| عنوان: | اہل سنت کی کثرت (قسط: دوم) |
|---|---|
| تحریر: | طارق انور مصباحی |
| پیش کش: | مفتیہ ام ہانی امجدی |
| منجانب: | امجدی گلوبل اکیڈمی |
مغالطہ سوم
سوال: مسلمانوں میں تہتر فرقے ہوں گے، جیسا کہ احادیثِ نبویہ میں مذکور ہوا۔ اس طرح ہر تہتر کلمہ گو میں ایک سنی ہوگا، اس طرح لامحالہ سنیوں کی تعداد کم ہوگی، اور بد مذہب کثیر تعداد میں ہوں گے، پس کثرتِ تعداد علامتِ حقانیت کیسے ہو سکتی ہے؟
جواب: یہ مفہوم نہ صراحتاً کہیں مذکور ہے، نہ ہی اس مفہوم کی جانب قرآن و حدیث یا اقوالِ ائمہ میں کوئی اشارہ موجود ہے۔ یہ محض پروازِ خیال ہے۔ حدیث میں یہ ضرور ہے کہ اہلِ اسلام دنیا کے تمام اہلِ مذاہب کے بالمقابل قلیل التعداد ہوں گے۔ یہ مطلب نہیں کہ اہلِ سنت حضرات، بد مذہب کلمہ گویانِ اسلام کے بالمقابل قلیل التعداد ہوں گے، اور اگر حدیث میں اہلِ اسلام سے سنی مسلمان مراد لیا جائے تو بھی اہلِ سنت کا تقابل تمام اقوامِ عالم سے ہوگا، نہ کہ بد مذہب بہتر فرقوں سے، کیونکہ یہاں تقابل “کفار” سے کیا گیا ہے، نہ کہ بد مذہب فرقوں سے۔ حدیثِ نبوی مندرجہ ذیل ہے۔ حدیثِ مبارک میں صریح لفظوں میں کفار سے تقابل کیا گیا ہے۔
عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ؟ قَالَ: فَكَبَّرْنَا، ثُمَّ قَالَ: أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ؟ قَالَ: فَكَبَّرْنَا، ثُمَّ قَالَ: إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا شَطْرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَسَأُخْبِرُكُمْ عَنْ ذَلِكَ، مَا الْمُسْلِمُونَ فِي الْكُفَّارِ إِلَّا كَشَعْرَةٍ بَيْضَاءَ فِي ثَوْرٍ أَسْوَدَ أَوْ كَشَعْرَةٍ سَوْدَاءَ فِي ثَوْرٍ أَبْيَضَ. [صحیح مسلم، ج: 1، ص: 111، صحیح البخاری، ج: 1، باب قصۃ یاجوج وماجوج]
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ حضورِ اقدس تاجدارِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم لوگوں سے ارشاد فرمایا: “کیا تم لوگ اہلِ جنت کی چوتھائی ہونے پر راضی نہیں؟” عبداللہ بن مسعود نے فرمایا کہ ہم لوگوں نے (یہ سن کر) “اللہ اکبر” کہا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: “کیا تم لوگ اہلِ جنت کی تہائی ہونے پر خوش نہیں؟” عبداللہ بن مسعود نے فرمایا کہ ہم لوگوں نے (یہ سن کر) “اللہ اکبر” کہا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: “بے شک میں امید رکھتا ہوں کہ تم لوگ اہلِ جنت کے نصف رہو گے، اور اس بارے میں تمہیں بتاتا ہوں: مسلمین، کافروں کی بہ نسبت کالے بیل میں سفید بال ہی کی مقدار میں ہیں، یا سفید بیل میں کالے بال کی مقدار میں۔”
