| عنوان: | انسانی حقوق کا تصور: تصوف اور اہل تصوف کے حوالے سے (قسط: دوم) |
|---|---|
| تحریر: | جہانگیر عالم |
| پیش کش: | ناظمین فاطمہ ردولی |
| منجانب: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی مراد آباد |
عزت و پاس داری کے حقوق: حضرت معروف کرخی اکثر فرمایا کرتے تھے کہ استطاعت ہو تو دینے میں کسی کی تمیز نہ کرے اور جب کسی کا حال معلوم ہو تو اسے سوال کرنے سے پہلے کچھ بخش دے۔ [کشف المحجوب، ص: 254]
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاتم کی اولاد سے ایک لڑکا آیا تو آپ نے اس کے لیے چادر بچھا دی، اور فرمایا تمہارے پاس کسی قوم کا معزز آئے تو اس کی عزت کرو۔ [کشف المحجوب، ص: 504]
ایک جگہ آپ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو سہل صعلوکی رحمہ اللہ کبھی کسی درویش کو ہاتھ میں صدقہ نہیں دیتے بلکہ زمین پر رکھ دیا کرتے آپ فرماتے کہ دینار کی وہ قدر نہیں جو کسی مسلمان کے ہاتھ کی مجھے عزت ہے۔ یعنی آپ مانگنے والوں کو بھی عزت و آبرو کا حق دار سمجھتے تھے۔
مہمان کے حقوق: جود و سخا کے باب میں داتا گنج بخش رحمہ اللہ نے بیان کیا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام بغیر مہمان کے کھانا تناول نہیں فرماتے۔ [کشف المحجوب، ص: 504]
غرباء و مساکین کے حقوق: بیان کرتے ہیں کہ ایک درویش کو ایک بادشاہ نے تین سو درہم بھیجے، اس درویش نے وہ درہم لیے اور ایک گاؤں میں چلا گیا اور تمام درہم گاؤں والوں میں تقسیم کر دیے۔ [کشف المحجوب، ص: 508]
صلح و سلامتی کے حقوق: شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ نے فتوح الغیب میں نیکیوں کی تلقین میں بیان فرمایا ہے کہ لوگوں سے دشمنی کے بجائے دوستی شعار کرو، الفت سے کام لو، نفرت و کینہ سے بچو۔ [فتوح الغیب، ص: 7]
حلال معاش و روزگار کے حقوق: حضرت غوث پاک فرماتے ہیں تم نے رزق حلال کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقے سے حاصل کرنا چھوڑ دیا ہے، تم نے ان کے بتائے طریقے سے حلال روزی کیوں نہ لی کہ یہ تم پر فرض تھا۔ [فتوح الغیب، ص: 32]
مساوات و برابری کے حقوق: فقراء اور امراء کے بیان میں شیخ عبدالقادر جیلانی فرماتے ہیں کہ خود کے لیے یہ نہ کہو کہ مجھے دنیا میں رہنے کے قابل نہیں کیا، مجھے نام، کیا کہنے اور برادری میں مقام نہیں بخشا اور دوسروں کو نعمتیں عطا کر کے اطمینان قلب کی دولت دی بلکہ ہم سب آدم و حوا کی اولاد ہیں۔ [فتوح الغیب، ص: 50]
تعلیم و تعلم کے حقوق: اس کے ضمن میں آپ فرماتے ہیں کہ لوگوں کی چوتھی قسم وہ ہے جن کے بارے میں حدیث پاک میں آیا ہے کہ جس نے علم حاصل کیا، اس پر عمل کیا، دوسروں کو اس کی تعلیم دی، اس کو عالم ملکوت میں عزت و عظمت کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے۔
پڑوسیوں کے حقوق: حضرت فرماتے ہیں: اے مومن میں تمہیں ہمسائے کے کھانے پینے، نکاح، مکان، لباس اور خدا کی عطا کردہ ثروت اور غنا پر حسد کرتے ہوئے کیوں دیکھتا ہوں۔ یہ نعمتیں اسے اس لیے حاصل ہیں کہ خدا نے اس کی قسمت میں لکھ دی ہیں۔ تم محض جہالت کی وجہ سے حسد کر کے اپنے بھائی پر ظلم کر رہے ہو۔
بھائیوں کے حقوق: آپ فرماتے ہیں کہ ہر حال میں اپنی بے چارگی کا خیال کرو اور اپنے بھائیوں کے حقوق کو اس خیال سے ضائع نہ کرو کہ تمہارے اور ان کے درمیان دوستی اور یگانگت ہے۔ [فتوح الغیب، ص: 143]
امراء و عوام الناس کے حقوق: آپ فرماتے ہیں جو تمہارے لیے حاکم برحق ہو، اس کی اطاعت کرو اور حاکم کا حق ادا کرتے ہوئے اس سے کسی ایسی چیز کا مطالبہ نہ کرو جو اس پر واجب ہو اور بہر حال اس کے لیے دعا کرو، مزید فرماتے ہیں اور مسلمانوں کے بارے میں اچھا گمان رکھنا، خیر خواہی کے جذبات سے کام لینا، اور ان کی بھلائی میں کوشاں رہنا تم پر واجب ہے۔ [فتوح الغیب، ص: 144]
