| عنوان: | پہلی ام المومنین! حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا (تیسری قسط) |
|---|---|
| تحریر: | مفتی محمد عبد الرحیم تشتر فاروقی |
| پیش کش: | شاہین صبا نوری بنت محمد ظہیر رضوی |
امت مسلمہ کی وہ پہلی مقدس خاتون جن کی رفاقت نے پیغمبر اسلام اور ان کی تبلیغی مشن کو تقویت پہنچائی
حضور نبی کریم ﷺ کی تمام اولادِ کرام آپ سے
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اولادوں میں چار شہزادیاں ہیں جبکہ شہزادوں کی تعداد میں اختلاف ہے کچھ نے تین شمار کیا ہے (۱) حضرت قاسم (۲) حضرت عبداللہ (۳) حضرت ابراہیم اور کچھ نے پانچ شمار کیا ہے (۴) حضرت طیب (۵) حضرت طاہر رضی اللہ عنہم! لیکن اکثر تین پر متفق ہیں اور اس سلسلے میں یہ کہا گیا کہ طیب و طاہر حضرت عبداللہ ہی کا لقب تھا، بہرحال اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ حضور کی تمام اولادیں سوائے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کے، حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کے ہی بطنِ مبارک سے تولد ہوئیں، صاحبزادوں میں (۱) حضرت قاسم (۲) حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہما اور صاحبزادیوں میں (۳) حضرت زینب (۴) حضرت رقیہ (۵) حضرت ام کلثوم اور (۶) حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہن، صاحبزادوں کی قدرے تفصیل حسبِ ذیل ہے:
- سب سے پہلے شہزادے اکبر حضرت قاسم رضی اللہ عنہ کی ولادت مکہ مکرمہ میں ہوئی، جنھوں نے ۲ سال کی عمر پائی اور اعلانِ نبوت سے پہلے ہی انتقال فرما گئے، حضور نے انھیں کے نام سے ”ابوالقاسم“ کنیت اختیار فرمائی۔
- دوسرے شہزادے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ اعلانِ نبوت کے بعد پیدا ہوئے اور ایک سال ۶ ماہ ۸ دن کی عمر پا کر طائف میں انتقال فرما گئے۔
- تیسرے شہزادے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ جو ام المومنین حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کے بطنِ مبارک سے تھے، یہ حضور نبی کریم ﷺ کی آخری اولاد ہیں، سن ۸ ہجری میں ولادت ہوئی اور تقریباً ۱۶ ماہ کی عمر گزار کر ۱۰ ہجری میں انتقال فرمایا۔
حضرت خدیجہ تمام ازواجِ مطہرات سے افضل ہیں
دیگر فضائل و خصائل کے ساتھ ساتھ حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کو تمام امہات المومنین میں افضل ہونے کا شرف بھی حاصل ہے، چناں چہ حضرت ابو امامہ بن نقاش فرماتے ہیں:
”حضرت خدیجہ کی سبقتِ اول اسلام میں ان کی تاثیر اور دینِ خدا کے قیام و نصرت اور اس کی تقویت کے لیے اپنے مال کو خرچ کرنے میں ہے، جس میں ان کا کوئی شریک نہیں، نہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور نہ دیگر امہات المومنین۔“ [زرقانی علی المواہب، ج: ۳، ص: ۲۲۶]
فروغِ اسلام کے لیے حضرت خدیجہ کی مالی قربانیاں
ام المومنین حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کو پچیس سالوں تک بلا شرکتِ غیر نبی کریم ﷺ کی رفاقت و زوجیت نصیب ہوئی، اس دوران آپ نے نبی کریم ﷺ کی خدمة و اطاعة، الفة و محبة، عقیدة و احترام اور وفاشعاری و فرماں برداری کی وہ روایت قائم کی کہ جس کی نظیر نہیں ملتی، آپ نے اپنا مال و متاع، درہم و دینار اور زمین و جائداد سب کچھ نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں پیش کر دیا، نکاح کے بعد اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل سے فرمایا:
