| عنوان: | ضیاۓ حدیث (قسط: ثالث) |
|---|---|
| تحریر: | حضور محدث کبیر مدظلہ العالی |
| پیش کش: | قافیہ نوری بنت محمد ظہیر رضوی |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی، اتر پردیش |
ہرقل نے چند سوالات ابوسفیان سے کر لیے اور ان کے جوابات بھی ابوسفیان نے دے دیئے ایک خواہ مخواہ شبہ انہوں نے ظاہر کیا جن پر ہرقل نے کوئی توجہ نہ دی اور باقی کو صحیح صحیح جواب میں کہا تھا اس وجہ سے اب ترجمان سے کہا کہ اب تم میری یہ بات پہنچاؤ کہ میں نے تم سے ان کے نسب کے بارے میں پوچھا تو تم نے ذکر کیا کہ تم میں وہ اونچے نسب والے ہیں اور یہی شان ہے رسولوں کی کہ اپنی قوم کے نسب یعنی اچھے نسب میں بھیجے جاتے ہیں، میں نے تم سے پوچھا کہ کیا تم میں سے کسی نے یہ قول وہاں کہا تھا یعنی تمہاری قوم میں کسی نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا تو تم نے کہا نہیں میں نے دل میں سوچا کہ اگر کسی نے اس قول کو ان کے پہلے کہا ہوتا تو میں سوچ سکتا تھا کہ آدمی اقتدا کر رہا ہے ایسے قول کی جو پہلے کہا جا چکا ہے، میں نے پوچھا کہ ان کے آباء میں کوئی بادشاہ تھا تم نے ذکر کیا کہ نہیں تو میں نے کہا کہ اگر ان کے باپ دادا میں کوئی بادشاہ ہوتا تو میں کہہ سکتا تھا کہ یہ آدمی اپنے باپ کی بادشاہت کے تلاش میں ہے پھر میں نے پوچھا کہ کیا تم ان پر اس بات کے کہنے سے قبل کبھی جھوٹ کی تہمت لگاتے تھے کسی بات میں جھوٹا مانتے ہو، اس میں مانتے ہو اور پہلے نہیں مانتے تھے تو تم نے کہا کہ نہیں ہم ان کو پہلے کبھی جھوٹا نہیں مانتے تھے تو میں نے پہچان لیا کہ ایسا تو ہو ہی نہیں سکتا کہ لوگوں کے بارے میں جھوٹ بولنا چھوڑ دے اور اللہ کے اوپر جھوٹ باندھنا شروع کر دے ایسی بات تو ہو نہیں سکتی۔ کیوں کہ آدمی کے زیادہ منافع تو لوگوں میں پھیلے ہوئے ہوتے ہیں تو اپنی منفعت کے لیے جھوٹ بول دیا کرے تاکہ کچھ نفع ملے یہاں پر یہ معاملہ ہے ہی نہیں، اللہ پر جھوٹ باندھ کر وہ کیا فائدہ اٹھائیں گے، پھر میں نے تم سے پوچھا کہ قوم کے شرفاء لوگ ان کی اتباع کرتے ہیں یا پسماندہ لوگ؟ تم نے کہا کہ ضعفا ہی ان کی پیروی کرتے ہیں تو رسولوں کے پیروی کرنے والے یہی ہوتے ہیں کہ شرفاء کے اندر گھمنڈ اور بڑائی کا جذبہ ہوتا ہے ان کا دل اچھی باتوں میں کم لگتا ہے اور جو پسماندہ لوگ ہوتے ہیں اچھی بات ان کے دل میں داخل ہو جاتی ہے تو اتباعِ رسول یہی ہوتے ہیں، پھر میں نے پوچھا کہ بڑھ رہے ہیں کہ گھٹ رہے ہیں تو تم نے کہا کہ بڑھ رہے ہیں، ایمان کا حال یہی ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ تمام ہو جائے یعنی اس کی تعلیم عام ہو جائے، پھر میں نے پوچھا کہ ان کے دین کو ناپسند کر کے جب کہ ان کے دین میں داخل ہو چکا تھا پھر ناپسند کر کے کوئی مرتد ہوتا ہے؟ تو تم نے ذکر کیا کہ نہیں، یہی حال تو ایمان کا ہے کہ جب اس کی تاثیر قلب میں سرایت کر جاتی ہے تو پھر آدمی اس کو چھوڑتا نہیں پھر میں نے پوچھا کہ کیا یہ فریب کرتے ہیں تو تم نے ذکر کیا کہ نہیں، اب سنو! رسولوں کی شان یہی ہوتی ہے کہ وہ عہد شکنی نہیں کرتے۔
اب اس نے یہاں یہ نہیں کہا کہ تمہارا شبہ جو ہے بے کار ہے یا صحیح ہے یہ کچھ نہیں کہا بلکہ اس کو کالعدم رکھا کہ اب تک جب انہوں نے غدر نہ کیا عہد شکنی نہ کی تو آئندہ کا شبہ ہوتا ہی نہیں لہٰذا اس کے ذکر کی بھی کچھ ضرورت نہیں۔
پھر میں نے پوچھا کہ حکم کیا دیتے ہیں تم نے بتایا کہ وہ حکم دیتے ہیں کہ اللہ کو معبود مانو اور اس کا کوئی شریک نہ ٹھہراؤ اور وہ تم کو بتوں کی عبادت سے روکتے ہیں اور حکم دیتے ہیں تم کو نماز کا، صدق اور پاکدامنی کا۔ اگر تمہاری کہی ہوئی بات سچی ہے تو عنقریب وہ میرے قدم کے نیچے کی جگہ کے بھی مالک ہو جائیں گے یعنی میری بادشاہت بھی ان کے پاؤں کے نیچے آجائے گی مجھے معلوم تھا کہ وہ آنے والے ہیں مگر یہ نہیں جانتا تھا کہ تمہیں میں آئیں گے لیکن یہ خبر تھی کہ وہ آنے والے تھے، کیوں کہ وہ توریت کا، زبور کا عالم تھا جانتا تھا کہ وہ آنے والے ہیں، اگر مجھے یہ یقین ہوتا کہ میں خیریت سے ان تک پہنچ جاؤں گا تو ان کی ملاقات کا اہتمام کرتا اور جاتا اور اگر وہاں میں ہوتا تو ان کے قدموں کو دھوتا۔ ہرقل نے یہ باتیں کہیں اور اس کے بعد وہ مکتوب جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح حدیبیہ کے بعد یہ سوچ کر کہ اب فرصت ملی کہ سب سے زیادہ شرارت مکہ والے کرتے تھے، اب ذرا اطمینان ملی تو آپ نے تمام ملک کے ایشیا کے بادشاہوں کو اور ایشیا کے قریب کے بادشاہوں کو دعوتِ اسلام کے مکتوب ارسال فرمائے، ایک مکتوب قیصرِ روم کے پاس بھی آیا جیسے کسریٰ جو اس زمانہ میں ہرمزان تھا اس کے پاس بھی گیا اور حضرمی کے پاس بحرین بھیجا، مقوقش کے پاس مصر بھیجا، اسی طرح اور بادشاہ جو قریب قریب تھے ان کے پاس بھیجا گیا تو اس نے وہ مکتوبِ گرامی جو رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا وہ منگوایا یہ وہ خط تھا جس کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دحیہ کلبی کے ساتھ عظیمِ بصریٰ کے پاس بھیجا کیونکہ ایشیا کی طرف سے خطوط کو روم تک پہنچانے کے لیے اسی کے پاس جمع کرنا ضروری ہوتا تھا ڈائریکٹ وہ خط قبول نہیں کرتا تھا جب تک عظیمِ بصریٰ دیکھ کر یہ طمانیت نہ کر لے کہ ہاں یہ بادشاہ تک جانا چاہیے کہ نہیں تو عظیمِ بصریٰ کے پاس حضرت دحیہ کلبی لے کر گئے اور عظیمِ بصریٰ نے اس کو ہرقل کے پاس بیت المقدس بھیج دیا کیوں کہ اسے پتہ تھا کہ وہ اپنے شکرانہ کے لیے بادشاہ بیت المقدس آیا ہوا ہے۔
