| عنوان: | آج کے والدین، نوجوان نسل اور تربیت کا بحران |
|---|---|
| تحریر: | امِ ماجد |
| منجانب: | نالج آف اسلام اکیڈیمی |
موضوع: آج کے والدین، نوجوان نسل اور تربیت کا بحران
اولاد اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت اور قیمتی امانت ہے۔ والدین پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی اولاد کی ایسی تربیت کریں جو انہیں دنیا و آخرت کی کامیابی سے ہمکنار کر دے۔ افسوس کہ آج کے دور میں مادّی مصروفیات، سوشل میڈیا اور جدید ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے اثرات نے والدین اور اولاد کے درمیان فاصلے پیدا کر دیے ہیں، جس کے نتیجے میں تربیت کا ایک سنگین بحران جنم لے رہا ہے۔
بچوں کی تربیت: ایک عظیم امانت
اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا
"اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ۔" [سورۃ التحریم: 6]
یہ آیت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ والدین کی ذمہ داری صرف اولاد کی جسمانی ضروریات پوری کرنا نہیں بلکہ ان کی دینی، اخلاقی اور روحانی تربیت بھی کرنا ہے۔
نبی کریم ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے:
كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ
"تم میں سے ہر ایک ذمہ دار ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔" [صحیح البخاری و صحیح مسلم]
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ والدین اپنی اولاد کی تربیت کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے حضور جواب دہ ہیں۔
نسلِ نو کی اہمیت اور اسلام میں بچوں کے حقوق
بچے کسی بھی قوم اور معاشرے کا مستقبل ہوتے ہیں۔ اگر ان کی تربیت صحیح خطوط پر کی جائے تو ایک صالح، مہذب اور کامیاب معاشرہ وجود میں آتا ہے، لیکن اگر ان کی تربیت میں غفلت برتی جائے تو معاشرہ اخلاقی زوال کا شکار ہو جاتا ہے۔ نبی کریم ﷺ بچوں کے ساتھ بے حد شفقت اور محبت کا برتاؤ فرماتے تھے اور ان کے حقوق کا خصوصی خیال رکھتے تھے۔ یہی اسوۂ حسنہ والدین کے لیے بہترین نمونہ ہے۔
اسلام نے بچوں کو والدین کی ملکیت نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی امانت قرار دیا ہے اور ان کے متعدد حقوق بیان فرمائے ہیں:
1۔ اچھا نام رکھنا: بچے کا پہلا حق یہ ہے کہ اس کا نام اچھا، بامعنی اور اسلامی تعلیمات کے مطابق رکھا جائے۔
2۔ محبت اور شفقت: بچوں کے ساتھ محبت، نرمی اور شفقت کا برتاؤ اسلام کی بنیادی تعلیمات میں شامل ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
مَنْ لَمْ يَرْحَمْ صَغِيرَنَا فَلَيْسَ مِنَّا
"جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہیں کرتا وہ ہم میں سے نہیں ہے"۔ [جامع الترمذی]
3۔ تعلیم و تربیت: والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کو دینی اور دنیاوی دونوں طرح کی مفید تعلیم فراہم کریں اور ان کے اخلاق و کردار کی تعمیر کریں۔
4۔ عدل و انصاف: اگر اولاد ایک سے زیادہ ہو تو والدین پر لازم ہے کہ وہ سب کے ساتھ مساوی اور منصفانہ رویہ اختیار کریں۔
والدین کا طرزِ عمل اور حسنِ سلوک
اسلام والدین کو تلقین کرتا ہے کہ وہ بچوں کے ساتھ حسنِ سلوک اختیار کریں:
