گھر میں آنے جانے کے آداب|محمد حبیب اللہ بیگ ازہری

گھر میں آنے جانے کے آداب
عنوان: گھر میں آنے جانے کے آداب
تحریر: محمد حبیب اللہ بیگ ازہری
پیش کش: انس احمد خان العطاری
منجانب: مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان عطار نیپال

اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتًا غَيْرَ بُيُوتِكُمْ حَتَّىٰ تَسْتَأْنِسُوا وَتُسَلِّمُوا عَلَىٰ أَهْلِهَا ۚ ذٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ ۝ فَإِن لَّمْ تَجِدُوا فِيهَا أَحَدًا فَلَا تَدْخُلُوهَا حَتَّىٰ يُؤْذَنَ لَكُمْ ۖ وَإِن قِيلَ لَكُمُ ارْجِعُوا فَارْجِعُوا ۖ هُوَ أَزْكَىٰ لَكُمْ ۚ وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ ۝ لَّيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَدْخُلُوا بُيُوتًا غَيْرَ مَسْكُونَةٍ فِيهَا مَتَاعٌ لَّكُمْ ۚ وَاللّٰهُ يَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا تَكْتُمُونَ [سورۃ النور: 27-29]

ترجمہ: اے ایمان والو! دوسروں کے گھروں میں نہ جاؤ جب تک کہ اجازت نہ لے لو اور ان گھروں میں رہنے والوں کو سلام نہ کر لو، یہ تمھارے حق میں زیادہ بہتر ہے، تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔ اور اگر ان گھروں میں کسی کو نہ پاؤ تو ان کے اندر نہ جاؤ، یہاں تک کہ تمھیں اجازت مل جائے، اور اگر تم سے کہا جائے لوٹ جاؤ تو لوٹ جاؤ، یہ تمھارے لیے زیادہ پاکیزگی کا باعث ہے، اور اللہ تمھارے کاموں سے باخبر ہے۔ تمھارے لیے کوئی حرج نہیں کہ تم ایسے گھروں میں جاؤ جن میں کوئی نہیں رہتا ہے، جن میں تمھارا سامان ہے، اور اللہ جانتا ہے جسے تم ظاہر کرتے ہو اور چھپاتے ہو۔

خلاصہ آیات

گزشتہ آیات میں بدکاری کی حرمت اور اس کا شرمناک انجام بیان کیا گیا، اس کے فوراً بعد گھر میں آنے جانے کے آداب و اصول بیان کیے گئے، تاکہ اس حقیقت کی طرف اشارہ ہو سکے کہ معاشرے میں بڑھتی ہوئی بے حیائی اور بدکاری کو روکنے کے لیے گھروں میں آنے جانے کا نظام بہتر بنانا ضروری ہے، اور اس سلسلے میں سب سے بہترین اصول وہ ہیں جو ہمیں قرآن کریم نے عطا کیے، جنھیں ہم یہاں تفصیل کے ساتھ بیان کریں گے۔

اپنے گھر میں جانے کے آداب و اصول

  1. اگر کوئی شخص گھر میں اکیلے رہتا ہو تو اسے اپنے گھر میں داخل ہونے کے لیے کسی سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں، اس کے لیے اتنا کافی ہے کہ بسم اللہ پڑھ کر تالا کھولے، اور گھر میں داخل ہونے کی دعا پڑھ کر اندر چلا جائے۔

  2. کوئی شخص اپنی ماں، بہن، بھائی یا زوجہ کے ساتھ رہتا ہو، یعنی گھر میں صرف دو افراد رہتے ہوں، اور ان میں کا کوئی بھی ایک فرد باہر سے آئے تو اسے گھر میں داخل ہونے سے پہلے اجازت لینا اور سلام کرنا ضروری ہے۔ چناں چہ حضرت عطا بن یسار سے مروی ہے کہ ایک صحابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا مجھے اپنی ماں کے پاس جانے کے لیے اجازت لینا ضروری ہے؟ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ صحابی نے کہا: وہ میرے ساتھ ایک ہی گھر میں رہتی ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تب بھی اجازت لے کر جاؤ۔ صحابی نے کہا: میں اپنی ماں کی خدمت کرتا ہوں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اپنی ماں کو برہنہ دیکھنا چاہتے ہو؟ صحابی نے کہا: نہیں۔ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تب اجازت لے کر جاؤ۔ [موطا امام مالک، کتاب الاستئذان، رقم الحدیث: 2028] عموماً گھر میں تنہا رہنے والا محتاط نہیں رہتا، اسی لیے بلا اجازت گھر میں جانا مناسب نہیں۔

  3. کوئی شخص اپنے اہل و عیال کے ساتھ رہتا ہو یعنی مکان میں کئی افراد رہتے ہوں تو اسے اجازت لینے کی ضرورت نہیں، سلام کر دینا کافی ہے، بلکہ بہتر یہ ہے کہ گھر میں داخل ہونے سے پہلے دستک دے کر یا بلند آواز سے تسبیح پڑھ کر اہلِ خانہ کو متنبہ کر دے پھر سلام کر کے اندر جائے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

