Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

نماز میں رفع یدین کی شرعی حیثیت

نماز میں رفع یدین کی شرعی حیثیت
عنوان: نماز میں رفع یدین کی شرعی حیثیت
تحریر: مولانا محمد صلاح الدین رضوی
پیش کش: حافظ فرمان المصطفیٰ نظامی حسینی حنفی

وہابی غیر مقلدین نماز میں رفع یدین، یعنی رکوع سے اٹھتے وقت دونوں ہاتھوں کو اٹھانے پر بڑا زور دیتے ہیں اور عوام کو یقین دلانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہمارا اہل سنت و جماعت سے بنیادی اختلاف اسی طرح کے اعمال میں ہے، وہ اپنے قول کی تائید میں احادیثِ طیبہ پیش کر کے عوام سے اپنے مسلک کی حقانیت تسلیم کرانے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ اہل سنت و جماعت اور وہابی غیر مقلد کے درمیان بنیادی اختلاف عقائد کا ہے کہ ان کے پیشواؤں نے اللہ جل جلالہ و حضرت رسولِ دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم اور اولیائے کرام علیہم الرحمۃ والرضوان کی شان میں گستاخیاں کر کے اسلامی عقائد و نظریات کے خلاف اپنا عقیدہ و نظریہ پیش کیا ہے۔

رفع یدین کا اختلاف ایک تو فرعی مسئلہ ہے، لیکن اس اختلاف کو یہ لوگ اچھالتے رہتے ہیں، اس لیے اس اختلاف کی وضاحت ذیل میں درج کی جاتی ہے تاکہ حقانیت واضح ہو جائے۔

وہابی غیر مقلد رفع یدین کے ثبوت میں مندرجہ ذیل احادیثِ طیبہ کو دلیل بناتے ہیں۔

  1. امام زہری، سالم سے روایت کرتے ہیں اور وہ اپنے والد گرامی سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے فرمایا کہ میں نے حضرت رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نماز شروع کرتے وقت اور رکوع کو جاتے اور رکوع سے اٹھتے وقت اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں مونڈھوں تک اٹھاتے تھے۔ [ترمذی]
  2. حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع فرماتے تو ہاتھ شریف کاندھوں تک اٹھاتے اور جب رکوع کے لیے تکبیر فرماتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تب بھی ایسے ہی ہاتھ اٹھاتے تھے۔ [بخاری و مسلم]
  3. محمد بن عمرو بن عطا سے روایت ہے کہ میں نے ابوحمید ساعدی سے دس صحابہ کی جماعت میں سنا کہ انھوں نے کہا کہ میں تم لوگوں سے زیادہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو جانتا ہوں تو صحابہ کرام نے فرمایا، تم ہم سے زیادہ حضور کی نماز سے کیسے واقف ہو گئے؟ نہ تو تم ہم سے زیادہ حضور کے ساتھ رہے، نہ ہم سے پہلے تم صحابی ہوئے، تو ابوحمید بولے بے شک ایسا ہی ہے۔ پھر صحابہ کرام نے فرمایا کہ اس حدیث کو ظاہر فرماؤ، تاکہ معلوم ہو جائے کہ تم ہم لوگوں سے زیادہ حضور کی نماز کو جانتے ہو تو ابوحمید ساعدی نے کہا، حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اپنے ہاتھوں کو کاندھوں تک اٹھاتے اور تکبیر کہتے، قراءت کرنے کے بعد پھر تکبیر کہتے اور دونوں ہاتھوں کو اپنے کاندھوں تک اٹھاتے تھے۔ [ابوداؤد]

مذکورہ بالا احادیثِ طیبہ سے رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت رفع یدین کا ثبوت ہوتا ہے، لیکن فقہ حنفی میں رفع یدین خلافِ سنت ہے، فقہائے احناف اپنے قول کی تائید میں درج ذیل احادیثِ مبارکہ کو پیش کرتے ہیں۔

  1. حضرت علقمہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ حضرت عبداللہ بن مسعود نے فرمایا، کیا میں تمہارے سامنے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز نہ پڑھوں، پس آپ نے نماز پڑھی تو اس میں تکبیرِ تحریمہ کے سوا کبھی بھی ہاتھ نہ اٹھایا۔ [ترمذی]

امام ترمذی نے فرمایا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود کی حدیث حسن ہے اور رفع یدین نہ کرنے پر بہت سے علماء، صحابہ اور علمائے تابعین کا عمل ہے۔ ابن حزم نے کہا یہ حدیث صحیح ہے۔

  1. حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ حضور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم پہلی تکبیر میں ہاتھ اٹھاتے تھے اور پھر کبھی نہ اٹھاتے تھے۔ [طحاوی] امام ترمذی کے بیان کے مطابق یہ حدیث بھی حسن ہے۔ [حاشیہ طحاوی]
  2. حضرت اسود سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ پہلی تکبیر میں اپنے ہاتھ اٹھاتے تھے، پھر کبھی نہیں اٹھاتے تھے۔ [طحاوی شریف]
  3. حضرت عاصم بن کلیب کے والد سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نماز کی پہلی تکبیر میں ہاتھ اٹھاتے تھے، پھر کبھی ہاتھ نہ اٹھاتے تھے۔ [طحاوی شریف]

امام ابنِ حجر نے کہا کہ اس حدیث کے سارے راوی ثقہ ہیں۔ امام زیلعی نے کہا کہ یہ حدیث صحیح ہے اور عینی نے عمدۃ القاری میں کہا کہ یہ حدیث مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔ [حاشیہ آثار السنن]

مذکورہ روایات کی روشنی میں یہ حقیقت ثابت ہو جاتی ہے کہ حضور سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم سے دونوں طرح کا عمل ثابت ہے، لیکن رفع یدین ابتدائے اسلام کا عمل تھا جو بعد میں منسوخ ہو گیا، کیونکہ رفع یدین کی کسی بھی حدیث میں یہ ذکر موجود نہیں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ عمل آخری وقت تک رہا، جبکہ دوسری احادیثِ طیبہ سے یہ بات خوب واضح ہو جاتی ہے کہ حضور سیدِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے رفع یدین کا عمل ابتدائی عہد میں تھا، بعد میں آپ نے اس عمل کو چھوڑ دیا اور آخری وقت تک رفع یدین نہ کرنے پر عمل کرتے رہے۔

  1. عینی شرح بخاری میں ہے: حضرت عبداللہ بن زبیر سے روایت ہے کہ آپ نے ایک شخص کو رکوع میں جاتے اور رکوع سے اٹھتے وقت ہاتھ اٹھاتے دیکھا تو اس سے فرمایا کہ ایسا نہ کرو، کیوں کہ یہ وہ کام ہے جو حضور سرورِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے کیا تھا، پھر چھوڑ دیا۔

رفع یدین کی حدیث کے ایک راوی حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما بھی ہیں جیسا کہ ماقبل میں گزرا، لیکن آپ خود رفع یدین نہ کرتے تھے جیسا کہ امام طحاوی اور حافظ ابوبکر ابن ابی شیبہ نے حضرت مجاہد سے روایت کیا ہے: میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پیچھے نماز پڑھی تو آپ نماز میں پہلی تکبیر کے سوا کسی وقت ہاتھ نہ اٹھاتے تھے۔

آثار السنن میں ہے کہ اس حدیث کی سند صحیح ہے، اور جب راوی کا اپنا عمل اپنی ہی روایت کے خلاف ہو تو اس سے معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ حدیث خود راوی کے نزدیک بھی منسوخ ہے۔

اگر کوئی اعتراض کرے کہ بخاری شریف میں ہے: حضرت عبداللہ بن عمر جب نماز میں داخل ہوتے تو تکبیر کے وقت اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے اور جب ”سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ“ کہتے، جب بھی دونوں ہاتھ اٹھاتے اور جب دو رکعتوں سے کھڑے ہوتے، جب بھی دونوں ہاتھ اٹھاتے اور اس فعل کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب فرماتے تھے، پس اس حدیث پاک سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر بوقتِ رکوع ہاتھ اٹھاتے تھے، جبکہ آپ کہہ رہے ہیں کہ وہ ہاتھ نہ اٹھاتے تھے تو اس کا جواب یہ ہے کہ ان سے ہاتھ اٹھانا اور نہ اٹھانا دونوں فعل منقول ہیں تو نسخ کی خبر ملنے سے پہلے آپ ہاتھ اٹھاتے تھے اور نسخ کی خبر ملنے کے بعد ہاتھ نہ اٹھاتے تھے۔

