Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

طلبائے مدارس اور فاصلاتی تعلیمات (قسط: دوم)

طلبائے مدارس اور فاصلاتی تعلیمات (قسط: دوم)
عنوان: طلبائے مدارس اور فاصلاتی تعلیمات (قسط: دوم)
تحریر: طارق انور مصباحی
پیش کش: نازیہ فاطمہ
منجانب: مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد

مرکزی حکومتوں کا اجمالی خاکہ

  1. کانگریس کی حکومت: ۱۵ اگست ۱۹۴۷ء سے ۲۴ مارچ ۱۹۷۷ء تک۔

  2. جنتا پارٹی کی حکومت: ۲۴ مارچ ۱۹۷۷ء سے ۱۴ جنوری ۱۹۸۰ء تک۔

  3. کانگریس کی حکومت: ۱۴ جنوری ۱۹۸۰ء سے ۲ دسمبر ۱۹۸۹ء تک۔

  4. جنتا دل کی حکومت: ۲ دسمبر ۱۹۸۹ء سے ۲۱ جون ۱۹۹۱ء تک۔

  5. کانگریس کی حکومت: ۲۱ جون ۱۹۹۱ء سے ۱۶ مئی ۱۹۹۶ء تک۔

  6. بی جے پی کی حکومت: ۱۶ مئی ۱۹۹۶ء سے ۱ جون ۱۹۹۶ء تک۔

  7. جنتا دل کی حکومت: ۱ جون ۱۹۹۶ء سے ۱۹ مارچ ۱۹۹۸ء تک۔

  8. بی جے پی (NDA) کی حکومت: ۱۹ مارچ ۱۹۹۸ء سے ۲۲ مئی ۲۰۰۴ء تک۔

  9. کانگریس (UPA) کی حکومت: ۲۲ مئی ۲۰۰۴ء سے ۲۶ مئی ۲۰۱۴ء تک۔

  10. بی جے پی (NDA) کی حکومت: ۲۶ مئی ۲۰۱۴ء سے تادمِ تحریر۔

بابری مسجد کے انہدام کا حقیقی سبب

۱۶ دسمبر ۱۹۹۲ء کو بابری مسجد صرف اس لیے منہدم کر دی گئی کہ اقوام ہند کو معلوم ہو جائے کہ ملک ہند میں ہندو قوم کی اکثریت (Majority) ہے، یہاں قوم ہنود کی بالا دستی قائم ہوگی۔ آج یا کل دوسری قوموں کو خموشی اختیار کرنی ہوگی۔ گرچہ ملک ہند کا دستور جمہوری ہے، لیکن ان قوانین و اصول کی غلط تشریح و تاویل کرنا کونسا مشکل امر ہے؟

بھائی! اگر مسلم اوقاف کی آمدنی ہی قوم مسلم پر خرچ کر دی جائے تو بھی ہندوستان میں مسلمانوں کی معاشی حالت بہت حد تک سدھر سکتی ہے، لیکن مسلمانوں کا حق بھی قوم مسلم کو نہیں دیا جاتا۔ ہر سیاسی پارٹی نے تمہیں نظر انداز کیا۔

اے میری قوم! جاگو، پھر سوچو، پھر عملی اقدام کرو۔ ایسی تدبیر اپناؤ کہ ہند میں مذہب اسلام پر بھی کوئی آنچ نہ آنے پائے، نہ ہی ملک ہند کی سالمیت کو خطرہ لاحق ہو سکے۔ نہ کسی کا خون بہے، نہ ہی کسی کی نیند اڑے، بلکہ مذہب و ملک دونوں کو عروج و ترقی نصیب ہو۔ اسمبلی اور پارلیامنٹ تک خود ہی پہنچنے کی کوشش کرو۔ اب تک تم نے ووٹ دے کر صرف دوسروں کے لیے راستہ بنایا ہے۔ اب ووٹ لے کر خود بھی منزل تک پہنچنے کی کوشش کرو۔ اگر خود کچھ کرنے کی قابلیت و اہلیت نہ ہو تو دوسرے مسلم بھائیوں کی مدد کرو۔ الیکشن کے موقع پر اپنا ووٹ ضائع مت ہونے دو۔ اپنی آئندہ نسل کی بھی عمدہ تربیت کرو۔ یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوتی ہے کہ ہندوستانی مسلمان اپنے بچوں کو تعلیم و تربیت سے آراستہ کر رہے ہیں لیکن ساتھ ہی ساتھ بچوں کو دینی تعلیم بھی دی جائے۔

