Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

سوانح حیات علامہ حشمت علی خان پیلی بھیت علیہ الرحمہ

سوانح حیات علامہ حشمت علی خان پیلی بھیت علیہ الرحمہ
عنوان: سوانح حیات علامہ حشمت علی خان پیلی بھیت علیہ الرحمہ
تحریر: محمد مرغوب حسن قادری اعظمی
پیش کش: ساریہ فاطمہ رضویہ

آئینِ جواں مرداں حق گوئی و بے باکی
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی

مظہرِ اہلِ سنت، شیرِ بیشۂ اہلِ سنت، غیظ المنافقین، امام المجاہدین، رئیس المناظرین علامہ دہر مولانا حشمت علی خان قادری برکاتی رضوی رضوان ربہ علیہ و علینا رحمۃ رب العالمین عز وعلا کی ذاتِ گرامی صرف ہندوستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیائے اسلام میں ایک منفرد ذات تھی۔ کیا عرب کیا عجم، جدھر بھی آپ پہنچ گئے پورا ماحول مسلکِ اہلسنت و جماعت کی روشنی، عشقِ رسالت پناہی صلی اللہ علیہ وسلم کے جلوؤں سے نہال نہال ہو گیا۔ آپ کے برادرِ اصغر اسد السنۃ محبوبِ ملت حضرت مولانا مفتی قاری ابو المظفر محب الرضا محمد محبوب علی خان صاحب قبلہ مفتیِ اعظم بمبئی علیہ الرحمۃ والرضوان کی کتاب مشاہدۂ مولانا حشمت علی کے بیان کے مطابق ۱۳۱۹ھ لکھنؤ شہر کے اندر حضرت مولانا صوفی عبد الرحمن صاحب لکھنوی رحمۃ اللہ علیہ کے آستانۂ پاک کے قریب آفریدی النسل گھرانے میں آپ پیدا ہوئے۔ سلسلۂ نسب اس طرح ہے:

مولانا حشمت علی خان ابن ابو الحفاظ محمد نواب علی خان قادری ہدایت رسولی ابن محمد حیات خان ابن محمد سعادت خان ابن محمد جان علیہم الرحمہ۔ والدِ مکرم نے آپ کا نام ”حشمت علی خان“ رکھا۔ جبکہ علامہ ہدایت رسولی قادری لکھنوی رحمۃ اللہ علیہ نے ”محمد صدیق“ رکھا تھا۔ ”محمد حشمت علی“ زیادہ نمایاں رہا۔ پھر ”شیرِ بیشۂ سنت“ کا لقب اس قدر مشہور ہوا کہ آپ کے نام کا ایک جزو بن گیا۔ اگر نام نہ بھی لیا جائے صرف ”شیرِ بیشۂ سنت“ کہہ دیا جائے تو اسی سے لوگ واقف ہو جاتے ہیں۔ آپ نے اپنا سنِ ولادت اس جملہ سے بیان فرمایا ”سگِ بارگہِ بغداد“ (۱۳۱۹ھ)۔

تعلیم کا آغاز

رسمِ بسم اللہ خوانی کی تقریب بہت دھوم دھام سے منائی گئی۔ الحاج صوفی کریم بخش نے بسم اللہ پڑھائی پھر قاعدہ بغدادی و ناظرہ جناب حافظ و قاری غلام طٰہٰ ٹونکی سے پڑھا۔ پھر مدرسۂ عالیہ فرقانیہ لکھنؤ میں حفظ شروع کیا اور دس سال کی عمر میں قرآن شریف حفظ کر لیا۔ تراویح پہلی بار آپ نے مخدومِ اودھ حضرت سیدی شاہ مینا رحمۃ اللہ علیہ کے آستانہ والی مسجد میں پڑھائی۔ گیارہ سال کی عمر میں آپ نے قراءت بروایتِ حفص کا امتحان دیا اور اعلیٰ نمبروں سے پاس ہوئے۔ تیرہ سال کی عمر میں قراءتِ سبعہ کا امتحان دیا۔ ۱۳۴۰ھ میں تمام علوم و فنون سے فراغت حاصل کر کے سندِ فضیلت و جملہ سلاسل کی اجازت و خلافت پائی۔ اسی درمیان آپ نے قراءتِ عشرہ کی سند حاصل کی۔ نیز خوشخطی میں مشہور خطاط جناب منشی شمس الدین صاحب اعجازِ رقم استاد تھے۔ مدرسہ فرقانیہ کے تمام مدرسین و مہتمم آپ پر بے حد مہربان تھے اور بہت چاہتے تھے۔ مگر ایمان کی سلامتی اور مذہب و ملت کا تحفظ آپ کے مقدر میں تھا کہ حضرت مولانا ہدایت رسول رامپوری صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی دعاؤں کا ثمرہ، کتاب تمہید ایمان مصنفہ اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کے مطالعے نے آپ کے فیضان و عرفان کے دروازے کھول دیے۔ مدرسہ فرقانیہ سے علیحدہ ہو کر اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ کے حلقۂ ارادت میں شامل ہو گئے۔ اور دارالعلوم منظرِ اسلام بریلی شریف میں داخلہ ہوا۔

