| کہانی: | قربانی کی بہاریں |
|---|---|
| تحریر: | ام الفضل رضویہ |
| پیش کش: | نور زہرہ |
| منجانب: | لباب اکیڈمی |
بلال سات سالہ بچہ تھا، جو اپنے دادا جی کے ساتھ قربانی کا بکرا لینے گیا تھا۔ اس نے دیکھا کہ دادا جی بہت خوشی سے اچھا بکرا دیکھ کر لائے ہیں اور اب اسے چارہ کھلا رہے ہیں۔ تو اس نے دادا جی سے پوچھا:
بلال: دادا جی! یہ قربانی کیا ہوتی ہے؟
دادا جی: بیٹا جی! خاص دنوں میں خاص جانور کو اللہ کی رضا کے لیے ذبح کرنے کو قربانی کہتے ہیں۔
بلال: دادا جی! یہ قربانی کیوں کرتے ہیں؟ کیا اللہ خوش ہوتا ہے؟
دادا جی (مسکراتے ہوئے): جی بیٹا! اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں فرماتا ہے:
فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْؕ [الکوثر: 2]
ترجمہ: ”تم اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔“
اور یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت بھی ہے۔ دراصل ایک مرتبہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کا حکم فرمایا، تو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت اسماعیل علیہ السلام کو قربانی کے لیے لے گئے اور آنکھوں پر پٹی باندھ کر اپنے لختِ جگر کی گردن پر چھری چلائی، مگر تبھی اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت جبرائیل علیہ السلام جنت سے دنبہ لے آئے اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ دنبے کی قربانی ہو گئی۔ تب سے یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے کہ ہر سال عید الاضحیٰ پر جانور کی قربانی کی جاتی ہے۔
بلال: واہ! سبحان الله! دادا جی! اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے بیٹے کو بھی قربان کر دیتے ہیں؟
دادا جی: بالکل! اور قربانی کا حقیقی مطلب تو یہی ہے نا کہ اپنی پسندیدہ چیز کو رب کی رضا کے لیے قربان کیا جائے۔ آپ کو بھی اگر زندگی میں موقع ملے تو رب کے لیے اپنی پسندیدہ چیز قربان کرتے ہوئے گھبرانا نہیں۔
بلال: جی دادا جی! میں ایسا ہی کروں گا۔ دادا جی! کیا ہم صرف بکرے کی ہی قربانی کر سکتے ہیں؟
دادا جی: نہیں بیٹا! قربانی کے جانور تین قسم کے ہیں:
- اونٹ،
- گائے (اس میں بھینس بھی شامل ہے)،
- بکری (دنبہ اور بھیڑ بھی اسی حکم میں ہیں)
ان میں سے کسی بھی جانور کی قربانی جائز ہے، لیکن بلال بیٹا! بڑے جانور، مثلاً اونٹ، گائے اور بھینس وغیرہ میں سات حصے ہوتے ہیں، جبکہ بکری یا بکرا ایک ہی حصے میں ہوتا ہے۔
بلال: جی دادا جی! سمجھ گیا، الحمد لله۔ اور دادا جی! کیا قربانی کافر اور مسلمان سب کرتے ہیں؟
دادا جی: نہیں بچہ! قربانی کے لیے کچھ شرائط بھی ہیں۔ اگر وہ چیزیں نہ پائی جائیں تو قربانی واجب نہیں ہوتی:
- مسلمان ہونا (کافر پر قربانی واجب نہیں)
- مقیم ہونا (یعنی اپنے گھر پر ہو، سفر میں نہ ہو؛ کیونکہ مسافر پر قربانی واجب نہیں)
- مالکِ نصاب ہونا
- آزاد ہونا (غلام پر قربانی واجب نہیں)
یہ شرائط پائی جائیں گی، تب ہی قربانی واجب ہوگی، ورنہ نہیں۔