مغالطہ چہارم
سوال: بعض علما نے حدیثِ نبوی “اتَّبِعُوا السَّوَادَ الْأَعْظَمَ، فَإِنَّهُ مَنْ شَذَّ شَذَّ فِي النَّارِ” کی تشریح میں لکھا کہ یہ کثرتِ تعداد عہدِ صحابہ سے تا ایں روز کے اعتبار سے ہے، یعنی اہلِ حق کسی زمانے میں بہ نسبتِ بد مذہبوں کے قلیل التعداد ہو سکتے ہیں، لیکن عہدِ صحابہ تا ایں روز کو شمار کیا جائے تو اہلِ سنت و جماعت مجموعی طور پر سب سے زیادہ ہوں گے؟
جواب: یہ تشریح بھی قرینِ قیاس نہیں، مثلاً صدی اول میں ایک لاکھ سنی ہوں، اور شیعہ ایک بھی نہیں۔ صدی دوم و سوم میں دو دو لاکھ شیعہ ہوں، اور سنی ایک ایک لاکھ، تو صدی سوم تک شیعہ چار لاکھ ہوئے اور سنی تین لاکھ ہو سکے۔ اب اگر صدی دوم میں شیعہ، سنی حضرات سے دو گنا ہیں تو کوئی اعتراض نہیں تو اسی طرح صدی سوم میں دو گنا ہونے پر بھی کوئی اعتراض نہ ہو سکے گا، اس طرح ہر عہد میں سوادِ اعظم شیعہ جماعت ہوگی، اور یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ اہلِ سنت و جماعت صرف عہدِ صحابہ میں سوادِ اعظم تھے، پھر ہر عہد میں وہ قلیل التعداد رہی، حالانکہ احادیثِ کریمہ اس مفہوم کی تائید نہیں کرتی۔
اگر مذکورہ مفہوم بتانا مقصود ہوتا تو ارشاد ہوتا کہ آج یعنی عہدِ رسالت میں جو سوادِ اعظم ہے، وہ حق ہے۔ منافقین کے بعد عہدِ صحابہ میں سوادِ اعظم کا مفہوم بھی صحیح طور پر منطبق نہیں ہوتا، کیونکہ منافقین کے بعد تمام صحابہ اہلِ حق تھے، پھر عہدِ رسالت میں سوادِ اعظم کا کیا مفہوم ہوگا؟
احادیثِ طیبہ میں حضراتِ صحابہ کرام سے مخاطب ہو کر حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مستقبل میں میری امت میں تہتر فرقے ہو جائیں گے، اور ان کی بڑی جماعت حق پر ہوگی۔ سوادِ اعظم اور بڑی جماعت سے متعلق احادیثِ مبارک کے الفاظ پر غور کیا جائے، ان شاء اللہ تعالیٰ معاملہ حل ہو جائے گا۔ اس حدیث کا تعلق افتراقِ امت کے بعد سے ہے۔
عہدِ صحابہ میں اہلِ حق کے سوادِ اعظم ہونے کا مفہوم منطبق نہیں ہوتا، اس وقت تمام کے تمام مومن ہی تھے، کوئی بد مذہب نہ تھا۔ منافقین کا معاملہ جب تک ظاہر نہ تھا، ان کا شمار مومنین میں تھا، اور جب ظاہر ہو گیا تو انہیں مسلمانوں کی جماعت سے الگ قرار دیا گیا۔ مساجد سے بھی نکالا گیا۔ اب وہ خود کو مومن نہیں کہہ سکتے تھے، کیونکہ ان کے بارے میں حکمِ قرآنی نازل ہو چکا تھا، اور حضورِ اقدس پیغمبرِ آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان جلوہ افروز تھے۔ اگر منافقین خود کو مومن کہتے تو فیصلہ آسان تھا۔ ہاں، حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد یہ فیصلہ مشکل ہو گیا، کیونکہ اب فیصلہ دلائل کی روشنی میں کرنا ہے، اور بد مذہب فرقے ہمارے دلائل کو تسلیم کرنے کی بجائے تاویل کرتے ہیں۔ خود بھی گڑھی میں دھنستے جاتے ہیں اور دوسروں کو بھی اپنی جانب کھینچتے جاتے ہیں۔