رفع یدین کی حدیثیں منسوخ ہیں جیسا کہ حضرت مغیرہ کی اس روایت سے واضح ہوجاتا ہے: میں نے ابراہیم نخعی سے عرض کیا کہ حضرت وائل نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ شروع نماز میں اور رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت ہاتھ اٹھاتے تھے تو آپ نے جواب دیا کہ حضرت وائل نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک بار رفع یدین کرتے دیکھا ہے تو حضرت عبد اللہ بن مسعود نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو پچاس دفعہ رفع یدین نہ کرتے دیکھا ہے۔ [طحاوی]

اس سے معلوم ہوا کہ حضرت وائل کے مقابلے میں حضرت عبد اللہ بن مسعود کی روایت بہت قوی ہے، کیوں کہ وہ صحابہ میں بہت بڑے فقیہ ہونے کے علاوہ حضور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں اکثر رہنے والے اور نماز میں حضور سے قریب ترین کھڑے ہونے والے تھے۔ اس لیے کہ آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: تم میں سے مجھ سے قریب وہ رہے، جو علم و عقل والا ہو۔ [طحاوی]

حضرت عبد اللہ بن مسعود کی روایت کردہ حدیث کی فوقیت حضرت ابراہیم نخعی کے ان بیانات سے مزید واضح ہوجاتی ہے۔ آپ ارشاد فرماتے ہیں: وائل بن حجر دیہات کے رہنے والے تھے، وہ اسلام کے احکام سے پورے واقف نہ تھے، وہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک ہی نماز پڑھ سکے تھے، جبکہ مجھ سے بے شمار لوگوں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود سے روایت کی کہ آپ صرف ابتدائے نماز میں ہاتھ اٹھاتے تھے اور اس عمل کو وہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے تھے اور عبد اللہ بن مسعود احکامِ اسلام سے خبردار، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات کی تحقیقی خبر رکھنے والے، حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے سفر و حضر کے ساتھی تھے۔ انہوں نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بے شمار نمازیں پڑھیں۔ [مسند امام اعظم]

حضرت عبد اللہ بن مسعود کی اس روایت کو ان باتوں سے اور بھی تقویت مل جاتی ہے کہ آپ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے رفع یدین نہ کرنے والی حدیث کو صحابہ کرام کے مجمع میں بیان فرمایا تھا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے رفع یدین نہ کرنے کی بات اگر صحیح نہ ہوتی اور ان صحابہ کو یہ بات معلوم نہ ہو چکی ہوتی کہ رفع یدین کا حکم منسوخ ہو چکا ہے تو یہ حضرات ضرور حضرت عبد اللہ بن مسعود کی اس روایت کا انکار فرما دیتے، جبکہ ان صحابہ کرام نے ایسا نہ کیا۔

امام ترمذی نے فرمایا کہ بہت سے علماء، صحابہ و تابعین رفع یدین نہ کرتے تھے، اور دارقطنی میں حضرت عبد اللہ بن مسعود سے روایت ہے: میں نے حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق و حضرت فاروق کے ساتھ نمازیں پڑھیں تو یہ حضرات شروع نماز میں پہلی تکبیر کے سوا اور کسی بھی وقت ہاتھ نہ اٹھاتے۔

تو بتایا جائے کہ حکم اگر منسوخ نہ تھا تو ان حضرات نے اسے کیوں چھوڑا؟ عقل کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ رکوع میں رفع یدین نہ ہو، کیوں کہ رکوع کی تکبیر، تکبیرِ تحریمہ کی طرح نہیں ہے، بلکہ سجدہ کی تکبیر کی طرح ہے۔ اس لیے کہ تکبیرِ تحریمہ فرض ہے اور رکوع و سجدہ کی تکبیریں سنت ہیں، تکبیرِ تحریمہ نماز میں صرف ایک بار ہوتی ہے، جبکہ رکوع و سجدہ کی تکبیریں بار بار ہوتی ہیں۔ تکبیرِ تحریمہ سے اصل نماز شروع ہوتی ہے، جبکہ رکوع و سجدہ کی تکبیروں سے رکن نماز شروع ہوتا ہے نہ کہ اصل نماز، تو جب رکوع کی تکبیر، تکبیرِ تحریمہ کی طرح نہیں ہے، بلکہ سجدہ کی تکبیر کی طرح ہے تو رکوع کی تکبیر کی وہی کیفیت ہوگی جو سجدہ کی تکبیر کی ہے، پس جس طرح سجدہ کی تکبیر میں ہاتھ نہیں اٹھایا جاتا تو اسی طرح رکوع کی تکبیر میں بھی ہاتھ نہیں اٹھایا جائے گا۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!