جملہ علوم و فنون کے ساتھ جہاں قدرت نے بے شمار فضائل و کرامات سے آپ کو نوازا تھا، وہیں فنِ مناظرہ میں بھی مہارتِ تامہ عطا فرمائی تھی۔ اگر یوں کہا جائے کہ مناظرہ آپ کی خوراک اور اوڑھنا بچھونا تھا تو بیجا نہ ہوگا۔ ایامِ طالب علمی میں جبکہ ہلدوانی ضلع نینی تال میں وہابیوں کی شورش سے سنیوں پر پریشانی لاحق ہوئی تو وہاں کے اربابِ حل و عقد نے سرکار اعلیٰ حضرت کو خط لکھا کہ ہم لوگ پریشان ہیں کوئی عمدہ سنی عالم بھیج دیں جو یہاں پر مناظرہ کرلے، وہابیوں نے چیلنج مناظرہ دے دیا ہے، تو آپ کو ہی اعلیٰ حضرت نے منتخب فرمایا۔ چنانچہ اعلیٰ حضرت متبسم ہوئے اور دعاؤں سے نوازتے ہوئے ہلدوانی بھیجا۔ جہاں پرانا دیوبندی مناظر عمر رسیدہ یسین سامی خراۓ موجود تھا۔ اس کے مقابلے میں آپ کی نوعمری اور سادگی دیکھ کر سنی پریشان ہوئے مگر الحمد للہ میدانِ مناظرہ میں پہنچ کر واضح ہو گیا کہ جن دلائل و براہین کی روشنی میں آپ نے یسین سراۓ خام بریلی کو شکستِ فاش دی اس سے دنیائے وہابیت لرزہ براندام ہو گئی۔ آپ نے دلائل کے اس قدر انبار لگا دیے کہ یسین سراۓ خامی پانچ منٹ تک بت بنا ہوا بیٹھا رہا۔ حضرت بار بار جواب کا مطالبہ کرتے رہے۔ مگر وہ خاموش رہا۔ اور بمشکل اپنے تمام حواریوں کو لے کر کھڑا ہوا اور بھاگ نکلا۔

دل کے چراغ ہم نے جلائے ہیں راہ میں
کم کم سہی کہیں نہ کہیں روشنی تو ہے

سنیوں نے نعرۂ تکبیر و رسالت بلند کیا۔ آپ نے اسی میدان میں بلند آواز سے صلوٰۃ و سلام پڑھا اور دعاؤں پر محفلِ جشنِ فتحِ مبین کا اختتام کیا۔ فتح مندی کی خوشی میں مسلمانانِ اہلسنت نے ہلدوانی میں تین جلسے کیے، جس میں حضرت کے نہایت شکن بیانات ہوئے۔ ان کی کفری عبارتوں کو کھول کھول کر دکھایا اور الحمد للہ بہت سے بہکے ہوئے لوگوں نے توبہ کی۔

حضرت محبوبِ ملت علیہ الرحمہ نے اس مناظرے کی تاریخ ”مناظرۂ جاں فزا“ (۱۳۳۸ھ) سے اور حضرت کی نوعمری کی وجہ سے ”مناظرۂ نونہال“ (۱۳۳۸ھ) سے نکالی۔

ابوالفتح

اس کے بعد آپ بریلی شریف تشریف لائے۔ ادھر وہابیوں نے اپنی شکست کی خفت مٹانے کے لیے پہلے ہی سے غلط پروپیگنڈہ کر رکھا تھا۔ حالات کی تحقیق کے بعد شیرِ بیشۂ سنت جب مرشدِ کامل کی بارگاہ میں تشریف فرما ہوئے تو آپ تبسم کناں ہوئے اور فرمایا: ”ماشاء اللہ آپ ابوالفتح ہیں۔“ قریب بلایا اور حضرت کو سینے سے لگایا، اپنا عمامۂ مبارکہ حضرت کے سر پر رکھا، اپنا جبہ شریف عطا فرمایا اور پانچ روپے نقد عطا فرمائے، پھر مدرسے کا قبض الوصول منگا کر اپنے قلم سے تحریر فرمایا:

”حشمت علی میرا روحانی بیٹا ہے آج سے میں ان کا پانچ روپے ماہانہ وظیفہ مقرر کرتا ہوں۔“

اس کے بعد سرکار اعلیٰ حضرت کی توجہ دن بدن بڑھتی گئی۔ آپ شب و روز خدمتِ بابرکت میں رہے، اس کے بعد دو سفر بھوالی کے رمضان المبارک ۱۳۳۸ھ و رمضان المبارک ۱۳۳۹ھ میں گئے۔ یہ دو سفر ایسے تھے جس میں چار چار اور پانچ پانچ ماہ سرکار اعلیٰ حضرت کی صحبت میں گزارے۔ ان دو سفروں میں مرشدِ کامل نے کیا دیا اور مریدِ باصفا نے کیا کیا لیا اس کو خدا ہی جانے۔ اس دوسرے سفر میں سرکار اعلیٰ حضرت نے آپ کو ایسا کامل و مکمل کیا کہ آپ کو ”وَلَدُ الْمُرَافِقِ وَغَيْظُ الْمُنَافِقِ“ کے لقب سے نوازا، اور صرف زبانی نہیں بلکہ تحریری طور پر جیسا کہ الطاری الداری میں مذکور ہے۔ ان دو برسوں پر آپ کو ہمیشہ ناز رہا۔ جیسا کہ امام اعظم رضی اللہ عنہ کو اپنے ان دو برسوں پر ناز رہا جو آپ نے حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کی معیت میں گزارے تھے۔ سرکار امام اعظم فرماتے تھے: لَوْ لَا السَّنَتَانِ لَهَلَكَ النُّعْمَانُ ”اگر یہ دو سال نہ ہوتے تو نعمان ہلاک ہو جاتا۔“ صفر ۱۳۴۰ھ میں مجدد سرکار اعلیٰ حضرت امام احمد رضا رضی المولیٰ تعالیٰ عنہ کا وصال ہوا اور اسی ماہِ شعبان میں آپ نے جملہ علوم و فنون کی تکمیل کے بعد سندِ درسِ نظامیہ و دورۂ حدیث سے فراغت پائی۔ بعدہٗ حضرت شہزادۂ اعلیٰ حضرت حضور حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا خان صاحب رحمہ اللہ نے اپنا جبۂ مبارک آپ کو پہنایا اور خلافت عطا فرمائی۔

یک زمانہ صحبت با اولیاء
بہتر از صد سالہ طاعت بے ریا

فراغت کے بعد چند سال آپ دارالعلوم منظرِ اسلام میں مدرس رہے اور درسِ نظامی کی اہم اہم کتابیں شامل رہیں۔ طریقۂ تعلیم سے طلبہ بے حد متاثر رہے۔ جیسا کہ کتاب مشاہدۂ مولانا حشمت علی، مفتیِ مالوہ حضرت مولانا رضوان الرحمٰن کے حوالے سے دیکھا جا سکتا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ جماعتِ رضائے مصطفیٰ کے مفتی بھی رہے۔ فتاویٰ حشمتیہ (جلد اول) حضرت شیرِ بیشۂ سنت کے فتاووں کا ایک جز ہے۔ مطالعہ فرمائیں اور اندازہ لگائیں کہ حضرت نے سوالات کی باریک بینی کو بھانپتے ہوئے کتنی تفصیل سے جوابات مرحمت فرمائے۔ ارشادِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے: مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ ”اللہ کریم جس پر بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اسے دین میں فقیہ بنا دیتا ہے۔“ اس فن میں بھی الحمد للہ آپ کو مہارتِ تامہ حاصل تھی۔ فتووں کا ایک اصول یہ بھی ہے کہ صرف سوال ہی کے جواب پر اکتفا نہ کیا جائے، بلکہ اس کے ضمن میں اور دیگر مسئلوں کی وضاحت کر دی جائے تاکہ کسی دوسری شق کا راستہ نہ نکلے اور دوسرے مسائل بھی حل ہو جائیں۔ مثلاً مفتیِ اعظم ہند علیہ الرحمۃ والرضوان سے کسی نے سوال کیا کہ حضرت تبلیغی جماعت کیسی ہے اس پر کیا حکم ہے؟ تو آپ نے فرمایا: ”تبلیغی جماعت تو اچھی ہے، مگر یہ پوچھو کہ الیاسی جماعت کیسی ہے۔“ کسی نے جماعتِ اسلامی کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا کہ ”نام تو اچھا ہے مگر یہ کہو کہ مودودی جماعت کیسی ہے۔“ اس لیے کہ دونوں جماعتوں کا تعلق اول الیاس کاندھلوی اور دوسری ابوالاعلیٰ مودودی سے ہے۔ اور یہ دونوں جماعتیں گمراہ اور بد دین ہیں۔ ان دونوں کا مقصد ایک نئی جماعت پیدا کرنی ہے۔ چنانچہ ایسی ہی مثال آپ زیرِ نظر کتاب میں ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔

سید نیاز احمد قادری فتح پوری نے سوال کیا کہ ابوالاعلیٰ مودودی کی تحریکِ حکومتِ الٰہیہ اور اسلامی جماعت کیسی ہے؟ اس میں شریک ہونا جائز ہے یا نہیں؟ ۲- اس کے قائم کردہ بیت المال سے زکوٰۃ ادا ہوگی یا نہیں؟

تو آپ نے تفصیلی جواب عنایت فرمایا جس کا ماحصل یہ ہے کہ ابوالاعلیٰ مودودی کی تحریکِ حکومتِ الٰہیہ اور اس کی جماعتِ اسلامیہ کوئی نئی تحریک نہیں۔ بلکہ وہابیت کے معلمِ اول محمد بن عبد الوہاب نجدی کی تحریکِ نجدیت اور معلمِ ثانی اسماعیل دہلوی کی تحریکِ وہابیت ہے۔ مودودی نے یہ دیکھ کر کہ مسلمانانِ اہلسنت بفضلہ تعالیٰ و بکرمِ حبیبہ صلی اللہ علیہ وسلم نجدیت و وہابیت سے متنفر و بیزار اور اس کی خباثتوں و ضلالتوں سے خبردار ہو چکے ہیں۔ انھیں معتقدات و عقائدِ وہابیہ کو نئے عنوانات اور جدید تعبیرات میں بھولے بھالے سیدھے سادے سنی مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لیے تحریکِ حکومتِ الٰہیہ اور جماعتِ اسلامیہ کے نام سے پیش کیا ہے۔ اس کی کتابوں میں غیر مقلدیت و نجدیت و وہابیت کے اعتقاداتِ کفریہ بکثرت بھرے ہوئے ہیں۔ حتیٰ کہ پیغام حق کی اشاعتِ خاص میں سید محمد شاہ ایم-اے نے ظفر منزل تاجپورہ لاہور سے مودودی کا جو مضمون ”قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں“ اس کے دیباچے صفحہ ۵ پر لکھتا ہے:

”قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں مولانا کا ایک بڑا کارنامہ ہے، شرک کے رد اور توحید کی تائید میں مولانا اسماعیل شہید کی کتاب تقویۃ الایمان سے زیادہ سائنٹفک اور بہتر کتاب اب تک میرے دیکھنے میں نہیں آئی تھی۔ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی نے شرک کے استیصال اور توحید کی حمایت و توضیح میں یہ کتاب لکھ کر اسلامی دنیا پر ایک عظیم الشان احسان کیا ہے۔ جس کو مولانا شاہ اسماعیل شہید نے ایک طرح بیان کیا تھا اسی کو مولانا نے اپنے مخصوص انداز اور بالکل انوکھے انداز سے بیان کر کے مبلغینِ اسلام کی صف میں ایک ممتاز مقام بنا لیا ہے۔“

تبلیغی جماعت کے سلسلے میں کانپور سے ایک سوال آیا تو آپ نے جواب دیا:

”تبلیغی جماعتیں حقیقت میں ایک کفری جماعت ہے کوئی نئی جماعت ہرگز نہیں بلکہ وہابیوں دیوبندیوں ہی کی تحریکِ وہابیت و دیوبندیت ہے۔ وہابیوں نے دیکھا کہ مسلمانانِ اہلسنت ہوشیار ہو چکے ہیں تو انھیں پھانسنے کے لیے طرح طرح کے جال بنا رکھے ہیں۔ کہیں جمیعۃ العلماء کا جال ہے، کہیں مومن کانفرنس کا فریب، کہیں اسلامی جماعت کی ٹٹی ہے تو کہیں نمازی فوج کا دھوکہ ہے۔“

(ماخوذ از: فتاویٰ حشمتیہ جلد اول، ص ۴۶)

(جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔)

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!