Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

اور پیاس بجھنے لگی

اور پیاس بجھنے لگی
عنوان: اور پیاس بجھنے لگی
تحریر: قمر اخلاقی امجدی
پیش کش: قافیہ نوری بنت محمد ظہیر رضوی
منجانب: امجدی گلوبل اکیڈمی

سلسلہ تیغیہ ہندوستان کے تمام بڑے سلاسل کے صف اول سے شمار کیا جاتا ہے۔ پورے ملک کے مختلف مقامات میں اس سلسلہ کے سینکڑوں اور لاکھوں کی تعداد میں فیض یافتہ ہیں۔ اس سلسلہ کی ایک امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ اس سلسلہ کے خلفا و شیوخ نے ہند و پاک، بنگلہ دیش میں عموماً اور بالخصوص یوپی، بہار اور بنگال کے دیہی علاقوں میں جس محنت و مشقت کے ساتھ تربیت افراد اور اصلاح اعمال کے گراں قدر کارنامے انجام دیے ہیں، وہ تاریخ کا ایک روشن پہلو ہے۔ اسی عظیم سلسلہ کے روحانی اور مشہور معروف بزرگ شیخ طریقت طبیب ملت غواص بحرِ معرفت مولانا حافظ شاہ اخلاق احمد نوری یوسفی تیغی علیہ الرحمہ ہیں، جن کی تعلیم و تربیت سے ایک جہاں آباد ہے اور بے شمار گم گشتگانِ راہ ان کے فیض و کرم سے ہادی و مہتدی بن چکے ہیں۔

کتاب ”انوارِ تصوف“

آپ نے مسترشدین میں اصلاحِ اعمال اور روحانی تربیت کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ قائم فرمایا اور سالکینِ معرفت کی پیاس بجھانے کے لیے ایک اہم بیش قیمت رسالہ تالیف فرمایا۔ اربابِ علم و دانش اور حلقہ ارادت کے متلاشیانِ معرفت و حقیقت عرصہ دراز سے اس کتاب کے منتظر تھے۔ الحمدللہ یہ شدت انتظار کی گھڑی اب ختم ہوگئی اور ان کی پیاس بھی بجھنے لگی۔ مدرسہ اسلامیہ تیغیہ اخلاقی نگر کے زیر اہتمام سید المرسلین کانفرنس منعقدہ 30 مارچ 2017ء کو اس کتاب کا اجرا ہندوستان کے مشہور معروف علما و مشائخ کے ہاتھوں عمل میں آیا۔ اس تالیف کے سبب حضرت طبیبِ ملت علیہ الرحمہ سلاسلِ طریقت کے ان شیوخ میں شمار ہونے لگے، جنہوں نے مبتدی سالک کے لیے رسالے اور کتابیں تالیف فرمائیں۔ اس کتاب کی اہمیت و افادیت کسی ایک سلسلہ یا فرد کے ساتھ خاص نہیں، بلکہ تمام سلاسل کے شیوخ و مریدین کے لیے یکساں مستفاد کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کتاب کے مباحث اور نکاتی بیانات کے مطالعہ کے بعد آپ خود یہ کہنے پر مجبور ہوں گے کہ مادہ پرستی کے اس عہد میں آپ نے کس خوش اسلوبی کے ساتھ فن تصوف کا احیا فرمایا ہے۔ بطور مثال اس کتاب کے چند جواہر پارے درج ذیل ہیں۔

آپ نے مریدِ صادق کے لیے تحریر فرمایا: ”اے طالبِ حق! تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ارادت کس کو کہتے ہیں؟ ارادت دل کے اس میلان کا نام ہے جو خیال کو ایک خاص مقصد کی طرف جما دے اور ایسی تحریک پیدا کر دے جس سے طلب ظاہر ہو یعنی اس چیز کی تلاش میں لگا رہے، جو مراد و مقصود ہے۔ وہ مراد اگر اعلیٰ ہے تو ارادہ بھی بہتر و برتر ہو، اس لیے کہ صحیح اور کامل ارادت یہ ہے کہ وہ ہر قسم کی آمیزش، دینی و دنیاوی اغراض و تغیر و تبدل سے پاک ہو، اسباب و وجوہات کی رکاوٹیں اس میں حائل نہ ہوں اور کسی طرح کی خواہش اس پر غالب ہو کر اس کو منقطع نہ کر سکے، بلکہ وہ آدمی جس میں ارادت کی جلوہ گری ہوئی ہو۔“

