Loading...
دن
تاریخ
مہینہ
سنہ
اپڈیٹ لوڈ ہو رہی ہے...
لباب
مستند مضامین و مقالات
لباب کی مستند علمی و تحقیقی تحریریں اب موبائل ایپ میں دستیاب ہیں۔
پلے اسٹور سے انسٹال کریں

شراب و دیگر منشیات اور مسلمانوں کا مستقبل|محمد تحسین رضا نوری

شراب و دیگر منشیات اور مسلمانوں کا مستقبل
عنوان: شراب و دیگر منشیات اور مسلمانوں کا مستقبل
تحریر: محمد تحسین رضا نوری
پیش کش: ساریہ فاطمہ رضویہ

فیشن کے نام پر ہو رہی بدکاریاں دن بدن بڑھتی جا رہی ہیں، جو کام زمانے قدیم میں لوگ گناہ تصور کرتے تھے، آج وہ سارے اعمال فخریہ طور پر بدستورِ زمانہ سر انجام دیے جاتے ہیں۔ نوجوان نسل شراب، بیئر اور الکوحل پینے کی عادی ہو چکی ہے۔ ورزش کرنے والے نوجوان بغرضِ حفظانِ صحت اس وبا کے شوقین ہو چکے ہیں۔ بری سنگت اور دین و شریعت سے دوری کی بنا پر انہیں یہ احساس تک نہیں ہوتا کہ وہ کارہائے حرام میں مبتلا ہونے کے باعث گناہوں کی دلدل میں پھنس چکے ہیں۔ یہود و نصاریٰ اور اسلام دشمن تنظیمیں مکمل سازشوں کے ساتھ مسلم نوجوانوں کو شکار بنا رہی ہیں۔

جدت پسندی نے انہیں اس قدر ان کے دین اور اللہ و رسول سے دور کر دیا ہے کہ اب وہ سمجھانے پر بھی ماننے کو تیار نہیں؛ اگر انہیں ان اخبث ترین کاموں سے روکا جاتا ہے تو بے جا تاویلیں اور لایعنی بحث کرنے لگتے ہیں۔ بری صحبت کے اثر نے انہیں ان کے ہدف سے بہت دور لا کھڑا کیا، وہ قرآنی تعلیمات اور اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین کو فراموش کر چکے ہیں۔

شراب کی مذمت قرآنِ پاک کی روشنی میں

اللہ جل شانہٗ قرآنِ مقدس میں ارشاد فرماتا ہے:

يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ ۖ قُلْ فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَإِثْمُهُمَا أَكْبَرُ مِن نَّفْعِهِمَا [سورۃ البقرۃ: 219]

ترجمہ: تم سے شراب اور جوئے کا حکم پوچھتے ہیں، تم فرما دو کہ ان دونوں میں بڑا گناہ ہے۔

ایک اور مقام پر اللہ جل وعلا ارشاد فرماتا ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ. إِنَّمَا يُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَن يُوقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَن ذِكْرِ اللَّهِ وَعَنِ الصَّلَاةِ ۖ فَهَلْ أَنتُم مُّنتَهُونَ [سورۃ المائدۃ: 90-91]

ترجمہ: اے ایمان والو! شراب اور جوا اور بت اور پانسے ناپاک ہی ہیں، شیطانی کام تو ان سے بچتے رہنا کہ تم فلاح پاؤ۔ شیطان یہی چاہتا ہے کہ تم میں بیر اور دشمنی ڈلوا دے جوئے اور شراب میں، اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روکے، تو کیا تم باز آئے؟

ایک اور مقام پر ربِ کریم ارشاد فرماتا ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنتُمْ سُكَارَىٰ

ترجمہ: اے ایمان والو! نماز کے قریب نہ جاؤ جب تم نشے کی حالت میں ہو۔

مذکورہ جملہ آیات سے یہ بات واضح ہو گئی کہ شراب و الکوحل کی حرمت نصِ قرآنی سے ثابت ہے۔ فیشن و رواج کے طور پر پینے والے ذرا توجہ دیں کہ کیا مغربی تہذیب و ثقافت اس قدر ضروری تھی کہ قرآنی تعلیمات کی پاسداری نہ کر سکے اور دین کو یہود و نصاریٰ کی لغویات اور خرافات کی وجہ سے پسِ پشت ڈال دیا؟

