Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

اتر پردیش میں مدارس پر افتاد! کچھ تلخ حقائق (قسط:اول)

اتر پردیش میں مدارس پر افتاد! کچھ تلخ حقائق (قسط:اول)
عنوان: اتر پردیش میں مدارس پر افتاد! کچھ تلخ حقائق (قسط:اول)
تحریر: مولانا محمد ایوب مصباحی
پیش کش: آفرین فاطمہ رضویہ
منجانب: مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد

ریاست اترپردیش میں قریب ڈیڑھ ماہ قبل مدارس اسلامیہ کے وجود اور تشخص پر اس وقت خطرات کے بادل منڈلانے لگے جب الہ آباد ہائی کورٹ نے ایک جھٹکے میں یوپی بورڈ آف مدرسہ ایجوکیشن ایکٹ 2004ء کو کالعدم قرار دے دیا اور یہ کام جس دلچسپی سے کیا گیا اس سے ایسا لگ رہا تھا کہ دوسروں کو ہمارے اداروں کی بڑی فکر لاحق ہے، وہ تو خیر ہوئی کہ ملک کے سپریم کورٹ نے کہا کہ یہ جلد بازی میں لیا گیا فیصلہ ہے، فریقین کے دلائل پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔

الہ آباد ہائی کورٹ اور ریاستی حکومت کو مدارس اسلامیہ کے نصاب تعلیم پر اعتراض ہے، ان کا کہنا ہے کہ مدارس اسلامیہ نے تعلیم کا معیار برقرار نہیں رکھا اور طلبہ کے لیے جو چیزیں ناگزیر تھیں وہ پورے طور پر دستیاب نہیں کرائی گئیں، سرکاری گرانٹ لے کر مذہبی تعلیم دی جاتی ہے، جو سیکولرزم کے اصولوں کے خلاف ہے، پھر مدارس اسلامیہ وافر مقدار میں طلبہ کو بنیادی تعلیم سے محروم رکھتے ہیں جو کہ ان کا بنیادی حق ہے، واضح رہے کہ بنیادی تعلیم سے مراد اسکول و کالجز کی ہائی اسکول وانٹر وغیرہ کی تعلیم ہے، ہائی کورٹ کے اس فیصلے سے چونکہ سرکار سے منظور شدہ ایڈیڈ مدارس متاثر ہوتے اور جن اساتذہ کو ماہانہ وظیفے بورڈ سے ملتے تھے وہ بند ہونے والے تھے، اس لیے ہمارے علماء بھی دو فریقوں میں منقسم ہوگئے، ایک وہ جو حکومت سے وظیفہ پاتے ہیں انھوں نے مدارس کے کھلنے کی دن رات دعائیں کیں، اور ان کے تحفظ و بقا کے لیے بہت جد وجہد بھی کی، دوسرے وہ جو ابھی ایڈیڈ نہ ہوئے یا ہونے والے تھے، کسی سبب نہ ہو سکے یا تقرری میں متعینہ رقوم فراہم نہ ہونے کے باعث مقرر نہ ہوسکے تو انھیں کچھ قلبی تسکین بھی ہوئی، انھوں نے اپنی بھڑاس نکالنے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی اور انھوں نے اس کہاوت کہ ”شادی کا لڈو جو کھائے وہ پچھتائے اور جو نہ کھائے سو پچھتائے“ پر عمل کیا کہ خود حکومتی تقرری چاہتے تھے جب نہ لگے تو ان میں ہزارہا خامیاں نکالنے لگے۔

خیر! چند مخلص احباب کی انتھک کوششوں کے بعد محنت رنگ لائی اور فی الحال کچھ وقت کے لیے ہائی کورٹ کے فیصلے پر عمل در آمد پر روک لگی ہوئی ہے، مدارس اسلامیہ پر حکومت ہند اور عدلیہ کو تو اعتراض ہے ہی، عوام الناس بھی اس بابت بہت شکوہ بلب ہے، یہی وجہ ہے کہ اتنا بڑا فیصلہ آنے پر بھی ہندوستان کی مسلم عوام بالکل خاموش تماشائی بنی دیکھتی رہی، بلکہ بعض نے تو اس پر کھل کر اہل مدارس کو تنقید کا نشانہ بنایا اور نازیبا تنقیدی تسلسل سوشل میڈیا کی زینت بنا رہا، اس بابت سبھی کے شکوے اور اعتراضات کچھ اس طرح تھے:

کوئی کہتا ہے کہ مدارس اسلامیہ نے اپنا حق ادا نہیں کیا، یہاں کے فارغ التحصیل طلبہ اپنا کام ذمہ داری سے نہیں کرتے، اخلاقی پستی ان میں پائی جاتی ہے جس کا نظارہ سیکنڈری ہائر سیکنڈری کے امتحانات میں خوب دیکھنے کو ملتا ہے جو طلبہ پڑھ لکھ کر قوم کے مستقبل کو سنوارنے والے تھے، اور دین کے سچے مبلغ اور ترجمان بننے والے تھے، ان کی بے راہ روی دیکھ کر نہیں لگتا کہ مستقبل قریب میں یہ أمر بالمعروف ونهي عن المنكر کا فریضہ انجام دے پائیں گے، بلکہ ان کی بدتمیزیوں کو دیکھ کر اسکول و کالجز کے ٹیچرس حضرات بھی انگشت بدنداں رہ جاتے ہیں کہ ایسے ہوتے ہیں مدرسوں میں پڑھنے والے اور کیا پڑھاتے ہیں یہ مدارس؟ وضع قطع غیر اسلامی، لباس زرق برق، گیسو دراز وغیرہ بے شمار اخلاقی انحطاط اور پستیاں پائی جاتی ہیں جس کا مطلب ہے کہ مدارس نے اپنا حق ادا نہیں کیا۔

فارغ التحصیل لب کشائی کرتے ہیں کہ انھیں ایسی تعلیم نہیں دی جاتی جس سے وہ خود کفیل ہو سکیں بلکہ وہ فراغت کے روزگار کے لیے سرگرداں رہتے ہیں اور صرف امامت و خطابت یا تدریس کے سوا کچھ نہیں کر سکتے، اتنی عمر بھی باقی نہیں رہتی کہ اب کچھ اور سیکھ سکیں، ایک معیاری اور روایتی عالم دین بشمول حفظ و دینیات قریب پندرہ سال میں بنتا ہے، اس کے بھی اسے معاشی تنگیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جو انتہائی افسوسناک ہے۔

منتظمین چاہتے ہیں کہ ان کے ادارے کا معیار بلند ہو لیکن اساتذہ خود کفیل ہو جائیں یہ کبھی نہیں چاہتے، جتنا ان کی خود کی اولاد اپنی ذات پر خرچ کر دیتی ہے، اتنا وہ مدرس کو بمشکل دے پاتے ہیں، اس پر طرفہ تماشا یہ کہ ترقی کا کریڈٹ اساتذہ کو دینے کے بجائے برملا خود لیتے ہیں، شاید ان میں شخصیت سازی کا ہنر نہیں یا کام کرانے کا طریقہ نہیں، جب کہ حافظ ملت فرماتے ہیں کہ ”جس سے کام لیا جاتا ہے اسے نا خوش نہیں کیا جاتا“، اس کا مطلب میں یہ سمجھتا ہوں کہ ذمہ دار کو کھل کر کام کرنے کی اجازت ہو، اساتذہ کی تنخواہوں میں مناسب اضافے ہوں اور وقت پر ان کی تنخواہیں ادا کردی جائیں جب وہ اندر سے خوش ہوں گے تو زیادہ اچھا کام کر سکتے ہیں، پھر اشتہار دیتے وقت یہ شرط لگانے کی چنداں حاجت نہیں کہ مدرس اپنے ساتھ اتنے بچے لائے کیوں کہ جب وہ محنت سے کام کرے گا تو بچوں کا سیلاب تو خود ہی امنڈ پڑے گا۔

قوم کا کہنا ہے کہ مدرسے کھانے کمانے کا ذریعہ ہیں، یہ بات اس لیے سامنے آئی کہ بعض اہل مدارس نے مدارس کے لیے قوم سے چندہ تو وصول کیا لیکن تعلیم پر اسے صرف نہیں کیا یا برائے نام صرف کیا، تعلیمی اصلاحات نہیں کیں، مثلاً چار مدرس کی ضرورت تھی دو سے کام چلانے کی کوشش کی، اہل مساجد نے ظلم کا پہاڑ ہی توڑ دیا، 50 فیصد مسجدوں میں امام سے ہی پڑھواتے ہیں لیکن ماہانہ وظیفہ نامناسب ہی رہتا ہے، بعض سفیروں نے تو چندے کو دھندا بنالیا جب ان کی قلعی کھل گئی تو اس سے اچھے لوگوں کو بھی پریشانیوں کا سامنا ہوا کہ قوم اچھے برے سبھی کو ایک ہی صف میں شمار کرنے لگی。