”یہ سارا مال لے کر محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور کہو کہ یہ سب مال میری طرف سے ان کی خدمت میں ہدیہ ہے، اب یہ ان کی ملکیت ہے، جس طرح چاہیں اس کو خرچ کریں اور ان سے یہ بھی کہہ دینا کہ میرے پاس جو کچھ ہے، میرا مال، میرے غلام اور جو چیزیں میرے ماتحت، تصرف یا قبضہ میں ہیں، میں نے سب کا سب ان کو ہبہ کیا، آپ کے ارشاد کے مطابق ورقہ بن نوفل گئے اور زمزم و مقامِ ابراہیم کے درمیان کھڑے ہو کر نہایت بلند آواز سے لوگوں کو پکارا: اے گروہِ عرب! حتمی طور پر خدیجہ تمہیں اس بات پر گواہ بناتی ہیں کہ انہوں نے اپنے نفس، اپنے مال، اپنے غلام و خدام اور وہ تمام چیزیں جن کی وہ مالکہ ہیں، از قسم چوپایہ و اموال اور ہدایا وغیرہ سب کچھ محمد کو ہبہ کیا اور جو کچھ خدیجہ نے انہیں ہبہ کیا، انہوں نے قبول فرما لیا ہے، خدیجہ نے اپنا سارا مال و متاع ان کی جلالت و عظمت کے پیشِ نظر اور ان کی طرف رغبت کرتے ہوئے ہبہ کیا ہے، لہٰذا تم سب لوگ اس بات پر گواہ رہو۔“
جس کا ذکر اللہ رب العزت نے قرآنِ مجید میں یوں فرمایا:
وَوَجَدَكَ عَائِلًا فَأَغْنَىٰ
یعنی (اے محبوب) تمہیں حاجت مند پایا پھر غنی کر دیا۔ [الضحی: ۸]
امام نسفی نے اس آیت کی تفسیر یوں فرمائی:
فَاَغْنَاكَ بِمَالِ خَدِیْجَۃَ۔ یعنی نبی کریم ﷺ کو حضرت خدیجہ کے مال کے ذریعہ غنی کر دیا۔ [تفسیر نسفی، ج: ۴، ص: ۶۶۴]
حضرت خدیجہ نے اپنی ملک گیر تجارت سے حاصل ہونے والی بے پناہ رقم کو اسلام کی ترویج و اشاعت میں صرف کیا، چنانچہ اعلانِ نبوت کے کچھ عرصہ قبل کا واقعہ ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ ایک دفعہ مکہ سے باہر تشریف لے گئے، آپ نے دیکھا کہ پہاڑوں کی وادی میں ایک قافلہ پڑاؤ ڈالے ہوئے ہے، اہلِ قافلہ انتہائی مفلوک الحال، بھوک پیاس سے نڈھال ہو چکے ہیں، جسم پر کپڑے تک نہ تھے، غریبوں کے غم خوار نبی نے ان لوگوں کی حالت دیکھا تو بہت غمگین ہوئے، گھر تشریف لائے اور چادر اوڑھ کر لیٹ گئے، حضرت خدیجہ کو تشویش ہوئی، آپ نے خیریت دریافت کی تو حضور نے اس قبیلے کا حال کہہ سنایا اور فرمایا: میرے پاس اتنا مال نہیں ہے کہ میں ان کی مدد کروں، یہ سن کر حضرت خدیجہ تڑپ اٹھیں اور کہا: ”حضور! ذرا مکہ کے فلاں، فلاں سرداروں کو بلائیے، آپ نے ایسا ہی کیا، اتنی دیر میں حضرت خدیجہ نے اشرفیوں کا ڈھیر لگا دیا کہ جب حضور ﷺ واپس تشریف لا کر بیٹھے تو اس ڈھیر کے پیچھے چھپ گئے، حضرت خدیجہ نے تمام سردارانِ قریش کو مخاطب کر کے فرمایا: ”آپ سب گواہ رہیے کہ میں نے یہ ساری دولت محمد (ﷺ) کو دے دی، وہ جیسے چاہیں اسے خرچ کریں، اہلِ سیر اور محدثین فرماتے ہیں:
- دعوتِ ذوالعشیرہ کے سہ روزہ اجلاس کے انتظامات اور دسترخوان کو حضرت خدیجہ ہی کے مال سے سجایا گیا۔
- ہجرتِ حبشہ جس کے پہلے قافلے میں ۱۱ مرد اور ۴ عورتیں، دوسرے قافلے میں ۸۵ مرد اور ۱۷ مستورات شامل تھیں، ان کی آمد
- سابقون الاولون جو کہ انتہائی پسماندہ اور مکہ کے غریب ترین، نادار و مفلس، غلاموں اور کنیزوں پر مشتمل طبقہ تھا، اہل مکہ نے جن پر عرصۂ حیات تنگ کر رکھا تھا اور مکہ کا بچہ بچہ ان کا دشمن بنا ہوا تھا، ان کے جملہ اخراجات اور حضورﷺ کی جانب سے کی جانے والی استعانت مالِ خدیجہ ہی سے تھی۔