    فَإِذَا دَخَلْتُم بُيُوتًا فَسَلِّمُوا عَلَىٰ أَنفُسِكُمْ تَحِيَّةً مِّنْ عِندِ اللّٰهِ مُبَارَكَةً طَيِّبَةً [سورۃ النور: 61]

    جب گھروں میں جاؤ تو اپنے اہل کو سلام کرو، جو اللہ کی طرف سے پاکیزہ تحیت ہے۔

دوسروں کے گھر میں جانے کے آداب و اصول

  1. بلا اجازت دوسروں کے گھر میں جانا منع ہے، اس لیے اگر کسی کے گھر جانے کی ضرورت پیش آئے تو پہلے سلام کرے، پھر اندر آنے کی اجازت طلب کرے، اگر اجازت ملے تو جائے، ورنہ لوٹ آئے، فرمایا:

    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتًا غَيْرَ بُيُوتِكُمْ حَتَّىٰ تَسْتَأْنِسُوا وَتُسَلِّمُوا عَلَىٰ أَهْلِهَا ۚ ذٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ [سورۃ النور: 27]

    اے ایمان والو! دوسروں کے گھروں میں نہ جاؤ جب تک کہ اجازت نہ لے لو اور ان گھروں میں رہنے والوں کو سلام نہ کر لو، یہ تمھارے حق میں زیادہ بہتر ہے، تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔

  2. اجازت کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ دروازے پر دستک دے، بٹن دبائے، یا کال کرے، اجازت مل جائے تو سلام کر کے اندر جائے۔ دستک دینے میں اس بات کا لحاظ رہے کہ زور سے دستک نہ دے جس سے اہلِ خانہ کو خلل ہو، اسی طرح کوئی بھی کام تین بار سے زیادہ نہ کرے، نہ تین بار سے زیادہ دستک دے، نہ بٹن دبائے، نہ آواز لگائے، نہ ہی بار بار کال کرے کہ اس سے کوفت ہوتی ہے۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

    إِذَا اسْتَأْذَنَ أَحَدُكُمْ ثَلَاثًا فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ فَلْيَرْجِعْ. [صحيح البخاري، كِتَابُ الِاسْتِئْذَانِ، رقم الحديث: 5891]

    جب تم تین بار اجازت طلب کرو، اور اجازت نہ ملے تو لوٹ جاؤ۔ اسی لیے تین بار کوشش کے بعد بھی کوئی جواب نہ ملے تو واپس لوٹ جائے، دروازے پر کھڑے ہو کر انتظار نہ کرے، کہ اس سے گھر والوں کو الجھن ہوتی ہے۔

  3. اگر دستک دینے اور اجازت مانگنے کے باوجود کوئی جواب نہ ملے تو گھر کو خالی سمجھ کر اندر نہ جائے، بلکہ الٹے قدم لوٹ جائے، یوں ہی گھر والوں میں کوئی کہہ دے کہ ابھی چلے جاؤ، یا بعد میں آؤ تو بخوشی واپس چلا جائے۔ ممکن ہے کہ صاحبِ خانہ اس وقت بہت ضروری کام میں ہو، اور فوری ملاقات کی گنجائش نہ ہو۔ فرمایا:

    فَإِن لَّمْ تَجِدُوا فِيهَا أَحَدًا فَلَا تَدْخُلُوهَا حَتَّىٰ يُؤْذَنَ لَكُمْ ۖ وَإِن قِيلَ لَكُمُ ارْجِعُوا فَارْجِعُوا ۖ هُوَ أَزْكَىٰ لَكُمْ ۚ وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ [سورۃ النور: 28]

    اور اگر ان گھروں میں کسی کو نہ پاؤ تو ان کے اندر نہ جاؤ، یہاں تک کہ تمھیں اجازت مل جائے، اور اگر تم سے کہا جائے لوٹ جاؤ تو لوٹ جاؤ، یہ تمھارے لیے زیادہ پاکیزگی کا باعث ہے، اور اللہ تمھارے کاموں سے باخبر ہے۔

  4. دستک دینے کے بعد یا اجازت لینے کے دوران بالکل دروازے کے سامنے کھڑے نہ رہے، بلکہ دائیں بائیں جہاں مناسب جگہ ملے ہٹ کر انتظار کرے، تاکہ بے پردگی نہ ہو۔ حضرت عبداللہ بن بشر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی کے گھر تشریف لے جاتے تو دروازے کے سامنے نہیں رکتے، بلکہ دائیں یا بائیں ہو جاتے اور سلام کرتے، کیوں کہ اس وقت دروازوں پر پردے نہیں ہوتے تھے۔ [سنن ابی داؤد، کتاب الادب، باب کم مرۃ یسلم الرجل فی الاستئذان، رقم الحدیث: 5186]

  5. کچھ افراد ایسے بھی ہوتے ہیں جو پہلے دروازے یا کھڑکی سے جھانک کر دیکھتے ہیں، اگر کوئی نظر آجائے تو سلام کر کے اجازت لیتے ہیں، ایسے افراد کو معلوم ہونا چاہیے کہ بے پردگی سے روکنے ہی کے لیے اجازت کا قانون مشروع ہوا ہے، لہٰذا جس طرح بلا اجازت گھر میں جانا منع ہے بالکل اسی طرح جھانکنا منع ہے، کیوں کہ دونوں میں یکساں بے پردگی ہے۔ ایسے افراد کے لیے سخت وعید آئی ہے، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

