| عنوان: | جہیز وبالِ جان یا شادیوں میں طرح طرح کے پکوان (قسط: دوم) |
|---|---|
| تحریر: | حافظ محمد قادری مصباحی |
| پیش کش: | سیدہ آمنہ جیلانی ونقشبندی |
| منجانب: | جامعہ فاطمۃالزھراء گجرات |
دنیا میں سب سے زیادہ کھانا سعودی عرب میں ہوتا ہے:
سعودی عرب کے مقدس شہر مکہ کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہاں پر رمضان المبارک میں بڑے پیمانے پر کھانا ضائع ہو جاتا ہے۔ BBC کی ایک رپورٹ کے مطابق رمضان المبارک کے دوران تیار ہونے والے مجموعی کھانے کا 30 فیصد حصہ پھینک دیا جاتا ہے جس کی قیمت تقریباً 12 لاکھ ریال (تقریباً ایک کروڑ 9 لاکھ روپے) ہوتی ہے، ماہرین کھانے کی بربادی کے لیے رمضان المبارک میں طرح طرح کے پکوان بنانے اور خریدنے کو بھی بتاتے ہیں، بہت طرح کی چیزیں ہونے سے لوگ ایک کی لذت لے کر دوسرے کھانے کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں، بچے ہوئے کھانے کا دوبارہ استعمال نہ کرنا، ہر روز تازہ کھانا بنانے خریدنے کو بھی وجہ بتاتے ہیں، گزشتہ سال سعودی حکومت نے لوگوں کو کم مقدار میں کھانا پکانے کی اپیل بھی کی تھی۔
کھانے کی بربادی میں صرف سعودی عرب اکیلا نہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے اسلامی ممالک بھی اس میں شامل ہیں اور یہ خرابی نودولتیوں کے ساتھ ساتھ این آر آئی (NRI) ریٹرنوں نے یہاں بھی پھیلا دی ہے۔ تو ایک ناسور ہے ہی، اس پر اور غضب شادیوں کی دعوتوں میں طرح طرح کے پکوانوں نے، شادی کو مزید مہنگا بنا دیا ہے۔ اللہ خیر فرمائے۔
غریب کا رزق کوڑے کے ڈھیر پر
اب ہر طرح کی پارٹیوں میں بفر سسٹم سے کھانا کھلانے کا رواج عام ہو گیا ہے، اس میں کھانا بہت برباد ہوتا ہے زیادہ تر لوگ کھانا زیادہ لے لیتے ہیں اور پسند نہ آنے پر ٹب میں ڈال دیتے ہیں۔ وہ کھانا کوڑے میں پھینکا جاتا ہے۔ آپ دیکھتے ہوں گے کہ اکثر کوڑے کے ڈھیروں پر غریب پھینکا ہوا کھانا کھاتے رہتے ہیں یہ انتہائی شرم کی بات ہے، یہ ہر شہری اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ اسے روکا جائے۔
عالمی قانون کے مطابق دنیا کا ہر ملک اپنے ہر شہری کی غذا کی ضرورت پوری کرنے کا پابند ہے، افسوس ہمارے ملک ہندوستان میں آج بھی 32 فیصد لوگ خطِ افلاس (تنگدستی مفلسی مالی محتاجی) کی سطح سے بھی نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ 1979 سے ہر سال 16 اکتوبر کو عالمی یومِ خوراک (ڈبلیو ایف ڈی) منایا جاتا ہے اقوامِ متحدہ کی جانب سے۔ منانے والے دنوں میں یہ سب سے زیادہ اہم دن ہے کیونکہ دنیا بھر کے 150 سے زیادہ ممالک غذائی تحفظ کے خاتمے کے لیے عوامی بیداری پھیلانے اور سال 2030 تک مکمل طور سے بھوک کے خاتمے کے حصول کے لیے مختلف پروگرام منعقد کرتے ہیں، اس دن کے منانے کا مقصد خوراک اور بھوک کے شعبوں کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔ افسوس یہ کہ صرف اخباروں اور میڈیا تک ہی محدود ہو کر رہ گیا ہے، حکومتوں کو سنجیدگی کے ساتھ سوچ کر آگے کا لائحہ عمل بنانے کی ضرورت ہے خاص کر مسلمانوں کو چاہیے کہ کھانے کی بربادی قطعی نہ کریں ورنہ اللہ کے یہاں سخت پکڑ ہوگی۔
