Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

تسلیم و انقیاد اور رضا بالقضا فلاحِ دارین کا ضامن (قسط: دوم)

تسلیم و انقیاد اور رضا بالقضا فلاحِ دارین کا ضامن (قسط: دوم)
عنوان: تسلیم و انقیاد اور رضا بالقضا فلاحِ دارین کا ضامن (قسط: دوم)
تحریر: مفتیہ رضیؔ امجدی غفر لھا
پیش کش: لباب اکیڈمی

حضور غوثِ پاک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

مَنْ وَقَفَ عِنْدَ الْمَقْدُورِ بِالتَّسْلِيمِ وَالِانْقِيَادِ، فُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ الْأُنْسِ بِاللَّهِ

ترجمہ: جو شخص تقدیر کے فیصلوں کے سامنے سراپا تسلیم و انقیاد بن کر ٹھہر گیا، اس پر اللہ جل و علا کی محبت کے ابواب وا کر دیے گئے۔

آپ کا یہ فرمان اس رمزِ حقیقت کو آشکار کرتا ہے کہ تسلیم و رضا عشق کی پہلی اور آخری منزل کا نام ہے۔ یہی وہ کلید ہے جو حبّ الٰہی کی لازوال دولت سے سرفراز کرتی ہے۔ تسلیم و رضا کا حامل شخص عشق آشنا، رمز آشنا، اور حقیقت آشنا بنا دیا جاتا ہے، اور اس کا وجود حبّ الٰہی کا ضامن بن جاتا ہے۔ یہی وہ محبت ہے جو اسے دنیا و مافیہا سے بے نیاز کر کے محبوبانِ بارگاہِ ایزدی کے زمرے میں شامل کرتی ہے۔

حضرت ذوالنون مصری علیہ الرحمہ تسلیم و رضا کی بابت ارشاد فرماتے ہیں:

الرِّضَا سُرُورُ الْقَلْبِ بِمُرِّ الْقَضَاءِ

ترجمہ: رضا، تلخیِ قضا پر قلب کا سرور و شادمانی پانا ہے۔

جس کا وجود تسلیم و رضا کا آئینہ دار بن جاتا ہے، تقدیر کی تلخیاں اس کے قلب کی طمانیت و مسرت کو متاثر نہیں کرتیں۔ بلکہ اس منزل پر پہنچتے ہی انسان دنیاوی تمام ہموم و غموم اور فکر و تدبیر سے بے نیاز ہو جاتا ہے۔ جہاں دنیاوی کرب و ضرب اس کی باطنی یکسوئی کو منتشر نہیں کرتے۔ اس کی تکلیف اضطراب کی حامل ضرور ہوتی ہے مگر اس کے باوجود اس کا قلب بحرِ طمانیت و سکون میں غوطہ زن ہوتا ہے، اور امروز و فردا کی فکر سے وہ مکمل آزاد ہو کر خالقِ اکبر کی تقدیرِ ازلی کے حضور سرِ تسلیم خم کر دیتا ہے، جہاں اندیشۂ زوال ہوتا ہے نہ تمنائے کمال، بس یار کے جلوے اور ان جلوؤں کا ایک اسیر۔

جس نے اپنی ذات میں تسلیم و رضا کو شامل کر لیا وہ تقدیر پر شکوے نہیں کرتا، زندگی کے نشیب و فراز کو کشادگیِ قلب کے ساتھ قبول کرتا ہے۔ گویا اس کی ذات ایک ایسے تنکے کی مانند ہو جاتی ہے جو سمندر میں پڑا ہوا ہو کہ موجیں جہاں لے جائیں وہیں اس کی رضا ہے۔ جیسا کہ صوفیاء فرماتے ہیں:

الرِّضَا هُوَ الِاسْتِرْسَالُ مَعَ الْأَقْدَارِ مِنْ غَيْرِ مُعَارَضَةٍ

ترجمہ: رضا، تقدیر کی موجوں کے ساتھ بلا کسی نزاع اور مخالفت کے بہتے چلے جانے کا نام ہے۔

تسلیم و رضا کی کیفیت انسان کو حصارِ عافیت میں لے لیتی ہے۔ جس کے باعث وہ عذابِ آخرت سے محفوظ و مامون ہو جاتا ہے۔ یا یوں کہہ لیں کہ حصارِ تسلیم ہی حصارِ عافیت ہے۔ جیسا کہ شیخ ابو علی دقاق رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے:

الرِّضَا لَيْسَ فِيهِ سُخْطٌ، وَمَنْ دَخَلَ فِي التَّسْلِيمِ فَقَدْ جَازَ قَنْطَرَةَ الْعَذَابِ

ترجمہ: رضا وہ مقام ہے جس میں ناراضگی کا شائبہ تک نہیں، اور جو تسلیم کے حصار میں داخل ہو گیا، وہ یقیناً عذاب کے پل سے پار اتر گیا۔

تلخیاں بانٹتی اور تنہائیاں چھڑکتی زندگی میں لازم شے سکون ہے۔ اور عالمِ ہست و بود کا ہر شخص ہی سکون کا متلاشی و متمنی ہے۔ مگر انسان اپنی خام خیالی، بے علمی، اور جہالت کے باعث ایسی چیزوں میں سکون تلاش کرتا ہے جو فی الواقع سرابِ نظر سے زیادہ کی حیثیت نہیں رکھتیں، جو روح کی تشنگی بجھانے کے بجائے تشنہ لبی میں مزید اضافے کا سبب بنتی ہیں۔

سکونِ دُروں کا نسخۂ کیمیا تو وہ ہے جسے حضور غوثِ پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے اس فرمانِ وجیز میں ایسے مجتمع فرمایا ہے جیسے ذرے میں آفتاب سمٹ آیا ہو، فرماتے ہیں:

إِذَا رَضِيتَ بِالْقَضَاءِ، سَكَنَ قَلْبُكَ فِي بَحْرِ الطُّمَأْنِينَةِ

ترجمہ: جب تو قضا پر راضی ہو گیا، تو تیرا قلب اطمینان کے سمندر میں سکونت پذیر ہو گیا۔

اسی رمز کی توثیق و تائید میں حضرت معروف کرخی علیہ الرحمہ کا فرمانِ عالیشان شاہدِ عدل ہے:

مَنْ رَضِيَ بِمَا قَسَمَ اللَّهُ لَهُ، فَهُوَ الْغَنِيُّ وَإِنْ جَاعَ

ترجمہ: جو اللہ کی تقسیم پر راضی ہو گیا، وہی غنی ہے، خواہ وہ بھوکا ہی کیوں نہ ہو۔

اور حضرت ذوالنون مصری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:

عَلَامَةُ رِضَا اللَّهِ عَنِ الْعَبْدِ، رِضَا الْعَبْدِ بِقَضَاءِ اللَّهِ

ترجمہ: بندے سے اللہ کے راضی ہونے کی علامت یہ ہے کہ بندہ اللہ کی قضا پر راضی ہو جائے۔

(جاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔)

از: رضؔی امجدی

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!