اب اس نے خط منگوایا، اس میں لکھا ہوا تھا:
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ من محمد عبد الله ورسوله إلى هرقل عظيم الروم
بسم اللہ الرحمن الرحیم، یہ خط ہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے جو اللہ کے بزرگ ترین بندے اور اس کے مہتم بالشان رسول ہیں ان کی طرف سے یہ ہرقل کے نام جو روم کا عظیم ہے۔ یہ نہیں فرمایا کہ جو روم کا سلطان یا ملک الملوک ہے کیوں کہ ان کو سرداروں کے درجہ میں مانا جاتا ہے ان کی ملوکیت کو تسلیم نہیں کیا جاتا اس لیے حضور نے ایسا لکھا۔ خط میں یہ لکھا ہوا تھا ”سلام على من اتبع الهدى“ سلام ہو اس شخص پر جو ہدایت کی اتباع کرے، یہ نہیں کہا ”سلام علیک“ بلکہ ”على من اتبع الهدى“ مگر تو ہدایت کی اتباع کرتا ہے تو تجھ پر بھی اور نہیں کرتا ہے تو کیوں تم پر ہو انہیں کے لیے ہے جو ہدایت پر ہیں۔
”أما بعد“ لیکن ان باتوں کے بعد ”إني أدعوك بدعاية الإسلام“ میں تجھے دعوت دیتا ہوں اسلام کی دعوت کو۔ ”دعایہ“ اصل میں ”دعاوه“ سے بنا ہے۔ دعایہ میں تمہیں دعوت دیتا ہوں اسلام کی دعوت، اسلام لے آ، سلامت رہے گا دنیا میں بھی آخرت میں بھی اور اللہ تجھے دوہرا اجر دے گا کہ عیسیٰ علیہ السلام پر بھی ایمان لانے کا اور میرے اوپر بھی ایمان لانے کا، اگر تو نے رخ موڑا تو تیرے اوپر دوہرا گناہ ہوگا اور تیرے اوپر رعایہ کے بھی گناہ ہوں گے کہ تو نے اگر قبول نہ کیا تو رعایہ بھی تیری اتباع میں قبول نہ کرے گی، تو ان کے لیے تو طریقۂ سیئہ بنا اس لیے تیرے اوپر دوہرا گناہ ہوگا۔
یریس اور اریس، کاشت کاروں اور رعایہ کو بولتے ہیں جو اپنے بادشاہ یا سردار کے تابع ہوتے ہیں، پھر اس کے بعد آیت کریمہ سرکار کے مکتوب میں تھی اور یہ آیت کریمہ بطور اقتباس ہے نہ یہ کہ بطور نقل قرآن، اس لیے جو امام بخاری نے آگے چل کر ایک استدلال کتاب الطہارۃ میں کیا ہے کہ قرآن چھونے کے لیے طہارت شرط کیسے ہو حضور نے قرآن کی آیت لکھ کر ایک کافر کے پاس بھیج دی، تو یہ آیتیں نہیں بلکہ اقتباس ہیں، جیسے اپنے کلام میں آدمی جگہ جگہ قرآنی آیت بطور اقتباس لکھتا ہے تاکہ میرے کلام میں ادبیت زیادہ آجائے۔
يٰأهل الكتاب تعالوا إلى كلمة سواء بيننا وبينكم [آل عمران: 64]
