ جیسے کسی کی ظاہری صحبت اثر کرتی ہے ایسے ہی اس کی تقریر و تحریر بھی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ایک بار توریت پڑھ رہے تھے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا، چہرہ متغیر ہونے لگا، صدیقِ اکبر نے فرمایا، کیا تم نہیں دیکھتے کہ حضور کے چہرہِ پاک پر غضب کے آثار نمودار ہیں، تب حضرت عمر فاروق نے عرض کیا: رَضِيْتُ بِاللهِ رَبًّا وَّبِالْإِسْلَامِ دِيْنًا وَّبِمُحَمَّدٍ نَّبِيًّا. ہم اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دینِ حق ہونے اور حضور کے نبی ہونے پر راضی ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمارے پاس کیا نہیں ہے جو تم بگڑی ہوئی توریت میں ڈھونڈتے ہو؟ دیکھیے عمر جیسی شخصیت جن سے جن اور شیطان بھاگتا ہے، انہیں توریت پڑھنے سے منع فرما دیا، حالانکہ وہ کلامِ الٰہی تھا، اگرچہ بگاڑ دیا گیا تھا، تو کیا ہم لوگ حضرت عمر سے زیادہ کامل ایمان رکھتے ہیں؟ یا آج کل کے عام ناول، بدمذہبوں کے رسالے، بگڑی ہوئی توریت سے زیادہ افضل ہیں کہ ہم بالکل ہی احتیاط نہ کریں۔ اسی لیے اعلیٰ حضرت محدثِ بریلوی فرماتے ہیں:

ناقص بلکہ کامل کو بھی بلاضرورت بدمذہبوں کی کتابیں دیکھنا ناجائز ہے کہ انسان ہے ممکن ہے کوئی بات معاذ اللہ دل میں جم جائے اور ہلاک ہو جائے۔ [الملفوظ، ج: 4، ص: 4]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!