Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

رد دشمنان معاویہ اور ان کا شرعی حکم | محمد جسیم اکرم مرکزی

رد دشمنان معاویہ اور ان کا شرعی حکم
عنوان: رد دشمنان معاویہ اور ان کا شرعی حکم
تحریر: محمد جسیم اکرم مرکزی
پیش کش: محمد رفیع مرکزی

گستاخ چار یار تبرائی رافضی
تیرا ٹھکانہ نار تبرائی رافضی

آثار خود بتاتے ہیں سب جھوٹا ہے ترا
مولی علی سے پیار تبرائی رافضی

سن کر تجھی کو نام امیر معاویہ
کیوں ہوتا ہے بخار تبرائی رافضی

اللہ جل جلالہ فرماتا ہے:

مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ ؕ وَ الَّذِيْنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيْنَهُمْ تَرٰىهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَّبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا ٘ سِيْمَاهُمْ فِيْ وُجُوْهِهِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِ ؕ ذٰلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرٰىةِ ۚ وَ مَثَلُهُمْ فِي الْاِنْجِيْلِ ۚ كَزَرْعٍ اَخْرَجَ شَطْـَٔهٗ فَاٰزَرَهٗ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوٰى عَلٰى سُوْقِهٖ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيْظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ ؕ وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِيْمًا [سورۃ الفتح: 29]

ترجمہ کنز الایمان: محمد اللہ کے رسول ہیں اور ان کے ساتھ والے کافروں پر سخت ہیں اور آپس میں نرم دل تو انہیں دیکھے گا رکوع کرتے سجدے میں گرتے اللہ کا فضل و رضا چاہتے ان کی علامت ان کے چہروں میں ہے سجدوں کے نشان سے یہ ان کی صفت توریت میں ہے اور ان کی صفت انجیل میں جیسے ایک کھیتی اس نے اپنا پٹھا نکالا پھر اسے طاقت دی پھر دبیز ہوئی پھر اپنی ساق پر سیدھی کھڑی ہوئی کسانوں کو بھلی لگتی ہے تاکہ ان سے کافروں کے دل جلیں اللہ نے وعدہ کیا ان سے جو ان میں ایمان اور اچھے کاموں والے ہیں بخشش اور بڑے ثواب کا۔

اسی آیت کے تحت تفسیر ابن کثیر میں ہے:

لِيَغِيْظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ وَمِنْ هٰذِهِ الْآيَةِ انْتَزَعَ الْإِمَامُ مَالِكٌ رَحِمَهُ اللّٰهُ، فِيْ رِوَايَةٍ عَنْهُ بِتَكْفِيْرِ الرَّوَافِضِ الَّذِيْنَ يُبْغِضُوْنَ الصَّحَابَةَ، قَالَ: لِأَنَّهُمْ يَغِيْظُوْنَهُمْ، وَمَنْ غَاظَ الصَّحَابَةَ فَهُوَ كَافِرٌ لِهٰذِهِ الْآيَةِ۔ وَوَافَقَهُ طَائِفَةٌ مِنَ الْعُلَمَاءِ عَلٰی ذٰلِكَ۔

حضرت امام مالک رضی اللہ عنہ نے روافض کی تکفیر کی یہی وجہ بتائی کہ وہ صحابہ سے دشمنی کرتے ہیں اور ان سے جلتے ہیں اور جو صحابہ سے جلے تو وہ کافر ہے اور علما کی ایک جماعت نے اس کی موافقت کی۔ [نسيم الرياض، ج: 4، ص: 569]

ابو ذر غفاری حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے عبید اللہ بن عمر کی زبان کاٹنے کی نذر مانی یعنی یہ کام اپنے لیے لازم کر لیا۔ لوگوں نے اس بارے میں ان سے گفتگو کی اور کہا کہ معاف کر دیا جائے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں سے کہا مجھے چھوڑ دو اور اس کی زبان کاٹنے دو یہاں تک اس کے بعد کوئی شخص حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو گالی دینے کی جرات نہ کرے۔

اگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہوتے تو کیا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے گستاخ کی زبان کاٹی نہیں جاتی؟ سزائیں نہیں دی جاتیں؟ ضرور زبان کاٹ کر نشان عبرت بنا دیا جاتا۔

