| عنوان: | تعزیہ کی حقیقت اور مروجہ تعزیہ داری کا شرعی حکم |
|---|---|
| تحریر: | محمد سلمان العطاری |
| پیش کش: | مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان عطار نیپال گنج |
تعزیہ کی حقیقت اور مروجہ تعزیہ داری کا شرعی حکم
taziya-ki-haqeeqat-aur-murawwaja-taziya-dari-ka-sharai-hukm ۔جب اسلامی سال کا پہلا مہینہ محرم الحرام آتا ہے تو مسلمانوں کے دلوں میں نواسۂ رسول، جگر گوشۂ بتول، سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ اور شہدائے کربلا کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔ یقیناً امام حسین رضی اللہ عنہ سے محبت ایمان کا حصہ ہے، کیونکہ آپ رضی اللہ عنہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب نواسے ہیں۔ لیکن افسوس کہ بعض لوگ محبتِ امام حسین رضی اللہ عنہ کے نام پر ایسے کاموں میں مبتلا ہو جاتے ہیں جن کا شریعتِ اسلامیہ سے کوئی تعلق نہیں۔
تعزیہ بنانے کا اصل مقصد
واضح رہے کہ تعزیہ بنانے کا مقصدِ اصلی سید الشہداء، نواسۂ رسول، شہزادۂ بتول حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے ہم رفقاء کی یاد کو تازہ کر کے ان کی یاد منانا ہے۔
اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ جو براہِ راست نواسۂ رسول حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کے مزارِ پرانوار کی زیارت کو نہ جا سکے، وہ اپنے گھر ہی میں مزارِ حسین کا نقشہ بنا کر اس کی زیارت کر کے یاد کو تازہ کر لے، یہی مقصدِ اصلی ہے تعزیہ بنانے کا۔
زہے قسمت جن احباب کی وسعت مزارِ اصلی (حقیقی) تک رسائی کی ہو تو وہ وہاں جا کر براہِ راست زیارت سے مشرف ہو کر یاد منائیں۔
یہ بھی قابلِ غور امر ہے کہ جب اس طرح کا تعزیہ بنایا جائے تو ان کا ادب و احترام لازم ہے، اور اسی حد تک تعزیہ بنانے کی اجازت ہے۔
جب سنیوں کا طریقہ کار مذکورہ بالا ہے تو سوال ہوتا ہے کہ آج ہمارے معاشرے میں جو طریقہ رائج ہے وہ آیا کہاں سے؟
تو معلوم ہوا کہ یہ غیروں سے نقل کیا گیا طریقہ ہے۔ ہمارے بھولے بھالے سنیوں میں ایک بری عادت یہ ہے کہ یہ غیروں کی عادت و اطوار کو بہت جلد قبول کر لیتے ہیں۔ مروجہ تعزیہ داری ایک ایسا فعل ہے جو اپنے اندر بے شمار خرافات و واہیات سموئے ہوئے ہے۔ اب ذرا ہمیں غور و فکر کرنا چاہیے کہ مروجہ تعزیہ داری جو امام حسین رضی اللہ عنہ کی محبت میں بناتے ہیں، کیا یہ واقعی محبتِ صادق ہے یا علم سے ناآشنائی۔
تعزیہ دراصل ایک فرضی ڈھانچہ یا شبیہ ہوتی ہے جسے بعض لوگ امام حسین رضی اللہ عنہ کے روضۂ مبارک کی یادگار سمجھ کر بناتے ہیں۔ اس کا بنیادی تصور یہ تھا کہ جو لوگ کربلائے معلیٰ جا کر روضۂ امام حسین رضی اللہ عنہ کی زیارت نہ کر سکیں، وہ علامتی طور پر ایک نقشہ بنا کر یاد تازہ کریں۔
لیکن شریعت میں عبادات اور دینی امور اپنی اصل دلیل کے ساتھ ثابت ہوتے ہیں۔ دین میں اپنی طرف سے نئے طریقے ایجاد کرنا درست نہیں، چاہے نیت کتنی ہی اچھی کیوں نہ ہو۔
محبتِ امام حسین رضی اللہ عنہ کا صحیح تقاضا
امام حسین رضی اللہ عنہ کی محبت صرف ظاہری رسومات کا نام نہیں بلکہ حقیقی محبت یہ ہے کہ:
- ان کی سیرت کو اپنایا جائے۔
- دین پر ثابت قدمی سیکھی جائے۔
- نماز، تقویٰ اور سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پابندی کی جائے۔
- ظلم و باطل کے خلاف حق کا ساتھ دیا جائے۔
حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے میدانِ کربلا میں اسلام کی سربلندی کے لیے اپنی جان قربان فرمائی، نہ کہ کھیل تماشے، شور و غوغا اور رسم و رواج کے لیے。
مروجہ تعزیہ داری میں پائی جانے والی خرافات
آج کل معاشرے میں جو تعزیہ داری رائج ہے اس میں بے شمار غیر شرعی امور شامل ہو چکے ہیں، مثلاً:
- ڈھول، تاشے اور باجے بجانا
- ناچ گانا اور کھیل تماشے
- تعزیہ کے سامنے سجدہ نما افعال
- فرضی کربلا بنا کر تعزیہ دفن کرنا
- بچوں کو فقیر بنا کر بھیک منگوانا
- نوحہ و ماتم کرنا
- روافض کے مرثیے پڑھنا
- پریوں، براق اور مختلف جانداروں کی تصاویر بنانا
یہ تمام امور شریعت کے خلاف اور ناجائز ہیں۔ دینِ اسلام سادگی، سنت اور اعتدال کا درس دیتا ہے، نہ کہ ایسی رسموں کا جن میں بدعات اور خرافات شامل ہوں۔
علمائے اہلِ سنت کا مؤقف
اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِ سنت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”تعزیہ رائج ناجائز و بدعت ہے اور اس کا بنانا گناہ و معصیت، اور اس پر شیرینی وغیرہ چڑھانا محض جہالت اور اس کی تعظیم بدعت و جہالت ہے۔“ [فتاویٰ رضویہ، ج: 24، ص: 501]
اسی طرح دیگر علمائے اہلِ سنت نے بھی موجودہ مروجہ تعزیہ داری کو ناجائز قرار دیا ہے کیونکہ اس میں غیر شرعی رسمیں اور بدعات شامل ہو چکی ہیں۔
مسلمانوں کو کیا کرنا چاہیے؟
محرم الحرام میں ہمیں چاہیے کہ:
- شہدائے کربلا کا ذکر ادب و احترام سے کریں۔
- قرآن خوانی، درود شریف اور نیک اعمال کا اہتمام کریں۔
- امام حسین رضی اللہ عنہ کی سیرت پڑھیں اور دوسروں کو پڑھائیں۔
- بدعات، خرافات اور ناجائز رسومات سے بچیں۔
- اتحادِ امت اور محبتِ اہلِ بیت کو فروغ دیں۔
لبِ لباب
امام حسین رضی اللہ عنہ کی محبت ہمارے ایمان کا سرمایہ ہے، مگر محبت کا تقاضا یہ ہے کہ ان کی تعلیمات پر عمل کیا جائے، نہ کہ ایسے رسم و رواج اختیار کیے جائیں جو شریعت کے خلاف ہوں۔ ہمیں چاہیے کہ محرم الحرام کو صبر، تقویٰ، عبادت اور سیرتِ حسینی پر عمل کا ذریعہ بنائیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح عقیدہ، سچی محبتِ اہلِ بیت اور سنت کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔
