| عنوان: | امام احمد رضا اور علمِ توقیت (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | مفتی محمد رفیق الاسلام نوری منظری |
| پیش کش: | نوری کرن |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
نَحْمَدُهٗ وَنُصَلِّيْ وَنُسَلِّمُ عَلٰی رَسُوْلِهِ الْكَرِيْمِ
توقیت ایسا فن ہے جس کے ذریعہ کسی خاص خطے کے لیے مقامی وقت کے مطابق آفتاب کے طلوع و غروب اور نمازِ پنجگانہ کے اوقات کی تخریج کی جاتی ہے۔ یہ متعدد فنون کا عطر مجموعہ ہے، جس میں ہیئت، ریاضی، نجوم، علم الافلاک، علمِ دوائر اور علمِ مثلث داخل ہیں۔ امام احمد رضا قدس سرہ کے الفاظ میں یہ "اوقات نکالنے کا فن" ہے۔ اس کے لیے امام احمد رضا سے پہلے کوئی مستقل کتاب ریکارڈ میں نہیں ہے، ہاں علمائے کرام اس کے لیے شرح چغمینی، زیجِ سلطانی اور جداولِ بہادر خانی سے استفادہ کرتے رہے ہیں۔
لہٰذا کہا جا سکتا ہے کہ "توقیت" ایک جدید علم ہے، اور امام احمد رضا کو اس فن کا موجد قرار دیا جائے تو بے جا نہیں، اگرچہ آپ سے پہلے اس پر کچھ نشانات موجود ہیں۔ لیکن بالاستقلال اس پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں تھی جو پورے قواعدِ توقیت کو محیط ہو۔ کسی کتاب میں نصف النہار کا بیان تھا تو کسی میں طلوع و غروبِ آفتاب پر ہلکی روشنی تھی۔ کسی نے افقِ حقیقی کو معیارِ شب و روز قرار دیا تھا، تو کسی نے شفقِ ابیض و اسود کے امتیاز کو فراموش کر دیا تھا۔ کسی نے رات کے آخری ساتویں حصے کو وقتِ فجر کہا تھا تو کسی نے ہمیشہ ہر ایک آبادی کے لیے عصر کا وقت ایک گھنٹہ بیس منٹ بتایا تھا۔
ان میں کچھ محتاط محققین حضرات ایسے بھی تھے جنہوں نے سال کے مخصوص ایام میں چند مقاماتِ مخصوصہ کے لیے مخصوص اوقات کا استخراج کیا۔ لیکن وہ بھی قمری تھا۔ لہٰذا ایک بار استفادہ کے بعد پھر وہ غیر مفید ہی رہتا۔ اس لیے کہ قمری سال چونکہ شمسی سال سے چھوٹا ہے اور اوقات کا تعلق سورج سے ہے، لہٰذا اس میں تغییر ناگزیر ہے۔
حضور ملک العلماء کے مرقدِ پرانوار پر اللہ تعالیٰ اپنی رحمتوں کی بارش نازل فرمائے اور آپ کے درجات کو بلند سے بلند تر فرمائے۔ آمین۔ علم و حکمت کا دریا بریلی میں جاری تھا تشنگانِ علوم و معرفت کی سیرابی ہو رہی تھی حضور ملک العلماء وحضور حجة الاسلام کے علاوہ اور ان کے چار ساتھی مجدد اعظم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ عرض کی حضور! "توقیت" کی کوئی کتاب نظروں میں موجود نہیں لیکن اس کی تحصیل کا ارادہ ہے۔ سامنے سمندر ہے۔ پیاسے ساحل پر کھڑے ہیں۔ کاسہ و فنجان کی ضرورت کیا ہے۔ موجِ تلاطم کے چند قطرات بھی جاں بلب تشنگان کے لیے آبِ حیات ہیں۔
یہ چھ حضرات علم توقیت حاصل کرنے پر مصر ہوئے، بالآخر فاضل بریلوی نے وعدہ فرما لیا۔ اور ایک گرانقدر علم منصۂ شہود میں جلوہ گر ہوا۔ جسے ہم علمِ توقیت کے نام سے جانتے اور پہچانتے ہیں۔ آئیے حضور ملک العلماء سے سنیں آپ کیا فرماتے ہیں:
"ہیئت و نجوم میں کمال کے ساتھ علمِ توقیت میں کمال تو حدِ ایجاد کے درجہ پر تھا۔ یعنی اگر اس فن کا موجد کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ علماء نے جستہ جستہ اس کو مختلف مقامات پر لکھا ہے، لیکن میرے علم میں کوئی مستقل کتاب اس فن میں نہ تھی۔ اس لیے جب میں نے اور میرے ساتھ مولوی سید شاہ غلام محمد صاحب بہاری، مولینا مولوی حکیم سید شاہ عزیز غوث صاحب بریلوی، مولوی سید محمود جان صاحب بریلوی اور حضرت حجة الاسلام صاحبزادہ والا جاہ مولانا شاہ حامد رضا خاں صاحب بریلوی نے اس فن کو حاصل کرنا شروع کیا تو کوئی کتاب اس فن کی نہ تھی جس کو ہم لوگ پڑھتے۔ اسی وجہ سے اعلیٰ حضرت خود ہی اس کے قواعد زبانی ارشاد فرماتے۔ اسی کو ہم لوگ لکھ لیتے۔ اور اسی کے مطابق عمل کر کے نصف النہار، طلوعِ صبحِ صادق، عشاء، ضحوہ کبرٰی، عصر نکالتے۔ ایک زمانہ تک تو وہ قواعد ہم لوگوں کی کاپیوں میں لکھے رہے پھر میں نے ان سب کو ایک کتاب میں جمع کر کے پوری توضیح و تشریح کے ساتھ مع مثال بلکہ امثلہ لکھ کر اس کا نام "الجواہر واليواقیت فی علم التوقیت" معروف بہ توضیح التوقیت رکھا۔" [حیاتِ اعلیٰ حضرت، ص: 277-278]
یہی وجہ ہے کہ علماء ذوالاحترام نے امام احمد رضا کو علمِ توقیت کا ماہر ہی نہیں بلکہ موجد بھی قرار دیا ہے۔ یہ علم کسی قدر دشوار ہے۔ اس پر خار سنگلاخ پر چند قدم بھی چلنے والوں کو اس کا پورا پورا احساس ہو گا۔ کرۂ ارض کے قطبین میں گرچہ آبادی ابھی نہیں ہے لیکن عرض میں ایک وسیع ترین علاقہ میں مشرق و مغرب کی طرف آبادی کا ایک تسلسل ہے بلکہ اسی تسلسل کے لازمی نتیجہ دور سے بھی ہر ایک واقف ہے سورج کا یومیہ دور بھی عیاں ہے ان دونوں کے انطباق سے بھی اوقات کی معرفت ہے۔
توقیت
"علمِ توقیت" میں فاضلِ بریلوی کے فرمودات کو حضور ملک العلماء نے جمع کیا تو "توضیح التوقیت" نام سے ایک عظیم کتاب ہمیں مل گئی اور ایک جدید علم کا اضافہ بھی ہو گیا۔
اس کے علاوہ اسی علم میں آپ کی اور چھ کتابیں جلوہ بار ہوئیں:
الانجب الرفيق في طرق التعليق
زيج الاوقات للصوم والصلوات
تاج توقيت
كشف العلة عن سمت القبلة
درء القبح عن درک وقت الصبح
سر الاوقات
اس فن میں آپ کی کتابوں کی کل تعداد سات ہے۔ ان کتبِ مبارکہ سے استفادہ کرنے والوں پر روشن ہے کہ یہ صرف سات کتابیں نہیں بلکہ علوم وفنون کے سات سمندر اور حکمت و معرفت کے ایامِ سبعہ کے ساتھ ساتوں سیاروں کو بھی پوری طرح سے محیط ہیں۔ یعنی زمان ومکان اور کواکب سب ان کے احاطے میں ہیں۔
توقیت میں امام احمد رضا کا یہ فیضان آج عام سے عام تر ہے کہ بازار میں جنتریوں کی بھر مار ہے اور شمسی اعتبار سے اوقاتِ صوم وصلوٰة کی تخریج پائیدار ہے۔ یہ جنتریاں گرچہ بہت ہی مفید ہیں لیکن ان کی ایک عام روش عقل و دیانت کے خلاف ہے کہ ان میں درجنوں ایسے مقامات کے لئے بھی نظام الاوقات بنانے کا طریقہ لکھا ہوتا ہے کہ کچھ منٹ کے اضافے یا اسقاط سے دوسرے شہر کا وقت بتایا جاتا ہے۔ اور اس میں صرف فضلِ طول کا ہی لحاظ ہوتا ہے وہ بھی تخمینی نہ کہ تحقیقی۔ مزید ظلم یہ ہے کہ رفع و اسقاط کی مقدار ہر وقت کے لئے برابر رکھی جاتی ہے۔ پھر کسی مخصوص مہینے میں نہیں بلکہ پورے سال میں اسی طریقہ پر کام انجام پاتے ہیں۔ ان جنتریوں میں اختلافِ عرض کے ساتھ رفعتِ مقام کا بھی کوئی لحاظ نہیں ہوتا ہے جس کی وجہ سے زیادہ تر اس کے خوفناک نتائج کا سامنا ہوتا رہتا ہے۔