يَعْقُوْبُ بْنُ إِسْحَاقَ الْبَغْدَادِيُّ، سَمِعْتُ هَارُوْنَ الْحَمَّالَ يَقُوْلُ: سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ، وَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ اللّٰهِ: إِنَّ هٰهُنَا رَجُلٌ يُفَضِّلُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيْزِ عَلٰی مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ فَقَالَ أَحْمَدُ: لَا تُجَالِسْهُ، وَلَا تُؤَاكِلْهُ، وَلَا تُشَارِبْهُ، وَإِذَا مَرِضَ فَلَا تَعُدْهُ۔ [الذيل علی طبقات الحنابلة، ج: 3]

دیکھیے امام احمد بن حنبل اس شخص کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جس نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر حضرت عمر بن عبد العزیز کو فضیلت دی، تو تم اس کے پاس مت بیٹھو، اس کے ساتھ مت کھاؤ، مت پیو، بیمار پڑ جائے تو اس کی عیادت کو مت جاؤ۔

اس میں قابل غور بات یہ ہے کہ اس شخص نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو گالی نہیں دی، طعن و تشنیع نہیں کی، فقط عمر بن عبد العزیز رضی اللہ عنہ پر فوقیت دی تو امام احمد بن حنبل نے اس سے قطع تعلق کا حکم دیا تو بتائیے جو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو گالی دے طعن و تشنیع کرے اس کا کتنا سخت حکم ہوگا؟

فتاوی فیض الرسول میں ہے: امیر معاویہ پر زبان طعن دراز کرنے والا جہنمی کتا ہو جاتا ہے۔ [فتاوی فیض الرسول، ج: 1، ص: 148]

بعض حضرات حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے فرمان عالی شان “اخواننا بغوا علینا” کی آڑ میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو باغی کہتے ہیں حالانکہ باغی جو معنی فی زماننا ہند میں رائج ہے اس معنی کی بغاوت حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فرمان میں نہیں ہے بلکہ وہاں اس کا معنی امیر کے خلاف خروج کرنا ہے۔

اللہ کریم نے حضرت سیدنا آدم علیہ السلام کے بارے میں فرمایا ہے کہ:

وَعَصٰی اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰی

اس آیت کا ترجمہ علما نے اس طرح فرمایا ہے کہ آدم سے اپنے رب کے حکم میں لغزش واقع ہوئی تو جو مطلب چاہا تھا اس کی راہ نہ پائی۔ (ترجمہ کنز الایمان از اعلیٰ حضرت)

حالانکہ قرآن کے اصل الفاظ عصی اور غوی ہیں۔ عصی کا لفظی معنی ہے: نافرمان ہوا، اور غوی کا لفظی معنی ہے گم راہ ہوا۔

کیا کوئی یہ جرات کر سکتا ہے کہ جس طرح اس نے حضرت امیر معاویہ کو بغاوت کے لفظ کی وجہ سے باغی کہا ہے اسی طرح حضرت آدم علیہ السلام کو بھی معاذ اللہ عاصی اور غاوی کہہ دے؟

اگر یہاں ہمیں حضرت آدم علیہ السلام کی نبوت تاویل پر مجبور کر رہی ہے، تو اسی طرح ہمیں بھی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی صحابیت اور ان کے فضائل تاویل پر مجبور کر رہے ہیں۔ جسے ہم صحابی کہہ رہے ہیں اور بعض حضرات باغی و مرتد ثابت کر رہے ہیں اس کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مولا علی سے جنگ لڑ چکنے کے بعد مسلمان قرار دیا ہے۔ [بخاری، ج: 1، ص: 530]

لہذا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کے مطابق وہ صحابی ہی تھے، باغی و مرتد نہیں۔

حضرت عبد اللہ ابن عباس فرماتے ہیں کہ معاویہ کو کچھ نہ کہو، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا صحابی ہے۔ [بخاری، ج: 1، ص: 53]

لہذا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ صحابی ہیں، باغی اور مرتد نہیں۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کا پہلا لشکر جو سمندر پار جہاد کرے گا ان پر جنت واجب ہو چکی ہے۔ [بخاری، ج: 1، ص: 310]

