| عنوان: | نئی دنیا کی نئی ایجاد |
|---|---|
| تحریر: | زریں امجدی |
| پیش کش: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد |
اللہ تعالیٰ نے بے شمار مخلوقات (جنہیں اہلِ علم نے علامتاً اٹھارہ ہزار عوالم سے تعبیر کیا ہے) کو وجود بخشا، ہر ایک کو اپنی ایک جداگانہ شان، امتیاز اور خصوصیت عطا فرمائی۔ مگر ان سب کے درمیان انسان کو ایک خاص مقام سے نوازا، اسے اخص الخاص بنا کر اشرف المخلوقات کے درجے پر فائز کیا۔ اس کی ساخت میں توازن، اس کی فطرت میں شعور، اور اس کے باطن میں عقل و دانائی کی وہ روشنی رکھ دی جو اسے دیگر تمام مخلوقات سے ممتاز کرتی ہے۔
انسان ہی وہ مخلوق ہے جسے زمین پر حکمرانی کا شرف حاصل ہوا، اور جو صدیوں سے ارتقا و ترقی کی منازل طے کرتا چلا آ رہا ہے۔ پتھر کے ابتدائی دور سے نکل کر آج وہ سائنسی اور فکری عروج کے ایسے مقام پر پہنچ چکا ہے جہاں اس کی بصیرت زمانے کی رفتار کو بھی مات دیتی نظر آتی ہے۔ اس تمام سفر میں سب سے نمایاں کردار اس کی عقل و علم کا ہے، جو اس کی حقیقی پہچان اور قوت کا سرچشمہ ہیں۔
باری تعالیٰ نے انسان کو علم کی ایسی وسعتیں اور گہرائیاں عطا فرمائیں جن کا احاطہ خود عقلِ انسانی کے لیے بھی دشوار ہے۔ زبان کے اسرار، معانی کے دقائق، اور علوم کی عمیق پرتیں سب اس کے دامنِ ادراک میں ودیعت کر دی گئیں۔ اسے ایسی عظیم امانت سونپی گئی جس کی حقیقت تک رسائی میں خود عقلِ انسانی عاجز اور درماندہ دکھائی دیتی ہے۔
حرکت کی لطافت، گویائی کی فصاحت، بینائی کی بصیرت اور احساس کی نزاکت—یہ سب وہ انمول قوتیں ہیں جو انسان کے وجود میں سمو دی گئی ہیں۔ اور ان تمام کمالات کا تاج، ان سب کا معیارِ اعلیٰ، انسان کی عقل ہے؛ وہی عقل جو اسے رفعتوں تک لے جاتی ہے اور اسے اپنی حقیقت پہچاننے کا شعور عطا کرتی ہے۔
عقل، جسمِ انسانی کے تمام نظاموں پر محیط ایک ہمہ گیر قوت ہے؛ جسم کی ہر جنبش و سکون اس کی نگرانی میں رہتے ہیں۔ انسان جب بھی کوئی حرکت کرتا ہے، عقل فوراً اس پر گرفت قائم کر کے نفع و ضرر سے آگاہ کر دیتی ہے۔ مثلاً جب کوئی تنکا یا گرد و غبار آنکھ کے قریب آتا ہے تو انسان بے ساختہ متحرک ہو اٹھتا ہے، پلکیں فوراً جھپک کر بند ہو جاتی ہیں اور یوں آنکھ محفوظ رہتی ہے۔ درحقیقت انسانی دماغ ایک ایسا حیرت انگیز مرکزِ ادراک ہے جو اپنی وسعت و کارکردگی میں بڑے بڑے سپر کمپیوٹروں پر سبقت لے جاتا ہے، اور اس میں بے شمار معلومات کو محفوظ رکھنے کی غیر معمولی صلاحیت ودیعت کی گئی ہے۔
یہی بنیادی نکات دراصل مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کے آغاز و ارتقا کا پیش خیمہ بنے۔ “Artificial Intelligence” دو الفاظ کا مرکب ہے: “Artificial” بمعنی مصنوعی، اور “Intelligence” بمعنی ذہانت؛ گویا ایسی ذہانت جو انسانی فہم و ادراک کی نقل پر مبنی ہو۔ اس تصور کی علمی بنیادیں 1950ء میں استوار ہونا شروع ہوئیں، جب دنیا بھر کے ممتاز سائنس دانوں نے اس میدان میں تحقیق و جستجو کا آغاز کیا۔ بالآخر 1956ء میں ڈارٹ ماؤتھ کانفرنس کے موقع پر Dr. John McCarthy نے مختلف اہلِ علم کی کاوشوں کو یکجا کرنے کا ایک انقلابی تصور پیش کیا، اور اسی جامع فکر کو “Artificial Intelligence” کا نام دے کر ایک نئے عہدِ سائنسی کی بنیاد رکھ دی۔
