Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...

اسلام کا نظام حسبہ: گوستاف گریٹباوم کے باطل نظریے کی تردید|ابو التمش اعظمی

اسلام کا نظام حسبہ: گوستاف گریٹباوم کے باطل نظریے کی تردید
عنوان: اسلام کا نظام حسبہ: گوستاف گریٹباوم کے باطل نظریے کی تردید
تحریر: ابو التمش اعظمی
پیش کش: محمد کیف رضا

اسلامی شریعت اُن سابقہ آسمانی شریعتوں کی مانند نہیں جو اپنے زمانے کی حدود و قیود میں رہ کر منسوخ ہو چکیں، بلکہ اسلامی شریعت تو تمام انسانیت کے لیے ایک ایسا ابدی ضابطہ حیات ہے جو انسان کی دنیا بھی سنوارتا ہے اور آخرت بھی۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ آج ہم اس صداقتِ جاوداں سے اپنے منہ موڑے ہوئے بیٹھے ہیں۔ ہماری فطرت کے آئینے پر شکوک و شبہات کی دبیز دھند جمی ہوئی ہے، ہمارے ذہن ان نظریات کے اسیر ہو چکے ہیں جن کی اصل روشنی نہیں صرف دھواں ہے۔ ان نام نہاد ترقی یافتہ نظریات نے ہماری پوری قوم کو محرومی اور ذلت کا اسیر بنا رکھا ہے، لیکن مشاہدے میں یہ بات بھی آئی ہے کہ خود اِن نظریات کی بنیادیں اُن کے اپنے ہی دیار میں زلزلوں کا شکار ہیں، ان کی چمک دمک پھیکی پڑ چکی ہے، گویا وہ نظریات باطل اپنے ہی ہاتھوں اپنی قبر کھود رہے ہیں۔

اسلام محض ایک دین نہیں بلکہ مکمل ضابطہ حیات ہے، اس میں زندگی گزارنے کے رہنما قوانین کے علاوہ حکومت و ریاست کے لیے ایسے ضابطے موجود ہیں جو انسانی فطرت کے عروج و زوال کے ساتھ ہم آہنگ ہیں۔ انھی قوانین میں سے ایک قانون “حسبہ” ہے (یعنی نظامِ احتساب) یہ قانون معاشرے کو دھوکا دہی اور جعل سازی سے پاک خوش حال اور محفوظ زندگی فراہم کرتا ہے۔

لوگ کہیں گے کہ یہ تو ایک پرانا موضوع ہے، جس پر قدیم مصادر میں بہت کچھ لکھا جا چکا ہے، پھر اس میں نیا کیا ہے؟ تو حقیقت یہ ہے کہ حسبہ کے قدیم متون سے ماخوذ ہونے کا جو بھی دعویٰ کیا گیا ہے وہ سب کی سب غلط بنیادوں پر ہے۔ مشہور مستشرق (Orientalist) گوستاف گریٹباوم نے اپنی کتاب “الإسلام في العصر الوسيط” میں یہ دعویٰ کیا کہ نظامِ حسبہ “والی المدینہ” نامی بازنطینی (Byzantine) کتاب سے ماخوذ ہے، یعنی یہ کوئی اسلامی قانون نہیں بلکہ دوسری قوموں سے حاصل شدہ نظام ہے، اسلامی نہیں بلکہ غیر قوموں سے نقل کیا گیا ہے۔ لہٰذا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ہم اس نظام پر ایک مختصر نگاہ ڈالیں تاکہ حقیقتِ حال واضح ہو سکے اور مستشرقین کے جھوٹ کے پردے فاش ہو سکیں۔

حسبہ کا معنیٰ:

لفظِ “حسبہ” عربی زبان کے مادہ “حَسَبَ - يَحْسَبُ - حِسْبَةً” سے ماخوذ ہے، جس کے بنیادی معنیٰ ہیں: “گنتی کرنا، اندازہ لگانا، شمار کرنا، حساب لینا، اور نیکی کی نیت سے کسی کام کو انجام دینا”۔

“حسبہ” لغت میں اُس عمل کو کہا جاتا ہے جو انسان خالصتاً رضائے الٰہی کے لیے انجام دے، خواہ اس میں کوئی دنیاوی منفعت یا ذاتی فائدہ شامل نہ ہو۔ چنانچہ عربی میں کہا جاتا ہے:

فَعَلَهُ احْتِسَابًا لِّوَجْهِ اللَّهِ.