سب سے پہلے سمندر پار جہاد کرنے والے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ہیں اور اس حدیث میں ان کی واضح اور زبردست منقبت موجود ہے۔

أَوَّلُ جَيْشٍ مِنْ أُمَّتِيْ يَغْزُوْنَ الْبَحْرَ قَدْ أَوْجَبُوْا، فِيْ هٰذَا الْحَدِيْثِ مَنْقَبَةٌ لِمُعَاوِيَةَ۔ [حاشية بخاري، ج: 1، ص: 310]

لہذا امیر معاویہ جنتی ہیں نہ کہ مرتد۔ اور جو شخص اتنی تصریحات کے باوجود امیر معاویہ پر زبان درازی کرتا ہے، وہ خود باغی ہے اور مرتد ہو کر مرے گا۔

مَنْ عَادٰى لِيْ وَلِيًّا فَقَدْ آذَنْتُهٗ بِالْحَرْبِ

جو اللہ کے ولی سے عداوت رکھتا ہے اس کے خلاف اللہ کا اعلان جنگ ہے۔

ایک اللہ کے ولی نے خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ابوبکر، عمر، عثمان، علی اور معاویہ رضی اللہ عنہم موجود تھے۔ راشد الکندی نامی ایک شخص آیا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ شخص ہم میں نقص نکالتا ہے کندی نے کہا یا رسول اللہ میں ان سب میں عیب نہیں نکالتا بلکہ صرف اس ایک معاویہ میں عیب نکالتا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تیرا برا ہو کیا یہ میرا صحابی نہیں ہے؟ آپ نے یہ بات تین بار فرمائی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نیزہ پکڑا اور معاویہ کو دے دیا اور فرمایا: یہ اس کے سینے میں مارو! انہوں نے اسے نیزہ مار دیا۔ میری آنکھ کھل گئی۔ صبح ہوئی تو معلوم ہوا کہ راشد کندی کو رات کے وقت سچ مچ کسی نے مار دیا ہے۔ [البداية والنهاية، ج: 8، ص: 147]

اس واقعے سے مبغضین امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو درس عبرت لینا چاہیے اور لعن و طعن سے فی الفور تائب ہونا چاہیے لیکن اگر دل میں گستاخی کی مہر لگ چکی ہو تو اس کا کوئی علاج نہیں۔

اب تو مبغضین کی جرات اتنی بڑھ گئی ہے کہ حضرت امیر معاویہ کو کافر و جہنمی کہنے سے بھی نہیں ہچکچاتے ہیں یاد رہے جو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو کافر کہے وہ خود کافر و زندیق ہے۔

حضور تاج الشریعہ رحمۃ اللہ علیہ سے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی تکفیر کرنے والے کی بابت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا مکفر خود کافر ہے من وعن سوال و جواب ملاحظہ فرمائیں:

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: ہمارے یہاں ایک جماعت بنام حلقہ قادریہ رشیدیہ ہے جس کے ممبران خود کو قادری کہلاتے ہوئے محرم کے مہینہ میں سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کے غم میں سینہ کوبی کرتے ہیں اور کالا کپڑا سوگ میں پہنتے ہیں اور صحابی رسول حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں ان کے یہ اقوال ہیں بلکہ ان لوگوں نے اپنی جانب سے ان ہی باتوں پر مشتمل تحریر بھی پیش کی ہے: “معاویہ بے حیاء غدار مردود بلکہ قرآن کے مطابق ظالم، فاسق اور کافر ہیں۔”

دریافت طلب امر یہ ہے کہ ایسا کہنے والوں کے لئے شرعا کیا حکم ہے؟ اور یہ بتائیں کہ اگر وہ لوگ کسی سے مرید ہو چکے ہوں تو کیا ان کی بیعت بھی فسخ ہو گئی اور اگر پیر بھی اسی عقیدہ کا ہو تو کیا اس پیر سے علیحدگی اور اس سے بیزاری ضروری ہے؟ جواب با تفصیل قرآن و حدیث اور فقہ حنفی کی روشنی میں عنایت فرمائیں۔ مستفتی: سید آل رسول صاحب

الجواب: حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابی رسول علیہ السلام ہیں اور بشارت عظمی:

وَكُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰی [سورۃ النساء: 95]