    لَوْ أَنَّ امْرَأً اطَّلَعَ عَلَيْكَ بِغَيْرِ إِذْنٍ فَحَذَفْتَهُ بِعَصَاةٍ فَفَقَأْتَ عَيْنَهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيْكَ جُنَاحٌ. [صحيح البخاري، كِتَابُ الدِّيَاتِ، رقم الحديث: 6506]

    اگر کوئی شخص بغیر اجازت تمھیں جھانک کر دیکھے، تم کنکر مار کر اس کی آنکھ پھوڑ دو تو تم پر کوئی مواخذہ نہیں ہو گا۔ یعنی کسی کے گھر میں جھانک کر دیکھنا سنگین جرم ہے، اسی لیے آنے والے کی اس حماقت پر کوئی ناراض ہو کر سخت سست کہے تو معذور ہے۔

  6. دستک دینے، یا اجازت طلب کرنے والے سے پوچھا جائے: کون؟ تو جواب میں “میں” نہ کہے، بلکہ اپنا نام یا علامت بتائے، کیوں کہ “میں” کہنے سے آنے والے کی پہچان نہیں ہو سکتی۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، فرمایا کہ میں اپنے والد کے ایک قرض کا حکم دریافت کرنے کے لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کاشانۂ اقدس پر حاضر ہوا، دروازے پر دستک دی تو آپ نے فرمایا: کون؟ میں نے کہا: میں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں بھی میں ہوں۔ [سنن ابی داؤد، کتاب الادب، رقم الحدیث: 5187] یعنی “میں” کوئی ایسا لفظ نہیں جس سے آنے والے کی شناخت ہو سکے، اسی لیے نام بتائے، تاکہ گھر والا پہچان کر اجازت دے سکے۔

  7. آج جب کہ ہر شخص کے پاس فون کی سہولت ہے تو بہتر یہی ہے کہ پیشگی رابطہ کر کے وقت لے لے، پھر مقررہ وقت پر ملاقات کے لیے جائے۔

  8. اجازت و اطلاع اور سلام و تحیت کے سارے احکام ان گھروں کے لیے ہیں جن میں لوگ رہتے بستے ہوں، لیکن جو کسی کا رہائشی مکان نہ ہو، اور وہاں لوگوں کی آمد و رفت رہتی ہو اس میں اجازت کی کوئی ضرورت نہیں، مثلاً مسجد، مدرسہ، درگاہ، مسافر خانہ، دواخانہ، دکان، ہوٹل، بس اسٹاپ، ریلوے اسٹیشن، ایئر پورٹ وغیرہ پر بوقت ضرورت بلا اجازت آنے جانے میں کوئی حرج نہیں، فرمایا:

    لَّيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَدْخُلُوا بُيُوتًا غَيْرَ مَسْكُونَةٍ فِيهَا مَتَاعٌ لَّكُمْ ۚ وَاللّٰهُ يَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا تَكْتُمُونَ [سورۃ النور: 29]

    تمھارے لیے کوئی حرج نہیں کہ تم ایسے گھروں میں جاؤ جن میں کوئی نہیں رہتا ہے، جن میں تمھارا سامان ہے، اور اللہ جانتا ہے جسے تم ظاہر کرتے ہو اور چھپاتے ہو۔

اپنے اور دوسروں کے گھر میں جانے کے سلسلے میں یہ چند قرآنی اصول اور شرعی قوانین ہیں، اللہ رب العزت ہمیں حسنِ عمل کی توفیق عطا فرمائے، آمین یا رب العالمین۔

ان آیاتِ مبارکہ و احادیثِ کریمہ سے واضح ہے کہ اسلام نے محض عبادات ہی نہیں، بلکہ انسانی معاشرت کے نہایت باریک اور حساس پہلوؤں تک رہنمائی فراہم کی ہے۔ گھروں میں آنے جانے کے یہ آداب عفت، حیا، احترامِ انسانیت اور باہمی اعتماد کی حفاظت کا مضبوط حصار ہیں۔ ان احکام کو خوش دلی سے قبول کیا جائے تو دلوں میں کدورت کے بجائے پاکیزگی اور محبت پیدا ہوتی ہے، اور معاشرہ بے حیائی و بد اعتمادی سے محفوظ رہتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ان تعلیمات کو محض پڑھنے سننے تک محدود نہ رکھیں، بلکہ اپنی روز مرہ زندگی کا حصہ بنائیں، تاکہ ہمارے گھروں میں سکون اور پاکیزگی نازل ہو سکے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان مبارک ہدایات پر کامل عمل کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے گھروں کو سلامتی و رحمت کا مرکز بنائے۔ آمین۔

(ماخوذ: ماہنامہ اشرفیہ)

جدید تر اس سے پرانی
Advertisement
Advertisement
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!