اس کے بعد مصنوعی ذہانت برق رفتاری سے ارتقا کی منازل طے کرتی چلی گئی۔ اسے انسانی دماغ کے طرز پر اس طرح ترتیب دیا گیا کہ ایک ذہین انسان کی صفات—ادراک، تجزیہ، فیصلہ سازی اور یادداشت—کو مصنوعی انداز میں اس میں سمو دیا گیا۔
چنانچہ آج اس کا عروج اس حد تک پہنچ چکا ہے کہ ہمارے گرد و پیش کی بیشتر اشیا میں اسی کی جھلک نمایاں دکھائی دیتی ہے۔
موبائل فون اور لیپ ٹاپ کی ذہانت، چہرے اور آواز کی پہچان کے ذریعے آلات—مثلاً موبائل اور دروازوں—کا خودکار طور پر کھل جانا، کسی شے کی موجودگی کا دور سے اندازہ لگا لینا، حتیٰ کہ زمین کے اندر پوشیدہ خزانوں یا معدنیات کا سراغ مشینوں کے ذریعے حاصل کرنا—یہ سب اسی حیرت انگیز انقلاب، یعنی مصنوعی ذہانت کے کرشمے ہیں، جس نے انسانی زندگی کو نئی جہت اور نئی رفتار عطا کر دی ہے۔
ماضی میں سرجری جیسے نازک امور سراسر انسانی ہاتھوں کے مرہونِ منت تھے، مگر اب Artificial Intelligence کی معاونت سے پیچیدہ سے پیچیدہ آپریشن بھی سہولت اور دقتِ نظر کے ساتھ انجام دیے جا رہے ہیں۔ مصنوعی اعضا—ہاتھ، پیر—محض تصور نہ رہے بلکہ حقیقت کا روپ دھار چکے ہیں۔ حتیٰ کہ سائنس دانوں نے مصنوعی دل کی تخلیق میں بھی کامیابی حاصل کی، جس کے ذریعے انسان مہینوں بلکہ بعض اوقات سالوں تک زندگی کی سانسیں برقرار رکھ سکتا ہے۔ تاہم، چونکہ اس میں کچھ خطرات اور پیچیدگیاں بدستور موجود ہیں، اس لیے تحقیق کا رخ اب ایسے محفوظ اور مستقل مصنوعی دل کی طرف مڑ چکا ہے جو انسان کو قدرتی دل ہی کی مانند بےخطر اور معمول کی زندگی بسر کرنے کے قابل بنا سکے۔
مزید برآں، علم و معلومات کے حصول میں بھی ایک انقلاب برپا ہو چکا ہے۔ Google اور ChatGPT جیسے ذرائع نے سوال و جواب کے روایتی انداز کو بدل کر رکھ دیا ہے؛ اب کسی بھی موضوع—خواہ تعلیمی ہو یا روزمرہ زندگی سے متعلق—پر چند لمحوں میں جامع اور مربوط معلومات دستیاب ہو جاتی ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے علم تک رسائی پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ آسان اور تیز ہو گئی ہے۔ ایک معمولی سوال، مثلاً چائے بنانے کا طریقہ، بھی مرحلہ وار اور نہایت سلیقے سے بیان کر دیا جاتا ہے، اور دینی معاملات میں کسی حدیث کی تلاش ہو تو محض ایک اشارہ ہی رہنمائی کے لیے کافی ثابت ہوتا ہے۔
اس میدان میں عالمی سطح پر بھی ایک مسابقتی فضا قائم ہو چکی ہے۔ اگر اس میدانِ ہنر کے ماہرین کی بات کی جائے تو United States ان میں سرِفہرست دکھائی دیتا ہے، جس نے ذہانتِ مصنوعی کے افق پر سبقت کا پرچم بلند کیا ہے۔ یہاں کی نامور کمپنیاں، خصوصاً Google اور Microsoft، نہایت سرعت اور جدّت کے ساتھ اس فن کو نئی سمت دے رہی ہیں۔ ادھر China بھی اس دوڑ میں کسی سے پیچھے نہیں، بلکہ چہرہ شناسی (facial recognition) اور نگرانی (surveillance) جیسی ٹیکنالوجیز میں اس نے اپنی انفرادیت کا لوہا منوا لیا ہے اور ایک نمایاں مقام حاصل کر لیا ہے۔
آج کے عہد میں ذہانتِ مصنوعی (AI) نے زندگی کے تقریباً ہر شعبے میں اپنی رسائی قائم کر لی ہے—خواہ وہ طب ہو، دفاعی میدان، آٹوموبائل کی صنعت ہو یا کھیل کا وسیع دائرہ۔ اس ہمہ گیر اثر کے باعث انسانی زندگی میں غیر معمولی آسانیاں پیدا ہو گئی ہیں اور اس کے فوائد روزِ روشن کی طرح عیاں ہیں۔