سرزمین ہند کی امیں نہ لٹنے پائے
اپنی تاریخ کو دہراتے سناتے رہیے

مسلمانو! اپنے آپ کو پہچانو

ہندوستان میں نہ مسلمانوں کی اکثریت ہے، نہ ہی اب یہاں ہماری حکومت ہے۔ اس لیے یہ نکتہ بھی ہمیشہ مد نظر رکھا جائے کہ ملک ہند میں مسلمانوں کو دو حصوں میں تقسیم ہونے سے بچایا جائے، یعنی مسلمانوں میں ایک ایسا گروپ تیار ہوتا جا رہا ہے، جسے ماڈرن (Modern) کہا جاتا ہے۔ جب بھی اہل حکومت یا مغربی ممالک کی جانب سے مسلم مخالف یا اسلام مخالف کوئی موضوع سر اٹھاتا ہے تو قوم مسلم کا یہ ماڈرن طبقہ خود بھی مذہب اسلام یا مسلمانوں کی مخالفت کرنے لگتا ہے۔ ایسے حواس باختہ لوگوں کا مقصد ہوتا ہے سستی شہرت کمانا اور خود کو انصاف پرست کہلوانا، حالانکہ یہ لوگ مطلب پرست ہوتے ہیں نہ کہ انصاف پرست۔ پس لازم ہے کہ مسلمانوں میں اسلامی تعلیم کو عام کرنے کی کوشش کی جائے اور علمائے کرام بھی حکومتی مناصب و عہدہ جات تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کریں، تا کہ ایسے آزاد خیال اور نا عاقبت اندیش لوگوں کے باطل افکار و نظریات کو ابھرنے کا موقع نہ مل سکے۔

اے میری قوم! آج کے عہد میں محض دنیاوی تعلیم بھی ہماری قوم کے لیے نقصان دہ ہے اور خالص دینی تعلیم سے بھی ہماری دنیاوی ضروریات کی تکمیل ایک مشکل امر ہے۔ قوم مسلم دینی علوم و فنون ضرور حاصل کرے، کیوں کہ دنیا میں آنے کا مقصد آخرت ہی کو سنوارنا ہے اور مسلمان دنیاوی تعلیم سے بھی اپنے آپ کو آراستہ کرے، تا کہ دنیاوی بھلائیاں انہیں میسر آسکیں۔ ہاں، علوم عصریہ سے متاثر ہو کر خود کو مغربی تہذیب و تمدن کا ایک مجسمہ بنا دینا اور اسلام کی عمدہ ترین تہذیب و ثقافت سے بیزاری کا اظہار کرنا ضرور ایک معیوب شے ہے۔

علوم شرعیہ سے نا آشنا ہونے کی وجہ سے بعض حضرات اس طرح کے قلبی امراض میں مبتلا ہو جاتے ہیں یا پھر وہ احساس کمتری کے شکار ہوتے ہیں کہ ترقی یافتہ اقوام کی تہذیب و تمدن سے متاثر ہو کر اسلامی تہذیب و ثقافت پر انگلی اٹھاتے ہیں۔ شاعر مشرق ڈاکٹر اقبال نے ہمیں ایک قابل تقلید نظریہ سے روشناس کراتے ہوئے کہا:

خیرہ نہ کر سکا مجھے جلوۂ دانش فرنگ
سرمہ ہے میری آنکھوں کا خاک مدینہ و نجف

شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات

ملک ہند میں قوم مسلم کو صرف مذہبی رہنمائی کی ضرورت نہیں، بلکہ صالح سیاسی، سماجی و اقتصادی قیادت کی بھی ضرورت ہے، اور دنیاوی علوم و فنون سے نا آشنا ہونے کے سبب علمائے کرام دنیاوی امور سے پورے طور پر واقف نہیں ہوتے۔ ایسی صورت میں وہ قوم کی رہنمائی ہر محاذ پر نہیں کر سکتے۔ مدارس اسلامیہ کے ارباب انتظام اگر اپنے نظام و نصاب میں کچھ عصری مضامین شامل فرما کر اپنے بچوں کو فاصلاتی تعلیم سے منسلک کر دیں تو بہت اچھا ہو گا۔