خدمت خلق: شہاب الدین سہروردی رحمہ اللہ عوارف المعارف میں لکھتے ہیں: خادم خدمت کے باعث بطالت اور کاہلی سے محفوظ رہتا ہے اور یہی بیکاری دل کی موت ہے یعنی خدمت بھی صوفیہ کے نزدیک نیک کاموں میں شامل ہے۔ [عوارف المعارف، ص: 263]
مساوات کے حقوق: قیدیوں کے ساتھ کھانے میں شرکت کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: آپ کے پیر ابو نجیب سہروردی ملک شام کے سفر پر تھے تو قیدیوں کو آپ نے اپنے دسترخوان پر بٹھایا اور ان کے ساتھ کھانا تناول فرمایا۔ [عوارف المعارف، ص: 415]
ہمسایہ اور دوستوں کے حقوق: آپ فرماتے ہیں کہ خواہ وہ ہمسایہ ہو یا دوست یا اپنے اہل و عیال ہوں یا عام مخلوق تواضع سے پیش آنا صوفیہ کی اخلاقی خصوصیت ہے۔ [عوارف المعارف، ص: 42]
لوگوں پر مال خرچ کرنا: آپ شیخ بایزید بسطامی کا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ آپ نے ایک شخص سے سوال کیا کہ تیرے نزدیک زہد کیا ہے، اس نے کہا کہ “جب ہمیں کچھ نہیں ملتا تو ہم شکر کرتے ہیں اور کچھ مل جاتا ہے تو اس کو دوسروں پر خرچ کر دیتے ہیں”۔ [عوارف المعارف، ص: 423]
شاگردوں اور مریدوں کے حقوق: آپ فرماتے ہیں کہ آداب شیخ میں یہ بھی داخل ہے کہ شیخ اپنے مریدوں کے ساتھ ہمدردی کرے اور صحت و مرض دونوں حالتوں میں ان کے حقوق ادا کرے۔
امن و امان کے حقوق: حضرت بشر حافی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تم اس وقت کامل انسان بن سکتے ہو جب تمہارے دشمن تم سے امن میں رہیں اور اس وقت تک تم میں بہتری نہ ہوگی جب تک تمہارے دوست تم سے امن میں نہ ہوں۔ [طبقات الصوفیہ، ص: 45]
حضرت حارث محاسبی فرماتے ہیں کہ تکلیفیں برداشت کرنا، کم ناراض ہونا، خوش دکھائی دینا اور ستھری گفتگو کرنا اچھی عادتوں میں شمار ہوتی ہیں۔ [طبقات الصوفیہ، ص: 55]
حضرت شقیق بن ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مجھے مہمان سے بڑھ کر کوئی چیز اچھی نہیں لگتی کیونکہ اس کی روزی اور ذمہ داری اللہ نے لے رکھی ہے لیکن مجھے اس پر اجر و ثواب ملتا ہے۔ [طبقات الصوفیہ، ص: 60]
حضرت معروف کرخی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سخاوت کرنا یہ ہوتا ہے کہ تنگی کی حالت میں بھی انسان ضرورت کی چیزیں بھی دوسروں کو دے دے۔ [طبقات الصوفیہ، ص: 71]
حضرت فرید الدین گنج شکر رحمہ اللہ کے ملفوظات سے کچھ انسانی حقوق پر اچھے کلمات ذیل میں پیش خدمت ہیں۔ آپ فرماتے ہیں: ہر شخص کی روٹی نہ کھاؤ، ہاں عام لوگوں کو بغیر کسی تخصیص کے روٹی دو۔ جب تک بن پڑے عورتوں کو گالیاں دینے کی عادت پیدا نہ کرو۔ نیکی کرنے پر بہانہ جوئی کی عادت ڈالو۔ مہمان کے ساتھ تکلف کا برتاؤ نہ کرو۔ دوست کو اخلاق سے اپنا گرویدہ بنالو۔ اگر تم ذلیل و رسوا نہیں ہونا چاہتے تو کسی سے لڑائی نہ کرو۔ [سیر الاولیاء، ص: 143، 144]
مذکورہ بالا سطور میں اہل تصوف کے حوالے سے انسانی حقوق کا تصور چند کتابوں کے حوالے سے پیش کیا گیا ہے جو بخوف طوالت تھا، ورنہ اس موضوع پر لکھنے کے لیے بے شمار سطور بھی کم پڑ جائیں گی۔ صوفیاء کرام کی مکمل زندگی خدا کی اطاعت میں گزری ہے مگر ساتھ ساتھ ان حضرات نے انسانی حقوق کو بھی بخوبی انداز میں ادا کیا ہے، اور دوسروں کو بھی اس کا درس دیا ہے۔ آج ہمیں بھی ضرورت ہے کہ صوفیائے کرام کی تعلیمات کو عام کریں اور ان کے نقوش قدم پر چلنے کی کوشش کریں۔ آج ہم نے صرف ان کی کرامات کو اپنی محفلوں میں ذکر کرنے پر بس کر دیا ہے حالانکہ ہمیں ان کی مکمل زندگی کے بارے میں جاننا چاہیے اور ان کی اصل تعلیمات کو عام کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اللہ پاک ہمیں صوفیائے کرام کی تعلیمات کو عام کرنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق بخشے آمین۔