اے اہل کتاب! آ جاؤ ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان برابر ہے یعنی دونوں اس پر متفق ہیں کہ تم اس کلمہ کو مانتے ہو مگر اس پر عمل نہیں کرتے جو ہمارے اور تمہارے درمیان برابر ہے کہ ہم نہیں معبود مانیں کسی کو اللہ کے سوا اور نہ اس کو کسی کا شریک ٹھہرائیں کہ تم لوگ اب عیسیٰ اور مریم کو بھی خدا ماننے لگے حالانکہ تمہاری کتابوں میں بھی یہ بات مذکور ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ ”ولا يتخذ بعضنا بعضا أربابا من دون الله“ اور ہم میں سے کوئی اللہ کے سوا رب نہ مانے کہ تم لوگ اپنے پادریوں کو اپنا رب اس طرح مانتے ہو کہ توریت و انجیل کے جس حرام کو تمہارا پادری چاہے حلال کرے اور جس حلال کو چاہے حرام کر دے، یہ حق تو اسلام نے کسی کو نہیں دیا اس لیے تم میں کوئی اللہ کے سوا کسی کو رب نہ مانے۔
اب یہ بے ہودہ غیر مقلدین ہمارے دین کے اوپر اعتراض کرتے ہیں کہ حنفی لوگ اپنے امام کو اپنا رب مانتے ہیں جو حلال کریں گے وہ حلال ہے اور جو حرام کریں گے وہ حرام مانیں گے۔ اب بتاؤ کہ کسی حنفی نے مثلاً سور کو حلال کر دیا یا کتے کو حلال کر دیا یا کسی حلال کو حرام کر دیا ایسا تو نہیں ہے۔ ہاں مسکوت عنہ جو چیز ہے جس کے بارے میں کتاب و سنت میں صریح حکم نہیں ہے اس کا انہوں نے قیاس سے استنباط کر کے حکم بتایا ہے، نہ یہ کہ اللہ کے حکم میں کوئی تبدیلی کی ہو اور نصاریٰ کے پادری لوگ یہ کرتے تھے کہ اللہ کے احکام میں تبدیلیاں کرتے تھے، یہ تو رافضیوں کا طریقہ ہے کہ رب مانتے ہیں۔ ہاں یہ مانا کہ وہ کتاب و سنت کی شرح کر دیتے ہیں کہ اس سے جو مستفاد ہوا وہ بتاتے ہیں اور اس میں اگر خطا ہوتی ہے تو اس سے رجوع کر لیتے ہیں۔
”فإن تولوا“ اگر وہ اعراض کریں اور نہ مانیں تو کہہ دو کہ تم لوگ گواہ ہو جاؤ کہ ہم مسلم ہیں، اللہ کے حکم فرما بردار ہیں، اب ابوسفیان کہتے ہیں جب وہ کہہ چکا جو کہنا تھا اور رسول پاک کی کتاب پڑھ کر فارغ ہوا تو خاموش ہوا، اس کے دربار میں شور و غل ہونے لگا کہ بادشاہ نے ایسی بات کہہ دی کہ میں ان کے پاؤں دھوتا، یہ شور و غل ہونے لگا اور آوازیں اونچی ہو گئیں جتنے ارکانِ سلطنت تھے وہ سب وہیں پر گڑبڑی کرنے لگے ”فاخرجنا“ ہم لوگوں کو نکال کر باہر کیا گیا تو میں نے اپنے ساتھیوں سے نکلنے کے بعد کہا ”لقد أمر أمر أبي كبشة“ ابو کبشہ کے بیٹے کا معاملہ تو بڑا اہم ہو گیا ”إنه يخافه ملك بني الأصفر“ ان سے تو بنی اصفر کا بادشاہ بھی ڈر رہا ہے۔ بنی اصفر اسی لیے کہتے تھے کہ یورپ والے لوگ زیادہ تر پیلے پیلے رنگ کے ہوتے ہیں ”فما زلت موقناً“ مجھے اب یقین ہونے لگا کہ رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم غالب آکر رہیں گے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے میرے اوپر اسلام داخل فرما دیا، فتح مکہ کے دن میں مسلمان ہو گیا۔
