| عنوان: | پہلی ام المومنین! حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا (دوسری قسط) |
|---|---|
| تحریر: | مفتی محمد عبد الرحیم تشتر فاروقی |
| پیش کش: | شاہین صبا نوری بنت محمد ظہیر رضوی |
امت مسلمہ کی وہ پہلی مقدس خاتون جن کی رفاقت نے پیغمبر اسلام اور ان کی تبلیغی مشن کو تقویت پہنچائی
آقائے کائنات ﷺ سے آپ کا نکاح
حضور ﷺ کی امانت و دیانت کی تو آپ پہلے ہی سے قائل تھیں، اب حضور سے متعلق سفرِ شام کے واقعات سن کر اور فرشتوں کا آپ کے لیے سایہ فگن ہونا دیکھ کر مزید آپ کی گرویدہ ہو گئیں، دل نے آواز دی کیوں نہ اس پاک طینت، عظیم الشان اور خوبَرو جوان کو شریکِ حیات بنا لیا جائے، چنانچہ آپ نے اپنے دل کی بات اپنی سہیلی نفیسہ بنتِ منیہ سے کہی، ان کی سہیلی اس واقعہ کی روداد کچھ اس طرح سناتی ہیں:
”خدیجہ نے نکاح سے قبل نبی کریم ﷺ کے پاس مجھے بھیجا تاکہ میں آپ کی مرضی معلوم کر سکوں، میں نے جا کر ان سے کہا ”آپ کو شادی سے کس چیز نے روکا ہے؟ فرمایا: میرے پاس کیا رکھا ہے جو میں شادی کر لوں؟ میں نے کہا: اگر مال کی طرف سے آپ کو بے پرواہ کر دیا جائے اور صاحبِ ثروت، حسین و جمیل اور ہم کفو خاتون سے نکاح کی دعوت دی جائے تو کیا آپ اسے قبول فرما لیں گے؟ آپ نے فرمایا ’وہ کون ہے؟‘ میں نے کہا ’خدیجہ‘ آپ نے فرمایا: مجھے منظور ہے۔“ [الاصابہ، ج: ۸، ص: ۱۰۱]
ابنِ اسحاق نے اسے یوں روایت کیا ہے:
”حضرت خدیجہ ایک نہایت دوراندیش، شریف النفس، دانشمند خاتون تھیں اللہ نے انھیں معزز اور صاحبِ ثروت بنایا تھا، میسرہ سے ان واقعات کو سن کر اس بات کی متمنی ہوئیں کہ حضور نبی کریم ﷺ انھیں اپنی زوجیت سے سرفراز فرمائیں تو حضور کو انھوں نے اس طرح پیغام بھیجا کہ اے میرے چچا زاد! چونکہ آپ مجھ سے قرابتِ قومی رکھتے ہیں، آپ پوری قوم میں محترم ہیں، امانت و دیانت، حسنِ خلق اور صدقِ مقال کے اوصاف سے متصف ہیں لہذا مجھے آپ کے ساتھ رغبت ہے، میں آپ کی زوجیت کی خواہش رکھتی ہیں۔ حضرت خدیجہ قریش کی عورتوں میں اعلیٰ نسب والی اور سب سے زیادہ مالدار تھیں، قریش کا ہر شخص اس بات کا خواہاں تھا کہ کاش! وہ آپ سے شادی کر سکتا۔“ [البدایہ والنہایہ، ج: ۲، ص: ۲۷۳-۲۷۴]
حضرت خدیجہ نے مذکورہ واقعات دیکھ اور سن کر اپنی دوراندیشی و فراستِ باطنی سے یہ اندازہ لگا لیا تھا کہ یہ کوئی معمولی ہستی نہیں، ضرور مستقبل کی کوئی باکمال اور یگانۂ روزگار ہستی ہے، تو کیوں نہ ایسے عظیم اور محترم شخص کی رفاقت حاصل کی جائے، مکہ کے بڑے بڑے امراء و رؤسا کو ٹھکرا کر ایک درِ یتیم کو اپنا شریکِ حیات منتخب کرنا آپ کی طہارتِ باطنی اور شرافت پسندی کی روشن دلیل ہے۔