خیال رہے کہ جب حقانیت کی ظاہری علامت کثیر التعداد ہونا ٹھہرا تو علامت کسی عہد میں مفقود نہیں ہونی چاہیے، اور اگر مفقود ہو کر وہی علامت، متضاد جماعت یعنی اہلِ باطل کے لیے ثابت ہو جاتی ہے تو پھر یہ علامت، نشانِ حقانیت ہی نہ رہی، مثلاً انسان کی ظاہری ہیئت مخصوصہ انسان کے ساتھ ہی پائی جانی چاہئے۔ اگر یہی شکل و صورت گھوڑوں میں پائی جائے تو انسان اور گھوڑوں میں تمیز کیسے ہوگی؟
بحث مذکور سے صاف ظاہر ہو گیا کہ شے کی علامت کا ہر عہد میں شے کے ساتھ پایا جانا ضروری ہے، اور شے کے متضاد میں نہ پایا جانا ضروری ہے۔ اب چونکہ بفرمانِ نبوی اہل حق تہتر جماعتوں میں سے ایک ہی جماعت ہے تو علامتِ حقانیت میں کوئی جماعت اس کے مساوی، مماثل یا مشابہ بھی نہیں ہو سکتی، پس یہ اعتراض وارد نہ ہوگا کہ روشنی سورج میں بھی ہے اور چاند، تاروں اور چراغوں میں بھی، کیونکہ نور سے متصف متعدد اشیا ہیں۔ منور و روشن ہونا سورج کا خاصہ نہیں، لیکن حقانیت سے متصف ایک ہی جماعت ہے، پس یہ علامت یعنی اہل حق کا سوادِ اعظم ہونا اور حقیقت خاصہ کی منزل میں ہے، عرضِ عام نہیں، جیسے منطقہ کے یہاں مضحک، انسانی خاصہ ہے، کیونکہ غیر انسان میں نہیں پایا جاتا، پس جو صفت ایک نوع کے ساتھ خاص ہو، وہ خاصہ ہے۔
اسی طرح کثیر التعداد ہونا اہل سنت کا خاصہ ہے۔ دیگر جماعت کا اس سے اتصاف کیونکر ہوگا؟
نیز حدیث میں بھی اہل حق کو مطلقاً سوادِ اعظم کہا گیا ہے۔ اس سے یہی متبادر ہوتا ہے کہ اہل حق ہر عہد میں کثیر التعداد ہی ہوں گے، اور یہ وصف اس سے منفک نہ ہوگا، پس بلا دلیل، وصف خاص کے انفکاک کا دعویٰ کیسے قابلِ قبول ہوگا؟ اور یہ ظاہری علامت ہے، کیونکہ قلیل التعداد اور کثیر التعداد ہونا اوصاف باطنیہ میں سے نہیں، لہٰذا اس کا ظاہر و باہر ہونا بھی لازم ہے۔
اگر آج اہل سنت کثیر التعداد ہیں، پھر کل دوسری جماعت کثیر التعداد ہو گئی تو کثیر التعداد ہونا نہ علامتِ حقانیت ہوگی، اور نہ ہی وصفِ خاص، بلکہ ایک عام وصف ہوگا جو حق و باطل ہر ایک کے ساتھ پایا جا سکتا ہے، پھر اس کا ذکر بے فائدہ ہوگا، حالانکہ متعدد احادیثِ مصطفویہ میں سوادِ اعظم اور جماعت کے اتباع کا حکم آیا، پس جماعت اور سوادِ اعظم مسلکِ حق کا نشانِ امتیاز ہوگا، اور جب حقیقی معنی مراد لینا صحیح ہے تو مجازی معانی کی طرف سرگرداں ہونا اصول و قوانین کے اعتبار سے بھی نامناسب ہوگا، فافہم وتدبر۔