• بچوں کے ساتھ ہمیشہ نرمی اور محبت سے پیش آئیں۔
• ان کی غلطیوں پر حکمت سے اصلاح کریں، تحقیر و تذلیل نہ کریں۔
• ان کی عزتِ نفس کا ہر حال میں خیال رکھیں۔
• مار پیٹ اور سخت گیر رویے سے مکمل اجتناب کریں۔
• ان کی باتوں کو توجہ سے سنیں اور قدم قدم پر ان کی رہنمائی کریں۔
نبی کریم ﷺ بچوں کے ساتھ کھیلتے، ان سے مسکراتے ہوئے گفتگو کرتے اور ان کی دلجوئی فرماتے تھے۔ یہی رویہ بچوں کی متوازن شخصیت کی تعمیر میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔
اسلام میں ظلم و سختی کی ممانعت اور اس کے نقصانات
اسلام ہر قسم کے ظلم اور بے جا سختی کو سختی سے منع کرتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ
"اور اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔" [سورۃ آل عمران: 57]
بچوں کو گالیاں دینا، ان کی توہین کرنا، بلاوجہ مارنا یا ان پر حد سے زیادہ سختی کرنا اسلامی تعلیمات کے سراسر منافی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ نرمی کرنے والوں سے محبت کرتا ہے"۔ [صحیح مسلم] ایک اور حدیثِ پاک میں ہے: "جو نرمی سے محروم کر دیا گیا وہ ہر بھلائی سے محروم کر دیا گیا"۔ [صحیح مسلم]
بچوں پر بے جا سختی اور ظلم کے نتیجے میں متعدد نفسیاتی اور معاشرتی مسائل پیدا ہوتے ہیں:
1۔ ذہنی دباؤ: بچہ خوف، اضطراب اور مستقل ذہنی تناؤ کا شکار ہو جاتا ہے۔
2۔ نفرت اور بغاوت: بچے کے دل میں والدین کے لیے دوری اور خاندانی نظام سے بغاوت پیدا ہونے لگتی ہے۔
3۔ غلط صحبت کا انتخاب: گھر کی محبت سے محروم بچے اکثر باہر غلط دوستوں اور بری صحبت کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔
4۔ خود اعتمادی میں کمی: مسلسل تنقید اور سختی بچے کی شخصیت کو اندر سے کمزور اور مفلوج کر دیتی ہے۔
بچوں کی صحیح تربیت کے عملی اصول
گھر بچے کی تربیت کی پہلی درسگاہ ہے۔ گھر کا ماحول اس کی شخصیت، سوچ اور کردار پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَأْمُرْ أَهْلَكَ بِالصَّلَاةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا
"اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دو اور خود بھی اس پر قائم رہو۔" [سورۃ طٰہٰ: 132]
1۔ خود اچھا نمونہ بنیں: بچے نصیحت سے زیادہ والدین کے کردار اور عمل سے سیکھتے ہیں۔ اگر والدین سچائی، دیانت اور حسنِ اخلاق کا مظاہرہ کریں گے تو بچے بھی انہی صفات کو اپنائیں گے۔
2۔ محبت اور نرمی اختیار کریں: محبت سے کی گئی نصیحت دل میں اتر جاتی ہے، جبکہ سختی اکثر ضد اور سرکشی پیدا کرتی ہے۔
3۔ نماز اور دینی تعلیم کی پابندی: بچوں کو بچپن ہی سے نماز، دعا، قرآنِ کریم اور اسلامی اخلاقیات کی تعلیم دی جائے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
مُرُوا أَوْلَادَكُمْ بِالصَّلَاةِ وَهُمْ أَبْنَاءُ سَبْعِ سِنِينَ
"اپنی اولاد کو سات سال کی عمر میں نماز کا حکم دو۔" [سنن ابی داؤد]
4۔ حکمت کے ساتھ اصلاح کریں: اگر بچہ غلطی کرے تو اسے اکیلے میں عزت اور محبت کے ساتھ سمجھایا جائے، نہ کہ سب کے سامنے شرمندہ کیا جائے۔