مدارس کی مندرجہ ذیل قسمیں ہیں:

  1. وہ مدارس جو مساجد سے متصل ہوتے ہیں اور ان میں زیادہ تر دینیات مثلا قاعدہ یا چند سورتوں کو حفظ کرادیا جاتا ہے، بعض جگہ ان کا لیول مکتب سے اٹھ کر دارالعلوم تک ہوتا ہے یعنی اس میں حفظ وغیرہ کی درسگاہ بھی ہوتی ہے۔
  2. وہ مدارس جو مساجد سے متصل تو نہیں ہوتے لیکن ان میں شعبۂ حفظ یا درس نظامی کی دوچار جماعتوں کی تعلیم کا بند و بست ہوتا ہے، عموما ایسے ادارے زیادہ تر شخصی ہوتے ہیں۔
  3. وہ مدارس جو فضیلت و تخصص تک کی معیاری تعلیم کا معقول بند و بست رکھتے ہیں، اور ان میں زیادہ تر کو حکومت سے مراعات حاصل ہوتی ہیں۔

مدارس کو لے کر مختلف سوالات لوگوں کے ذہن میں گردش کرنے لگتے ہیں، اساتذۂ مدارس کی اس بابت یہ رائے سامنے آتی ہے کہ اہل مدارس جو ماہانہ وظیفہ مدرسین کو دیتے ہیں وہ ناکافی ہے، عام طور پر جو تنخواہیں دی جاتی ہیں وہ 8 ہزار سے 15 ہزار کے درمیان ہوتی ہیں، وہ بھی وقت پر نہیں، جب کہ ایک ان پڑھ مزدور کی آمدنی 600 روپے روزانہ کے حساب سے 18000 روپے ماہانہ ہو جاتی ہے، اس کا مطلب ہے ایک عالم دین کا مقام دنیوی لحاظ سے ایک مزدور سے بھی نیچے ہے، ائمہ مدارس کو تو اس پر مزید یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ مزدور صرف پانچ گھنٹے کام کرتا ہے اور ہمیں 24 گھنٹے کی ڈیوٹی کرنی پڑتی ہے۔

تنخواہیں ایسی ہوں کہ اساتذہ اپنا روزانہ کا ضروری خرچ بھی نکال سکیں اور کچھ بچت بھی ہو سکے، اپنے بچوں کو اعلی تعلیم بھی دلا سکیں نہ یہ کہ انھیں صرف جینے لائق تنخواہ دی جائے، اس پر طرفہ تماشا یہ کہ یہ بھی وقت پر نہیں، حافظ ملت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:

”جس سے کام لیا جاتا ہے اسے نا خوش نہیں کیا جاتا۔“

حافظ ملت علیہ الرحمہ کا یہی مشن تھا کہ اپنا اتنا بڑا دین کا قلعہ تیار کردیا کہ ان سے اسٹاف ناخوش ہوتا تھا، جب اسٹاف ناخوش ہوتا ہے تو خود ہی کام پر زیادہ توجہ دیتا ہے، میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ رائے نامناسب ہے کہ مدرسین صرف تنخواہ پر اعتماد نہ کریں بلکہ کوئی چھوٹا موٹا کاروبار کرلیں یا کوئی ہنر سیکھ لیں کیوں کہ یہ اس وقت تو متصور ہوسکتا ہے جب پانچ گھنٹے پڑھا کر وہ فری رہ سکتے ہوں لیکن اگر اساتذہ کے ذمہ خارجی اوقات کی دیکھ بھال ہو اور وہ طلبہ پر نگراں مقرر ہوں تو اس وقت اس کا خیال بھی محال ہے یعنی ان کے لیے اتنا وقت باقی ہی نہیں رہتا کہ وہ کوئی کاروبار کر سکیں، مزید یہ تصور ائمہ مدارس کے لیے تو قطعا نہیں کیا جاسکتا کہ ان سے عوام کالانعام کو کسی بھی وقت کوئی بھی کام پڑ سکتا ہے، اس سے ایک فائدہ یہ بھی ہوگا کہ امیر لوگ فی زمانہ اپنے بچوں کو دینی تعلیم دینے سے گریز کر رہے ہیں اس کی وجہ یہی ہے کہ علماء اور دین کے رہبر خود کفیل نہیں بہتیروں کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ ہمارا بچہ کیا کھائے گا اتنی قلیل ماہانہ سیلری میں۔