سرکارِ اعلیٰ حضرت سے پیشتر بعض کتابوں میں علمِ توقیت کا بیان ملتا ہے لیکن وہ بھی ناتمام بلکہ بعض میں تو اصلاح کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ آپ خود ارشاد فرماتے ہیں:
"اوقاتِ صحیح نکالنے کا فن جسے علمِ توقیت کہتے ہیں، ہندوستان کے طلبہ تو طلبہ اکثر علماء اس سے غافل ہیں۔ نہ وہ درس میں رکھا گیا ہے نہ ہیئت کی درسی کتابوں سے آ سکتا ہے، اور جو کچھ مسئلہ مولوی مسیح الدین کا کوروی وغیرہ بنا گئے وہ فقط ناکافی ہی نہیں بلکہ سخت اغلاط میں ڈالنے والا ہے۔ یوں ہی مرزا خیر اللہ منجم کی دو حرفی جدول سے کوئی ناواقفِ فن نفع نہیں پا سکتا۔ اگر کسی نے بڑی تحقیقات چاہی تو زیجِ بہادر خانی کی جدول تعدیلِ النہار سے کام لیا۔ سحری کو تو ان سے کچھ تعلق ہی نہیں اور افطار میں بھی ناقص ہے۔ جب تک متعدد ضروری اصلاحیں ان کے ساتھ شریک نہ ہوں۔" [فتاویٰ رضویہ، ج: 4، ص: 621]
درد و کرب سے مملو فاضلِ بریلوی کی اس نورانی تحریر کے آئینہ میں اربابِ علم اس دور کے حالات سے پوری طرح واقف ہیں کہ لوگ کس طرح نمازیں ادا کر رہے ہوں گے۔ خاص کر برسات میں۔ اور موسمِ سرما کے ان ایام میں جن میں سورج ہفتوں نظر نہیں آتا ہے۔ پھر ایک ذمہ دار مفتی کی ذمہ داری صرف یہ نہیں کہ نمازی کو وضو کا طریقہ بتا دیا جائے اور بس فقہ کی کتابوں میں یہ بتایا گیا کہ طلوعِ صبحِ صادق سے ہی وقتِ فجر کی ابتداء ہے لیکن آسمان گرد آلود ہے۔ دن بھی رات کی طرح بن گیا ہے اس میں صبحِ صادق و کاذب کی رویت کا دعوٰی کون کرے گا۔
نمازیوں میں اکثریت ان لوگوں کی ہے جو افقِ ابیض و اسود کی بھی تمیز نہ کر سکیں گے۔ ان سے صبحِ صادق اور کاذب کے امتیاز کی امید کیوں رکھی جائے......؟
امام اہلِ سنت نے ایسے وقتوں میں امتِ مسلمہ کی رہنمائی کا ارادہ فرمایا لیکن دقت یہ تھی کہ وقتِ ظہر کے لئے بعد زوال کا وقت بتانا تو آسان ہے۔ روئے زمین پر اس کے انطباق پر کون سا قاعدہ مفید ہوگا سایہ اصلی کے علاوہ دو مثل پر وقتِ عصر کی ابتداء ہر کوئی بتائے گا لیکن خارج میں اس کا تعین کون کرے گا کہ آفتاب اس وقت افقِ مغرب سے کتنی ڈگری اور منٹ کے بعد پر ہوگا۔ سایہ بھی نظروں سے غائب ہے کہ آفتاب خود حجاب میں ہے۔
مفتی صاحب فرمائیں گے! مغرب کا وقت بعد غروبِ آفتاب ہے لیکن افق اگر ابر آلود ہو تو پھر وقتِ مغرب کا تعین میں نہ جانے کتنے محققین کی کشادہ جبینوں پر جنوری کے مہینے میں بھی پسینے کے قطرات نظر آجاتے ہیں۔
آج ایک نمازی امام احمد رضا کے ان احسانات کو کیسے فراموش کر سکتا ہے جو شب و روز اس کی رہنمائی اور مشکل کشائی کرتے رہتے ہیں۔ امام احمد رضا کا فرمان ہے:
"فقیر نے اس فن میں نہ نری کتابی باتوں پر اعتماد کیا، نہ خالی دلائلِ ہندسیہ پر، نہ تنہا تجربہ و مشاہدہ پر، بلکہ سب کو جمع کیا اور بتوفیقِ الٰہی اپنی ذہنی جدتوں سے بہت کچھ کام کیا۔ یہاں تک کہ بفضلہٖ تعالٰی برہان و عیان کو مطابق کر دیا۔ الخ" [فتاویٰ رضویہ، ج: 6، ص: 622]
امام احمد رضا نے اس فن کے سارے اصول و قواعد کو امتِ مسلمہ کے سامنے یوں پیش فرمایا کہ چشمِ بینا کے روبرو برہان و عیان ایک دوسرے کے مطابق ہو گئے۔ حالانکہ زیادہ تر قواعد آپ کے ایجاد کردہ ہیں۔ اوقاتِ صوم و صلاة کے لیے کچھ اور گوشوں کی معرفت بھی لازم ہے:
شرعی دن اور رات
نجومی دن اور رات
عرفی دن اور رات
مطلوب اوقات کے مقام کا محلِ وقوع (طولِ بلد، عرضِ بلد، سطحِ سمندر سے مقام کا ارتفاع)
دائرہ یومیہ حرکتِ شمس، تبہی کی مقدار، شفقِ ابیض میں انحطاطِ شمس کا تعین، مروج وقت کا بلدی وقت پر انطباق۔
ان کے علاوہ اور بھی نقاط ہیں لیکن جو ان کی معرفت کر لے وہ باقی کا استخراج خود ہی کر سکتا ہے۔ شب و روز کے بارے میں یہاں تین اصطلاحیں موجود ہیں، شرعی و عرفی و نجومی۔ یہ صرف لفظی اختلاف نہیں بلکہ معانی اور مصادیق میں بھی اختلاف ہے۔ سیدنا سرکارِ اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں:
"افقِ حقیقی پر انطباقِ مرکزِ شمس جانبِ مغرب سے اسی پر انطباقِ مرکز جانبِ شرق تک شبِ نجومی ہے اور افقِ حسی بالمعنیٰ الثانی سے تجاوزِ کنارہ آخریں شمس جانبِ غرب سے اسی افق سے ارتفاع کنارہ اولین شمس جانب شرق تک شب عرفی اس کی تحصیل میں دونوں جانب کے دقائق انکسار بھی شب نجومی سے ساقط کئے جاتے ہیں اور افق حسی مذکور بے تجاوز کنارہ آخرین شمس سے طلوع فجر صادق تک شب شرعی ہے۔ تحصیل فجر میں بھی جانب طلوع شمس کے دقائق انکسار وقتِ باقی سے مستثنیٰ ہیں۔" [فتاویٰ رضویہ، ج: 4، ص: 619]
اس مختصر مگر علم و حکمت سے مملو اور معانی خیز عبارتِ مبارکہ کے ایک ایک لفظ کے معانی مرتفعہ تک ذہنی پرواز کی کوشش ان حضرات کے لئے بڑی مفید ثابت ہوگی جو اوقات صوم و صلواۃ کے تعین کی طرف پیش قدمی کر رہے ہیں۔
دقائقِ فلکیہ کے مطابق قطرِ شمس پینتالیس دقیقہ فلکیہ کے برابر ہے شبِ نجومی میں مرکزِ شمس کا انطباق ہوا افقِ حقیقی سے۔ لہذا شرق و غرب دونوں جانب نصفِ قطرِ شمس بالائے افق ہوگا اور نصف زیریں افق یعنی نجومیوں کی رات سب سے بڑی ہوئی۔
جبکہ افقِ حقیقی سے بھی انحطاط میں افقِ حسی ہے جو ارتفاع مقامات کے اختلاف سے مختلف بھی ہوگا اس افق سے بھی سورج انحطاط میں ہو تو شبِ عرفی ہے۔ یہ رات نجومی رات سے چھوٹی ہوگی اور شبِ شرعی ان دونوں سے بھی چھوٹی ہے کہ غرب میں عرفی شب کی ابتداء سے شرق میں طلوعِ صبحِ صادق تک شبِ شرعی ہے ۔ دقائقِ انکسار اور ارتفاعِ مقام سے انحطاطِ افق کی مقدار بھی اس شب سے مستثنیٰ ہیں۔ یعنی شرعی لیل کی مقدار باقی دونوں سے بھی کم ہے۔
[ماہ نامہ پیغام شریعت دہلی، اکتوبر، نومبر، دسمبر 2018، ج: 4، شمارہ: 36، ص: 468 تا 471]