پھر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا ابو طالب اور خاندان کے دیگر مخصوص حضرات جن میں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے، سے مشورہ لئے، ادھر حضرت خدیجہ نے بھی اپنے چچا عمرو بن اسد اور چچا زاد بھائی ورقہ ابن نوفل وغیرہ سے رائے مشورہ کیا، پھر طرفین کی رضامندی کے بعد تاریخِ نکاح متعین ہوئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تاریخِ مقررہ پر ابو طالب اور تمام اکابرِ خاندان جن میں آپ کے چچا حضرت حمزہ بن عبد المطلب، حضرت ابو بکر صدیق اور قبیلۂ مضر کے رؤسا بھی تھے، کے ہمراہ حضرت خدیجہ الکبریٰ کے مکان پر تشریف لائے، حضرت خدیجہ نے بھی اپنے چچا عمرو بن اسد کے ساتھ ہی اپنے خاندان کے دیگر بڑوں کو جمع کیا تھا، ابو طالب نے خطبۂ نکاح پڑھا، عمرو بن اسد کے مشورہ سے ۵۰۰ رطلائی درہم مہر قرار پایا، اس طرح حضرت خدیجہ حرمِ نبوت میں داخل ہو کر پہلی ”ام المومنین“ کے شرف سے ممتاز ہو گئیں، اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک پچیس سال اور حضرت خدیجہ الکبریٰ کی عمر چالیس سال کی تھی۔
اس سے قبل یکے بعد دیگرے حضرت خدیجہ کے دو نکاح ہوئے تھے اور دونوں شوہروں کے فوت ہو جانے کے سبب آپ نے اور نکاح کا خیال ذہن سے نکال دیا تھا، یہی وجہ تھی کہ مکہ کے بڑے بڑے امراء و رؤسا نے آپ کو نکاح کے پیغامات بھیجے لیکن آپ نے کسی کی طرف ذرہ برابر بھی التفات نہ فرمایا۔
اہلِ سیر بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیدہ خدیجہ الکبریٰ نے نکاح سے قبل ایک خواب دیکھا تھا کہ سورج اُن کے گھر میں اتر آیا ہے جس کا نور اُن کے گھر سے پھیل رہا ہے، یہاں تک کہ مکہ مکرمہ کا کوئی گھر ایسا نہیں بچا جو اس نور سے روشن نہ ہوا ہو، جب وہ بیدار ہوئیں تو یہ خواب اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل سے بیان کیا، جو ایک ماہرِ عالم اور نجومی تھے، انہوں نے اس خواب کی یہ تعبیر بتائی کہ آفتابِ نبوت صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح کریں گے جو بالکل درست ثابت ہوا۔
اس سلسلے میں یہ واقعہ بھی پیش آیا کہ مکہ کی عورتیں جاہلیت کی کسی عید کے موقع پر جمع تھیں جن میں حضرت خدیجہ بھی شامل تھیں، اچانک ایک شخص ظاہر ہوا جس نے بلند آواز سے یہ ندا کی کہ: اے مکہ کی عورتو! تمہارے شہر میں عنقریب ایک نبی ظاہر ہوگا جس کا نام ”احمد“ ہوگا، تو تم میں سے جو عورت ان کی زوجہ بننے کا شرف حاصل کر سکے تو وہ ایسا ضرور کرے، اس پر تمام عورتوں نے اس منادی کو کنکریاں ماریں لیکن حضرت خدیجہ نے اسے ایک بھی کنکر نہیں مارا۔
آغازِ زوجی اور حضرت خدیجہ کی بالغ نظری
آثار و قرائن، واقعات اور پیشین گوئیوں سے حضرت خدیجہ کو یہ یقین ہو چلا تھا کہ ان کے شریکِ حیات ہی وہ آخری نبی ہیں جن کی بعثت کی بشارت حضرت موسیٰ و عیسیٰ علیہما السلام نے دی ہے، اس کے بعد حضور سے آپ کی عقیدت و محبت میں روز افزوں اضافہ ہونے لگا اور اس بات کی آرزو بھی کہ جلد سے جلد وہ ساعتِ سعید آ جائے جب حضور اپنی نبوت کا اعلان فرمائیں اور اسی شوق و لگن میں وہ بار بار ورقہ بن نوفل سے بعثتِ نبوی کے بارے میں دریافت فرماتیں، چنانچہ زبیر بن بکار سے روایت ہے کہ حضرت خدیجہ جب جب ورقہ بن نوفل سے نبی آخر الزماں کی بعثت کے بارے میں دریافت کرتیں تو وہ جواب دیتے: میرا گمان ہے کہ یہ وہی نبی ہیں، جن کی بشارت حضرت موسیٰ اور عیسیٰ (علیہما السلام) نے دی ہے۔
حضرت خدیجہ بحیثیتِ بیوی