- مکہ کی شدید قحط سالی کے زمانے میں اہل اسلام کے علاوہ پورے مکہ اور اطراف و جوانب کے پریشان حال لوگوں کی مدد اور خوراک کی فراہمی بھی آپ کے مال سے ہوئی۔
- بعثتِ نبوی کے ساتویں سال محرم الحرام سے لے کر بعثتِ نبوی کے نویں سال ذی الحجہ تک شعبِ ابی طالب میں پورے خاندانِ بنی ہاشم اور بنی عبدالمطلب کی قید و بند کی سختیوں کے دوران پورے قبیلے کی کفالت اور بعد ازاں حضور کی جملہ ضروریات کے اخراجات بھی حضرت خدیجہ کے مال سے پورے ہوئے۔
- حضور نبی کریمﷺ کے سفرِ طائف کے تمام اخراجات سیدہ خدیجہ کے مال سے ہوئے۔
- غارِ ثور میں تین شبانہ روز قیام اور مدینہ منورہ جانے کے لئے سواری اور اہل اسلام کی ہجرتِ مدینہ کے تمام اخراجات آپ ہی کے مال سے ادا ہوئے۔
- عالمِ اسلام کی پہلی مسجد قبا کے لئے خریدی جانے والی زمین کے لئے دس ہزار دینار، آپ ہی کے مال سے ادا ہوئے۔
- اصحابِ صفہ کے جملہ اخراجات حضرت خدیجہ ہی کے مال سے ادا ہوتے رہے۔
- ہجرتِ مدینہ کے لئے مکہ کے بیکس و مجبور، مظلوم و ستم رسیدہ، فاقہ کش و نادار، غریب مہاجرین جو ابھی تک کفارِ مکہ اور صنادیدِ قریش کے پنجهٔ ظلم و ستم میں سسک رہے تھے، جن میں مؤذنِ رسول حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ کا نامِ نامی اسمِ گرامی بھی شامل ہے، ان کی آزادی کے عوض کفارِ مکہ نے کئی سو گنا زیادہ رقم کا مطالبہ کیا جو حضرت خدیجہ ہی کے پاکیزہ مال سے ادا کی گئی۔
غرض کہ اسلام کی رگوں میں دوڑنے والے خون کا ایک ایک قطرہ اور اس عظیم الشان قلعے کی ایک ایک اینٹ ام المومنین حضرت سیدہ خدیجہ طاہرہ کے مبارک و مسعود مال کا رہینِ منت ہے۔
عورتوں میں تبلیغِ اسلام
حضرت خدیجہ ایمان لانے کے بعد اپنے عزیز از جاں شوہر اور ان کے تبلیغی مشن میں دل و جان سے جٹ گئیں، آپ نے خواتین میں تبلیغِ اسلام کی کمان سنبھال لی، آپ کی مسلسل کوششوں سے بے شمار خواتین حلقہ بگوشِ اسلام ہوئیں، جن میں ام فضل، اسما بنت ابوبکر، ام جمیل، فاطمہ بنت خطاب، اسماء بنت عمیس کے اسمائے گرامی قابلِ ذکر ہیں۔
امتیازات و خصوصیات
اعلانِ نبوت کے بعد سب سے پہلے آپ ہی نے نبی کریمﷺ کی نبوت و رسالت کی تصدیق کی اور ایمان و اسلام کی لازوال دولت سے مالامال ہوئیں، اس طرح آپ دنیا کی سب سے ”پہلی مسلمان“ تھیں۔
سب سے پہلی ”ام المومنین“ ہونے کا مقام و مرتبہ آپ کے حصے میں آیا۔
حضرت خدیجہ الکبریٰ ہی کے گھر سے اسلام کا نور چمکا اور پوری کائنات کو روشن و منور کیا نیز اسی میں سیدۂ کائنات خاتونِ جنت سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا اور ان کی تمام خواہرات کی ولادتِ باسعادت ہوئی، حضور جب تک مکہ مکرمہ میں رہے اسی گھر میں رہے اور حضرت خدیجہ کا وصال بھی اسی مقدس گھر میں ہوا۔
مکہ معظمہ میں حضرت خدیجہ الکبریٰ کا گھر مسجدِ حرام کے بعد سب سے افضل ترین جگہ ہے۔
نسب کے لحاظ سے بھی آپ دیگر ازواجِ مطہرات کی بنسبت حضور نبی کریم ﷺ سے زیادہ قریب تھیں۔
۶۔ حضرت خدیجہ دنیا کی وہ پہلی خاتون ہیں جنہیں اللہ رب العزت نے اپنا سلام بھیجا۔
۷۔ تمام ازواجِ مطہرات میں حضرت خدیجہ کو سب سے زیادہ ۲۵ سال تک نبی کریم ﷺ کی رفاقت نصیب ہوئی۔
