| عنوان: | شب معراج کا مختصر خاکہ (قسط: دوم) |
|---|---|
| تحریر: | صدر الافاضل مفتی محمد نعیم الدین مرادآبادی علیہ الرحمہ |
| پیش کش: | ام حبیبہ واسطی |
عجیب منظر ہے محب نے اپنے محبوب کو بلایا ہے، طالب نے مطلوب کو یاد کیا ہے۔ مالک و مولیٰ نے اپنے بندۂ مصطفیٰ کو طلب کیا ہے۔ کس تعظیم و تکریم کے ساتھ، کیا انعام و اکرام کے ساتھ، آستانۂ معلیٰ پر سواری بھیجی گئی ہے۔ بہشتی براق حاضر کیا گیا ہے، اخص خواص صاحبِ اختصاص محرم و انیسِ مجلسِ خاص کو شب کی تنہائی اور خلوت کے وقت میں چشمِ اغیار سے پنہاں بلانے کے لیے بھیجا ہے۔ سلطانِ کونین نے سواری کا ارادہ فرمایا۔ براق نے شوخی کی، سرکشی اور سرتابی سے نہیں، ناز و افتخار سے اسے بھی پتا تھا کہ اس کا بختِ رسا بیدار ہوا، عزت و کرامت کی ساعت آئی، محبوبِ کبریا کی سواری میں رہنے کا شرف ملا۔ جوشِ طرب میں پھول گیا۔ شادی و خرمی میں مست ہوا۔ جبریل امین نے فرمایا کہ براق ہوش میں آ؛ دیکھ آج تو کس کی سواری کی عزت سے نوازا جاتا ہے۔ حضور کا نامِ پاک سن کر براق کو پسینہ آ گیا، ادب و فروتنی سے زمین پر بیٹھ گیا۔ سیدِ انبیاء سوار ہوئے جبریل امین نے براق تھامی، میکائیل نے باگ ہاتھ میں لی، ملائکہ کا انبوہ ساتھ میں ہوا، مرحبا مرحبا کے غلغلے سے گنبدِ نیلگوں گونج اٹھا، دورِ زمان اور چشمِ فلک نے جو نہ دیکھا تھا وہ جلوہ آج مشاہدہ کیا۔
محبوب کی سواری چلی، زمینِ نخلستان پر گزر ہوا۔ دو رکعت نماز پڑھی، اس مقام پر پہنچے جہاں عیسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام کی جائے ولادت ہے یہاں بھی تاجدارِ کونین نے سواری سے اتر کر نماز ادا فرمائی اس سے انبیاء کے مولد اور ان کی یادگاروں کے احترام کا پتا چلتا ہے اور ایسے مقاماتِ متبرکہ میں پہنچ کر طاعتِ الٰہی میں مشغول ہونے کی سنت معلوم ہوتی ہے، پھر شاہِ عالم سوار ہوئے پھر موکبِ اقدس بیت المقدس کی طرف متوجہ ہوا راہ میں ایک جماعت پر گزرے جنہوں نے اس طرح سلام عرض کیا ”السلام عليك يا أول، السلام عليك يا آخر، السلام عليك يا حاشر“ حضور نے جوابِ سلام عطا فرمایا جبریل امین نے عرض کیا: یہ مقدس جماعتِ انبیاء تھی، حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ سلام عرض کر رہے تھے جلوس آگے بڑھا، جس وقت موسیٰ علیٰ نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام کی قبرِ اطہر پر گزر ہوا ملاحظہ فرمایا کہ وہ اپنی قبر میں مصروفِ نماز ہیں وہیں سے فرمایا:
أشهد أنك رسول الله
معلوم ہوا کہ انبیاء کرام زندہ ہیں اپنی قبروں میں عبادت کرتے ہیں، گزرنے والوں کو دیکھتے ہیں اور پہچانتے ہیں۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ سیدِ عالم علیہ الصلوۃ والسلام کی نظرِ انور کے لیے خاکی پردے حجاب نہیں ہو سکتے۔ سرِ راہ جاتے ہوئے قبرِ انور کے اندر کا حال ملاحظہ فرماتے ہیں، بیت المقدس میں سواری پہنچی باب المسجد کے حلقے میں براق باندھا گیا جس کو اب ”بابِ محمد“ کہتے ہیں حضور مسجد میں تشریف لائے اور دو رکعت نماز ادا فرمائی۔ مدت سے بیت المقدس کے در و دیوار اور ہر ہر پتھر کا دل انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے دیدار کی حسرت و ارمان میں موم کی طرح پگھل رہا ہو گا۔ آج شب کیا آئی دولتِ دارین لائی، بیت المقدس بقعۂ نور بنا ملائکہ و انبیاء کا اجتماع ہوا تمام روحانی و نورانی بابرکت نفوس کا قافلہ سالارِ کونین کا شہریار، دارین کا تاجدار، سیدِ ابرار محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم رونق افروز ہوا۔ بیت المقدس کا نصیب کھلا انبیاء نے نماز کے لیے صف باندھی۔ امامِ رسل علیہ الصلوۃ والسلام سے امامت کی استدعا کی، اللہ کا حبیب آگے بڑھا انبیاء و ملائکہ کی مقدس جماعت نے آپ کی اقتدا میں نماز پڑھی حضرت آدم علیٰ نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام سے لے کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک انبیاء کرام تھے۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد کی، حضور پر صلواۃ پڑھی اور سب نے آپ کے فضل و شرف کا اعتراف و اقرار کیا۔ مدتوں کے بعد آج وہ دن آیا کہ بیت المقدس میں انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام خطبے پڑھ رہے ہیں اور یہ تو پہلا ہی موقع ہے کہ انبیاء و ملائکہ کا اتنا عظیم الشان اجتماع ہے اور بلیغ خطبے پڑھے جا رہے ہیں۔ تمام انبیاء کے بعد حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ پڑھا۔ پروردگارِ عالم کی حمد و ثنا کی۔ اپنے فضائل و خصائص اپنا فاتح و خاتم ہونا بیان فرمایا، اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کیا۔ اس سے فراغ کے بعد سیدِ کونین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم مسجدِ اقصیٰ سے باہر تشریف لائے جبریل امین نے شیر و شراب کے ساغر پیش کیے ابھی تک شراب حرام نہ ہوئی تھی اور نہ وہ یہ شرابِ دنیا تھی، حضور نے دودھ قبول فرمایا، اور جبریل امین نے حضور کے اس انتخاب پر حضور کی ثنا کی، پھر پرچم اٹھے پھر پھریرے لہرائے۔ یمین و یسار ملائکہ کی صف بستہ مؤدب جماعتیں اور ان سب کے درمیان دونوں جہان کا سلطان خطۂ خاک سے جانبِ افلاک عازم ہوا۔ آن کی آن میں آسمان پر پہنچے۔ آسمانوں کے دروازے کھلوائے ہر مقام پر وہاں کے انبیاء و ملائکہ نے بکمالِ اعزاز و آداب مراسمِ تسلیم و تحیت ادا کیے۔ آج افلاک پر نرالی دھوم دھام ہے عجیب تزک و احتشام سے خطۂ خاک سے ایک نورِ پاک آتا ہے افلاک و ساکنانِ افلاک کو اپنی نورانیت سے نوازتا ہے۔ عالمِ بالا کی بلند مرتبہ مخلوق اس کی خدمت کے لیے کمر بستہ اور دیدار کی تمنا میں از خود رفتہ ہے اس کے جمالِ افلاک افروز کو دیکھ کر ملائکۂ سموات پیکرِ حیرت بن رہے ہیں مرحبا و خوش آمدید کے غلغلوں سے افلاک گونج رہے ہیں۔ حضور اقدس علیہ الصلوۃ والتسلیمات سرعت کے ساتھ سیر کرتے انبیاء و ملائکہ کے سلام لیتے ہوئے آسمانوں سے گزرتے چلے جا رہے ہیں۔ تا آنکہ سدرۃ المنتہیٰ پہنچے یہیں تک خلق کے علوم و اعمال پہنچتے ہیں اور یہیں سے اوامر و احکام نازل ہوتے ہیں۔ اور یہاں پہنچ کر ملائکہ ٹھہر جاتے ہیں۔ اس مقام سے تجاوز کرنے کی کسی کو مجال نہیں۔ سدرۃ المنتہیٰ ایک درخت ہے جس کو رنگا رنگ انوار نے احاطہ کیا ہے۔ یہاں بھی حضور کی خدمت میں شیر و شراب پیش ہوئے اور حضور نے شیر قبول فرمایا اور یہاں بھی حضور نے نماز ادا کی اور انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی امامت فرمائی اب حضور کو بیت المعمور دکھایا گیا۔ بیت المعمور کعبۂ مقدسہ کے بالکل مقابل ہے اور ملائکہ کا کعبہ ہے جس کا وہ طواف کرتے ہیں۔ روزانہ نئے ستر ہزار فرشتے اس کی زیارت کے لیے آتے ہیں جنہیں دوبارہ پھر اس کی زیارت نصیب نہیں ہوتی۔ یہاں حضرت ابراہیم خلیل اللہ سے ملاقات ہوئی، آمد کی خبر پا کر آرزوئے دید کی تمنا دل میں لیے بیت المعمور سے تکیہ لگائے تشریف فرما تھے۔ پھر حضور کو بہشتوں کی سیر کرائی گئی بہشتی نور پیکر خورشید منظر جمالِ اقدس کی زیارت سے متمتع ہوئے پھر اس شہنشاہِ عرش پائیگاہ نے دوزخ کا معائنہ فرمایا آیاتِ الٰہیہ کے ملاحظہ کے بعد حضور اس مقامِ قرب میں پہنچے جہاں کسی انس و ملک کو رسائی نہ تھی۔ ساتھی رہ گئے۔ ہنوز ستر حجابِ نوری ہیں۔ ہر حجاب پانچ سو برس کی راہ انقطاعِ تام ہے۔ محض تنہائی ہے، رحمتِ الٰہی کی اعانت و امداد سے محبوب و مطلوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ہجرت و دہشت وہ حجابات طے کیے۔ حضرتِ عزت سے ندا آئی:
ادن يا خير البرية. ادن يا أحمد. ادن يا محمد.
اے بہترینِ کائنات قریب آئیے۔ اے محمد قریب آئیے، اے احمد قریب آئیے صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم۔ حضور فرماتے ہیں مجھے پروردگارِ عالم نے اپنے قرب سے نوازا اور وہ قربِ اتم حاصل ہوا جس کو دَنَى فَتَدَلَّى فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى میں بیان فرمایا اور علمِ اولین و آخرین عطا فرمایا محبوب و محب میں راز کی باتیں ہوئیں فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَا أَوْحَى تمام علوم و معارف اور حقائق و دقائق کے دروازے کھول دیے گئے اور وہ نعمتیں و دولتیں عطا ہوئیں جو احاطۂ بیان سے باہر ہیں حضور نے احوالِ امت عرض کیا اور ان کے حق میں زبانِ شفاعت کھولی، ارشاد ہوا ہم ان پر اپنی رحمتیں نازل فرماتے ہیں ان کے گناہوں کو بخشتے ہیں، دعائیں قبول کرتے ہیں، سائلین کو مرادیں دیتے ہیں، متوکلین کی کفالت کرتے ہیں۔ اور آخرت میں آپ کو ان سب کا شفیع بنائیں گے۔ الفاظ اس مقام کے وصفِ بیان کی گنجائش نہیں رکھتے عز و کرامت کے خلعت ہائے فاخرہ سے فیضیاب ہو کر سرورِ اکبر حبیبِ داور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اپنی دولت سرائے اقدس میں پہنچے، صبح کو واقعۂ معراج بیان فرمایا۔ کفار نے تکذیب کی، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے تصدیق کی۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے بیت المقدس کے حالات دریافت کیے گئے، حضور نے تمام بتائے راہ میں جو قافلے ملاحظہ فرمائے تھے ان کی خبریں دیں ان کے اونٹوں کے نشان بتائے، قافلے کے آگے چلنے والے اونٹ کا رنگ اور اس کے سوار کا پتا دیا۔ ان کے مکہ مکرمہ پہنچنے کا وقت بتایا۔ قوم نے اس دن انتظار کیا اور اسی دن قافلہ پہنچا، دشمنانِ خدا ذلیل ہوئے۔ واقعۂ معراج میں ہزارہا دقائق و حکم اور بہت تفصیلات ہیں جن سے بنظرِ اختصار قلم روکا گیا۔
وصلى الله تعالى على خير خلقه محمد وآله وأصحابه أجمعين.
[حوالہ: مقالاتِ نعیمی، ص: 72 تا 75]