بلال (کچھ سوچ کر): دادا جی! میں مسلمان بھی ہوں، آزاد بھی اور مقیم بھی، تو مجھ پر بھی قربانی واجب ہوئی نا؟ مگر آپ تو میرے لیے بکری لائے ہی نہیں؟
دادا جی (پھر مسکرائے اور بلال کی پیشانی پر بوسہ لیا): میرے پیارے بچے! ظاہرِ روایت یہی ہے کہ نابالغ پر قربانی واجب نہیں، اگرچہ وہ مالکِ نصاب ہو۔ البتہ افضل یہ ہے کہ قربانی کی جائے۔ [فتاویٰ رضویہ، ج: ٢٠، ص: ٣٦٩]
بلال: اچھا دادا جی! مالکِ نصاب کسے کہتے ہیں؟
دادا جی: مالکِ نصاب اسے کہتے ہیں، جو ساڑھے سات تولے سونا یا ساڑھے باون تولے چاندی کا مالک ہو۔ اگر تھوڑا سونا اور کچھ چاندی ہو تو دیکھا جائے گا کہ وہ ساڑھے باون تولے چاندی کی قیمت کے برابر یا اس سے زیادہ ہے یا نہیں۔ اگر اس کی قیمت برابر یا زیادہ ہے تو قربانی واجب ہوگی。
مثال کے طور پر موجودہ وقت میں ایک کلو چاندی دو لاکھ پچاسی ہزار کی ہے، تو ساڑھے باون تولے چاندی تقریباً ایک لاکھ چوہتر ہزار کی ہوگی۔ لہٰذا اگر کسی کے پاس ایک لاکھ چوہتر ہزار روپے کے برابر سونا، چاندی، رقم یا ان سب کا مجموعہ ہو تو اس پر قربانی واجب ہوگی。
بلال: اچھا! یہ حساب ہے۔ تو دادا جی! کیا صرف سونے چاندی والا ہی مالکِ نصاب ہوگا؟
دادا جی: نہیں! اگر کسی کے پاس دو تین فون یا لیپ ٹاپ ہوں یا اور کوئی مہنگا سامان ہو، تو جو استعمال میں آتا ہے وہ نصاب میں داخل نہیں ہوگا، لیکن اگر ایک سے زیادہ فون یا لیپ ٹاپ ضرورت سے زائد ہوں تو اضافی سامان نصاب میں شمار ہوگا۔ یونہی اگر کسی نے گھر یا زمین بیچنے کے لیے خریدی ہو تو اسے بھی نصاب میں شامل کیا جائے گا۔
بلال: ما شاء الله! مجھے اچھے سے مسائل سمجھ آگئے، دادا جی۔ آپ دنیا کے سب سے اچھے دادا جی ہیں۔ اب میں بھی ہمیشہ خوش دلی سے قربانی کروں گا، إن شاء الله تعالى。
دادا جی: ما شاء الله! ما شاء الله! إن شاء الله آپ بہت سمجھدار ہیں، میرے بیٹے! حدیثِ پاک ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا:
”ذی الحجہ کی دسویں تاریخ میں ابنِ آدم کا کوئی عمل خون بہانے (یعنی قربانی کرنے) سے افضل نہیں، اور وہ جانور قیامت کے دن اپنے سینگوں، بالوں اور کھروں کے ساتھ آئے گا، اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقامِ قبول میں پہنچ جاتا ہے، لہٰذا اسے خوش دلی سے کرو۔“ [جامع ترمذی، کتاب الاضاحی، حدیث: ١٤٩٨]
اور فرمایا: ”جس نے خوش دلی سے طالبِ ثواب ہو کر قربانی کی، وہ آتشِ جہنم سے حجاب میں رہے گی۔“ [المعجم الکبیر، حدیث: ٢٧٣٦]
لیکن یہ بات بھی یاد رکھیں کہ قربانی کا مطلب صرف جانور قربان کرنا نہیں ہے، بلکہ اپنی بری عادات کو چھوڑنا، اپنے نفس کی خواہشات کو قابو میں رکھنا، غصے کو ختم کرنا اور لوگوں کو معاف کرنا بھی قربانی ہے۔ لہٰذا اس عید پر اپنے اندر کی بری عادات بھی قربان کریں۔
بلال: إن شاء الله دادا جی! میں آج ہی حمزہ سے بات کروں گا۔ کل میں اس سے ناراض ہو گیا تھا۔ اپنے غصے اور ناراضی کو اللہ تعالیٰ کے لیے قربان کرتا ہوں۔
نوٹ: اس تحریر کے اکثر مسائل بہارِ شریعت جلد ٣، ”قربانی کے بیان“ سے لیے گئے ہیں۔
