| عنوان: | مسیحیت اور اسلام (قسط: اول) |
|---|---|
| تحریر: | علامہ قمرالزماں مصباحی اعظمی |
| پیش کش: | سعدیہ نوری قادری |
| منجانب: | مجلس القلم الماتریدی انٹرنیشنل اکیڈمی، مرادآباد |
دنیا میں بے شمار مذاہبِ حیات کی رہنمائی کے لیے ظہور پذیر ہوئے اور سب نے یہ دعویٰ کیا کہ ہم حیاتِ انسانی کے الجھے ہوئے گیسوؤں کو سلجھانے، اس کے لایحل مسائل کی عقدہ کشائی کرنے اور دنیا کے اندر پھیلے ہوئے ان گنت طریقہ ہائے زندگی میں اس کے لیے شاہراہِ حیات متعین کرنے آئے ہیں اور تقریباً ہر دور و عصر میں ان کے ماننے والوں کی الگ الگ جماعتیں ایک دوسرے سے متصادم و متحارب رہیں، لیکن جب آفتابِ اسلام عالم تاب ہوا، تو دنیا کے سارے مذاہب نے سر تسلیم خم کر دیا اور خود بخود مذاہبِ قدیمہ کا شیرازہ ملی بکھر گیا۔ اوہام و خرافات کے پردے، جو صدیوں سے عقلِ انسانی پر پڑے ہوئے، چاک ہو کر رہ گئے۔ ان میں بیشتر مذاہب مردہ ہو گئے اور جو کچھ باقی رہ گئے وہ اس وقت سے لے کر آج تک حیات و موت کی کشمکش میں سسکیاں لے رہے ہیں۔
لیکن کچھ عجیب بات ہے کہ مسیحیت اپنی اساس کے اعتبار سے سب سے زیادہ کمزور اور لاغر ہوتے ہوئے اپنے تبلیغی مشن اور حکومتی مشنوں کے بھروسے پر آج بھی ببانگِ دہل یہ اعلان کر رہی ہے کہ وہ صرف وہی دنیائے انسانیت کے لیے واحد نظامِ حیات ہے۔ اس کی جرات و ہمت یہاں تک حد سے تجاوز کر گئی ہے کہ مستشرقینِ یورپ نہ صرف یہ کہ اس کو اسلام کے مقابلے میں پیش کرتے ہیں، بلکہ تقابلی تجزیے میں اسلام جیسے پاکیزہ اور ٹھوس نظامِ عقائد و اخلاق پر رکیک حملے بھی کرتے ہیں۔
آج مسلمانوں کا وہ طبقہ جو اسلامی ماحول سے دور رہ کر جدید روشنی میں سائنٹیفک انداز سے اسلام اور مسیحیت کا تقابلی مطالعہ کر رہا ہے، سخت حیران و سرگرداں ہے کہ مسیحیت اور اسلام میں کس کو ترجیح دیں اور پھر وہ اسی عالمِ حیرانی میں کوئی درمیانی راستہ ڈھونڈنے لگتا ہے اور اس طرح سے خود وہ ایک نئے مذہب کی بنیاد ڈال دیتا ہے۔ سر سید احمد خاں بانی مسلم یونیورسٹی اور موجودہ پرویزیت وغیرہ کی “مذہبی عقلیت” اور معجزات وغیرہ سے کھلا ہوا انکار اسی درمیانی طرزِ فکر کا نتیجہ ہے۔ کاش یہ طبقہ اپنی عقل و فکر کو دلیلِ راہ اور معیارِ ایمان بنانے کے بجائے قرآنِ پاک کی جانب دلیل طلب نگاہوں سے دیکھتا تو اسلام کے چشمۂ حیواں اور قرآن کے مینارۂ نور سے دور ہو کر جہل و گمراہی کی تاریکی میں غیر مطمئن اور پیاسا سرگرداں نہ رہتا۔
قرآنِ پاک نے:
جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا [سورۃ بنی اسرائیل: 81]
فرما کر اسلامی دور میں قیامت تک کے لیے نہ صرف یہ کہ سارے مذاہب کی افادیت کا انکار فرما دیا ہے، بلکہ ان کے لیے کوئی گنجائشِ قدم زدنی ہی باقی نہ رکھی ہے۔ جہاں قرآنِ پاک نے سارے مذاہبِ قدیمہ کی “موجودہ حقیقت” بیان کی ہے وہیں اس نے مسیحیت کے بارے میں یہ فرمایا ہے کہ یہ وہ مسیحیت نہیں ہے جس کو حضرت مسیح علیہ السلام لے کر تشریف لائے تھے، بلکہ موجودہ مسیحیت تحریف و تبدیل کا شکار ہو کر مسیحیوں کے تابعِ ہوس، عقلِ ذاتی اختراع اور ان کی فکرِ معاش کا آلہ کار بن کر رہ گئی ہے، اور جب ہم خود ہی مسیحی اساسات کا مطالعہ کرتے ہیں تو قرآنِ پاک کے اس دعویٰ کی صداقت کو اپنی نگاہوں سے دیکھ کر طبیعتِ ایمانیہ جھوم جھوم اٹھتی ہے اور عقلِ ایمانی تابناک ہو جاتی ہے اور نیز مسیحیت کا چیلنج کہ وہ حیاتِ انسانی کی کامل رہنما ہے، بالکل کھوکھلا اور بے بنیاد نظر آتا ہے۔ بلکہ اس طرح سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ مسیحیت کے خود ساختہ “روشن تصورات” کے پردے میں انتہائی بھیانک برائیاں پرورش پا رہی ہیں جو معاشرہ انسانی کے اثر پذیر جسم کے رستے ہوئے ناسور کی حیثیت رکھتی ہیں۔