اس حدیث کو امام بخاری نے تخریج کیا یہ بتانے کے لیے کہ بدءِ وحی میں نبی کی یہ شان ہوتی ہے کہ وہ جھوٹ نہیں بولتے، وہ غدر نہیں کرتے اور ان کے ماننے والے زیادہ تر پسماندہ ہوتے ہیں اور جو اونچے طبقہ کے ہوتے ہیں وہ کم تعداد میں ہوتے ہیں۔
”وکان ابن الناطور“ یہاں سے امام زہری نے اپنا قصہ بیان کرنا شروع کیا کہ میں نے ابن ناطور سے سنا۔ یہ اسی پر عطف ہے ”قال أخبرني عبيد الله“ پر کہ امام زہری روایت کر رہے ہیں اسی سند سے ”أبو اليمان أخبرنا شعيب عن الزهري“، کہ ابن ناطور، یہ یا تو نام تھا یا اس کا لقب تھا جس کا معنیٰ جنگلات کا وزیر، اس کا بناء، ایلیاء یعنی بیت المقدس شہر کا گورنر تھا اور ہرقل کا دوست بھی تھا صاحب کا لفظ یہاں پر صنعتِ استخدام کے طور پر دونوں معنی میں لیا گیا کہ ایلیاء کا صاحب یعنی گورنر اور ہرقل کا دوست ”سقف على نصارى الشام“ شام کے نصاریٰ کا بڑا پادری تھا اس نے امام زہری کو واقعہ سنایا کہ ہرقل جب ایلیاء میں آیا تو ایک روز صبح کے وقت خبیث النفس ہو گیا یعنی اس کی طبیعت بہت پریشان کن حالت میں تھی۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آدمی کے اوپر جب ناخوشگوار حالات ہوتے ہیں تو اس کو خبیث النفس بولتے ہیں کہ خبیث النفس ہو گیا مگر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے بارے میں فرمایا ”لا يقولن أحدكم خبثت نفسي“ تم یہ نہ کہو کہ میری طبیعت الجھی ہوئی ہے اس کے لیے ”خبثت“ کا لفظ نہ کہو ”ولكن ليقل لقست نفسي“ [صحیح البخاری، کتاب الادب، باب لا يقل خبثت نفسی] تم اپنے کو لقیس کہو خبیث مت کہو، خبیث کفار کے لیے ہوتا ہے، اس لیے امام زہری نے ہرقل کے لیے خبیث کا لفظ استعمال کیا معنی میں لقیس کے ہے، پراگندہ حال ”فقال بعض بطارقته“ اس کے بعض ہم نشینوں نے پوچھا ہاں ہم نے آپ کی حالت بڑی ناپسندیدہ پائی۔ ”قال ابن الناطور“ ابنِ ناطور کہتے ہیں کہ ہرقل بڑا زبردست حِزا تھا اور نجومی بھی تھا تاروں میں دیکھتا تھا تو آنے والے حالات کا جائزہ لے لیتا تھا، اس لیے جب اس کے بعض بطارقہ نے پوچھا کہ آپ پراگندہ حال کیوں نظر آ رہے ہیں تو ان سے کہا کہ آج رات جب میں تاروں پر نظر رکھے ہوئے تھا تو میں نے دیکھا ”ملك الختان قد ظهر“ ختنہ کرانے والوں کا بادشاہ غالب آ گیا تو اس نے پوچھا کہ اس وقت کے لوگوں میں کون کون ختنہ کرواتے ہیں تو لوگوں نے کہا کہ اس زمانہ میں تو یہود کے علاوہ کوئی ختنہ نہیں کراتا ”فلا يهمّنك شأنهم“ آپ کو ان کے حالات پریشان نہ کریں کیوں کہ وہ تعداد میں بہت تھوڑے ہیں اور ان کا علاج بھی آسان ہے، اپنے ملک کے شہر والوں کو لکھ دیجئے، یعنی اپنے ملک کے تمام شہروں میں یہ پیغام بھیج دیجئے کہ وہاں کے نواب لوگ وہاں کے یہودیوں کو قتل کر دیں تو ختنہ کرانے والوں سے کوئی ڈر نہیں رہے گا۔ ابھی یہی بات ہو رہی تھی کہ ہرقل کے پاس ایک آدمی لایا گیا جس کو غسان کے بادشاہ نے بھیجا تھا وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں خبر دے رہا تھا۔
ہوا یہ کہ غسان کے بادشاہ نے کسی مکہ والے کو پکڑ کے بھیجا جس نے یہ بتایا کہ ایک نبی ہماری طرف پیدا ہو گئے ہیں تو ملکِ غسان نے اس آدمی کو ہرقل کے پاس بھیج دیا جب اس سے ہرقل نے خبر لی تو اس کے بعد کہا کہ اس کو کنارے لے جاؤ اور جا کر دیکھو کہ اس کو ختنہ ہوا ہے کہ نہیں تو دیکھا اور آکر بتایا کہ یہ مختون ہے، تب اس نے اس آدمی سے عرب کے بارے میں پوچھا تو اس نے بتایا کہ وہ لوگ بھی ختنہ کراتے ہیں۔ ہرقل نے کہا ”هذا ملك هذه الأمة قد ظهر“ بس بس یہی نبی ہیں، یہی غالب آگئے اس امت کے بادشاہوں پر۔ پھر ہرقل نے اپنے ایک دوست کو لکھا رومیہ (یہ ایک شہر کا نام ہے) ”ضغاطر رومی“ اس کا نام تھا اور یہ بھی علم کے معاملہ میں اس کے جیسا تھا اس کو لکھ کر بھیجا کہ میں نے ایسا ایسا دیکھا ہے اور ہرقل وہاں سے سفر کر کے حمص کی طرف گیا، ابھی وہ حمص نہیں پہنچا تھا کہ اس کے پاس اس کے دوست کا خط آ گیا جو ہرقل کی رائے کے مطابق تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ہیں اور وہ سچے نبی ہیں، ضغاطر رومی تو اسلام لے آیا مگر ہرقل کا کیا ہوا وہ آگے آ رہا ہے۔
ابنِ ناطور سے امام زہری نے جو روایت کی اس میں یہ ہے کہ ہرقل نے ایک خط لکھا ضغاطر رومی کو اور اس کے حمص پہنچنے پہنچتے اس تک جواب آ گیا کہ بےشک وہ نبی برحق ہیں اور ان کا غلبہ میں نے بھی ستاروں میں دیکھ لیا ہے تو ضغاطر رومی کے کہنے پر اس کو اور زیادہ اطمینان ہو گیا اس نے یہ چاہا کہ میں روم والوں کو اسلام کی دعوت دے دوں اور سب اسلام پر قائم ہو جائیں مگر جب اس نے کہا تو سب بدک گئے اور یہ ان کے اسلام سے مایوس ہو گیا تو بلا کر ان کو کہا کہ میں تو صرف تمہیں آزمانے کے لیے کہہ رہا تھا کہ تم اپنے پرانے دین پر مضبوط ہو کہ نہیں؟ میں نے دیکھ لیا کہ تم قائم ہو تو مجھے اس پر بڑی خوشی ہوئی، سب اس کا سجدہ کر کے اس سے خوش ہو گئے۔ امام زہری کہتے ہیں کہ ابنِ ناطور نے کہا کہ ہرقل کا آخری حال یہی رہا کہ اس نے اسلام نہیں قبول کیا اور کفر پر مرا مگر ضغاطر رومی نے اسلام قبول کر لیا تھا اور بعد میں اس کے قوم کے لوگوں نے اسے شہید کر دیا۔ [ماہنامہ: سہ ماہی ۳ امجدیہ، ص: ۳۷]