مذہبِ اسلام میں دسترخوان پر گرے ہوئے کھانے کو اٹھا کر صاف کر کے کھانے کی فضیلت آئی ہے، اگر دسترخوان پر گرا ہوا کھانا، یا برتن میں کھانا چھوڑ دیں گے تو کھانے کی برکت چلی جائے گی۔ حدیثِ پاک کا مطالعہ فرمائیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ جب بھی کھانا کھاتے تو اپنی تینوں انگلیوں کو چاٹتے، آپ نے ایک بار فرمایا ”اگر تم سے کسی کا لقمہ گر جائے اسے صاف کر کے کھالے، شیطان کے لیے نہ چھوڑے۔“ آپ نے حکم فرمایا کہ پلیٹ کو انگلی سے چاٹ لیں، اور فرمایا تمھیں نہیں معلوم کہ کھانے کے کسی حصے میں برکت ہے۔ [صحیح مسلم، حدیث: 2034]
آج کل پارٹیوں میں طرح طرح کے کھانوں سے بھری ہوئی پلیٹیں ٹب میں پھینک دی جاتی ہیں اور اس پھینکے ہوئے کھانوں پر بھوکے غریب ٹوٹ پڑتے ہیں اور اپنے پیٹ کی آگ (بھوک) مٹاتے ہیں۔ خدارا غور کریں، سوچیں دنیا میں ہمیشہ نہیں رہنا ہے، اللہ کی بارگاہ میں بھی حاضر ہونا ہے۔ طرح طرح کے لذیذ کھانے درجنوں آئٹم بنا کر فضول خرچی کر کے شادیوں کو مہنگا کون بنا رہا ہے؟ یہ تو ایسے بھی خطرناک صورت حال ہے۔ یہ کیا کم قیامت ڈھا رہا تھا کہ اب یہ پر تکلف پارٹیاں صرف غریبوں اور مڈل کلاس کے لوگوں کے لیے سوہانِ روح بنتی جا رہی ہیں۔
ایک موذی بیماری ہے: بیٹی، اللہ کی طرف سے ایک تحفہ ہے۔ اللہ نے بیٹی کا ذکر قرآن میں پہلے فرمایا ہے:
ترجمہ: اللہ ہی کے لیے ہے زمین و آسمان کی سلطنت، پیدا کرتا ہے جو چاہے، جسے چاہے بیٹیاں عطا فرمائے اور جسے چاہے بیٹے دے۔ یا دونوں ملا دے اور جسے چاہے بانجھ کر دے۔ بیشک وہ علم و قدرت والا ہے۔ [کنزالایمان] اللہ نے بیٹی کا ذکر پہلے فرمایا ہے۔ [الشوریٰ: 49، 50]
ان آیات سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کسی کے یہاں صرف بیٹیاں پیدا کرنے اور کسی کے یہاں بیٹے اور بیٹیاں دونوں پیدا کرنے کا اختیار اور قدرت صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے کسی عورت یا مرد کے بس میں نہیں کہ صرف لڑکے ہی پیدا کرے، جب یہ نظامِ قدرت ہے تو لڑکی پیدا ہونے پر عورت کو مشقِ ستم بنانا، اسے طرح طرح کی اذیتیں دینا، بات بات پر طعنوں سے عورت کے دل کو چھلنی کرنا، تکلیف دینا کہاں کا انصاف ہے؟ آج مسلم معاشرے نے اس طرزِ عمل کو اپنا لیا ہے جو دراصل کفار کا طریقہ ہے۔
بیٹی اللہ پاک کی جانب سے انمول تحفہ ہے مگر ان جیسی لعنت کی وجہ سے ہی زحمت سمجھی جانے لگی ہے، بیٹی پیدا ہوتے ہی والدین کو پہلا جھٹکا لگتا ہے وہ سماجی ظلم ہی ہے۔ ذرا غور کریں آج کتنی بچیاں ایسی ہیں جو دلہن بننے کا خواب دیکھتے دیکھتے بوڑھی ہوگئیں۔ قصور ان کا صرف یہ ہے کہ یہ غریب گھر میں پیدا ہوئی ہیں، نیک سیرت، خوبصورتی، جوانی سب تھی نہیں تھا تو صرف جہیز کا بندوبست۔ غریب والدین سوچ سوچ کر کڑھ رہے ہیں، بچیاں سسک رہی ہیں۔ حالاں کہ ہمارے مسلم سماج کا ہر پڑھا لکھا انسان جانتا ہے کہ شریعت میں دینے لینے کا کوئی حکم نہیں، یہ سب اسلامی تعلیمات سے دوری کی وجہ سے ہے۔
نبی کریم نے اپنی چہیتی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو کتنا دیا تھا؟ کیا آپ اپنی بیٹی کو نہیں دے سکتے تھے؟ سب ملا کر ایک چکی، پانی کا ایک برتن اور تکیہ دیا تھا، جبکہ آپ کی دوسری بیٹیوں کے بارے میں ایسی کوئی روایت نہیں ملتی ہے۔ آج غریب انسان اور معاشرہ پریشان ہے کیا ہم اس لعنت کو ختم نہیں کر سکتے؟ چند جوڑوں میں غریب بچیوں کو بیاہ کر نہیں لا سکتے؟ لڑکے والے اگر اس طرف قدم بڑھائیں تو اللہ انہیں اجرِ عظیم دے گا۔
اس نیکی کی بدولت پرسکون زندگی بھی میسر ہوگی۔ اللہ ہم تمام مسلمانوں کو ایسی لعنت سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین۔ [ماہنامہ کنزالایمان دہلی، نومبر 2019ء]
