Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

عیدِ قربانی کی حکمت اور دو دلوں کا ملاپ

عیدِ قربانی کی حکمت اور دو دلوں کا ملاپ
کہانی: عیدِ قربانی کی حکمت اور دو دلوں کا ملاپ
تحریر: ام ہانی
پیش کش: نور زہرہ
منجانب: لباب اکیڈمی

زید اور عمر بہت بہترین دوست تھے۔ ایک دن ان کا کسی معمولی سی بات پر جھگڑا ہو گیا۔ زید جو اس سے روز ملنے جاتا تھا، آج 3 دن ہوئے اس نے ملاقات نہیں کی۔ عمر بھی اس کو یاد تو کر رہا تھا لیکن اپنی طرف سے اس نے پہل نہ کی۔

بکر، جو عمر کا چھوٹا بھائی تھا، وہ دونوں کی دوستی سے واقف تھا اور وہ یہ بھی جانتا تھا کہ دونوں کے درمیان چھوٹی سی نااتفاقی کے علاوہ کچھ نہیں ہے، اور نہ ہی کسی کی غلطی ہے پھر بھی یہ فاصلہ...؟؟ اسے دونوں کی یہ دوری پریشان کر رہی تھی، اس کے ذہن میں ایک تدبیر آئی۔

پہلے وہ اپنے بھائی عمر کے پاس گیا، اس وقت عمر کسی گہری سوچ میں غرق تھا۔ بکر نے خوشی سے جھومتے ہوئے کہا: ”بھائی! پتا ہے چند دنوں بعد عید الاضحیٰ آنے والی ہے۔“

عمر نے کوئی خاص جواب نہیں دیا لیکن بکر نے بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا: ”بھائی! جانتے ہو عید الاضحیٰ میں اللہ رب العزت کے نزدیک جو سب سے بہتر عمل ہے وہ کیا ہے؟“ تو عمر نے کہا: ”ہاں، قربانی۔“

بکر نے نرم لہجے میں کہا: ”میرے بھائی تم بالکل ٹھیک کہہ رہے ہو، لیکن کیا تمہیں معلوم ہے قربانی کی اصل حکمت کیا ہے؟“

عمر نے سوالیہ انداز میں کہا: ”کیا؟“

بکر نے پیار سے کہا: ”میرے بھائی قربانی کا مطلب صرف جانور کی قربانی کر کے رسم ادا کر دینا ہی نہیں ہے۔ جب ہمارے والد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے قربانی کی تو وہ فقط ذبح نہیں کر رہے تھے بلکہ اللہ پاک کی اطاعت، عاجزی، فرمانبرداری اور حسنِ اخلاق وغیرہ صفات کا ان کے اندر مجموعہ تھا۔“

”قربانی صرف جانور ذبح کرنے کا نام نہیں ہے بھائی، بلکہ خود کو، نفس کی غیر ضروری خواہشات کو قربان کرنا اور دوسروں کی خوشی کے لیے اپنی انا کو سائیڈ کر دینا اور عاجزی اختیار کرنا، یہ تمام مقاصد اس کے تحت آتے ہیں۔“

”میرے بھائی! کیا تم جانتے ہو؟ یہ جن جانوروں کی قربانی ہوتی ہے، اللہ رب العزت نے فقط ان ہی کو قربانی کے لیے منتخب کیوں فرمایا؟ ان ہی کی قربانی کا حکم فقط کیوں دیا؟“

عمر نے نہیں میں جواب دیا۔ بکر نے کہا: ”میرے پیارے بھائی، دینِ اسلام میں ایسے بہت سارے جانور ہیں جو ہمارے لیے حلال ہیں جیسے مرغا، مچھلی، خرگوش، ہرن وغیرہ لیکن ان کی قربانی جائز نہیں۔ آخر کیوں؟ حکمت کیا ہے؟ اللہ پاک نے صرف 4 جوڑے، 8 جانوروں کو قربان کرنے کا حکم کیوں فرمایا؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان جانوروں اور انسانوں میں فطری مطابقت (Natural Similarity) پائی جاتی ہے۔“

وَمِنَ الْأَنْعَامِ حَمُولَةً وَفَرْشًا [الأنعام: 142]

ترجمہ کنز العرفان: ”اور مویشیوں میں سے کچھ بوجھ اُٹھانے والے اور کچھ زمین پر بچھے“

علماء فرماتے ہیں ”حمولۃً“ سے مراد جسم کو طاقت بخشنے والی قوتیں اور ”فرشاً“ سے روح کو طاقت بخشنے والی قوتیں ہیں۔ جیسے ہم کھانا کھاتے ہیں جس سے ہماری طاقت بحال رہتی ہے اور ورزش کرتے ہیں تو اس سے صحت برقرار رہتی ہے، اسی طرح اللہ و رسول کی اطاعت کرتے ہیں، ذکر و اذکار کر کے درود پڑھتے ہیں تو اس سے روح کو طاقت ملتی ہے۔ ان سے انسانوں کی دو قوتوں کی طرف اشارہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جانوروں کی ان دو صفتوں کو ذکر کرتے ہوئے فرمایا: كُلُوا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللهُ [الأنعام: 142] ترجمہ کنز العرفان: ”اللہ نے تمہیں جو رِزْق عطا فرمایا ہے اس میں سے کھاؤ۔“