یعنی: “اس نے یہ کام صرف اللہ کی رضا کے لیے کیا۔”

اسی سے لفظ “احتساب” بھی نکلا ہے، جس کا مطلب ہے “اللہ کی رضا کے حصول کے لیے عمل کرنا” یا “اللہ کی طرف سے اجر کی امید رکھنا”۔

فقہی و شرعی اصطلاح میں “الحسبۃ” کا مفہوم اس سے وسیع ہے۔ علما کے نزدیک “حسبہ” اجتماعی نگرانی کا وہ نظام ہے جس کے ذریعے اسلامی ریاست میں امر بالمعروف ونہی عن المنکر (نیکی کا حکم اور برائی سے روکنا) عملاً نافذ کیا جاتا ہے۔ یعنی:

الْحِسْبَةُ هِيَ وِلَايَةٌ عَلَى الْأُمُورِ الْعَامَّةِ لِإِقَامَةِ الْمَعْرُوفِ إِذَا ظَهَرَ تَرْكُهُ، وَلِمَنْعِ الْمُنْكَرِ إِذَا ظَهَرَ فِعْلُهُ. [الماوردي، الأحكام السلطانية]

“حسبہ وہ انتظامی اختیار ہے جو عوامی معاملات کی اصلاح کے لیے قائم کیا جاتا ہے، تاکہ نیکی کو قائم کیا جائے جب وہ ترک ہونے لگے اور برائی کو روکا جائے جب وہ ظاہر ہو۔”

حسبہ کی اصل:

یہ خالص اسلامی نظام ہے جس کی بنیاد واضح قرآنی آیات پر ہے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ [سورۃ آل عمران: 104]

ترجمہ: “اور تم میں سے ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے جو لوگوں کو بھلائی کی طرف بلائے، نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکے اور یہی لوگ کامیاب ہیں۔”

مزید ارشاد فرمایا:

وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ [سورۃ التوبہ: 71]

ترجمہ: “مؤمن مرد اور مؤمن عورتیں آپس میں ایک دوسرے کے رفیق و مددگار ہیں، وہ نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں۔”

اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے افعال میں بھی اس نظام کا ثبوت موجود ہے۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غلے کے ایک ڈھیر کے پاس سے گزرے، آپ نے اپنا ہاتھ اس میں ڈالا، تو نمی محسوس ہوئی۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: “اے اناج والے! یہ کیا ہے؟” اس نے کہا: “یا رسول اللہ! اسے بارش لگ گئی تھی۔” یہ سن کر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “تو اسے تم نے اوپر کیوں نہیں رکھا تاکہ لوگ دیکھ لیں۔” اور فرمایا: “جو دھوکے بازی سے کام لے وہ مجھ سے نہیں۔” [مسلم]

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو بھی اس ذمہ داری میں شریک فرمایا۔ آپ نے سعید بن العاص کو مکہ کے بازار کا نگران مقرر فرمایا تاکہ معاشرتی زندگی اسلامی اصولوں کے مطابق چلے اور کوئی دھوکا یا بددیانتی نہ کرے۔

خلفائے راشدین بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سنت پر عمل پیرا رہے۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ خود بازاروں کا معائنہ کرتے، ترازو اور پیمانوں کو دیکھتے اور گڑبڑ کرنے والوں کو متنبہ کرتے۔ روایت ہے کہ آپ نے ایک اونٹ والے کو مارا اور فرمایا: “تو نے اپنے اونٹ پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ لادا ہے”۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بازارِ مدینہ کے لیے عبداللہ بن عتبہ کو محتسب مقرر کیا اور بعض بازاروں کی نگرانی کے لیے ایک انصاری خاتون الشفاء بنت عبداللہ کو بھی یہ ذمہ داری سونپی۔ [حوالہ: ماہنامہ جامعہ اشرفیہ، نومبر 2025]

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!