جب بھی ملک کی عظیم درس گاہوں میں انقلابی کیفیت پیدا ہو جائے گی تو ان شاء اللہ تعالیٰ ہندوستان میں علمائے کرام کا معیار بدل جائے گا۔ اس سے ایک بڑا خوش آئند انقلاب یہ آئے گا کہ علمائے کرام سیاسی، سماجی و اقتصادی امور میں بھی قوم کی رہنمائی کا فریضہ انجام دے سکیں گے اور مختلف حکومتی محکمہ جات میں علمائے اسلام کی شمولیت کے اسباب و وسائل بھی میسر آسکیں گے۔ جب قوم کے رہنما ترقی یافتہ ہوں گے تو ان شاء اللہ تعالیٰ وہ ترقیاتی امور کی جانب قوم کی بھی رہنمائی کر سکیں گے۔ آپ کی ترقی قوم کی ترقی ہے۔

ہم نے مدارس اسلامیہ کے طلباء اور نو فارغین کو فاصلاتی تعلیم سے منسلک کرنے کے لیے حافظ ملت ایجوکیشنل اینڈ کلچرل سوسائٹی رانی بنور، کرناٹک کے زیر اہتمام ایک رسالہ بنام “گائیڈ بک فار ڈسٹینس ایجوکیشن” (Guide Book for Distance Education) طبع کروا کے سال ۲۰۱۱ء سے تادم تحریر ہندوستان کے اکثر مدارس اسلامیہ میں تقسیم کیا اور بہت سے لوگوں نے اس سے استفادہ بھی کیا۔ ہم اسلام اور اہل اسلام کی ترقی چاہتے ہیں۔ یہ اسی وقت آسان ہو گا کہ جب رہنمایان اسلام اور قائدین ملت ہر قسم کی قیادت و رہنمائی کے لائق ہوں۔ علمائے کرام بھی ہمارے ساتھ قومی و ملی عروج و ارتقا کے لیے کام کریں۔

بین المذاہب مذاکرات

ہندوستان میں ہندو فرقہ پرست تحریکوں نے ہندو مسلم عداوت و رقابت کا ایسا دروازہ کھول دیا ہے کہ اسے بند کرنا مشکل نظر آ رہا ہے۔ ہندوستان کے اسلامی سلاطین سے متعلق جھوٹے الزامات عائد کر کے قوم ہنود کو مسلسل اکسایا جا رہا ہے۔ چند مشہور الزامات یہ ہیں:

  1. مسلم بادشاہوں نے ہندوستان میں ساٹھ ہزار مندروں کو توڑا۔

  2. موقع بموقع ہندوؤں کا قتل عام کیا۔

  3. بالجبر ہندوؤں کو مذہب اسلام میں داخل کیا۔

ایک نتیجہ خیز صورت یہ سمجھ میں آتی ہے کہ قوم مسلم کی کوئی غیر سیاسی نمائندہ جماعت ان فرقہ پرست قوتوں سے باہمی مذاکرات شروع کرے، الزامات کی تردید تاریخی روایات و دیگر ذرائع سے کی جائے۔ دونوں مذاہب کے پیروکاروں کے مابین منافرت کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے، تا کہ ملک میں امن و سلامتی اور یکجہتی و ہم آہنگی کا رنگ ڈھنگ پیدا ہو سکے۔

وَمَا تَوْفِيقِي إِلَّا بِاللّٰهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ، وَالصَّلَاةُ عَلَى حَبِيبِهِ الْكَرِيمِ وَآلِهِ الْعَظِيمِ. [ماہنامہ “پیغام شریعت” (دہلی) ۲۰۱۷ جنوری، ص: ۳۵]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!