Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

سجدوں کی حاضری

کہانی: سجدوں کی حاضری
کہانی: سجدوں کی حاضری
تحریر: ام الفضل رضویہ
پیش کش: نور زہرہ
منجانب: لباب اکیڈمی

فاطمہ نے جب اپنا سجا سنورا روپ آئینے میں دیکھا تو بے اختیار مسکرا دی۔ وہ اس وقت اس قدر حسین لگ رہی تھی کہ کلیاں بھی اسے دیکھ کر مسکرا اٹھتیں، پھول اپنی رعنائیاں بھول جاتے اور چاند بھی شرما جاتا

مریم نے حیرت سے پوچھا: ”فاطمہ! رات کے تین بجے اتنی تیاری کیوں؟“

فاطمہ نے مسکراتے ہوئے جواب دیا: ”آپی! مجھے اپنے رب کے حضور حاضر ہونا ہے۔“

مریم ہنس پڑی: ”ارے فاطمہ! تم بھی ناں… تہجد ہی تو پڑھنی ہے، کوئی بھی لباس پہن لو۔ اتنا سنورنے کی کیا ضرورت؟ یہ نیا لباس اور نیا حجاب تو ایسے لگ رہا ہے جیسے کسی بادشاہ کے دربار میں جا رہی ہو۔“

فاطمہ نے نہایت سکون سے کہا: ”تو آپی! کیا آپ میرے رب سے بڑے بھی کسی بادشاہ کو جانتی ہیں؟“

یہ جملہ سنتے ہی مریم کی ہنسی خاموشی میں بدل گئی۔ اسے یوں محسوس ہوا جیسے کسی نے دل کے بند دریچے کھول دیے ہوں۔ واقعی! جب ہم دنیا کے معمولی لوگوں سے ملنے کے لیے بہترین لباس پہنتے، خود کو سنوارتے اور آئینے کے سامنے بار بار خود کو دیکھتے ہیں، تو پھر رب کائنات کے حضور کیوں بے توجہی کے ساتھ حاضر ہوتے ہیں؟ کیوں آٹے یا سالن لگے کپڑوں میں، یا رات بھر پہنے ہوئے لباس میں اس کے سامنے کھڑے ہو جاتے ہیں؟

رب تعالیٰ کے حضور حاضری بھی تو محبت کی ایک ادا ہے۔

کیا عجب کہ ہم اس کی محبت میں اپنے ظاہر کو سنواریں، اور وہ اپنے کرم سے ہمارے باطن کو سنوار دے

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!