5۔ بچوں کو وقت دیں: بچوں کے ساتھ وقت گزارنا ان کی تربیت کا اہم ترین حصہ ہے۔ والدین کی توجہ اور قربت بچوں کی جذباتی اور فکری نشوونما میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔
جدید دور کے چیلنجز اور بڑھتے ہوئے فاصلے
آج بہت سے والدین اپنی مادی مصروفیات میں اس قدر الجھ چکے ہیں کہ وہ اپنی اولاد کو مناسب وقت نہیں دے پاتے۔ نتیجتاً بچے موبائل فون اور سوشل میڈیا کے بے جا استعمال میں مبتلا ہو جاتے ہیں، تنہائی اور احساسِ محرومی کا شکار ہو کر غیر اخلاقی سرگرمیوں کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔
موبائل فون، سوشل میڈیا، انٹرنیٹ اور غیر ضروری تفریحی سرگرمیوں نے نوجوانوں کی سوچ، ترجیحات اور طرزِ زندگی پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ بہت سے نوجوان اپنی زندگی کا قیمتی وقت فضولیات پر صرف کر دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں مطالعے کا شوق کم ہو جاتا ہے، خاندانی تعلقات متاثر ہوتے ہیں اور دینی شعور میں کمی آتی ہے۔ ایسے حالات میں والدین اور اساتذہ کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ نوجوانوں کی صحیح رہنمائی کریں۔ جب بچے اپنے والدین کو اپنا خیر خواہ اور دوست سمجھتے ہیں تو وہ اپنی مشکلات بھی ان سے شیئر کرتے ہیں۔
اساتذہ کا کردار اور نوجوان نسل کی مطلوبہ صفات
تربیت صرف والدین کی ذمہ داری نہیں بلکہ اساتذہ بھی اس عظیم فریضے میں برابر کے شریک ہیں۔ استاد محض کتابی علم منتقل کرنے والا نہیں بلکہ ایک معمارِ قوم ہوتا ہے۔ حضرت امام غزالی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: "استاد کا دل اپنے شاگردوں کے لیے باپ کی طرح ہونا چاہیے"۔ جب استاد اخلاص اور محبت کے ساتھ تعلیم دیتا ہے تو اس کے اثرات نسلوں تک باقی رہتے ہیں۔
آج کے نوجوانوں میں درج ذیل صفات پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے:
• اللہ تعالیٰ پر مضبوط اور پختہ ایمان
• سچائی، امانت داری اور دیانت داری
• والدین، اساتذہ اور تمام بڑوں کا احترام
• علم حاصل کرنے کا سچا شوق اور وقت کی قدر دانی
• حیا، پاکیزگی، صبر اور برداشت
• خدمتِ خلق اور انسانیت کا جذبہ
تربیت میں دعا کی اہمیت اور خلاصۂ کلام
والدین کو اپنی اولاد کی اصلاح کے لیے مسلسل دعا کرنی چاہیے، کیونکہ ہدایت اور کامیابی اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہے۔ قرآنِ مجید میں نیک بندوں کی یہ دعا مذکور ہے:
رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا
"اے ہمارے رب! ہمیں ہماری بیویوں اور اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں متقیوں کا پیشوا بنا۔" [سورۃ الفرقان: 74]
آج کا تربیتی بحران درحقیقت پوری امت کا بحران ہے۔ اگر ہم اپنی نئی نسل کو دین، اخلاق، علم اور کردار کی دولت سے آراستہ کر دیں تو مستقبل روشن ہو سکتا ہے۔ والدین اگر خود بہترین عملی نمونہ بن جائیں، بچوں کے ساتھ محبت اور شفقت کا معاملہ کریں، انہیں دین اور اخلاق کی تعلیم دیں اور ان کے لیے وقت نکالیں تو نئی نسل نہ صرف اپنے خاندان بلکہ پوری امت کا قیمتی سرمایہ بن سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی اولاد کی صحیح اسلامی تربیت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