بعض ایسے ہیں کہ ان کی ارادت میں تو ضعف نہیں ہوتا مگر کمزوریِ قوٰی اور دیگر موانع کے باعث اپنی ارادت کو ہر ایک شائبہ سے پاک نہیں کر پاتے۔ بعض ایسے ہیں کہ درستیِ ارادت کے بعد مراد کو دور دیکھ تھک ہار کر بیٹھ جاتے ہیں اور پژمردہ دل ہو جاتے ہیں، ان سب پر مستزاد یہ کہ ریا و عجب صاحبِ ارادت کا پیچھا نہیں چھوڑتے، ادھر اس میں مریدی کی شان آئی، اس نے اطاعت کے لیے گردن جھکائی اور ادھر سر اٹھا کر کہنے لگا۔ ”أنا فلان بن فلان“۔ پھر یہ تمنا بھی ہونے لگی کہ پوری دنیا مجھے غوث، قطب، ابدال اور ولی کہے۔

اے طالبِ حق! مرید صادق وہی ہے جس کی ارادت ہر ایک آمیزش سے پاک ہو، نہ اس میں دنیا طلبی ہو، نہ درجاتِ عقبیٰ کی تمنا ہو، صرف اللہ کی ارادت ہو، اگر ذرہ برابر بھی ماسوا کی طرف لگاؤ باقی ہے تو ارادت ناقص ہی رہے گی۔ یہاں پر ہم ایک نہایت مناسب مثال پیش کرتے ہیں جس سے طالب کو پوری تشفی ہو جائے گی۔ دیکھو! مکاتب غلام ہوتا ہے یعنی جسے اس کے مالک نے اس کو کاغذ پر لکھ دیا ہو کہ جس وقت تو اتنے روپے ادا کر دے گا، آزاد ہو جائے گا۔ اگر اس غلام نے مثلاً ایک ہزار روپیہ میں سے نو سو ننانوے روپے ادا کر دیے اور ایک روپیہ بھی ادا نہ کرے، تو وہ غلام ہی رہے گا، آزاد نہیں ہو سکتا، ”المكاتب عبد وإن بقي عليه درهم“ مسئلہ شرعی ہے۔ یہی حال ارادت کا ہے۔ طریقت میں ارادت کا وہی درجہ ہے جو درجہ نیت کا شریعت میں ہے جس طرح شریعت میں عبادت بے نیت کے کوئی قدر نہیں رکھتی، اسی طرح طریقت میں جو حرکت بغیر ارادت کے ہو گی اس کا کچھ وزن نہ ہو گا۔ [انوار التصوف، ص: 39]

آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ارادت کی حقیقت کو حضرت طبیبِ ملت نے کس بیش قیمتی موتی کی طرح پیش کیا غرض کہ پوری کتاب سالکانِ طریقت کے لیے ایک رہبر و رہنما اور بہترین تحفہ ہے۔ اسی طرح ایک دوسرے مقام پر آپ نے انوارِ قلب کے تعلق اس حلاوت کے ساتھ گفتگو فرمائی۔ لکھتے ہیں:

”اے طالبِ حق! معلوم ہو کہ دل جب صاف ہو جاتا ہے، طبعی زنگ مٹ جاتا ہے اور صفاتِ بشریت کی سیاہیاں دور ہو جاتی ہیں تو یہی دل انوارِ غیبی کے ظہور کے لائق ہو جاتا ہے، ابتدائی حالت میں وہ نور اکثر برق یا تیز روشنی کی طرح ظاہر ہوتا ہے۔ آئینہ دل میں جتنا اچھا صیقل ہو گا یہ نور اپنا رنگ اتنا ہی زیادہ دکھائے گا، اس کے بعد وہی نور جو برق کی طرح چمک جاتا تھا، رفتہ رفتہ اس میں ایک ثبات و قیام پیدا ہو جاتا ہے، اب وہی نور بتدریج چراغ یا شمع یا مشعل کی مانند چمکتا ہے، پھر علوی نور پیدا ہوتا ہے، ابتدا میں یہ انوار ستاروں جیسے ہوتے ہیں، پھر چاند کی طرح دکھائی دیتے ہیں، پھر آفتاب کے مثل نظر آتے ہیں، جو نور برق یا تیز روشنی یا صاف روشنی کی طرح ظاہر ہوتا ہے، اکثر و بیشتر وضو یا نماز یا کثرتِ وظیفہ وغیرہ کی برکت سے ظاہر ہوتا ہے۔ چنانچہ مروی ہے کہ شیخ ابوسعید ابوالخیر قدس اللہ سرہ و روحہ کا ایک مرید ایک مرتبہ وضو کر کے حجرہ میں داخل ہوا، ناگاہ ایک نور دیکھا۔ چیخ اٹھا اس گمان میں کہ اللہ تعالیٰ کو دیکھا۔ خداوند تعالیٰ کا دیدار نصیب ہوا اور اسی مستی میں نعرہ مارا۔ حضرت شیخ ابوسعید اس حال سے واقف ہو گئے۔ فرمایا اے ناتجربہ کار! تو کہاں ہے؟ اس نور کو تو نے کیا سمجھ لیا؟ ارے یہ نور تیرے وضو کا ہے۔ تیری بساط اور وہ بارگاہ؟ چھوٹا منہ اور بڑی بات۔ اے طالبِ حق! اس وقت اس مرید کے سر پر اگر پیر کا سایہ نہ ہوتا تو وہ ہلاک ہو جاتا۔“ [انوار التصوف، ص: 63]

معلوم ہوا کہ سلوک کے ہر مقام پر شیخِ کامل سخت ضرورت ہے، ورنہ بندہ مبتدی سالک کچھ کچھ سمجھ بیٹھے اور وہ ہلاک بھی ہو جائے۔ ذکر و اذکار کی اہمیت پر درج ذیل پیراگراف قابلِ مطالعہ ہے۔ آپ فرماتے ہیں:

”حاصلِ کلام یہ ہے کہ اللہ کا ذکر جب دل میں اتر جاتا ہے تو ہر آن ذکر میں گزرتا ہے، عیش و طیش، خوشی و غمی کسی سے بھی دل متاثر نہیں ہوتا، ہر حال میں ذکر جاری رہتا ہے۔ امام حسین رضی اللہ عنہ نے ایسی مصیبت کی حالت میں بھی نماز قضا نہ کی، قضا کرتے بھی کیسے؟ جب یہ نماز نانا جان نے دل میں اتاری تھی، نانا جان نے دل میں صبر و رضا کا جو پودا لگایا تھا، یزیدی ظلم کی آندھیاں اسے جنبش بھی نہ دے سکیں۔“ [انوار التصوف، ص: 89]

معلوم ہوا اصل میں ذکرِ الٰہی کی توفیق بھی کسی شیخ و مرشد کے توسط سے ہی حاصل ہوتی ہے۔ بغیر مرشدِ کامل کچھ بن پا نہیں اس لیے سالک کے لیے اولاً یہی ضروری ہے کہ وہ مرشدِ کامل کی تلاش کرے، جو مرشد اپنے مرید کو سلوک کے ہر محاذ سے آگاہ کرتا رہے، کیونکہ اس راہ میں ہلاکت بھی قریب ہوتی ہے۔ البتہ اگر شیخِ کامل کا سایہ رہا تو تمام مشکلات حل ہو جاتے ہیں۔ اس تعلق سے آپ فرماتے ہیں:

”اے طالبِ حق! معلوم ہونا چاہیے کہ مشائخِ طریقت رضوان الله عليهم أجمعين کا اس بات پر اتفاق ہے کہ توبہ کے بعد طالب پر ضروری ہے کہ ایسا پیر تلاش کرے جو شریعت پر عامل اور طریقت میں کامل ہو، طریقت کے نشیب و فراز سے آگاہ اور صاحبِ حال و قال ہو۔ صفاتِ جلالی کے قہر و غضب اور صفاتِ جمالی کے لطف و کرم کا مشاہدہ کر چکا ہو۔ پیر میں جو چار چیزیں ضروری ہیں ان کا مصداق ہو، اور ایسا طبیبِ حاذق ہو گیا ہو کہ مرید کے جملہ امراض و عوارضِ باطنیہ کا علاج جانتا ہو اور کر سکتا ہو۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کُونُوا مَعَ الصّٰدِقِیْن ترجمہ: سچوں کے ساتھ ہو۔ [التوبۃ: 119] [انوار التصوف، ص: 25]

ایک مقام پر شیخِ کامل کے بارے میں اس طرح فرماتے ہیں: ”مبتدی طالب کو معلوم ہونا چاہیے کہ شیخی کا اہل کون ہو سکتا ہے اور مرتبہِ مقتدائی کا مستحق کون ہے؟ اس امر کی تشریح بزرگانِ دین خصوصاً حضرت شیخ شرف الدین یحییٰ منیری رضی اللہ عنہ اپنے مکتوب میں اس طرح کرتے ہیں:

”فرماتے ہیں کہ اہلیتِ شیخی اجمالاً پانچ رکنوں پر رکھی ہے اور ان پانچ رکنوں کو اس آیت کریمہ سے نکالا گیا ہے فَوَجَدَا عَبْدًا مِّنْ عِبَادِنَا اٰتَیْنٰہُ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا وَعَلَّمْنٰہُ مِنْ لَّدُنَّا عِلْمًا [الکہف: 65]

ترجمہ: تو ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ پایا جسے ہم نے اپنے پاس سے رحمت دی اور اسے اپنا علم لدنی عطا کیا۔

حق سبحانہ و تعالیٰ نے جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بشانِ مریدی و متعلمی حضرت خضر علیہ السلام کی خدمت میں بھیجا تو مقامِ شیخی و معلمی کے اعتبار سے آپ کے پانچ مراتب ظاہر ہوئے۔

  • پہلا مرتبہ: عبدیت کا اختصاص جو اللہ کے قول ”من عبادنا“ سے ظاہر ہے۔
  • دوسرا مرتبہ: اس حقیقت کو قبول کرنے کی صلاحیت و استعداد جس کا نزول بلاواسطہ حضرت خداوند تعالیٰ سے ہوا کرتا تھا یہ ”آتيناه رحمة“ سے روشن ہے۔
  • تیسرا مرتبہ: اس امر کی خصوصیت کہ مقامِ عندیت سے رحمتِ خاص کی دریافت حاصل تھی۔ یہ رب تعالیٰ کے قول ”رحمة من عندنا“ سے واضح ہے۔
  • چوتھا مرتبہ: حضرت خداوند نے بلاواسطہ علم سکھائے تھے یہ ”علمناه“ سے صاف صاف نکلتا ہے۔
  • پانچواں مرتبہ: انہیں علمِ لدنی کی دولت عطا ہوئی تھی جس کا انکشاف ”من لدنا علما“ سے ہو رہا ہے۔“ [انوار التصوف، ص: 31-32]

اسی طرح پوری کتاب کا ایک ایک ورق ورقِ معرفت کا ایک خزانہ ہے۔ دعا ہے کہ رب تعالیٰ حضرت طبیب ملت علیہ الرحمہ کی اس سعی مبارک کو قبول فرمائے اور اس کتاب کو سالکین راہ تصوف کے لئے رہنما بنائے۔ آمین

ماہنامہ: پیغام شریعت دہلی
صفحہ نمبر: 46
جولائی 2017ء

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!