قارئین کرام! اگر آپ تقویٰ پرہیزگاری اور زہد و اتقا کی مشاورت کرنا چاہ رہے ہوں اور یہ سمجھانا چاہ رہے ہوں کہ پیسے کی طرف نظر رکھنا نہیں چاہیے، تو یہ واضح رہے کہ مال و دولت کی کثرت تقوی میں قطعا مخل نہیں کیا حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ زہد و تقویٰ کے پیکر نہیں تھے اور آج تک ان کے جیسا امیر کوئی پیدا نہیں ہوا بلکہ بسا اوقات غریبی اور مال و دولت کی قلت کفر و ارتداد کے دامن تک کھینچ لے جاتی ہے، ناشکری کا احتمال قوی ہوتا ہے علماء کی بات کو لوگ زیادہ اہمیت اس دور میں اس لیے بھی نہیں دیتے کہ دنیا والوں کے نزدیک عزت کا معیار مال و دولت ہے۔

مدارس اسلامیہ پر افتاد کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جس کی ما سبق میں ہم نے وضاحت کی کہ جب ناظم اعلی منتظمین ادارہ اساتذہ کی طرف سے تنگ نظری رکھیں گے تو اس کے نتائج یہی برآمد ہو سکتے ہیں، ان کے دل کی آہ جب عرش سے ٹکرائے گی تو اس کا فیصلہ من جانب اللہ ہوگا، مدارس اسلامیہ پر افتاد کی دوسری وجہ عوام کا ان سے کنارہ کش ہو جانا ہے اور دین کی ہمدردی نہ ہونا ہے یا دینی ماحول سے دوری ہے۔

عوام الناس کا اس بابت حال یہ ہے کہ اپنے بچوں کو تین اجزاء میں تقسیم کرتے ہیں ان میں ہوش مند ذہین و فطین کو انگلش میڈیم اور اسکول و کالجز میں بھیجتے ہیں، جب کہ غبی و شرارتی کو مدرسے کے حوالے کرتے ہیں، جس سے ان میں راہ فرار اختیار کرنے کی وارداتیں زیادہ رونما ہوتی ہیں، پھر ان کا ٹارگیٹ حصول تعلیم سے اس قدر ہوتا ہے کہ بچہ قرآن پاک پڑھنا سیکھ جائے یا بس حافظ قرآن ہو جائے یا اس سے بڑھ کر وہ عالم و مفتی بن جائے، جب کہ حالات حاضرہ کے مطابق عصری علوم و فنون کی تحصیل اور علم دین کی حصول یابی پر کامل توجہ اور زور ہونا چاہیے جو مکتب مساجد سے ملحق و متصل ہوتے ہیں، ان کے حالات تو بہت ناگفتہ بہ ہیں۔

اکثر کا حال یہ کہ 70 سے 80 طلبہ و طالبات کے لیے بس ایک استاد متعین وہ بھی پیشگی امامت کے فرائض کی انجام دہی والا، وہ بھی صرف دو گھنٹے کہ انھیں اسکول کے لیے وقت پر فارغ کرنا ہے، اس پر غور کریں یہاں سارا جرم ائمہ کا ٹھہرادیا جاتا ہے جب کہ ان کا کوئی قصور نہیں کہ ایک دو گھنٹے میں ستر اسی بچوں کو کیسے ڈیل کیا جاسکتا ہے جب کہ انھیں طلبہ کی اسی تعداد کو کور کرنے کے لیے اداروں میں سات سے آٹھ اساتذہ اور ان کی کلاس دینے کا وقت بھی قریب پانچ گھنٹے ہوتا ہے امام پر میلاد وغیرہ کی بھی ذمہ داری ہوتی ہے، جس کے بعد فجر انھیں آرام کی ضرورت ہوسکتی ہے، اس لیے تعلیم و تعلم کے لیے مستقل استاذ ہونا چاہیے، مکاتب کا یہ سسٹم سینکڑوں سالوں سے چلا آرہا ہے کوئی اس میں تبدیلی کرنے کو تیار نہیں۔

جاری۔۔۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!