| عنوان: | آدابِ بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم |
|---|---|
| تحریر: | مولانا محمد شریف الحق رضوی |
| پیش کش: | محمد سلمان العطاری |
| منجانب: | مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان عطار نیپال گنج |
بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میں ازراہِ ادب و احترام پست آواز سے بات کرنے والوں کے لیے مژدۂ جانفزا، چنانچہ ارشادِ خداوندی ہے:
إِنَّ الَّذِينَ يَغُضُّونَ أَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ رَسُولِ اللّٰهِ أُولٰئِكَ الَّذِينَ امْتَحَنَ اللّٰهُ قُلُوبَهُمْ لِلتَّقْوٰى لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّأَجْرٌ عَظِيمٌ. [سورۃ الحجرات: 3]
ترجمہ: بے شک وہ جو اپنی آوازیں پست کرتے ہیں رسول اللہ کے پاس، وہ ہیں جن کا دل اللہ نے پرہیزگاری کے لیے پرکھ لیا، ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے۔ [کنز الایمان]
صدر الافاضل حضرت علامہ سید نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ اس آیتِ کریمہ کی شانِ نزول بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آیتِ کریمہ «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ» کے نازل ہونے کے بعد ازراہِ ادب حضرت ابوبکر صدیق و عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہما اور بعض اور صحابہ نے بہت احتیاط لازم کر لی اور خدمتِ اقدس میں بہت ہی پست آواز سے عرض معروض کرتے، ان حضرات کے حق میں یہ نازل ہوئی۔
بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم وہ عظیم بارگاہِ ادب و احترام ہے کہ آدابِ گفتگو سے متعلق آیتِ کریمہ نازل ہونے کے بعد حضرت سیدنا صدیقِ اکبر و عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہما اور بعض دیگر صحابۂ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی احتیاط کا یہ حال تھا کہ جب بھی حضورِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے یہ حضرات گفتگو کرتے تو بہت ہی پست آواز سے کہ کہیں آواز بلند نہ ہو جائے، صحابۂ کرام کے ادب و احترام کی بنا پر اس آیتِ کریمہ میں ان کے دل کی پرہیزگاری کا ذکر اور ان کے لیے مغفرت و اجرِ عظیم کا وعدہ فرمایا گیا۔
حضرت اسامہ بن شریک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میں صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے بیٹھنے کے آداب کا تذکرہ کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:
“جس وقت حضورِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کلام فرماتے تھے، تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی بارگاہ میں بیٹھنے والے صحابہ اس طرح سر جھکا کر خاموشی اور سکون کے ساتھ بیٹھے رہتے تھے کہ گویا ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوئے ہیں۔” [منصبِ رسالت کا ادب و احترام، ص: 34]
شفا شریف میں علامہ قاضی عیاض مالکی رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ روایت بیان فرماتے ہیں کہ صلح حدیبیہ کے سال قریش نے عروہ بن مسعود جیسے ذہین و فطین اور جہاں دیدہ شخص کو حضورِ نبی اکرم نورِ مجسم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی بارگاہ میں اس غرض سے بھیجا کہ وہ وہاں جا کر مسلمانوں کے حالات کا پتہ لگائیں، عروہ بن مسعود نے وہاں پہنچ کر صحابۂ کرام سے حضورِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی جو بے پناہ تعظیم و توقیر دیکھی، اس نے انہیں عالمِ حیرت میں ڈال دیا، انہوں نے دیکھا کہ حضورِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم جب وضو فرماتے ہیں تو صحابۂ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم وضو سے ٹپکے ہوئے پانی کو حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے پر سبقت کرتے ہیں، حتیٰ کہ بسا اوقات قریب ہوتا کہ وضو کا پانی نہ ملنے کے سبب آپس میں لڑ پڑیں۔
عروہ ابنِ مسعود نے دیکھا کہ حضورِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم جب تھوکتے یا ناک صاف فرماتے ہیں، تو صحابۂ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم ان رطوبتوں کو ہاتھوں میں لے کر اپنے چہرے پر ملتے ہیں، اسی طرح حضورِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا موئے مبارک جب جسمِ اطہر سے جدا ہوتا تو اس کے حاصل کرنے کے لیے صحابۂ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم جلدی فرماتے، جب آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم گفتگو فرماتے تو آپ کے سامنے وہ اپنی آوازیں پست رکھتے ہیں اور ازراہِ ادب و احترام و تعظیم آپ کی طرف نگاہ اٹھا کر نہیں دیکھتے، جب عروہ ابن مسعود قریش کے پاس واپس آیا تو اس نے صحابۂ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے حالات کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بڑی سچائی سے کام لیا اور کہا:
«يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ! إِنِّي جِئْتُ كِسْرٰى فِي مُلْكِهِ، وَقَيْصَرَ فِي مُلْكِهِ، وَالنَّجَاشِيَ فِي مُلْكِهِ، وَإِنِّي وَاللّٰهِ مَا رَأَيْتُ مَلِكًا فِي قَوْمٍ قَطُّ مِثْلَ مُحَمَّدٍ فِي أَصْحَابِهِ»
اے گروہِ قریش! میں کسریٰ (یعنی: شاہِ فارس) قیصر (یعنی: شاہِ روم) اور نجاشی (یعنی: شاہِ حبشہ) کے پاس ان کی حکومتوں میں گیا ہوں مگر خدا کی قسم! میں کسی بادشاہ کو اپنی قوم میں اتنا محترم و مکرم و معظم نہیں دیکھا جس قدر محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں معظم و مکرم ہیں۔
دوسری روایت میں ہے کہ عروہ ابن مسعود نے کہا کہ میں نے ایسی قوم دیکھی ہے جو کسی بھی حال میں محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو نہیں چھوڑے گی، جس نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے جسمِ پاک کا غسالہ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی نظر میں آبِ حیات سے کم نہ ہو، سراپا نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ذات ان کی نظر میں کتنی محترم ہوگی، اس لیے تو اعلیٰ حضرت عظیم البرکت مجددِ دین و ملت شاہ امام احمد رضا خاں فاضلِ بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:
جن کے تلووں کا دھون ہے آبِ حیات
ہے وہ جانِ مسیحا ہمارا نبی
[منصبِ رسالت کا ادب و احترام، ص: 27، 28 بحوالہ شفا شریف، ج: 2، ص: 39]
مغیرہ بن شعبہ نے فرمایا کہ صحابۂ کرام کا معمول یہ تھا کہ وہ کاشانۂ نبوت پر حاضر ہوتے تو فرطِ ادب سے دروازہ ناخنوں سے کھٹکھٹاتے تھے، براء ابن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ بہت بار ایسا ہوا کہ میں کوئی بات حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے معلوم کرنا چاہتا تو مدت تک موقع کی تلاش میں رہتا تھا لیکن ہیبت کی وجہ سے دریافت نہ کر سکتا تھا اور اس میں برسوں گزر جاتے تھے۔ [کتاب الشفا، ج: 2، ص: 87، 88]