علامہ قشیری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”غذائیں دو قسم کی ہوتی ہیں۔ ایک، وہ جو جسم کو طاقت دیتی ہے اور دوسری وہ جو روح کو طاقت بخشتی ہے، اور ان جانوروں میں اللہ نے یہ دونوں قسم کی غذائیں رکھی ہیں۔“

بھیڑ میں عمدہ قسم کا حسنِ اخلاق پایا جاتا ہے، یہ کبھی اپنے دشمن تک کو بھی نقصان نہیں پہنچاتا۔ بھیڑ شریف جانور ہے۔ اور اس کی آواز بھی دیگر جانوروں کی آواز کی طرح پریشان کرنے والی نہیں ہوتی۔

بکری میں اعلیٰ قسم کی عاجزی پائی جاتی ہے۔ آپ جانتے ہیں بھائی؟ اگر بکری کی کھال کو سکھا کر اس پر بیٹھا جائے تو اس سے عاجزی آتی ہے۔ تو ذرا سوچیں صرف کھال پر بیٹھنے سے یہ تبدیلی! تو خود بکری کے اندر کتنی عاجزی پائی جاتی ہوگی۔

پھر اونٹ اور گائے کے اندر اطاعت و فرمانبرداری پائی جاتی ہے۔ اونٹ کے متعلق تو یہاں تک مشہور ہے کہ اگر ایک چھوٹا سا چوہا بھی اونٹ کی رسی پکڑ کر چل پڑے تو اونٹ اس کے پیچھے چل پڑتا ہے، یہ اتنا اطاعت والا جانور ہے۔

اور گائے، قربانی کے وقت گائے بھینس ہمارے قابو میں نہیں آتے لیکن یہ منظر بھی آپ کی نظروں سے گاؤں، دیہات میں گزرا ہوگا کہ ایک چھوٹا سا بچہ 10، 20 گایوں کو اپنے پیچھے لگائے جا رہا ہوتا ہے۔ اتنا طاقتور جانور ایک ننھے بچے کی اطاعت اختیار کر لیتا ہے۔

اور اسی طرح اونٹ میں صبر کمال درجے کا پایا جاتا ہے۔ سخت گرمی ہو، صحرا ہو، تپتی ہوئی ریت، اس موسم میں بھی 15، 15 دن تک پیاس برداشت کر لیتا ہے۔

پھر آگے بکر نے عمر کو سمجھاتے ہوئے کہا: ”آقا کریم ﷺ کا فرمان ہے کہ روزِ قیامت میزان پر حسنِ اخلاق سے زیادہ وزنی کوئی چیز نہیں ہوگی۔ ہمیں چاہیے کہ ہم عاجزی کو اپنائیں۔“

حضرت حسن رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ عاجزی یہ ہے کہ جب تم گھر سے نکلو تو جس مسلمان سے بھی ملو اسے اپنے سے افضل جانو۔ تو معلوم ہوا کہ کسی کو بھی خود سے کمتر نہیں سمجھنا چاہیے۔

اور صبر کے متعلق تو رب العزت بذاتِ خود اتنا خوبصورت جملہ فرماتا ہے: إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ ”بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے“ ایک مسلمان کے لیے اس سے بڑھ کر بہترین قول اور کیا ہو سکتا ہے؟

اطاعت و فرمانبرداری کی تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایسی بے مثل، مثال پیش کی جس سے ہر مومن واقف ہے، تو اس کی وضاحت کی حاجت نہیں۔

آگے رب تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ شیطان کے راستے پر مت چلو، وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ یعنی اے مسلمانو، اے ایمان والو! ان جانوروں کا گوشت کھاؤ اور شیطان کے پیچھے نہ چلو، بے شک شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے۔

لہٰذا یہ دن شیطان کو مار بھگانے کے دن ہیں، اس کو شکست دینے کا دن ہے۔

بکر نے آگے کہا: ”میرے بھائی شیطان کا تو کام ہی یہی ہے ہمارے درمیان جھگڑا کروانا، لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم شیطان کے جال میں نہ پھنس کر سنتِ ابراہیمی ادا کرتے ہوئے اسے شکست دیں۔ اور اس کے ساتھ ہی ان جانوروں میں پائی جانے والی صفات یعنی حسنِ اخلاق، اطاعت و فرمانبرداری، عاجزی اور صبر سے خود کو متصف کریں اور قربانی کے آدھے نہیں، بلکہ پورے مقصد کی تکمیل کریں۔ اور تمام رشتہ داروں یا دوستوں کو دل سے معاف کر کے ان سے صلح کر لیں۔“

عمر کے دل پر بکر کی باتوں کا کافی اثر ہوا اور وہ خود حسنِ اخلاق اور عاجزی اختیار کر کے زید کے گھر کی جانب تیزی سے بڑھا، اور جیسے ہی زید نے گیٹ کھولا اس نے زید کو گلے لگاتے ہوئے عید کی مبارکباد پیش کی، اور دونوں خوشی خوشی کمرے کی جانب مستی کرنے چل پڑے۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!