بحیثیتِ بیوی ایک عورت کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنے شوہر کے ہر دکھ سکھ میں ساتھ دے، اس کی رضا و خوشنودی کا خیال رکھے، بیوی پر بعض اہم فرائض عائد ہوتے ہیں، جن کو ادا کر کے ایک عورت اپنے گھر، اپنے سماج اور معاشرے کو جنت نشان بنا کر خود بھی اپنی عاقبت سنوارتی ہے، نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ سب سے افضل مال ذکر کرنے والی زبان، شکر کرنے والا دل اور صالح بیوی ہے، حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: عورت اس وقت تک ایمان کی حلاوت نہیں پا سکتی جب تک کہ وہ اپنے شوہر کا حق ادا نہ کرے۔
چناں چہ حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا حضور نبی کریم ﷺ کی جاں نثار تھیں، اعلانِ نبوت سے قبل ایک وفاشعار رفیقۂ حیات کی حیثیت سے تاحیات حضور کی رفاقت میں رہیں، آپ کی سیرتِ طیبہ بحیثیتِ بیوی ہر مسلم خاتون کے لئے نمایاں اور قابلِ تقلید ہے، اپنی جان، مال سب کچھ اپنے شوہر پر نچھاور کر دیا، اعلانِ نبوت کے بعد نبی کریم ﷺ کے خلاف مخالفتوں کا ایک طوفانِ سابر بپا ہو گیا، انھیں امین و صادق تسلیم کرنے والے بھی ”ساحر“ گرداننے لگے، ایسے میں حضرت خدیجہ ہی وہ ہستی تھیں جنہوں نے نبی کریم ﷺ کی دلجوئی فرمائی اور انہیں ہمت و حوصلہ دیا، آپ نے آغازِ وحی کے دن جس فہم و فراست کا ثبوت دیا وہ تاریخِ اسلام کا ایک روشن باب ہے، چناں چہ حدیثِ پاک میں ہے:
”غارِ حرا میں اچانک جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ پڑھئے، حضور نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا: میں پڑھا ہوا نہیں، آپ فرماتے ہیں کہ فرشتے نے مجھے سینے سے لگا کر اتنے زور سے بھینچا کہ میری طاقت جواب دے گئی، پھر مجھے چھوڑ کر کہا کہ پڑھئے، میں نے پھر وہی جواب دیا کہ میں پڑھا ہوا نہیں، فرشتے نے مجھے پھر اتنی طاقت سے بھینچا کہ مجھ کو سخت تکلیف محسوس ہوئی، پھر اس نے کہا کہ پڑھئے! میں نے کہا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں، فرشتے نے تیسری بار مجھے بھینچا پھر مجھے چھوڑ دیا اور کہنے لگا کہ پڑھئے اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا انسان کو جمے ہوئے خون کے لوتھڑے سے، پڑھئے اور آپ کا رب بڑا ہی عظمت والا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان آیتوں کے ساتھ اس حال میں غارِ حرا سے واپس ہوئے کہ آپ کا دل اس انوکھے واقعے سے کانپ رہا تھا، آپ حضرت خدیجہ کے ہاں تشریف لائے اور فرمایا کہ مجھے کمبل اڑھا دو، مجھے کمبل اڑھا دو، انہوں نے آپ کو کمبل اڑھا دیا، یہاں تک کہ خوف کی کیفیت جاتی رہی، پھر آپ نے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کو پورا واقعہ سنایا اور فرمایا: میری جان خطرے میں ہے، آپ کی رفیقۂ حیات حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ہرگز نہیں، اللہ کی قسم! اللہ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا، آپ تو صلہ رحمی کرنے والے، بے کسوں کا بوجھ اپنے سر پر رکھنے والے، مفلسوں کے لیے کمانے والے، مہمان نوازی کرنے والے اور راہِ حق میں مصائب برداشت کرنے والے ہیں۔
