Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

غیبت کی تباہ کاریاں (قسط اول) محمد سعد جیلانی مرکزی

غیبت کی تباہ کاریاں (قسط: اول)
عنوان: غیبت کی تباہ کاریاں (قسط: اول)
تحریر: محمد سعد جیلانی مرکزی
پیش کش: عائشہ فاطمہ
منجانب: مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، 

لك الحمد يا الله، بسم الله الرحمن الرحيم

وَلَا يَغْتَبْ بَعْضُكُم بَعْضاً اَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ
ترجمہ کنز الایمان: "اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو، کیا تم میں کوئی پسند رکھے گا کہ اپنے مرے بھائی کا گوشت کھائے؟ تو یہ تمہیں گوارا نہ ہوگا۔" (سورہ حجرات، آیت نمبر ۱۲)

محترم قارئین! اگر آج ہم اپنے معاشرے کا جائزہ لیں تو ہم دیکھیں گے کہ ہمارے معاشرے میں طرح طرح کی خرابیاں پائی جاتی ہیں۔ آج کا مسلمان طرح طرح کے گناہوں میں مبتلا نظر آرہا ہے، گناہِ کبیرہ ہوں یا صغیرہ، بہر حال گناہ ہے۔ اور یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ صرف شراب نوشی، قتل، زناکاری اور نماز روزہ کو چھوڑنا ہی صرف گناہ نہیں ہیں بلکہ بعض گناہ تو ایسے بھی ہیں کہ بہت سے لوگ تو اس کو گناہ ہی نہیں جانتے، اگر سمجھتے بھی ہیں تو کثرت کے ساتھ لوگ اس میں مشغول نظر آتے ہیں۔ وہ گناہ "غیبت" ہے۔ غیبت وہ بلا اور ایسی خطرناک آگ ہے جس میں گھر کا گھر، خاندان کا خاندان جل رہا ہے۔

غیبت کیا ہے؟

مذکورہ آیتِ کریمہ پر غور کریں اور دیکھیں کہ اس آیتِ کریمہ میں فرمایا گیا ہے کہ غیبت کرنا ایسا ہے کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھانا۔ آج بہت سارے لوگوں کو دیکھا جاتا ہے کہ غیبت کرتے ہیں اور کہتے ہیں: "ہم تو وہی کہہ رہے ہیں جو بات اس میں پائی جا رہی ہے۔" حدیثِ پاک کی روشنی میں دیکھیں کہ غیبت کیا ہے؟

ترمذی شریف کی حدیثِ پاک ہے، محبوبِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ارشاد فرمایا: "هل تدرون ما الغيبة؟" (کیا تم جانتے ہو کہ غیبت کیا ہے؟) تو عرض کیا گیا: "اللہ و رسولہ اعلم" (اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہتر جانتے ہیں)۔ تو آقائے کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ذکرک اخاک بما یکرهه" (غیبت یہ ہے کہ تم اپنے بھائی کا اس طرح ذکر کرو جس کو وہ ناپسند کرتا ہے)۔ پھر پوچھا گیا: "یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اگر وہ بات اس میں موجود ہو تو؟" تو آقائے کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جو بات تم کہہ رہے ہو اگر وہ اس شخص میں ہو تو تم نے اس کی غیبت کی، اور اگر اس میں نہ ہو تو تم نے اس پر تہمت لگائی۔" اس حدیثِ پاک میں غیبت کی واضح تعریف بیان کی گئی ہے۔

غیبت زنا سے بھی بڑا گناہ ہے

اب ذرا دیکھیں کہ غیبت کرنا کتنا بڑا گناہ ہے۔ اللہ کے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "اپنے آپ کو غیبت سے بچاؤ، بیشک غیبت زنا سے بڑا گناہ ہے کیونکہ ایک آدمی زنا کے بعد توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ قبول کر لیتا ہے۔" (مشکوۃ شریف، ج ۲، ص ۴۱۵)

اور غیبت کرنے والے کی بخشش اس وقت تک نہیں ہوتی جب تک وہ شخص معاف نہ کرے جس کی غیبت کی ہے (اللہ کی پناہ)۔ زنا کتنا برا فعل اور کس قدر عظیم گناہ ہے؟ مگر اس سے برا اور بڑا جرم غیبت کا ہے۔

بروزِ قیامت غیبت کرنے والے کا عذاب

اب ذرا دیکھیں کہ غیبت کرنے والا کس قدر عذاب میں مبتلا ہوگا کہ وہ اپنے ناخن سے قیامت کے دن اپنا چہرہ چھیلے گا۔
حدیثِ شریف: محبوبِ خدا مصطفیٰ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "شبِ معراج میں نے ایسی قوم کو دیکھا جو اپنے چہروں کو اپنے ناخنوں سے چھیل رہے تھے۔" حضرت جبرائیل علیہ السلام سے عرض کیا: "یہ کون لوگ ہیں؟" تو انہوں نے عرض کیا: "یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کی غیبت کرتے تھے اور ان کی عزتوں کے پیچھے پڑتے تھے۔" حضرات! غیبت کرنے والا بروزِ قیامت کس قدر مصیبت میں مبتلا کیا جائے گا کہ اپنے ہی ہاتھوں کے ناخنوں سے اپنے چہرے کو نوچ نوچ کر کاٹ رہا ہوگا۔ اس لئے آج ہی غیبت سے توبہ کر لیں تاکہ قیامت کی مصیبتوں سے نجات مل سکے۔

نیکی کی کسی بات کو حقیر نہ جانو

حضرت سلیم بن جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہِ عالیہ میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ مجھے کوئی اچھی بات بتائیں جس سے میں نفع حاصل کروں۔ تو آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "نیکی کی کسی بات کو حقیر (یعنی کم) نہ جاننا، اگرچہ اپنے ڈول میں سے پیاسے کے برتن میں پانی ڈالو، اور اپنے بھائی کے ساتھ خندہ پیشانی کے ساتھ پیش آؤ، اور وہ چلا جائے تو ہرگز اس کی غیبت نہ کرو۔" (احیاء العلوم، ج ۳، ص ۳۱۴)

غیبت کرنے والا اپنے گھر میں بھی ذلیل رہتا ہے

حدیثِ شریف: محبوبِ خدا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اے لوگوں کے گروہ جو زبان سے ایمان لائے اور ان کے دل ایمان نہیں لائے! مسلمانوں کی غیبت نہ کرو اور ان کی پردہ دری نہ کرو (یعنی ان کے عیبوں کو نہ کھولو)، اور جو شخص اپنے مسلمان بھائی کا پردہ اٹھائے گا (یعنی اس کے چھپے کو ظاہر کرے گا) تو اللہ تعالیٰ اس کا پردہ اٹھا دے گا (یعنی اللہ تعالیٰ اس کے سارے چھپے ہوئے عیبوں کو ظاہر فرما دے گا)، اور اللہ تعالیٰ جس کا پردہ اٹھا دے تو اسے گھر کے اندر بھی رسوا کرتا ہے۔" (سنن ابو داؤد، ج ۲، ص ۳۱۳)

حدیثِ پاک سے پتا چلا جو شخص دوسروں کی غیبت کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس شخص کا اس کے گھر کے اندر بھی عیب کھول دیتا ہے اور وہ شخص اپنے گھر والوں میں بھی ذلیل و رسوا ہو کر رہتا ہے، العیاذ باللہ تعالیٰ۔
(حوالہ: ماہنامہ افکار، حصہ 3، صفحہ نمبر 52/55)

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!