شراب کی مذمت حدیث کی روشنی میں

قرآنی آیات کے ساتھ ساتھ لاتعداد احادیث میں بھی شراب و نشہ آور اشیا کی مذمت آئی ہے اور اس کے عادی پر عذابِ الیم کی وعیدیں وارد ہیں۔ جیسا کہ آقا علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:

لَيَشْرَبَنَّ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي الْخَمْرَ يُسَمُّونَهَا بِغَيْرِ اسْمِهَا، يُعْزَفُ عَلَى رُءُوسِهِمْ بِالْمَعَازِفِ وَالْمُغَنِّيَاتِ، يَخْسِفُ اللَّهُ بِهِمُ الأَرْضَ، وَيَجْعَلُ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَالْخَنَازِيرَ [ابن ماجہ]

مذکورہ حدیث کو غور سے پڑھیں اور دیکھیں کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ میری امت کے کچھ لوگ شراب پیئیں گے اور اس کا نام بدل کر کچھ اور رکھ دیں گے۔ اب ذرا توجہ دیں! وہ لوگ جو شراب کو الکوحل، وائن، وہسکی اور رم کا نام دیتے ہیں اور طرح طرح کی تاویلیں کرتے ہیں کہ یہ شراب نہیں ہے، کیا وہ اس بات سے انکار کر سکتے ہیں کہ کیا ان تمام میں نشہ نہیں ہوتا؟ یاد رکھیں! یہ جملہ اشیا نشہ آور ہیں، اس لیے ان کا بھی وہی حکم ہے جو شراب کا ہے۔

ایک اور حدیث ہے، حضرت وائل حضرمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ طارق بن سوید رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے شراب کے متعلق دریافت کیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں منع فرمایا۔ انہوں نے عرض کی: میں تو صرف دوا کے طور پر ہی شراب بناتا ہوں۔ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

إِنَّهُ لَيْسَ بِدَوَاءٍ، وَلَكِنَّهُ دَاءٌ [ترمذی شریف]

یہ دوا نہیں ہے بلکہ ایک بہت بڑی بیماری ہے۔ اب ذرا وہ نوجوان توجہ دیں جو حفظانِ صحت اور باڈی بنانے کی غرض سے بطورِ دوا بیئر، الکوحل یا شراب لیتے ہیں۔

ایک اور حدیث میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب، جوا، شطرنج اور باجرے کی شراب سے منع فرمایا اور یہ ارشاد فرمایا کہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔

شراب کی عادت اور چھٹکارا

قارئینِ کرام! یاد رکھیں، یہ ایک ایسی بیماری ہے جسے جملہ اعمالِ قبیحہ و شنیعہ کی جڑ کہنا درست ہوگا، کیوں کہ یہی ایک ایسی بلا ہے جس سے لڑائی جھگڑا، دنگا فساد، ظلم و جبر، زنا و حرام کاری، قتل و غارت گری، جھوٹ و دغا بازی اور اہل خانہ کے مابین نااتفاقی پیدا ہوتی ہے۔ غرض ہر گناہ کی جڑ یہی شراب ہے۔

اس کے عادی ہونے کی سب سے بڑی وجہ غلط صحبت کا اثر ہے۔ اس کے بعد عیاش و نفس پرست افراد کی شادی پارٹیوں میں شریک ہو کر ان لوگوں کی دیکھا دیکھی میں شراب پینے کے عادی بن جاتے ہیں۔ لہذا یاد رکھیں! اس کے پینے والے دنیا میں لوگوں کے مابین بھی ذلیل و خوار ہوتے ہیں اور بروزِ قیامت بھی عذابِ الیم کے حقدار ہوں گے۔

اس سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے سب سے پہلے اللہ جل وعلا کے حضور سچے دل سے توبہ کریں اور دوبارہ شراب کو ہاتھ نہ لگانے کا عزمِ مصمم کریں۔ ایسی مجلسوں اور پارٹیوں میں جانا بند کر دیں جہاں شراب نوشی کو عام سمجھا جاتا ہو۔ وقتاً فوقتاً شراب کی حرمت اور اس کے گناہ کے متعلق سوچتے رہیں تاکہ تصور میں بھی دوبارہ شراب پینے کا ارادہ نہ آئے۔

دعا ہے کہ ربِ کریم ہمیں اس مہلک بیماری سے محفوظ فرمائے۔ آمین بجاہِ حبیبہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم۔

جدید تر اس سے پرانی
لباب | مستند مضامین و مقالات
Available
Lubaab
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اپنے مضامین بھیجنے لیے ہم سے رابطہ کریں،
Link Copied!