۸۔ جب حضرت خدیجہ باحیات رہیں، حضور نبی کریم ﷺ نے کوئی دوسرا نکاح نہیں فرمایا۔
۹۔ جس سال حضرت خدیجہ کا وصال ہوا، حضور کو اتنا صدمہ ہوا کہ آپ نے اس سال کا نام ہی ”عام الحزن“ یعنی غموں کا سال رکھ دیا۔
۱۰۔ حضور نبی کریم ﷺ کو اولاد کی نعمت بھی انہیں کے بطنِ مبارک سے حاصل ہوئی۔
۱۱۔ بعدِ وصال حضرت خدیجہ کی قبرِ انور میں بنفسِ نفیس حضور نبی کریم ﷺ اترے اور ان کے لیے دعائے خیر فرمائی۔
۱۲۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے وصال کے بعد بھی کثرت سے آپ کا ذکرِ خیر فرمایا کرتے تھے۔
۱۳۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو جنت کا انگور کھلایا۔
وصالِ مبارک
نبی کریم ﷺ نے ان کے علاج و معالجہ، خبر گیری و دلجوئی میں کوئی کسر نہ چھوڑی، بالآخر ۲۵ سال کا ایک طویل عرصہ سرکارِ مدینہ ﷺ کی رفاقت میں گزار کر ہجرت سے ۳ سال قبل ۱۰ رمضان المبارک کو ۶۵ سال کی عمر میں آپ نے جانِ جان آفریں کے سپرد کی، حجون میں مدفون ہوئیں جو کہ معظمہ کے ایک بلند مقام پر واقع ہے، جسے ”جنت المعلیٰ“ بھی کہتے ہیں، حضور نبی کریم ﷺ بنفسِ نفیس خود آپ کو قبرِ انور میں اتارا، دعائے خیر فرمائی اور سپر دِ خاک کیا، اس وقت تک نمازِ جنازہ مشروع نہیں ہوئی تھی۔ [زرقانی علی المواہب، ج: ۳، ص: ۲۲۷]
حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
”جس وقت حضرت خدیجہ مرض الموت کی حالت میں تھیں تو نبی کریم ﷺ ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: اے خدیجہ! جب تم اپنی سوتنوں سے ملو تو ان کو میرا سلام کہنا، آپ نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ! کیا آپ نے مجھ سے پہلے بھی کسی سے نکاح فرمایا ہے؟ حضور نے فرمایا: نہیں، لیکن جنت میں اللہ میرا نکاح مریم بنتِ عمران، آسیہ زوجہ فرعون اور کلثوم خواہرِ حضرت موسیٰ سے فرمائے گا اور زبیر ابنِ بکار کے الفاظ ہیں: حضور مرضِ الموت کے وقت حضرت خدیجہ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: اے خدیجہ! جو کچھ میں نے تمہارے لیے دیکھا ہے، کیا تم اس سے خوش نہیں، اللہ تعالیٰ اس ناپسندیدگی میں ہی خیر فرمانے والا ہے، یعنی ہماری جدائی کے اس غم میں بھی خیر ہے، تمہیں معلوم نہیں اللہ تعالیٰ نے مجھے خبر دی ہے کہ اللہ عنقریب جنت میں تمہارے ساتھ ساتھ میرا نکاح مریم بنتِ عمران، آسیہ زوجہ فرعون اور کلثوم سے فرمائے گا، یہ سن کر آپ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا اللہ نے آپ کو یہ خبر دی ہے، حضور نے فرمایا: بے شک۔“ [زرقانی علی المواہب، ج: ۳، ص: ۲۲۶]
حضرت خدیجہ بحیثیتِ ماں
حضرت خدیجہ نے جہاں ایک مثالی اور قابلِ تقلید بیوی کے فرائض بحسن و خوبی انجام دیئے، وہیں بحیثیتِ ماں اپنی اولاد کی ایسی مثالی تربیت فرمائی جو رہتی دنیا تک خواتینِ اسلام کے لیے نمونۂ عمل ہے، آپ نے نہ صرف اپنی چھ اولاد کی مثالی پرورش و پرداخت کی بلکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بھی اپنی اولاد کی طرح پالا پوسا، آپ کے صاحبزادگان حضرت قاسم اور حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہما تو بچپنے میں ہی راہیِ ملکِ عدم ہو گئے، جن کے وصال پر ملال پر آپ نے جس صبر و تحمل کا ثبوت دیا وہ آپ ہی کا حصہ ہے۔
پھول تو دو چار دن اپنی چمک دکھلا گئے
حسرت ان غنچوں پہ ہے جو بن کھلے مرجھا گئے