غرض یہ کہ AI کے فوائد بےشمار اور بےمثال ہیں؛ تاہم، جہاں یہ روشن امکانات کا سفیر ہے، وہیں اس کے پردۂ مستقبل میں چند ایسے خدشات بھی جھلکتے ہیں جو انسانی بصیرت اور محتاط تدبر کے متقاضی ہیں۔ اور اس کے موجدین نے بھی اس کے مستقبل کے استعمال میں حد درجہ احتیاط برتنے کی تلقین کی ہے۔ چنانچہ Geoffrey Hinton، جنہیں “Godfather of AI” کہا جاتا ہے، خود اس امر کا اعتراف کرتے ہیں کہ کبھی کبھی انہیں اس ایجاد پر ندامت محسوس ہوتی ہے کہ انہوں نے کیا چیز دنیا کے سامنے لا کھڑی کی ہے۔ تاہم وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر وہ اسے وجود میں نہ لاتے تو کوئی اور ضرور لاتا۔ لہٰذا ناگزیر ہے کہ ہم اس ٹیکنالوجی کو نہایت احتیاط، بصیرت اور ذمہ داری کے ساتھ استعمال کریں، ورنہ یہی قوت ہمارے لیے ایک سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔ بلاشبہ یہ ایجاد جہاں سہولتوں کا ایک نیا جہان وا کرتی ہے، وہیں انسانی معاشرے کے لیے کئی سنجیدہ سوالات بھی جنم دیتی ہے۔
سب سے بڑا اندیشہ انسانی روزگار کو لاحق ہے؛ کیونکہ انسان عموماً چند مخصوص فنون تک محدود ہوتا ہے، جبکہ مصنوعی ذہانت ہمہ جہت صلاحیتوں کی حامل دکھائی دیتی ہے۔ ایک ہی لمحے میں، محض ایک اشارے پر، وہ بے شمار امور انجام دینے کی قدرت رکھتی ہے۔ جب مشینیں، روبوٹ اور خودکار نظام انسانی محنت کے بیشتر میدانوں میں دخیل ہو جائیں گے تو یہ خطرہ قوی ہو جاتا ہے کہ انسان اپنی ہی تخلیق کے سامنے ثانوی حیثیت اختیار کر لے۔
یہی نہیں، سماجی و خاندانی نظام بھی اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہتا۔ اگر ایک مشین انسانی جذبات کی نقالی کرتے ہوئے، بظاہر ہر وہ خدمت انجام دینے لگے جو ایک شریکِ حیات سے وابستہ سمجھی جاتی ہے تو ازدواجی رشتوں کی معنویت پر بھی سوالیہ نشان کھڑا ہو سکتا ہے۔ انسان، جو اختلافات اور جذباتی پیچیدگیوں کے ساتھ جیتا ہے، ممکن ہے ایک ایسی دنیا کی طرف مائل ہو جائے جہاں تعلقات کی جگہ سہولت کو فوقیت حاصل ہو۔
مزید برآں، یہ اندیشہ بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ ضرورت سے زیادہ انحصار ذہنی وسعت کو محدود کر دے گا۔ تخلیقی اور تنقیدی صلاحیتیں ماند پڑ سکتی ہیں، اور یوں انسان اپنی فکری آزادی کھو بیٹھے گا۔ اگر یہی روش برقرار رہی تو بعید نہیں کہ ایک وقت ایسا آئے جب انسان اپنی ہی بنائی ہوئی ذہانت کے زیرِ اثر آ جائے—اور یہ غلبہ یقیناً انسانی وقار اور خودمختاری کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
بالآخر یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ مصنوعی ذہانت نہ مکمل طور پر فائدہ مند ہے اور نہ ہی سراسر نقصان دہ؛ بلکہ اس کا دار و مدار انسان کے طرزِ استعمال پر ہے کہ وہ اسے اپنے لیے رحمت بناتا ہے یا زحمت، خوشحالی کا ذریعہ بناتا ہے یا تباہی کا پیش خیمہ۔ اگر انسان اسے اعتدال، بصیرت اور اخلاقی حدود کے ساتھ بروئے کار لائے تو یہی ایجاد اس کے لیے ترقی و خوشحالی کا وسیلہ بن سکتی ہے، ورنہ یہی قوت اس کے لیے آزمائش کا سبب بھی بن سکتی ہے۔
مصنوعی ذہانت اگرچہ حیرت انگیز صلاحیتوں کی حامل ہے، لیکن یہ انسان کے احساسات، فکر اور روح کی جگہ کبھی نہیں لے سکتی۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ہم ترقی کی اس دوڑ میں ٹیکنالوجی کے غلام بننے کے بجائے اسے اپنا خادم بنائیں اور انسانی اقدار کو ہر حال میں مقدم رکھیں۔