میں یقینا آپ بھی داخل ہیں ان پر ایسا تبرا کرنے والا خود مکذب قرآن مبین و کافر بے دین ہے۔ اور قرآن پر افترا کرنے والا ہے جو یہ کہتا ہے کہ: معاذ اللہ قرآن کے مطابق... الخ بلکہ ایسوں کے متعلق قرآن فرماتا ہے:

لِيَغِيْظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ [سورۃ الفتح: 29]

یعنی اللہ تعالیٰ حضور علیہ الصلاۃ والسلام کے صحابہ سے کافروں کو جلاتا ہے اور واقعی صحابہ سے جلتے ہیں تو محض صحابہ سے جلن ہی ان کے کافر ہونے کے لئے کافی ہے ان پر تبرا مزید دین و اسلام سے ان کی تبری و بے راہ روی کی دلیل ہے ایسا شخص جب تک توبہ و تجدید ایمان نہ کرے مسلمان نہیں۔ اور اگر کسی سے بیعت تھا تو بیعت فسخ ہو گئی اور نکاح بھی زائل ہو گیا اور پیر اگر ایسا عقیدہ فاسدہ پر ہے تو اس سے تبری و بیزاری ضروری۔ اور اس سے بیعت خود فسخ ہو گئی۔ اسے پیر جاننا منافی ایمان ہے اور ان لوگوں پر جو ایسے عقیدہ والے کو پیر جانیں تجدید ایمان و تجدید نکاح فرض ہے۔ واللہ تعالی اعلم۔ [فتاوی تاج الشریعہ، ج: 1، ص: 421]

متذکرہ بالا فتوی میں حضور تاج الشریعہ رضی اللہ عنہ نے تکفیر فقہی کی ہے اور یہ جرم ایسا ہے جس میں حاکم اسلام بر بنائے مصلحت چاہے تو کافر فقہی کو قتل بھی کر سکتا ہے لیکن آج کل بعض حضرات کفر فقہی کو اتنا ہلکا سمجھنے لگے ہیں گو ان کے نزدیک یہ کوئی جرم ہی نہیں ہے بس کفر کلامی نہیں ہے کفر فقہی ہے تو ان سے کلام سلام نشست و برخاست ان کے نزدیک بلا تکلف روا ہے معاذ اللہ رب العالمین یاد رہے۔

مَنْ هَوِيَ الْكَفَرَةَ فَهُوَ مَعَهُمْ، مَنْ أَحَبَّ قَوْمًا حَشَرَهُ اللّٰهُ مَعَهُمْ۔ [فتاوی رضویہ، ج: 6، ص: 89]

جو کافروں سے محبت کرے گا وہ انہیں کے ساتھ ہو گا جو جس قوم کے ساتھ محبت کرے گا اللہ جل و علا اس کا حشر اسی قوم کے ساتھ فرمائے گا تو دیکھ لو تم کس کے ساتھ ہو۔

جو حضرات کفر فقہی کو بہت ہلکا جرم سمجھتے ہیں میں ان سے پوچھنا چاہوں گا جن جگہوں پر قضاءً طلاق ہو جاتی دیانۃً نہیں ہوتی ہے تو کیا تم یہ کہہ کر بیوی کے پاس رہو گے اس کے پاس بیٹھو گے کہ ارے قضاءً ہی تو طلاق ہوئی دیانۃً تھوڑی ہوئی ہے چلو اپنی بیوی سے مل لیتے ہیں؟

کیا کسی نے آج تک اس کی اجازت دی جب ایسا نہیں تو پھر کافر فقہی شتر بے مہار کیوں چھوڑ دیا جائے گا اور اس کی گرفت کیوں نہیں کی جائے گی؟ کیوں اس کے پاس بیٹھا جائے گا؟ کیوں اس کے ساتھ دوستی نبھائی جائے گی؟

طوق تہذیب فرنگی توڑ ڈالو مومنو
تیرگی انجام ہے یہ روشنی اچھی نہیں

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے متعلق کیسا عقیدہ رکھنا چاہیے بہار شریعت سے ملاحظہ فرمائیں صدر الشریعہ بدر الطریقہ علامہ مفتی امجد علی اعظمی قدس سرہ السامی رقم طراز ہیں:

تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اہل خیر و صلاح ہیں اور عادل، ان کا جب ذکر کیا جائے تو خیر ہی کے ساتھ ہونا فرض ہے۔ کسی صحابی کے ساتھ سوء عقیدت بدمذہبی و گمراہی و استحقاق جہنم ہے، کہ وہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بغض ہے، ایسا شخص رافضی ہے، اگرچہ چاروں خلفا کو مانے اور اپنے آپ کو سنی کہے، مثلاً حضرت امیر معاویہ اور ان کے والد ماجد حضرت ابو سفیان اور والدہ ماجدہ حضرت ہند، اسی طرح حضرت سیدنا عمرو بن عاص، و حضرت مغیرہ بن شعبہ، وحضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہم، حتیٰ کہ حضرت وحشی رضی اللہ عنہ جنہوں نے قبل اسلام حضرت سیدنا سید الشہدا حمزہ رضی اللہ عنہ کو شہید کیا اور بعد اسلام اخبث الناس خبیث مسیلمہ کذاب ملعون کو واصل جہنم کیا۔ وہ خود فرمایا کرتے تھے: کہ میں نے خیر الناس و شر الناس کو قتل کیا، ان میں سے کسی کی شان میں گستاخی، تبرا ہے اور اس کا قائل رافضی، اگرچہ حضرات شیخین رضی اللہ عنہما کی توہین کے مثل نہیں ہو سکتی، کہ ان کی توہین، بلکہ ان کی خلافت سے انکار ہی فقہائے کرام کے نزدیک کفر ہے۔ [بہار شریعت، حصہ اول]

لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم مسلک اہل سنت و جماعت المعروف مسلک اعلی حضرت پر سختی سے قائم رہیں۔

مسلک اعلی حضرت وہ ہے جو فتاوی رضویہ سے ظاہر ہے اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

بالجملہ ہم اہل حق کے نزدیک حضرت امام بخاری کو حضور پر نور امام اعظم سے وہی نسبت ہے جو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو حضور پر نور امیر المومنین مولی المسلمین سیدنا و مولنا علی المرتضی کرم اللہ وجہہ الاسنی سے کہ فرق مراتب بے شمار اور حق بدست حیدر کرار، مگر معاویہ بھی ہمارے سردار، طعن ان پر بھی کار فجار، جو معاویہ کی حمایت میں عیاذ باللہ اسد اللہ کے سبقت و اولیت و عظمت و اکملیت سے آنکھ پھیر لے وہ ناصبی یزیدی، اور جو علی کی محبت میں معاویہ کی صحابیت و نسبت بارگاہ حضرت رسالت بھلا دے وہ شیعی زیدی، یہی روش آداب بحمد اللہ تعالی ہم اہل توسط و اعتدال کو ہر جگہ ملحوظ رہتی ہے۔

ایک دوسری جگہ فتاوی رضویہ میں ہے، امير المومنین مولی علی رضی اللہ عنہ سے ابن عساکر کی حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

تَكُوْنُ لِأَصْحَابِيْ زَلَّةٌ يَغْفِرُهَا اللّٰهُ لَهُمْ لِسَابِقَتِهِمْ مَعِيْ ثُمَّ يَأْتِيْ قَوْمٌ بَعْدَهُمْ يَكُبُّهُمُ اللّٰهُ عَلٰی مَنَاخِرِهِمْ فِي النَّارِ۔ [المعجم الاوسط، رقم الحديث: 3243، مجمع الزوائد، ج: 7، ص: 234]

میرے اصحاب سے لغزش ہو گی جسے اللہ اس سابقہ کے سبب معاف فرما دے گا جو ان کو میری بارگاہ میں ہے۔ لیکن پھر ان کے بعد کچھ ایسے لوگ آئیں گے کہ انہیں اللہ تعالیٰ ان کے منہ کے بل جہنم میں اوندھا کرے گا۔ یہ وہ لوگ ہیں جو صحابہ کی لغزشوں پر گرفت کریں گے۔

اگر حقیقت کی نظر سے دیکھیں تو یہ حدیث اس باب میں حرف اخیر کا درجہ رکھتی ہے اور تمام بھونکنے والوں کا ٹھکانہ متعین کرتی ہے اللہ جل جلالہ معاندین کو ہدایت عطا فرمائے اور ہمارا ایمان پر خاتمہ فرمائے آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!