کسی بھی ایسے مذہب کا جائزہ لینے کے لیے جو یہ دعویٰ کرتا ہو کہ وہ مُنزل من اللہ ہے اس کے عناصرِ ثلثہ یعنی:
-
نبی یا رسول
-
کتاب
-
اور ان دونوں عناصرِ عظیم سے پیدا ہونے والے تیسرے عنصر نظامِ عقائد و اخلاق
کا تجزیہ کیا جائے۔ اس ٹھوس اصول کے تحت مسیحیت پر ایک سرسری نگاہ ڈالتے ہوئے تفصیل کی جانب قدم بڑھائیں۔
مسیحی انجیلی حقیقت
مسیحی اپنے کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا پیرو سمجھتے ہیں، بلاشبہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایک برگزیدہ پیغمبر ہیں۔ ان کی عظمت کا اعتراف قرآن کر رہا ہے، مگر ہمارا دعویٰ یہ ہے کہ عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پیرو نہیں ہیں بلکہ انہوں نے اپنے ہی فرسودہ خیالات اور نظریات کو تعلیماتِ مسیح کی صورت میں دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیمات اپنی اصلی صورت میں موجود نہیں، بلکہ تحریف و تبدیل کا شکار ہو گئی ہیں کہ کسی نبی کی تعلیمات کے زندہ ہونے کا ثبوت خود یہی ہوتا ہے اور جو نبی ایک مکمل نظامِ حیات پیش کر رہا ہو، ضروری ہے کہ اُس کی زندگی کا کوئی گوشہ تاریکی میں نہ ہو۔
لیکن افسوس صد افسوس کہ مسیحیتِ موجودہ نے حیاتِ مسیح پر اس قدر دبیز پردے ڈال دیے ہیں کہ عقلِ انسانی میں ان کی اصل سیرت تک رسائی ممکن نہیں ہے۔ مستشرقینِ یورپ نے زمانے کے مطالبے کو مدنظر رکھتے ہوئے بے پناہ عرق ریزی کی، حیاتِ مسیح کی اور انہوں نے آثار و حوادث میں تلاش کیا، نیز حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے متعلق شہروں اور صحراؤں کی خاک چھانی، بابل، الور، شام، مصر، افریقہ وغیرہ کی قدیم تاریخوں کا جائزہ لیا اور ان کے آثارِ قدیمہ کی تحقیق و تدقیق کی اور اس قدر ورق گردانی کے بعد دنیا کے سامنے صرف اس قدر پیش کر سکے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کُل 33 سال تک زندگی گزاری۔ دنیا میں تشریف لائے اور پھر مصر لائے، ان سے دو ایک معجزات صادر ہوئے، پھر اچانک غائب ہو گئے۔ پھر 30 برس کی عمر میں ظاہر ہوئے اور جنگلوں میں جانوروں کے چرانے والوں اور دریا کے کنارے ملاحوں اور شکاریوں کو وعظ فرماتے ہوئے دیکھے گئے۔ پھر یہودیوں کے حکام نے ان کو گرفتار کر لیا اور پھر ان کو مقدمہ روم کے قاضی القضاۃ کے سامنے پیش کیا گیا۔ اُس نے صلیب کا حکم دے دیا۔ پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب دے دی گئی۔
ظاہر ہے کہ ایک عالمگیر نظامِ حیات کے داعی کی صرف اتنی مختصر حیات پیش کر کے وہ زندگی کا کون سا قانون مرتب کریں گے؟ کس قدر کثیف پردے ڈال دیے گئے ہیں اُن کی حیاتِ مبارکہ پر! انہوں نے اپنی گمشدگی کی 25 سالہ زندگی کہاں اور کس صورت میں گزاری؟ سارے مسیحی صحائف خاموش ہیں، نہ صرف یہ کہ خاموش ہیں، بلکہ بعض اوقات اپنی خاموشی اور عجز کا اعتراف بھی کر لیتے ہیں، چنانچہ مشہور مسیحی مستشرق رینان نے جب بے پناہ کوشش کی اور اس کے ہاتھ تاریخی اعتبار سے کچھ نہ لگ سکا تو بالآخر زبانِ قلم سے اُس نے اس امر کا اعتراف کر لیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اصلی سیرت ضرور زمانے کی قبر میں دفن ہو چکی ہے۔ یہ لکھتا ہے:
سَتَكُوْنُ عِيْسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ وَأَحْوَالُهُ لَا تَزَالُ سِرًّا مَكْنُوْنًا فِيْ ضَمِيْرِ الزَّمَانِ لَمْ يَجْرِ بِهِ لِسَانُهُ بَعْدُ.
“عیسیٰ علیہ السلام کے احوال زمانے کے دل میں کچھ اس طرح سے پوشیدہ ہو کر رہ گئے ہیں کہ زمانے کی زبان ان کے بعد ان کے متعلق کچھ عرض کرنے سے قاصر ہے۔” [مقالات خطیب اعظم، ص: 38 تا 42]