پھر مزید تسلی کے لیے حضرت خدیجہ آپ کو اپنے چچازاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں، جو زمانۂ جاہلیت میں نصرانی ہو چکے تھے اور عبرانی زبان میں پڑھنے لکھنے کے ماہر تھے، چناں چہ اس وقت نسخۂ منشائے خداوندی عبرانی زبان میں لکھا کرتے تھے، وہ بہت بوڑھے ہو گئے تھے یہاں تک کہ ان کی بینائی بھی رخصت ہو چکی تھی، حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اے میرے چچازاد بھائی! ذرا اپنے بھتیجے (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) کی بات سنو! ورقہ بن نوفل نے دریافت کیا: اے میرے بھتیجے! کیا معاملہ ہے، ذرا تفصیل بتاؤ، چناں چہ حضور نے از اول تا آخر پورا واقعہ سنا دیا، جسے سن کر ورقہ بے اختیار بول اٹھے کہ یہ تو وہی ناموس ہے جسے اللہ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر اتارا تھا، کاش! میں آپ کے اعلانِ نبوت کے وقت جوان ہوتا، کاش! میں اس وقت تک زندہ رہتا جب آپ کی قوم آپ کو اس شہر سے نکال دے گی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر تعجب سے پوچھا: کیا میری قوم مجھے اس شہر سے نکال دے گی؟ ورقہ نے کہا: ہاں! جو پیغام آپ لے کر آئے ہیں، وہ جو بھی لے کر آیا لوگ اس کے دشمن ہو گئے، اگر مجھے آپ کے اعلانِ نبوت کا زمانہ مل گیا تو میں آپ کی پوری پوری مدد کروں گا، مگر ورقہ کچھ دنوں کے بعد انتقال کر گئے، پھر کچھ عرصے تک وحی کا سلسلہ موقوف رہا۔ [بخاری شریف، ج: اول، ص: ۲-۳]
ابن اسحاق کی روایت میں ہے کہ حضرت خدیجہ نے نبی کریم ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے یوں کہا:
”قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں خدیجہ کی جان ہے، مجھے امیدِ قوی ہے کہ آپ ہی اس امت کے آخری نبی ہیں۔“ [سیرت ابن ہشام، ج: ۱، ص: ۲۵۴]
سب سے پہلے ایمان سے سرفراز ہونے والی خاتون
جس وقت نبی کریم ﷺ نے اعلانِ نبوت فرمایا، اس وقت پورے شہر مکہ میں خاموشی چھا گئی، کسی نے حضور کی آواز پر لبیک نہیں کہا، ہر سمت سے سناٹا تھا، کسی نے نبی کریم ﷺ کی تصدیق نہ کی! صرف انھیں جھٹلانے والوں کا شور تھا، ایسے پرخطر ماحول میں نبی ﷺ کی تصدیق کے لیے اگر کسی کی آواز رب کے اس ظلمت و ضلالت بھرے ماحول میں گونج رہی تھی تو وہ تھی سیدہ طاہرہ ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کی ذاتِ بابرکات جن کے لبوں پر لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا سرمدی ترانہ جاری تھا۔
آپ کو مصطفیٰ جانِ رحمت ﷺ کو ان کی خوشی کس قدر عزیز تھی کہ ان کے وصال کے بعد بھی آپ کی کوئی محفل ان کے ذکر سے خالی نہیں ہوتی تھی، یہی نہیں بلکہ آقائے کریم ﷺ نے ان عورتوں کو بھی کبھی فراموش نہیں کیا جو حضرت خدیجہ کی سہیلیوں کی صف میں آتی تھیں یا ان سے محبت کرتی تھیں، ہر اہم موقع پر ان کو تحفہ و تحائف بھی بھیجا کرتے تھے، تاریخ میں میاں بیوی کے درمیان ایسی محبت کی نظیر نہیں ملتی، اگر ہماری ماں, بہنیں حضرت خدیجۃ الکبریٰ کو اپنا آئیڈیل بنا لیں تو اسلامی معاشرہ بہت ساری لعنتوں سے محفوظ ہو جائے گا۔
جاری۔۔
